23 مارچ۔ پاکستان سے تجدید ِ محبت کا دن

چڑیا تنکا تنکا اکٹھا کرکے اپنے بچوں کے لئے ایک گھونسلا بناتی ہے۔ ایک اپنا ننھا سا آشیاں۔ جانور، چرند پرند سب ہی اپنے مسکن سے انسیت رکھتے ہیں۔ کچھ جانور اپنے ملکیتی علاقے میں دوسرے جانوروں کی مداخلت برداشت نہیں کرتے۔ انسان بھی اس فطری جبلت سے عاری نہیں۔ یہ جذبہ انسان میں بھی…

Read more

سیاسی ٹاک شوز کے نفسیاتی پھندے

میلے ٹھیلے، بحث مباحثے اور تفریح ازل سے انسانی معاشرے کا لازمی حصہ رہے ہیں۔ تجسس انسان کی بنیادی جبلت ہے۔ بچہ جیسے ہی رینگنے کے قابل ہوتا ہے اسے روکنا بہت مشکل ہو جاتا ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ اسے ماحول میں آزاد چھوڑ دیا جائے تا کہ وہ خود اسے دریافت کرے۔ گھر…

Read more

سانحہ ساہیوال۔ زرد پتوں کا بن جو میرا دیس ہے

آنکھیں بند کریں ایک لمحے کو اور یہ منظر فرض کریں کہ آپ اپنے بھائی کی شادی پر جانے کے لئے اپنے بیوی بچوں کے ساتھ گھر سے نکلتے ہیں اور راستے میں پولیس کی گاڑی آپ پر فائرنگ کر کے آپ کے بچوں کے سامنے آپ کو مار ڈالتی ہے۔ مرنے سے چند لمحے پہلے آپ کیا سوچ رہے ہوں گے؟ چلیں نہیں فرض ہو رہا اگر آپ سے تو ایک اور منظر پہ کوشش کریں۔ آپ کا بچپن۔ آپ کی آنکھوں کا سامنے اچانک وہ پولیس جس کے بارے میں آپ کا ننھا ذہن بس یہ جانتا تھا کہ وہ آپ کے محافظ ہیں، آپ کے والد کو گولیوں سے بھون ڈالتی ہے۔ آپ ساری عمر اس پولیس اور سرکار کے بارے میں کیا احساسات رکھیں گے؟ رہنے دیں۔ کچھ نہ فرض کریں۔ کچھ دلخراش واقعات فرض کرنا بھی نا ممکن ہے۔

اسلامی مملکت پاکستان میں دن دیہاڑے سرعام ننھے بچوں کے سامنے ان کے ماں باپ کو گولیوں سے بھون دیا گیا جب کہ اسلام وہ دین ہے جو ایک جانور کو بھی دوسرے جانور کا سامنے ذبح کرنے سے منع کرتا ہے کہ جانور کی دل آزاری نہ ہو۔ کیا وحشی درندوں سے بھی بدتر ہو چکی ہے پنجاب پولیس؟ پاکستان تحریکِ انصاف جس نے پولیس نظام کو بدلنے کا خواب دکھایا تھا ابھی تک ایک بھی عملی قدم نہیں اٹھا سکی پولیس میں اصلاحات کے لیے۔

Read more

آؤ حضور آپ کو تاروں میں لے چلوں

بابیتا شیوداسانی پر فلمایا گیا قسمت فلم کا یہ گانا سنتے ہوئے نہ جانے کیوں میں پاکستان کے موجودہ سیاسی منظر نامے میں کھو گیا۔ بابیتا اس گانے میں بے حد حسین اور ہوش ربا لگ رہی ہیں۔ اتنی حسین کہ ان کی بات مان کر ان کے ساتھ ستاروں کے سفر کی راہ لی…

Read more

نیا سال پرانے ہم

ماضی قریب کی ہی بات ہے جب میں بھی اپنے احباب کی طرح نئے سال کی آمد پر جوش خروش سے تقریبات میں شریک ہوتا تھا۔ وقت، لمحے سال بیتنے پر تجسس اور کچھ آرزوؤں کے پورے ہو جانے کی امید ایک عجیب سی مسرت پیدا کر دیتی تھی۔ یہ ایسا وقت تھا جب میں مستقبل کی طرف حد سے زیادہ مثبت رویہ رکھتا تھا۔ جوں جوں وقت گزرا شطرنج کی طرح چالیں ختم ہوئیں اور بادشاہ کی جان بچانے کی فکر لاحق ہو گئی۔ آس پاس بہت سے دوست رشتہ داروں کو دیکھتا ہوں تو پتہ چلتا ہے کیسے ان کے نئے سال پرانے ہی رہ گئے۔

کچھ کو لگتا تھا کہ ایف ایس سی میں اچھے نمبر لے کر نئے سال میں میڈیکل کالج میں پہنچ جائیں گے مگر ایسا نا ہو سکا۔ نئے سال میں پرانی جگہ پر ہی تھے۔ کچھ نے مقابلے کا امتحان دیا ایک نے تو اپنا ای میل ایڈریس بھی سی ایس پی کے نام سے بنا لیا مگر موصوف 2016 میں اپنے نئے ایڈریس کے مطابق سی ایس پی نہیں بن سکے۔ خیر ایک عمر تک جب آپ کے پاس کھیلنے کے لئے کچھ پتے باقی ہوتے ہیں ہر نیا سال ایک نئی امید کا راہرو ہوتا ہے۔

Read more

خود ترسی- ایک قابلِ حل نفسیاتی مسئلہ

قدرے عام نفسیاتی مسائل میں سے خود ترسی ایک بہت بڑا نفسیاتی مسئلہ ہے۔ جسے پوچھ لیں اپنی مظلومیت کا یوں رونا روئے گا کہ سننے والے کا بھی دل بھر آئے۔ طلبا پڑھائی کی زیادتی پہ نالاں ہیں۔ ملازمت پیشہ لوگ ہمیشہ اپنی تنخواہ کی پیمائش میں مصروف رہتے ہیں اور زیادہ تر اس کے نتائج انہیں ڈیپریس کر دیتے ہیں۔ اکثر لوگ بشمول کلائنٹس، احباب اور میرے طلباء و طالبات اپنی کچھ ایسی الجھنوں کا ذکر کرتے ہیں جو انہیں الجھائے ہی رکھتی ہیں۔ مگر ان الجھنوں کی نوعیت کے حوالے سے میں اپنے ان تمام راہنمائی کے خواہاں افراد میں حد درجہ مماثلت پاتا ہوں۔ اگر ان مسائل کو عمر کے لحاظ سے گروہ بند کیا جائے تو یہ مماثلت شدید تر ہو سکتی ہے۔ ان مسائل کی کچھ مثالیں درج ذیل ہیں

Read more