جسٹس آصف سعید کھوسہ اور جھوٹی گواہی!
قتل کے ننانوے مجرم شک کا فائدہ لے کر بری ہوتے ہیں تو ہو جائیں لیکن کوئی ایک بھی بے گناہ پھانسی نہ چڑھے قانون کے اس اصول کافائدہ پورے ننانوے ملزم اس طرح اٹھاتے ہیں کہ پیسہ اور اثر و رسوخ استعمال کر کے کبھی ایف آئی آر کے مندرجات میں تضاد پیدا کروا دیتے ہیں تو کبھی پولیس کے طریقہ تفتیش میں ایسا سقم پیدا کروا دیتے ہیں کہ جس کی بنیاد پر پورا مقدمہ ہی دھڑام سے گر پڑتا ہے اور یہ کچھ نہ ہو سکے تو میڈیکل رپورٹ میں تبدیلی تو ایسا کام ہے کہ جسے عدالتیں بھی پکڑ نہیں پاتیں اور کمزور سے کمزور آدمی بھی گواہی میں کبھی پیسے سے اور کبھی جذباتی بلیک میلنگ سے اور کبھی دھونس دھمکی سے یا تو گواہ کو عدالت تک پہنچے سے روکنے میں کامیاب ہو جاتا ہے یا گواہوں میں ایسا بنیادی تضاد پیدا کر دیتا ہے کہ گواہی اس قدر مشکوک قرار پاتی ہے کہ جج ملزم کو سزائے موت دینے سے یہ سوچ کر گھبرا جاتا ہے کہیں یہ بے گناہ میرے ہاتھوں پھانسی چڑھ گیا تو اللہ کو کیسے حساب دے پاوں گا، یا یہ کہ جج کے ہاتھ وہ قانون باندھ دیتا ہے جس میں جج پابند ہوتا ہے کہ شک کا فائدہ مجرم کو دے کر اسے بری کرنا لازمی ہے۔
اس قانون سے بخوبی واقف وکیل انتہائی مہارت سے یا اپنی جرح سے اور یا اپنے موکل کو مشورہ دے کر مقدے میں شک کا مضبوط عنصر ننانوے فیصد کیسز میں لازماً پیدا کر دیتا ہے اور ملزم شک کا فائدہ لے کر بری ہو جا تا ہے لیکن اس بریت کا ہرگز یہ مطلب نہیں ہوتا کہ ملزم نے قتل کیا کہ ملزم بے قصور تھا یا کوئی شخص قتل ہوا ہی نہیں تھا۔ اتنے مراحل میں کسی مرحلے پر بھی قانون کی اس کمزوری کا فائدہ صرف وہ ایک فیصد نہیں اٹھا پاتا جو معاشرتی اور معاشی طور پر انتہائی کمزور ہو اور جس کی کہیں کوئی شنوائی نہ ہو۔
پھانسی چڑھ جانا صرف اسی کا مقدر ہوتا ہے یا اکثر حالات میں چوہدری، وڈیرے ٹائپ لوگ ایسے شخص کو قربانی کا بکرا بھی بنا دیا کرتے ہیں۔ یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ معزز جج صاحبان قانون کی موشگافیوں سے بہت اچھی طرح واقف ہوتے ہیں کیونکہ وہ خود ماتحت عدلیہ سے یہ سب کچھ سیکھتے سمجھتے اور پریکٹس کرتے ہوئے یہاں تک پہنچتے ہیں۔ موجودہ چیف جسٹس جسٹس آصف سعید کھوسہ فوجداری مقدمات کے نہ صرف ماہر سمجھے جاتے ہیں بلکہ وہ اپنی اس باریک بینی کا نہ صرف ریمارکس میں اظہار کرتے ہیں بلکہ اس کا اطلاق بھی کرتے ہیں۔
متعدد مقدمات میں جسٹس آصف سعید کھوسہ پولیس یا استغاثہ کی اس خامی کی نشاندہی بھی کر چکے ہیں کہ پولیس تفتیش درست طور پر نہیں کرتی۔ قتل کے ایک مقدمے میں جسٹس آصف سعید کھوسہ نے واضح کیا کہ اس کیس قتل کے تین ملزم ہیں جن سے نعش کی برآمدگی کروائی گئی لیکن برآمدگی کا یہ عمل تینوں ملزمان سے مشترک طور پر کروایا گیا یعنی پولیس اہلکار تینوں ملزماں کو ایک ساتھ اپنی نگرانی میں جائے وقوعہ پر لے گیا، جہاں پہنچ کر تینوں ملزمان نے اس گودام کی نشاندہی مشترکہ طور پر کی اور نعش برآمد کروائی لیکن جسٹس آصف سعید کھوسہ نے قرار دیا کہ قانون میں ایسی برآمدگی کالعدم سمجھی جاتی ہے جس کی قانون میں کوئی حیثیت نہیں اور جب برآمدگی ہی قانونا ”غلط ہو گئی تو پورا کیس ختم، نتیجے میں ملزم بری ہو گئے اب حقیقت یہ ہے کہ ایک انسان قتل تو ہوا تھا اور کیا بھی انہوں نے یا ان میں سے کسی ایک نے جنہوں نے نعش برآمد کروائی لیکن ایس ایچ او کی تکنیکی یا دانستہ غلطی کا خمیازہ بھگتنا پڑا، مقتول کے لواحقین کو اور سینہ چوڑا کر کے دندناتے پھریں قاتل۔
معزز جسٹس آصف سعید کھوسہ نے یہ سوال بھی کیا کہ کیا ایس ایچ او کو بر آمدگی کا یہ طریقہ کار معلوم نہیں تھا؟ جج صاحب کو ہر دو صورتوں میں معلوم تھا اور اس نے ملزمان کو بچانے کے لئے ایک دانستہ غلطی کر کے کیس میں قانونی سقم پیدا کر دیا تو بھی اور اگر طریقہ کار معلوم ہی نہیں تھا تو بھی کیا اس ایس ایچ او کے خلاف کسی کارروائی کے حوالے سے قانون خاموش ہے یا معزز عدالت کے ہاتھ بھی بندھے ہوئے ہیں جو اپنے فیصلے میں ملزمان کو بری کرتے ہوئے اپنے فیصلے یہ نہیں لکھ سکتی کہ متعلقہ ایس ایچ او کی نا اہلی پر اس کے خلاف قانون کے مطابق محکمانہ کارروائی عمل میں لائی جائے اور وہ ایس ایچ او جرم ثابت ہونے پر ساری زندگی کی نوکری اور مراعات سے ہاتھ دھو کر بطور مجرم برطرف ہو اور جیل جائے تو آئندہ کسی اور کو ایسا رسک لینے کی ہمت نہ ہو۔
معزز جج صاحب نے آسیہ کیس میں ریمارکس دیے کہ بڑے دکھ کی بات ہے کہ لوگ حلف پر اور اللہ کو حاضر ناظر جان کر جھوٹی گواہی دیتے ہیں یہاں تک کہ ایس پی نے اپنی حلفیہ گواہی تحریری خط کے برعکس دی جبکہ چاروں گواہوں کے بیان میں تضاد پایا گیا اور تعزیرات پاکستان کے تحت جس میں ملزم کو سزائے موت ہو سکتی ہو اس میں جھوٹی گواہی دینے کی سزا عمر قید ہے لیکن کیس کی حساسیت کے باعث گواہوں کے لئے ایسا کوئی حکم جاری نہیں کر رہے۔ محترم چیف جسٹس صاحب اس کیس کی حساسیت کا تعلق ہے تو بات درست لیکن جج صاحب باقی کیسز میں آپ کا قلم اس مرحلے پر آکر ساکت کیوں ہو جاتا ہے؟
کہتے ہیں کہ انگریز کے دور میں پولیس سو سال پرانے قتل کا ملزم بھی ڈھونڈ نکالتی تھی اور وہ عدالت سے بچ بھی نہیں پاتا تھا بلکہ ہمارے پڑوسی ملک سمیت دنیا بھر میں ذیلی عدالت کا فیصلہ اعلی عدلیہ میں شاذ و نادر ہی تبدیل ہوتا ہے اور اگر ذیلی عدالت کا فیصلہ اوپر جا کر تبدیل ہو جائے تو نیچے فیصلہ کرنے والے جج کو جوابدہ ہونا پڑتا ہے۔ جوابدہی، سزا اور قانونی کارروائی کا یہ نظام ہمارے ہاں بھی متحرک ہو جائے تو ظلم میں کچھ کمی واقع ہو سکتی ہے بلکہ ظلم ختم بھی ہو سکتا ہے۔
جج صاحب جس طرح کسی بے گناہ کو پھانسی چڑھانے پر اللہ کے حضور جواب دہ ہونا پڑے گا اسی طرح ظلم روکنے کے لئے اختیار ہونے کے باوجود اپنا کردار ادا نہ کرنے پر بھی جوابدہ ہونا پڑے گا۔ ظلم ہوتا دیکھے اور خاموش رہے تو عام آدمی کی بھی پکڑ ہو گی چائے کہ وہ با اختیار بھی ہو۔ بات قانون ساز کی ذمہ داری کی ہو تو اسے معطون کرنا بھی درست جہاں قانون ساز نے اپنی ذمہ داری پوری کر دی وہاں صاحب اختیار کے لئے اپنا کردار ادا کرنا بھی لازمی ہے تمام فریقین کے مشترکہ کردار کے بغیر معاشرے سے ظلم کا خاتمہ ممکن نہیں۔ اللہ ہمیں ہمت و استطاعت عطا فرمائے۔ آمین


