سیاسی ٹاک شوز کے نفسیاتی پھندے


میلے ٹھیلے، بحث مباحثے اور تفریح ازل سے انسانی معاشرے کا لازمی حصہ رہے ہیں۔ تجسس انسان کی بنیادی جبلت ہے۔ بچہ جیسے ہی رینگنے کے قابل ہوتا ہے اسے روکنا بہت مشکل ہو جاتا ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ اسے ماحول میں آزاد چھوڑ دیا جائے تا کہ وہ خود اسے دریافت کرے۔ گھر کے کونوں کھدروں الماریوں وغیرہ کی تلاشی لی جاتی ہے۔ یہ انسانی جبلت تا عمر ختم نہیں ہوتی۔ تجسس اور بحث مباحثے ہمیشہ انسان کے لیے دلچسپی کا باعث ہوتے ہیں۔

معاشرتی ارتقا کے ساتھ ساتھ انسان کی اس دلچسپی کو پورا کرنے کے طریقوں میں بھی تبدیلی آتی رہی ہے۔ بادشاہوں کے دربار میں مسخروں کے شوز سے اسٹریٹ تھیٹر اور پھر باقاعدہ اسٹیج ڈرامے۔ ریڈیو اور ٹیلیویژن کی آمد کے بعد ان فنون کے مظاہرے کے لیے نئے راستے بن گئے۔ شخصی اور معاشرتی آزادی کے دلکش جدید نظریے کی عالمی ترویج کے ساتھ الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا آزاد سے آزاد تر ہوتے گئے اور بالآخر پاکستان جیسے ملک میں بھی ایک ڈکٹیٹر کے دور میں میڈیا کی آزادی کا ایک نیا سورج طلوع ہوا۔ یہاں تک کی کہانی تو چلو ٹھیک ہے مگر اس کے بعد کیا ہوا؟

نیوز چینلز مزید سیاسی ہوتے گئے اور عوام کو نفسیاتی مریض کرتے گئے۔ ہر وقت بریکنگ نیوز لکھا آتا ہے اسکرین پر اور لوگوں کے دلوں کی دھڑکنیں ہمہ وقت بے ترتیب رہتی ہیں اور ذہن ہر وقت کسی اندوہناک خبر کی توقع لگائے بیٹھے ہوتے ہیں۔ پہلے ٹیلیویژن زیادہ تر بچے، خواتین اور گھر کے بڑے بوڑھے دیکھتے تھے اور پروگراموں میں قابلِ قدر تنوع ہوتا تھا۔ مگر اب صرف دو طرح کے پروگراموں کا راج ہے ٹیلیویژن پر۔ ایک خبریں اور دوسرا سیاسی ٹاک شوز۔

عجیب سستا اور بازاری منظر نامہ چل رہا ہوتا ہے ہر وقت۔ سیاسی ٹاک شوز کے میزبان زیادہ تر ایسے مرد و خواتین کو بنایا جاتا ہے جو سطحی علم سے بھرپور اور فہم و ادراک سے معذور ہوتے ہیں۔ وہ بجائے شو کو ماڈریٹ کرنے کے اسے ڈکٹیٹ کر رہے ہوتے ہیں۔ ان کی دوسری نمایاں ادب و آداب سے عاری صفات میں دوسرے کی بات بیچ میں کاٹنا، چلّا چلّا کر بولنا اور دوسرے کی بات کو اپنی مرضی کا غلط رنگ دینا شامل ہیں۔ یہ پرانے وقتوں کی محلّے کی ان عورتوں سے کم نہیں جن کی لگائی بجھائی سے مرد قتل و غارت پہ اتر آتے تھے۔

یہ خبر رساں ایجنسیاں دراصل ضرر رساں ایجنسیاں بن چکی ہیں جنہوں نے پورے معاشرے کو نفسیاتی طور پہ ہائی جیک کر لیا ہے۔ معاشرے کے اس نچلے درجے کے ڈرامے میں وہ نام نہاد مفکر اور محقق بھی شامل ہیں جو ان شوز میں جا کر رائے زنی کرتے ہیں اور سیاسی جماعتوں کے نمائندے بھی اس کارِ شر میں برابر حصہ دار ہیں۔ ان شوز میں حصہ لینے والے مفکرین اور سیاسی جماعتوں کے نمائندوں کی سلیکشن بھی ان ہی خصوصیات کی بنا پر ہوتی ہے جن کا بیانیہ میں نے ان شوز کے میزبانوں کے حوالے سے دیا۔

وہ سیاسی راہنما جو صبر و تحمل اور دلیل و منطق سے عاری ہوتے ہیں انہیں خاص طور پر ان شوز میں بھیجا جاتا ہے۔ بعض اوقات ان میں سے کچھ اس قدر غراتے ہیں کہ لگ رہا ہوتا ہے کہ ابھی نوچ کھائیں گے ایک دوسرے کو۔ اور بعض اوقات پروگرام کو زیادہ دلچسپ بنانے کے لئے مائک اتار کر پھینک کر چلے جاتے ہیں۔ ایسے مواقع پر میزبان کے چہرے پہ ایک مکارانہ اور فاتحانہ مسکراہٹ در آتی ہے۔ مطلب شو کے پیسے پورے ہو چکے ہیں۔

عوام کی اس نفسیاتی پھندے سے جان چھڑوانے کے لئے پیمرا کو عملی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ پچھلے دنوں گورنمنٹ ایم اے او کالج لاہور میں منعقدہ سیمینار میں پیمرا اسلام آباد کے چیئرمین نے اس امر کا عندیہ دیا کہ بڑھتے ہوئے نیوز چینلز کا آگے بند باندھا جائے گا اور زیادہ تر لائسنس ان نئے چینلوں کو دیے جائیں گے جن کا مقصد خالصتاً غیر سیاسی تفریح ہو گا۔ جلد از جلد ان ارادوں پر عمل درآمد کی ضرورت ہے تا کہ عوام کو ادبی اور تخلیقی بنیادوں پر تفریح مہیا کی جائے۔

Facebook Comments HS