پرامن ساحل اور پاکستان نیوی


ترقی یافتہ ممالک کی کامیابی بہتر معاشی صورتحال سے منسلک ہے۔ معاشی امور کے ماہرین کے مطابق دنیا کی معیشت میں تجارت کا اہم ترین ذریعہ بحری راہداریاں ہیں۔ بحری تجارت پر توجہ دینے والے ممالک نے نمایاں ترقی حاصل کی۔ یہ ہی نہیں بلکہ بحری تجارت کے ذریعے یہ ممالک دوسرے براعظموں کے ساتھ اپنے مفادات کے اثر و رسوخ قائم کرنے میں بھی کامیاب رہے ہیں۔ اللہ نے پاکستان کو سمندر جیسی نعمت دی ہے۔ جس کی بدولت ہم اپنی معاشی صورتحال کو بہتر بنانے کے لئے کوشاں ہیں۔

بحری معیشت کو مستحکم بنا کر ملک کی مجموعی قومی پیداوار کو تین گنا تک لے جایا جا سکتا ہے۔ اس سلسلے میں پاکستان نیوی ہراول دستے کا کام کر رہی ہے۔ پاک بحریہ میری ٹائم سرحدوں کی دفاع سے لے کر گہرے سمندروں میں انسانی ہمدردی کی بنیاد پر مدد فراہم کرنے تک، قومی اثاثوں کی حفاظت سے لے کر علاقا ئی اشتراک تک اور علاقائی بحری سکیورٹی گشت سے لے کر عالمگیر شراکت داری تک ہمیشہ پیش پیش رہی ہے۔

دنیا کی دیگر بحری افواج کے ساتھ بہتر روابط استوار کرنے اور پاکستان کے خارجہ تعلقات میں بہتری کے لئے پاکستان نیوی نے 2007 میں امن مشقوں کا انعقاد کیا۔ جس میں 28 ممالک کی بحری افواج نے حصہ لیا۔ 2007 سے اب تک پانچ امن مشقوں کا انعقاد کیا جا چکا ہے۔ رواں ماہ میں چھٹی امن مشق کا انعقاد کیا جائے گا۔ جس میں تقریباً 43 ممالک شرکت کریں گے۔ ان مشقوں میں مختلف دفاعی آپریشنز کے ساتھ ساتھ بحری قذاقوں سے نمٹنے کی مشقیں بھی شامل ہوں گی۔ مشق کا مقصد بحری تعاون کو بڑھانا، علاقائی اورعالمی استحکام کے لئے محفوظ سمندری ماحول کو فروغ اور سمندروں کو محفوظ بنانا ہے۔

یقیناً پڑھنے والوں کے ذہن میں یہ سوال آرہا ہوگا کہ ان مشقوں کا نام امن مشق ہی کیوں رکھا گیا۔ امن مشقوں کو ترتیب دیتے ہوئے جن اُمور کو مد نظر رکھا گیا، اُن میں اولاً پاکستان کی حیثیت کو بطور امن پسند ملک اُجاگر کرنا ہے۔ دوم، عالمی بحری افواج کے درمیان پاک بحریہ کی حیثیت کو مستحکم کرنا ہے۔ سوم، علاقائی اور غیر علاقائی بحری افواج کے ساتھ معاملات کار بڑھاتے ہوئے خطوں کے درمیان روابط پیدا کرنا ہے۔ چہارم، دہشت گردی اور سمندری جرائم کا یکجا طور پر مقابلہ کرنا ہے۔

آپریشنل مشقوں کے علاوہ بین الاقوامی بحری امن کانفرنس بھی ان ہی مشقوں کا حصہ ہیں پہلی بین الاقوامی میری ٹائم کانفرنس چار سے چھ مارچ 2007 کو بحریہ یونیورسٹی کراچی میں منعقد ہوئی تھی۔ جس میں دانشوں، کالم نگاروں، اساتذہ کرام، مبصرین، مختلف سفارتخانے کے نمائندوں اور پالیسی سازوں نے شرکت کی۔ کانفرنس میں عالمی تناظر میں، بحرہند کی سلامتی، بحر ہند کا نظم و ضبط، میری ٹائم قوانین جیسے اہم موضوعات پر مقالے پڑھے گئے تھے۔

امن مشق کی طرح، امن کانفرنس کا انعقاد بھی ہر دو سال بعد کیا جاتا ہے۔ بحری امن مشقوں کی یہ سیریز پاکستان اور دوسرے ممالک کے مابین بہتر تعلقات قائم کرنے کے ساتھ، وطن عزیز کی مثبت پوزیشن کو مزید واضح کرنے میں معاون ثابت ہوگی۔ ان مشقوں اور کانفرنس کے انعقاد کے ذریعے مختلف ممالک کی بحری افواج کو اپنی پیشہ ورانہ صلاحیتیں بڑھانے اور مشترکہ آپریشنز کرنے کی مہارتوں میں اضافے کے لئے مواقع مہیا ہوتے ہیں جبکہ کانفرنس میں گفتگو کے ذریعے ایک دوسرے کی سوچ اور حکمت عملی واضح ہوتی ہے۔ پاک بحریہ کی جانب سے منعقد کردہ یہ سیریز سی پیک کے تناظر میں بھی انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔ انشا اللہ وہ وقت دور نہیں جب پاکستان نیوی کی خدمات رنگ لائیں گی اور وطن عزیز کا پرامن ساحل ملک کی خوشحالی کا ضامن بنے گا۔ انشاء اللہ۔

Facebook Comments HS