نواز شریف کا بھوت گلے پڑ گیا ہے
سابق وزیراعظم کی طبی بنیادوں پر ضمانت کے امکانات کو لے کر ایک طرف این آر او یا ڈیل کا بھر پور شور شرابہ بعض حلقوں کے سائبر سیلوں سے کیا جا رہا ہے اور دوسری طرف عالمی ریٹنگ ایجنسی نے پاکستان کی ریٹنگ بی نیگیٹو کر دی ہے۔ سابق وزیراعظم میاں نواز شریف کی ضمانت کے امکانات اور علاج کے لئے بیرون ملک ممکنہ روانگی کی افواہوں اور ملکی معیشت کی تیزی سے ابتر ہوتی صورتحال میں ہمیں کوئی ربط نظر نہیں آتا۔ جو حکمت ساز تبدیلی لائے ہیں جیل میں قید نواز شریف سے وہ کیا چاہتے ہیں اور میاں نواز شریف انہیں کیا دے سکتے ہیں ان دو باتوں کا تجزیہ کر لیں تو بھی کوئی نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا۔
میاں نواز شریف کو جبری این آر او دیا جائے اور انہیں علاج کے لئے بیرون ملک جانے کی اجازت دے دی جائے تو کیا ہو گا؟ کیا سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہو جائے گا۔ کیا میاں نواز شریف کے ساتھ ڈیل کی صورت میں عالمی ریٹنگ ایجنسیاں پاکستان کی معاشی ریٹنگ بہتر کر دیں گی؟ کیا ادائیگیوں کے توازن کی لٹکتی تلوار سے نجات مل جائے گی؟ کیا منظور پشتین اپنے مطالبات سے دست بردار ہو جائے گا اور کیا حکمت سازوں کی تبدیلی کو تسلیم کر لیا جائے گا؟ ان سوالات کے جوابات مل جائیں تو ڈیل اور این آر کی باتوں پر یقین بھی کیا جا سکتا ہے دوسری صورت میں اسٹیبلشمنٹ کے لئے سابق وزیراعظم میاں نواز شریف ایک بھوت بن چکا ہے اور بھوت بنا رہے گا۔
دوست ممالک سے جو چند ارب ڈالر ملے ہیں وہ صرف چھ آٹھ ماہ تک سانس لینے کی مہلت ہے اصل مسئلہ آئی ایم ایف پروگرام اور اس سے منسلک شرائط ہیں۔ عالمی ریٹنگ ایجنسیاں بھی عالمی مالیاتی اداروں کی طرح طاقتور ممالک کے اشاروں پر ممالک کی معاشی ریٹنگ گراتی ہیں اور اچھی کرتی ہیں۔ پاکستان کی معاشی ریٹنگ کم کی گئی ہے تو اس کا دوسرا مطلب یہ ہے آئی ایم ایف پروگرام کی شرائط مزید سخت ہوں گی ۔
نواز شریف کے ساتھ ممکنہ این آر او سے اگر کسی کو خوفزدہ ہونا ہے تو وہ خود موجودہ حکومت ہے جس کی ناقص معاشی پالسیوں نے تبدیلی کے غبارے سے ہی ہوا نہیں نکالی خود ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ اسٹیبلشمنٹ کو بھی انتہائی کمزور وکٹ پر کھڑا کر دیا ہے۔ شہباز شریف کے ہاتھ میں کچھ نہیں ہے وہ صرف اپنے لئے نیب مقدمات سے ریلیف لے سکتے ہیں اور وہ انہوں نے لے لیا ہے اسٹیبلشمنٹ کو دینے کے لئے شہباز شریف کے پاس کچھ نہیں۔
میاں نواز شریف کو جیل میں رکھ کر بھی معیشت بہتر نہیں ہو سکتی انہیں رہا کرنے بیرون ملک جانے کی اجازت دینے سے بھی مسائل حل نہیں ہو سکتے۔ فرض کریں میاں نواز شریف علاج کے لئے لندن چلے جاتے ہیں تو اس سے اسٹیبلشمنٹ کو کیا فائدہ ہو گا؟ اسٹیبلشمنٹ کے پاس کھونے کے لئے بہت کچھ ہے جبکہ میاں نواز شریف کے پاس کھونے کے لئے کچھ نہیں ہے وہ سب کچھ گنوا بیٹھے ہیں۔
ان کی وزارت عظمی چھینی گئی۔ ان کی اہلیہ قید کے دوران انتقال کر گئیں۔ انہیں جیل بھیج دیا گیا، ان کی توہین کی گئی۔ انہیں مودی کا یار کہا گیا۔ آج جب ان کے ساتھ یہ سلوک کرنے والے معاشی بحران اور بوجھ بن جانے والی تبدیلی کے ہاتھوں نہ جائے ماندن نہ پائے رفتن کا شکار ہیں تو این آر او کی ضرورت نواز شریف کو ہے یا تبدیلی لانے والوں کو؟ اس بات کا تجزیہ ضرور ہونا چاہے۔
جو کھیر بنائی گئی تھی وہ دلیہ بن چکی ہے۔ معاشی بقراطوں نے شرح سود بڑھا کر بجٹ خسارہ بڑھا دیا ہے۔ روپیہ کی قیمت میں 40 فیصد کمی صرف ایک سال میں کی گئی ہے اس سے افراط زر یعنی مہنگائی ہی نہیں بڑھی تمام درآمدات کی پیداواری لاگت میں بھی اضافہ ہو گیا ہے کیونکہ اب برآمدات کے لئے درکار خام مال 40 فیصد اضافی قیمت پر درآمد ہو گا۔
ٹاسک فورس نے پاکستان کو جو گرے لسٹ میں ڈالا ہے، سٹینڈرڈ اینڈ پورز نے پاکستان کی جو ریٹنگ کم کی ہے اس سے غیر ملکی سرمایہ کار آئیں گے نہ عالمی منی مارکیٹ سے پیسے ملیں گے اگر ملے بھی تو بہت زیادہ قیمت پر۔ آپ کے بانڈز بھی عالمی مارکیٹ میں فروخت نہیں ہوں گے اگر فروخت ہوئے بھی تو بہت زیادہ سود دینا ہو گا۔ بجٹ خسارہ بڑھتا ہی جا رہا ہے اور نجات کی کنجی سیاسی قوتوں خاص طور پر میاں نواز شریف کے پاس ہے۔
اگر لاہور میں چینی سفیر کی گفتگو کے بعد معاملات کو سنبھالنے کی کوشش کی جا رہی ہے تو پھر یہ کام تیزی کے ساتھ کرنا ہو گا اور سابق وزیراعظم کی شرائط کو تسلیم کرنا ہو گا۔ مسائل کا حل صرف آئین اور قانون کے تحت تمام اداروں کا اپنے دائرہ اختیار میں رہنے میں ہے۔ کسی سیاسی قوت کو جبری سیاست سے بے دخل کرنے کی کوشش بعض دفعہ اسی طرح گلے پڑ جاتی ہے جس طرح نواز شریف کا بھوت گلے پڑ گیا ہے۔


