امریکہ کا اعتراف شکست

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

امریکہ جو طالبان کو جڑ سے اکھاڑنے اور افغانستان پر دائمی قبضہ جمانے کے لئے آیاتھا اس کے وہم وگمان میں بھی نہیں تھا کہ کہ وہ اپنی تمام تر مادی طاقت اوراتحادیوں کے باوجود خالی ہاتھ طالبان کے مقابلے میں عسکری میدان میں شکست کھا کراعتراف کرنے پر مجبور ہوگا اور مذاکرات کی بھیک مانگے گا۔ فوجی اورمادی طاقت پر گھمنڈ رکھنے والے امریکہ نے اگر طالبان کے ساتھ لڑائی میں اپنے ہزاروں فوجیوں کی لاشیں اور بڑے بڑے مالی نقصانات نہ دیکھے ہوتے تو وہ ساری زندگی افغانستان سے نکلنے کا نام بھی نہ لیتا، نہ ہی مذاکرات کے لئے تیارہوتا اوراس بات کا اعتراف کرتا کہ واقعی جنگ افغان مسئلہ کاحل نہیں۔

امریکہ نے گزشتہ سترہ برسوں میں ڈیڑھ ٹریلین ڈالرجنگ میں اڑا دیئے، مرنے، زخمی، معذور اور ذہنی بیماریوں میں مبتلا ہونے والے فوجیو ں کی تعداد ان کے بقول پچاس ہزارسے متجاوز ہے، طرح طرح کی حکمت عملیوں اور اپنے تمام تر جنگی وسائل کو بروئے کارلانے کے باوجود بھی نتیجہ ان کے حق میں صفر رہا جس کی وجہ سے امریکہ اس بات کو بخوبی سمجھ گیا کہ جنگ کے ذریعے افغانستان کو فتح اورنہ ہی طالبان ڈرایا یا دھمکایا جاسکتا ہے۔

ساری دنیا جانتی ہے کہ افغانستان میں جاری اس جنگ کے دو فریق امریکی قیادت میں افغانستان پر حملہ کرنے والی قوتیں اوردوسری فریق اپنے دین ملت اورسرزمین کی حفاظت اوردفاع کی خاطر لڑنے والے طالبان ہیں۔ ان کے علاوہ کوئی تیسرا فریق نہیں، کابل کی کٹھ پتلی حکومت جو امریکی  قائم ہے اپنی کوئی حیثیت نہیں رکھتی۔ اسی لیے مذاکرات کے حوالے سے ایک اہم شرط یہ تھی کہ طالبان امریکا کے ساتھ مذاکرات کر سکتے ہیں، لیکن کابل انتظامیہ کے ساتھ مذاکرات نہیں ہوسکتے۔ امریکا نے افغان جنگ میں شکست کا اعتراف کیا ہے۔

سابق امریکی صدر اوباما نے بھی شکست کا اعتراف کیا تھا۔ تاہم حال ہی اعلی امریکی حکام، روس، امریکی شہریوں اور کابل انتظامیہ نے امریکی شکست کا نیا اعتراف کیا ہے۔ امریکا کے چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف جنرل جوزف ڈنفورڈ نے کہا ہے کہ افغانستان میں طالبان ہارے نہیں، بلکہ 17 سالہ جنگ کے بعد بھی ان کی پوزیشن مضبوط ہے۔ مزید کہا کہ میں سمجھتا ہوں انصاف یہ ہے کہ ہم اعتراف کریں کہ طالبان ہارے نہیں ہیں۔ افغان معاملے پر ہمیں لگی لپٹی کے بجائے طالبان کی مضبوط پوزیشن کو تسلیم کر لینا چاہیے۔ جنگ ہر مسئلے کا حل نہیں ہے۔

ایک بین الاقوامی ادارے کی سروے رپورٹ کے مطابق افغانستان پر امریکی حملے کے درست یا غلط ہونے پر امریکی قوم منقسم ہے۔ اس ابہام کا شکار ہیں کہ افغانستان میں امریکا کامیاب ہوا یا ناکام!

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دارالحکومت کابل افغان حکومت کے ہاتھ سے نکل گیا ہے۔ سکیورٹی فوج کو بھاری جانی نقصان اٹھانا پڑاھے۔ امریکی اسپیشل انسپکٹر جنرل کے مطابق کابل انتظامیہ کے اضلاع پر کنٹرول میں کمی آئی ہے۔ 132 اضلاع پر کنٹرول حاصل کرنے کے لیے کابل انتظامیہ اور طالبان کے درمیان مقابلہ ہے۔

امریکی ماہر بل روگیو کے مطابق افغانستان میں سکیورٹی صورتحال کی بہتری ممکن نظر نہیں آرہی۔ امریکی ادارے کے کے مطابق افغان سکیورٹی فوج کو بھاری نقصان ہوا ہے۔

روسی صدر کے نمائندہ خصوصی کے مطابق امریکا کے افغانستان میں کامیابی حاصل کرنے کے لیے ہم نے 17 سال انتظار کیا، لیکن وہ ناکام رہا۔ اب طالبان ملک کے 60 فیصد رقبے پر کنٹرول رکھتے ہیں۔ امریکا اور اس کے اتحادی طالبان کو شکست دینے میں ناکام ہیں۔

اشرف غنی نے کہا کہ گزشتہ چار سال کے دوران افغان سکیورٹی فوج کے 28 ہزار سے اہل کار ہلاک ہوئے۔ افغان تجزیہ کاروں کے مطابق ہر روز کم از کم سو کے لگ بھگ افغان اہل کار اس جنگ میں لقمہ اجل بنتے ہیں

افغانستان میں امریکی فوج کے اعلی کمانڈر اسکاٹ میلر نے کہا کہ ہم طالبان کو شکست نہیں دے سکتے۔ اس لیے ہم نے مذاکرات کا راستہ اپنایا۔ طالبان ایک حقیقت ہیں۔ ان سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ امریکی حکام اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ افغان تنازع کا فوجی حل ممکن نہیں ہے۔ یوں موجودہ زمانے کی سپرپاور امریکا نے افغان جنگ میں شکست کا اعتراف کر لیا۔

امریکہ بظاہر مذاکرات کے عمل کو تیزی سے انجام تک پہنچانے اور انخلا کا خواہاں ہے اور حقیقت یہ ہے کہ اس کے علاوہ اس کے پاس اپنی شکست چھپانے کے لئے اورکوئی راستہ بھی نہیں ہے۔ قطر میں افغان امن مذاکرات جو معاملات زیرِ غور آئے وہ کچھ اس طرح ہیں :

1• فوجی انخلا کے دوران واپس ہوتی غیر ملکی فوج کو مکمل تحفظ و احترام فراہم کیا جائے گا

2• نیٹو افواج کے انخلا کے بعد افغانستان کی سرزمین امریکہ سمیت کسی ملک کے خلاف استعمال نہیں ہو گی۔

3• افغان میں موجود نیٹو اسلحہ ایک بڑا مسئلہ ہے۔ طالبان کا اصرار ہے کہ نیٹو یہ سارا اسلحہ ان کے حوالے کر دے یا اپنے ساتھ واپس لے جائے۔

4• طالبان امریکہ نواز افغان حکومت اور ان کے حلیفوں کو عام معافی دینے پر تیار ہیں۔

5• امریکہ چاہتا ہے کہ وہ افغانستان میں اپنے چند اڈے برقرار رکھے اور باہر طالبان ہی تعینات ہوں گے اور ان اڈوں کو مستقبل کی افغان حکومت کے خلاف استعمال نہیں کیا جائے گا۔ اب امریکہ کا مطالبہ بگرام اڈے تک محدود ہوگیا ہے لیکن طالبان کے لئے یہ بھی ناقابل قبول ہے

6۔ طالبان کا کہنا ہے کہ وہ امن معاہدہ ہوجانے کی صورت میں نیٹو افواج پر گولی نہیں چلائیں گے لیکن انخلا مکمل ہونے تک وہ اپنے ہتھیار نہیں رکھیں گے۔ افغا ن فوج اگر ہتھیار ڈال دیں تو انھیں مکمل تحفظ فراہم کیا جائے گا دوسری صورت میں طالبان حملے جاری رکھیں گے۔

7• خیال ہے کہ انخلا کے ٹائم ٹیبل پر بھی اتفاق ہو گیا ہے

وقت اور حالات نے ثابت کیا کہ ماضی میں ’اجڈ و گنوار‘ کہلائے جانے والے طالبان نہ صرف منجھے ہوئے سفارت کار سیاست دان اور مذاکرات کار ثابت ہوے بلکہ بے سرو سامانی کے عالم میں سترہ سال تک سپر پاور امریکہ اور نیٹو ممالک کی ہر قسم کی جدید جنگی ٹیکنالوجی جدید ترین اسلحے اور فضائی طاقت سے لیس اتحادی فوج کو نہ صرف ناکوں چنے چبائے بلکہ ذلت آمیز شکست کے بعد مذاکرات کی بھیک مانگنے، شکست کا اعتراف کرنے اور بھاگنے پہ مجبور بھی کیا۔ مومن فطرتاً مخلص و سادہ لوح ہوتا ہے اور کسی کو دھوکہ نہیں دیتا لیکن مومن کو دھوکہ دینا بھی آسان نہیں کہ اس کی بصیرت اللہ کے نور سے معمور ہے

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •