”ذیشان کے ساتھ میری شادی شدہ زندگی اچھی بسر ہورہی تھی ’طویل رفاقت کے باوجود ہم دونوں کے درمیان ایک باریک سی لکیر تھی جب ہم اس لکیر کے پاس پہنچتے تو ہمارے لب خود بخود خاموش ہوجاتے اور ہم ایک دوسرے کو مطعون ٹھہرائے بغیر دیکھتے رہتے مگر زبان سے ایک لفظ تک ادا نہ ہوتا۔ وہ لکیر اولاد تھی۔ مجھے پتہ تھا کہ ذیشان اس حوالے سے خالی ہے مگر اس کے باوجود میں رشتے کو نباہ رہی تھی۔ یہ خاموش لکیر بڑھتے بڑھتے ایک خلیج بن گئی اور بالآخر یہ طوفان بھونچال لے آیا۔ ذہنی مریض بنتے ذیشان نے مجھے طلاق دے دی۔
میرے اندر بھی بھونچال آگیا کہ میری قربانیوں کا یہ صلہ ’کئی دنوں کے بعد ذیشان نے رابطہ کیا کہ وہ اپنے کیے پرشرمند ہ ہے۔ میرا خیال تھا کہ وہ بحیثیت مسلمان جانتا ہو گا کہ طلاق کے بعد دوبارہ رجوع کیسے کیا جا سکتا ہے‘ اسے سمجھانے کی کوشش کی کہ شرعی طور پر ایک دوسرے کے رفیق کیسے بن سکتے ہیں مگر وہ بضد رہا ’ایک دن اس نے آئیڈیا پیش کیا کہ اس کا ایک دوست ہے جو باقاعدہ نکاح کرکے مجھ سے شادی کرے گا اور پھر طلاق دے گا تو میں عدت پوری ہونے پردوبارہ رجوع کر لوں گا۔
پھر ایک دن ذیشان نے بتایا کہ میرادوست کم ازکم دو دن تک نکاح میں رکھناچاہتا ہے حالانکہ وہ ایک ہفتے سے کم پر راضی نہ تھا لیکن ذیشان کے زور دینے پر بمشکل دودن بعد طلاق پرراضی ہوا۔ میرا ذہن ماؤف تھا کہ اگر میں دوبارہ ذیشان کی زندگی میں شامل ہوناچاہتی ہوں تو مجھے یہ کام کرنا پڑے گا۔
Read more