کراچی میں مامتا سمندر میں کیسے غرق ہوئی؟


” کوئی جگہ نہیں دے رہا تھا اب جگہ مل گئی میری انعم کو۔ “

کراچی کی شکیلہ نے اس نے اپنی بیٹی کو، پھول جیسی بیٹی کو سمندر میں پھینک دیا اور اب اس طرح کے عجیب و غریب بیان دے رہی ہے۔ وہ قاتلہ ہے، کسی اور کی نہیں اپنے جگر کے ٹکڑے کی، سزا کی مستوجب ہے جو قانون اسے دے گا۔

ہر جرم کے پیچھے سبب ہوتا ہے، محرک ہوتا ہے، بیٹی کو قتل کرنے کی کیا وجہ رہی ہوگی، اس پر تنقید کرنے والے وہ وجہ سننا نہیں چاہتے مبادا قاتل سے ہمدردی انہیں شریک مجرموں میں شامل نہ کردے۔ مگر کسی جرم کا تدارک کرنا ہے تو اس کے اسباب پر غور کیے بغیرکوئی راستہ نہیں۔

جس معاشرے میں بیٹی کی پیدائش سے پہلے ہی ماں کو گھر بچانے کے لالے پڑے ہوں وہاں شکیلہ کی بیان کردہ کہانی کو سچ ماننے میں کوئی حرج نہیں۔ وہ کہتی ہے بیٹی کو باپ نے قبول نہیں کیا، اور ماں بیٹی دونوں کو گھر سے نکال دیا، میکے والوں نے تو گویا خود اس کے جنازے کے انتظار میں دروازے بند کر رکھے تھے۔ شکیلہ نے سمندر کی گود کو خود سے محفوظ سمجھا اور بیٹی کو اس کے حوالے کرڈالا۔ اور خود زندہ لاش بن کر سوالوں کا سامنا کر رہی ہے، اس کے لیے لفظ بے معنی اور وضاحتیں بے سود ہیں۔ پھر بھی دنیا سوالوں کے تیر برسا رہی ہے۔

شکیلہ ایسا سوچنے پر کیوں مجبور ہوئی، کن حالات اور عوامل نے اسے ساحل سے سمندر میں دھکیلا، خاندان والے کیا کرسکتے جو انہوں نے نہیں کیا، انہیں کیا نہیں کرنا چاہیے تھا؟ شکیلہ کے پاس سمندر سے پہلے کیا آپشنز تھے۔ کوئی دوسری شکیلہ ایسے حال میں ہو تو کیا کرے، کہاں جائے؟

ایدھی اور چھیپا کے جھولے، برنیوں کے ویلفیئر ٹرسٹ، سرکاری یتیم خانے، مفت قانونی خدمات فراہم کرنے والے ادارے، کئی این جی اوز موجود ہیں مگر شاید سمندر جیسی مہربان نہیں، تبھی تو کراچی جیسے گنجان آباد شہر میں کوئی شکیلہ کی درست رہنمائی نہ کرسکا، کوئی ہاتھ پکڑ کربھلے اپنے گھر نہ لے جاتا، راستہ تو دکھا دیتا۔

دیگر جرائم کے مقابلے میں خودکشی ایک انتہائی پیچیدہ جرم ہے، یہ کسی انسان کے اپنے ہاتھوں قتل ہے جس پر کوئی باشعور انسان کبھی آمادہ نہیں ہوتا۔ اس ذہنی کیفیت کا درست تجزیہ اس حال سے گزرے بغیر ممکن نہیں، اور خدا سب کو اس حال سے محفوظ رکھے، ماں کے ہاتھوں ننھی بچی کا قتل تو خود اس سے بھی بڑھ کر ہے کہ وہ خود قربان ہوجاتی ہے اولاد پر آنچ نہیں آنے دیتی، ۔ میں ماں نہیں، بیٹا ہوں، اس کے پیار نے مجھے یہی سکھایا ہے۔

میں ماں نہیں، دوننھے بچوں کا باپ بھی ہوں، اولاد سے محبت کیسی ہوتی ہے جانتا ہوں، ارے ہم نام کے انسانوں کی کیا بات کریں، کبھی جانوروں کا اپنے بچوں سے پیار دیکھیے، اولاد کی جان لینے والی ماں کو قاتل کہنے والوں کو ایک پل ٹھہر کر سوچنا ضرور چاہیے قاتل کو قاتل معاشرہ بناتا ہے، تو ماں اس جرم کی اکیلے ذمہ دار کیسے ہو گئی۔

شکیلہ نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے اپنی تین صاحب ثروت اور تعلیم یافتہ بہنوں کا ذکر بھی کیا اور بتایا کہ انہوں نے بیچ منجدھار میں پھنسی اپنی بہن کی کوئی مدد نہیں کی۔ بہنوں کے پاس اس کی کوئی وجہ ہو گی، اور وہ وجہ کسی بھی بچی کی جان سے زیادہ بڑی نہیں ہوگی۔

ننھی انعم کی لاش ملنے کے بعد واٹس ایپ پر تصویر موصول ہوئی، لاکھ چاہتا تھا نہ دیکھوں۔ کسی دوست نے اچانک سامنے کردی، ننھا ایلان کردی یاد آگیا جسے شام کی سرزمین چھوڑنا تھی، دنیا چھوڑ گیا۔ انعم کے لیے بھی اس کے اپنوں نے زمین تنگ کردی تھی۔ واقعی سمندرکا دل بہت بڑا ہوتا ہے۔ پولیس انسپکٹر غزالہ جنہوں نے میڈیا کو بچی کی لاش ملنے کی اطلاع دی، انہوں نے زندہ بچی کی تلاش میں ناکامی پر انتہائی افسوس کا اظہار کیا، اس سے زیادہ دکھ ان کے اس جملے میں تھا، ”ہم عورت کو عزت کب دیں گے؟“

شکیلہ کو سزا دیجئے، معافی دیجئے، دوا دیجئے یا علاج کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ عورتوں کو عزت دینا بہت ضروری ہے، انہیں قبول کرنا شروع کریں، جگہ دینے کے بارے میں سوچیں، شاید ہم کسی اور انعم کو بچا سکیں۔

Facebook Comments HS