طالب علم اور کتاب
طالب علم اور کتاب میں گہرا رشتہ ہے۔ سائنس کے اس برق رفتار ترقی کے باوجود نیز انٹرنیٹ کے مقبولیت سے ٹکر لیتی ہوئی کتاب ہر لمحہ اپنی اہمیت کا گہرا احساس دلاتی جاتی ہے آج بھی کتابوں کے بغیر پڑھائی کا تصور بھی نہیں کرسکتے نصاب میں کتاب شامل نہیں ہوگا ایسا ہم سوچ بھی نہیں سکتے۔
بچپن سے ہی طالب علم کتابوں سے وابستہ ہوجاتا ہے۔ ماہرینِ نفسیات کا کہنا ہے کہ آپ چاہتے ہیں کہ ایک بچہ کتابوں میں دلچسپی لے تو اس کے لئے ضروری ہے کہ اس کو اس کے پسندیدہ کتابین پڑھنے کو دی جائیں۔ کہتے ہیں کہ جب طالب علم اپنے پسند کے مطابق کتابوں کو انتخاب کرتے ہیں تو وہ بہترین مصنف ثابت ہوتے ہیں یعنی وہ آگے چل کر خود بہترین کتابین لکھنے لگتے ہیں۔ طالب علم جتنا زیادہ مطالعہ کریں گے وہ اتنا ہی بہترین مصنف ثابت ہوں گے۔ طالب علم پر کوئی مضمون بوجھ نہیں ہونا چاہیے اسے چاہیے کہ وہ اپنے پسندیدہ مضامین کو پوری دلچسپی کے ساتھ پڑھے اور جہان تک ممکن ہو اپنے اندر لکھنے کا مہارت پیدا کرے۔
طالب علموں کو کتابوں کا انتخاب کرنے اور پڑھنے کا مکمل اختیار سونپ دیا جائے جس سے ان کے ذوق و شوق کو جاننے میں آسانی ہوتا ہے جس کو بنیاد بنا کر طالب علم اپنے مستقبل کا لائحہ عمل بہترین انداز میں تیار کرسکتے ہیں۔ ان باتون کو مد نظر رکھتے ہوئے اساتذہ کرام اور والدین کو چاہیے کہ وہ طالب علموں پر اپنا اعتماد بحال کرے اور ان کو اچھے کتابین لکھنے اور پڑھنے کی طرف راغب کریں۔
جیسے جیسے طلباوطالبات اونچے درجوں میں قدم رکھتے ہیں ویسے ویسے کتابوں کے انتخاب میں ان کی ذمہ داری بڑھتی جاتی ہے۔ وہ اپنی اپنی زبان کے مشہور اور بڑے مصنفین کو پہچاننے لگتے ہیں اور ان کے تحریروں سے آشنا ہو جاتے ہیں۔ دعوی نہیں کرتا ہوں لیکن یقین کے ساتھ یہ کہہ سکتا ہوں ہر شخص کے بچپن میں ایسے لوگ ضرور آجاتے ہیں جو انہیں سچا راستہ دکھانے کے ساتھ ساتھ کتابوں کے ساتھ دوستی کروا کر اُن کے قریب لے آتے ہیں۔ کہتے ہیں کہ کتاب انسان کا بہترین ساتھی ہے لہذا اس بہترین ساتھی کے لئے تھوڑا وقت نکالتے ہوئے اس سے گہرے اور بہترین رشتے کو قائم و دائم رکھا جا سکتا ہے (ساتھیوں کو وقت نہ دینا ان سے دوریوں کا سبب بنتا ہے )
اگر کوئی طالب علم اپنی قومی یا کسی اور زبان میں مہارت حاصل کر رہا ہے تو اسے چاہیے کہ متعلقہ زبان کے نامور اور عظیم مصنفین کی کتابین اپنے پاس لے کر رکھ لے اور ان کا مطالعہ کرتا رہے۔ اگر وہ کسی کتب خانہ یا لائبریری کا ممبر بن سکتا ہے تو اس کے لئے اچھا رہے گا لائبریری میں نایاب کتابوں کے پڑھنے کا موقع مل سکتا ہے جس سے وہ شعور اور آگاہی سے فیض یاب ہو سکتا ہے۔
ہمارے معاشرے میں لائبریری کا فقدان ہے سمجھ نہیں آ رہا ہے کہ اسے بدقسمتی کہوں یا بے شعوری کیونکہ میرے نظر میں لائبریری ایک مقدس جگہ ہے جس سے نکلنے والا انسان اچھائی اور برائی میں فرق واضح کرنے کے قابل ہوتاہے۔ اس مقدس جگہ (لائبریری) سے ہم محروم ہیں یا ہمیں محروم رکھا جارہا ہے تاکہ ہم آگاہی حاصل کرنے سے قاصر رہیں۔
جس معاشرے میں لائبریری قائم ہیں یہ وہاں کے باشندوں کا فرض ہے کہ وہ لائبریری کو قومی اثاثہ سمجھ کراس کا حفاظت کریں اور اسے نئی اور تازہ مطبوعات سے آراستہ کریں اور وہاں بسنے والے ہر طبقہِ فکر کو چاہیے کہ وہ ان سے پوری آگاہی حاصل کریں۔
طالب علموں کو چاہیے کہ وہ ہر ڈسپلن کی کتابوں کا مطالعہ کریں خاص طور پر اپنی قومی شناخت اور تاریخ کی کتابوں کا مطالعہ کریں جو وقت کی اشد ضرورت ہے۔ روزانہ کی بنیاد پر ایک مقررہ اوقات مطالعہ کے لئے وقف کرنے سے مطالعے کی عادت کو بحال رکھا جا سکتاہے (ویسے تو زیادہ تر اوقات مطالعہ کے لئے وقف کر دینا چاہیے )۔ غرض کتابوں کی اہمیت کے پیش نظر کوئی بھی طالب علم، معاشرہ اور قوم بغیر کتابوں کے ترقی نہیں کر سکتا۔


