یوں کشمیر نام سے واقفیت تو شاید ہوش سنبھلنے ہی ہو گئی تھی لیکن یہ علم نہ تھا کہ یہ کس مرض کی دوا ہے۔ اسی طرح میرے کچھ حالات پاکستان کہ نام کے ساتھ تھے، میں ہمیشہ اسی کشمکش میں پہنسا رہتا کہ بھلا یہ پاکستان کہاں پہ واقع ہے۔ جب کسی سے پوچھتا تو جواب ملتا بھئی تم پاکستان میں ہی تو رہتے ہوں، میں مزید پریشان ہو جاتا کہ میں تو پاک پتن میں رہتے ہوں، پاکستان کہاں سے آگیا۔
خیر جیسے جیسے شعور آتا گیا، تو کشمیر میں ہونے والے انسان سوز مظالم کے بارے میں پتہ چلتا گیا۔ اور کوئی ایسا دن نہ گزرتا جس میں کوئی ایسی خبر سننے کو نہیں ملتی تھی کہ آج کشمیر میں اتنے نوجوان زخمی یا شہید ہو گئے۔ آئے روز کشمیر میں ہونے والی ہڑتال اور حریت رہنماؤں کی گرفتاری کی خبر یں بھی زیر گردش رہتی۔ کشمییری ماؤں بہنوں کی عصمتوں سے کھلواڑ ہمیشہ یہ سوچنے پہ مجبور کرتا کہ ان ماؤں بہنوں کا صرف یہ ہی قصور ہے کہ وہ کشمیر میں پیدا ہوئیں۔
Read more