مہاتما گاندھی کی جواہر لعل نہرو کو نصیحت

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

مہاتما گاندھی نے جواہر لعل نہرو کو نصیحت کی تھی کہ اگر تم فلاحی ریاست چاہتے ہو تو تین چیزیں کبھی مہنگی نہ ہونے دینا “سائیکل، آٹا اور سینما کا ٹکٹ” تینوں کی قیمتوں پر کنٹرول کرنا کیونکہ ان تینوں کا تعلق غریب آدمی ہے۔ غریب آدمی سائیکل پر سفر کرتاہے۔ کھانے کو دو وقت کی روٹی اسے میسر رہے اور لے دے کے اس کے پاس تفریح محض سینما گھر ہی ہوتا ہے۔ مہاتما گاندھی کا حکم تھا یا کچھ آج بھی بھارت میں تینوں اشیا کی قیمتیں پاکستان سے کہیں کم ہیں۔ اس عمل کے اثرات بھی آج بھارتی معاشرہ پرمحسوس کیے جا سکتے ہیں۔ آج بھی بھارت میں سائیکل آٹا اور سینما کاٹکٹ بہت سستا ہے گویا جواہر لعل نہرو کے بعد بھی آنے والے حکمرانوں نے اپنے قابل احترام باپو مہاتما گاندھی کی نصیحت پر عمل کیا۔ بڑے بڑے بحران آئے۔ معیشت زبوں حالی کاشکار رہی لیکن بھارت نے اس نصیحت کو ہاتھ سے نہ جانے دیا۔ بھارت نے اس نصیحت کے ساتھ ساتھ خود انحصاری کوہاتھ سے نہ جانے دیا۔ تقسیم ہند کے بعد سے لے کر کچھ عرصہ قبل تک بھارت سرکار کے بڑے بڑے وزرا بلکہ خود وزیراعظم اپنے ہی ملک میں تیارہونے والی چھوٹی سی کار استعمال کیا کرتے تھے لیکن آج اس خود انحصاری کا نتیجہ ہے کہ بھارت دنیا کی بہترین کار کمپنیاں رکھنے والے ملک بن چکا ہے ٹاٹا اور ماروتی دو ایسی کمپنیاں ہیں جن کے معیار پر بھارت کو بجا طور پر فخر ہو سکتا ہے۔

تاریخ کے صفحات پر درج ان واقعات کو نہ تو کھرچا جا سکتا ہے اور نہ ہی تاریخ اس بات کی اجازت دے گی کہ بھارتی عوام کی زندگی بدل دینے والی نصیحت کو یوں فراموش کر دیا جائے۔ اپنے ہاں کے حالات پر نظر پڑتی ہے تو کلیجہ منہ کو آنے لگتا ہے۔ مہنگائی کا طوفان دنیا بھرمیں برپا ہوا۔ چند برسوں میں بیروزگاری، مہنگائی کے طوفان برپا ہوئے۔ امریکہ جیسی سپرپاور اور برطانیہ جیسی منظم ریاست بھی اس بحرانی کیفیت سے دوچار رہی لیکن کہیں سے بھی ”بیڈ گورننس“ کی خبر نہیں ملیں۔ آئے روز یہ اطلاعات تو سامنے آتی رہیں کہ سینکڑوں افراد بے گھر ہوئے لیکن اس طوفان میں کسی کے بھوکا رہنے کی خبر نہیں مل سکی۔

دنیا بھر میں وتیرہ ہے کہ اشیائے صرف کی قیمتوں پر خاص طورپر کنٹرول رکھاجاتا ہے تاکہ مہنگائی کا طوفان کھڑا نہ ہو جائے۔ دنیا کے بڑے بڑے ممالک ہوں یا ترقی پذیر ملک، حکمران یہی کوشش کرتے ہیں کہ مستقل مزاج پالیسیوں پر چلا جائے تاکہ عوام پر مہنگائی کا بوجھ نہ پڑے۔ حیرت ہے کہ پاکستان میں ان عوامل پر توجہ دینا گوارا نہیں کیا جاتا۔ تسلیم کرنا پڑے گا کہ پاکستان اپنے مشکل ترین دور سے گزر رہا ہے۔ معیشت کی زبوں حالی، بجلی، گیس اور دوسرے بحران اس کی معیشت کا بیڑہ غر ق کرچکے ہیں لیکن بدقسمتی ہے کہ جمہوریت پسندوں نے عوام کی حالت بدلنے کی بجائے اپنی تقدیر بدلنے کی طرف زیادہ توجہ مرکوز رکھی ہے۔ بحران ہر ریاست کی زندگی میں آتے ہیں ہمارے ہاں بھی بحرانی کیفیت رہی اورآج بھی اثرات ہیں۔ اثر پڑا تو عوام کی زندگی پر لیکن حکمرانوں کے طرز زندگی پر کوئی اثر نہیں پڑا۔

”عوام کو سپریم پاور“ کہنے والوں نے ایسے کیا اقدامات اٹھائے کہ جن کے عوام کی زندگی پر اثرات محسوس کیے جا سکتے۔ ہر پندرہ دن کے بعد گیس۔ پٹرولیم مصنوعات اور بجلی کی قیمتوں میں اضافہ کے کوئی ایسا کارنامہ موجودہ حکومت کے پلڑے میں دکھائی نہیں دیتا جس پر کارپردازان حکومت فخر کر سکیں۔ یہاں ہمیں نیلسن منڈیلا کی کہی ہوئی بات یاد آ رہی ہے کہ کسی نے تحریک آزادی کے اس عظیم مجاہد سے پوچھا تھا کہ لیڈر اور سیاستدان میں کیا فرق ہوتا ہے۔ انہوں نے جواب دیا کہ ”سیاستدان اقتدار کے لئے اور لیڈر قوم کے لئے سوچتا ہے“

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •