کیا مسئلہ کشمیر حل ہو گا؟


یوں کشمیر نام سے واقفیت تو شاید ہوش سنبھلنے ہی ہو گئی تھی لیکن یہ علم نہ تھا کہ یہ کس مرض کی دوا ہے۔ اسی طرح میرے کچھ حالات پاکستان کہ نام کے ساتھ تھے، میں ہمیشہ اسی کشمکش میں پہنسا رہتا کہ بھلا یہ پاکستان کہاں پہ واقع ہے۔ جب کسی سے پوچھتا تو جواب ملتا بھئی تم پاکستان میں ہی تو رہتے ہوں، میں مزید پریشان ہو جاتا کہ میں تو پاک پتن میں رہتے ہوں، پاکستان کہاں سے آگیا۔

خیر جیسے جیسے شعور آتا گیا، تو کشمیر میں ہونے والے انسان سوز مظالم کے بارے میں پتہ چلتا گیا۔ اور کوئی ایسا دن نہ گزرتا جس میں کوئی ایسی خبر سننے کو نہیں ملتی تھی کہ آج کشمیر میں اتنے نوجوان زخمی یا شہید ہو گئے۔ آئے روز کشمیر میں ہونے والی ہڑتال اور حریت رہنماؤں کی گرفتاری کی خبر یں بھی زیر گردش رہتی۔ کشمییری ماؤں بہنوں کی عصمتوں سے کھلواڑ ہمیشہ یہ سوچنے پہ مجبور کرتا کہ ان ماؤں بہنوں کا صرف یہ ہی قصور ہے کہ وہ کشمیر میں پیدا ہوئیں۔

میڈیا رپورٹس کہ مطابق برہان وانی کی شہادت کہ بعد اب تک تقریباً 700 کشمیری شہید ہو چکے ہیں۔ پلیٹ گن کے استعمال کی وجہ سے اب تک کئی بچے اور نوجوان نا بینا ہو چکے ہیں۔ 7 دہائیوں سے جاری اس جہاد کا کوئی ابھی تک کوئی حل طلب نتیجہ نکلتا نظر نہیں آتا۔ یونائیٹد نیشن کی قرارداد کے بعد عالمی قوتوں کی طرف سے پر اسرار خاموشی ان کی مجرمانہ غفلت اور دوہرے پن کی عکاسی کرتی ہے۔ ان کی اس خاموشی سے ان کے آزادی اظہارِ اور جمہوریت کے جو وہ گن گاتے رہتے ہیں اس کی نفی ہے۔

تقریبا سات لاکھ بھارتی فوجی مقبوضہ کشمیر پر قابض ہیں۔ اور دوسری طرف بھارت اپنے آپ کو جمہوری اور سب سے زیادہ سیکولر ملک کہلاتا نہیں تھکتا۔ بھلا یہ کہا کہ کی جمہوریت اور کہاں کی سیکولرزم۔ بھارت ایک طرف تو کشمیریوں پہ ظلم کے پہاڑ توڑتا ہے اور دوسری طرف پوری دنیا کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کی کوشش کرتا ہے۔

پاکستان ہمیشہ سے کشمیریوں کی آواز کے ساتھ آواز ملاتا آرہا ہے۔ ہمارا خارجہ پالیسی میں کشمیر کی بڑی اہمیت ہے۔ اس کی وجہ شاید تقسیم ہند کے وقت جو فارمولا طے پایا تھا اس کو نظر انداز کر کے ہندوستان نے کشمیر کو ہتھیانے کی کوشش کی۔ اور بانی پاکستان کی وہ تقاریر ہے جس میں وہ کشمیر کو پاکستان کی شہ رگ قرار دیتے ہیں۔ پاکستان کی حکومتیں ہمیشہ کشمیر کے مسئلہ کو انٹر نیشل فورم پہ اٹھانے کی کوشش کرتی رہی ہے۔ اور شاید ہمارے پاس اس کا حل بھی نہیں۔ پاکستان اور بھارت دونوں ایٹمی قوتیں ہیں، دونوں کے پاس مسئلہ کشمیر کا حل مذاکرات کے علاؤہ اور کوئی نہیں۔

لیکن کیا ہمیشہ ایسا ہی چلتا رہے گا، میری کشمیر کے حوالے سے جو سوچ ہے کیا اسی سوچ کے ساتھ مر جاؤں گا یا اس سے بڑھ کی کیا کشمیری ہمیشہ آزادی کا خواب ہی دیکھتے رہے گے۔ کشمیر کی آزادی کے لیے پاکستان کو انٹر نیشنل فورم پہ اپنی آواز مزید موثر کرنا ہوگی۔ اور بھارت کا مکرو چہرہ دنیا کو دکھانا ہوگا۔ ڈر ہے جو واقفیت میری ہوش سنبھالتے ہی کشمیر کے ساتھ تھی ہمارے بچوں کی نہ ہوں۔

الللہ سب کا حامی وناصر ہوں۔

Facebook Comments HS