موسمی تبدیلی کے اثرات میں صحرا تھر کی بھٹکتی زندگی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

تھرپارکر کا تصورآنے سے ہی ریت کی زندگی ذہن میں آ جاتی ہے، جس کے زندہ رہنے کے سارے ذریعے ریت کے ٹیلوں پے بارش کی رم جھم سے اپنا دم لیتے ہیں، اگر بارش نہیں ہوتی تو صحرا تھر کے سماجی، معاشی، ثقافتی اور ماحولیاتی رنگ روپ بے رنگ ہوکر بکھر جاتے ہیں۔ صحرا تھر کے روکھے پھیکے چہروں کو پڑھنے اور اُن پر لکھی آڈھی ترچھی لکیروں کے کرب کو سمجھنے کی کوشش کرنے کے لئے کوئی نہیں آتا، زمانے کی سرد و گرم ہوا کے ساتھ اور الجھانے کے لئے زخمی ذہنوں کے مالک مل جاتے ہیں۔ جن کی دلچسپی تھریوں کی حالت زندگی بہترکرنے سے زیادہ خود کو ساہوکار کرنے کے گورکھ دھندوں میں ہوتی ہے۔ صحرا کے ویران وادیوں میں سوکھے کھاری کنویں کھائیاں، خراب کھیت تپتے ٹیلے، اڑتا ریت سب ہی اجڑے ملیں گے پر شاداب ہونے کے لئے بارش کے منتظر!

اس سال بھی بارش نہیں ہوئی۔ صحرا کے دامن میں نہ سرخ، سفید اور نیلے گل کھلے نہ کوئی گھاس اگی، بیلوں کا وجود اپنی دھرتی پر دیکھنے کے لئے مارو لوگ ترس رہے ہیں۔ موسمی تبدیلی کے اثرات میں تھریوں کے بستیوں میں ہر طرف مایوسی اور نا امیدی کے سائے پھیلے ہوئے ہیں۔ صحرا کے لوگ اچھے سال کے انتظار کا کرب کتنا برداشت کریں۔

تھر کے رازوں کی امیں ساون کی رُت تھریوں کے خوابوں کی تعبیر دیکھے بنا چپ چاپ گزر گئی۔ کہاں سے امید کی کرن پیدا ہوگی؟ ہم یہاں صحرا کی دھول بن کربھٹک رہے ہیں۔ ہمیں بھوک افلاس کی چکٌی میں پسنا ہے کب تک؟ تھر میں اس طرح کی گفتگو میں سوال کون کر سکتا ہے۔ میں خاموش کھڑا ہوں۔ ہندال میرے قریب آتے بی کہتا ہے کہ تھرمیں رہ گئے ہیں ہمارے یہ خالی ہاتھ ان پر مدتوں سے جمی قحط اور غربت کی دھول اُتار پائیں تو آگے قدم بڑھائیں۔ ہاں اگلی نو چندی جمعرات پر درویش سائیں کی مزار پر سبز چادر چڑھا کر اچھی سال کی منت مانوں گا کہ اگلی سال بارش کے ساتھ گھاس اور کھیت بھی ہو۔

موسمیاتی تبدیلی اب کوئی مستقبل بعید کے لئے ایک مسئلہ نہیں بلکہ پہلے ہی رونما ہونے والی ایک تلخ حقیقت بن گئی ہے، آئی پی سی سی اپنی 2007 کی چوتھی جائزہ رپورٹ میں اسے زیادہ واضح کرتا ہے کہ موسمی تبدیلی کے اثرات بڑ رہے ہیں۔ اسی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ انسانی سرگرمیوں اور قدرتی عمل کے نتیجے میں عالمی سطح پر کاربان ڈائی آکسائیڈ، میتھین اور نائٹرس آکسائیڈ کا نمایاں طور پر اضافہ ہوا ہے۔ جس سے خدشے پیدا ہو رہے ہیں کہ اگلے دو سے تین دہائیوں کے اندر اندر ہمالیہ میں گلیشیئر پگھلنے سے سیلاب میں اضافہ ہونے کی وجہ سے پانی کے وسائل پر اثر پڑے گا پاکستان میں 180 ملین افراد کا بڑا حصہ موسمیاتی تبدیلی کے اثرات میں سب سے زیادہ خطرے سے دوچار ہیں۔

جن کی معیشت موسم کے حساس شعبوں مثال طور زراعت، آب پاشی اور جنگل بانی کی وسائل پر بہت زیادہ انحصار ہے۔ ایک اندازہ لگایا گیا ہے کہ ملک کی زمین کا تقریبا 23 ٪ اور پوری آبادی کا تقریبا 50 ٪ موسمی تبدیلی کی وجہ سے ممکنہ قدرتی آفات کے سامنے آ جائے۔ پاکستان کے جنوب مشرقی حصے میں واقع صوبہ سندھ کا ضلع تھرپارکر منفرد اورامیر ثقافت، دلچسپ ورثے، جیوویودتا اور بین المذاہب ہم آہنگی کی ایک جگہ ہے جو ریگستان کے کم از کم چھ اقسام کی چھوٹی رہائش گاہوں کی نمائندگی کرتا ہے۔

جو مدارینی کانٹا، جنگل، ریگستانی پارستی تیکی نظام اور جیوویودتا کی حمایت کرتی ہیں۔ یہ ریگستانی زون موسمی تبدیلی کے لئے حساس ہے۔ آبادی کی اکثریت پیداواری ذریعہ معاش کے ذرائع اور سیکورٹی کے طور پر خطرے میں ہے، کیوں کہ مقامی آبادی زراعت، لائیو سٹاک، رینج لینڈ اور جھنگلی جیوت جیسے حساس شعبے پر بہت زیادہ انحصارکرتی ہے۔ طویل خشک ادوار کے باعث تھرپارکرکے اکثر انسان، لائیو سٹاک اور جنگلی جیوت غذائی عدم تحفظ کا شکار ہیں۔

تھرپارکراس ملک کے سب سے زیادہ غذائی غیر محفوظ اضلاع میں سے ایک ہے۔ موسمی تبدیلی کے اثرات اور قحط نے تھر کے روح کو کھو دیا ہے۔ میلے ملاکھڑے عید تہوار کے سارے دن سادگی سے آتے اور چلے جاتے ہیں۔ گذشتہ چار برسوں سے تھری خواتین کو پہننے کے لئے نیا گھاگھرا، چنری، پولکا اور گج مل نہ پایا اور نہ ہی ان کے پاس اپنے بازوؤں کو چوڑوں سے سجانے کی قوت خرید رہی ہے۔ وہ ٹیج کانہوڑو کا تہوار کیا منائیں گی۔ اس سال لوگوں نے گھومر، راسوڑا اور مٹکو رقص کے ساتھ کالے بادلوں اور بارش کا استقبال کیا مگر جب ساون کے تھوار منانے کے دن آئے تب ہر طرف ویرانی کے منظر سامنے نظرآنے لگے کہیں گھاس نہ اگی نہ کھیت سے تربوز، خربوزے اور کچے آبھو ملے۔

کسی کنڈی اور کھبڑ کے درخت میں ٹیج کا تھوار ماننے کے لئے جھولے باندھے نہ گئے، دراوڑ عورتوں نے چنے کی دال کے آٹے سے ساتُو نہ بنائے، گھر میں ہر دن تھدھڑی کی رات آتی ہے۔ ٹیلے کے اوپر ایک جھونپڑی کے آنگن میں سویا ہوا بچہ اپنی ماں سے پوچھ رہا ہے کہ باجرا کے لہلاتے ہوئے کھیت ہم سے کیوں روٹھ گئے ہیں۔ ماں اپنے بچے کو گود لیتے ہی ایک چیخ کے ساتھ لمبا گھونگھٹ تان لیتی ہے۔ دور دور تک پھیلا ہوا صحرا درد کے سمندرمیں ڈوب جاتا ہے۔

آبائی گوٹھ چھوڑ کربئراج جانے والے قافلے چیلہار اور کنری کے بیچ میں مھرانو کی حد شروع یوتے ہی کچھ دیر کے لئے رک جاتے ہیں آنکھوں سے بدن کا کرب بہنا شروع ہو جاتا ہے، بھیگے لفظوں میں پریموں کہتا ہے تین سال پہلے تھر میں قحط کی وجہ سے خالی پیٹ کو بھرنے کے لئے گوٹھ سے نکلے تھے راستے میں اس جگہ بھوک اور پیاس کی شدت سے ہمارا بچہ موت کی نیند سو گیا، ہم اس کی قبر پر رلکا (چھوٹی رلی) ڈالنے کے لئے ٹھہرے ہیں۔

بظاہر کہیں قبر تو نظر نہیں آتی؟ میں سوال کروں ان سے پیلے پریموں کہتا ہے صحرائی طوفان ریت پر نشان جلد مٹا دیتے ہیں لیکن دلوں میں تلخ یادیں رہ جاتی ہیں جو نسل در نسل ایک گھاؤ بن کرمنتقل ہوتی ہیں۔ یہ ایک قبر نہیں ایسی کئی صحرائی بیٹوں اور بیٹیوں کی گمنام قبریں اس مٹی میں ملی ہوئی ہیں۔ بچے کی ماں ریت پر چلتے ہوئے ڈھونڈ لے گی۔ اب مجھ میں پریمو سے مزید بات کرنے کا حوصلہ نہیں رہا۔ میں خود کو سنبھالتے ہوئے اگلے بندے سے بات کرنے کے لئے قدم بڑھاتا ہوں۔

جگشی کہتا ہے کہ اس سال بارش دیکھ کر بیراج سے آئے تھے اب مزدوری کے لئے بیراج جا رہے ہیں۔ بیراج ایریا میں بھی ہمیں دربدری دیکھنی ہوتی ہے، ایک تو وہاں بھی غربت ہے، سستے دام پر ہر جگہ لیبر مل جاتی ہے، دوسری بات لیبر دینے والے کو پتا ہوتا ہے یہ تھر سے آیا ہوا ہے اس کی مجبوری سے جتنا فائدہ اٹھا سکیں اتنا اٹھائیں، ہمارے لئے وہاں مزدوری کے سوا اور کوئی راستا نہیں ہوتا ہے، ہمارے لوگ جو مال مویشی لے کے بیراج جاتے ہیں وہ بڑی مشکل سے اپنے جانور پالتے ہیں۔ بیراجی ایریا میں گھاس کی ایک بھری (چھوٹا بنڈل) مفت میں کوئی نہیں دیتا۔ گذارے کے لئے بیراج ایریا میں قرض اٹھاتے ہیں۔ تھرمیں بھی قحط کے دنوں میں قرض لیتے ہیں۔

بھوک بڑی ظالم ہے تھر میں خالی ہاتھ اور خالی پیٹ کے متاثر لوگوں کے المناک منظردیکھنے کے لئے تھر دھرتی کا سورج ہر روز طلوع ہوتا ہے، اور غروب ہوتے ہوئے ایک سوال چھوڑ جاتا ہے کہ قحط کب تک تھریوں کا مقدر رہے گا۔ تھر تیزی سے تبدیل ہو رہا ہے، بدلتے ہوئے تھر کے سماجی معاشی نظام پر تھریوں کی گرفت کتنی ہوگی یہ ایک بڑا سوال ہے جو ہر ایک تھری کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ تھر میں خودکشی کا رجحان خطرناک حد تک بڑھتا جا رہا ہے۔ قدرتی وسائل سے مالا مال دھرتی کے لوگ قحط سالی اور غربت کے پریشانیوں میں مبتلا زندگی پر موت کو ترجیع دے رہے ہیں۔ بڑی آبادی عام حالات میں بھی غربت کی لکیر کے نیچے زندگی بسر کرتی ہے۔

لائیواسٹاک ڈپارٹمنٹ کی 2006 کی سروے کے تحت 45 لاکھ سے زیادہ تھر میں مویشی پائی جاتی ہے۔ لیکن اب تک سائنسی بنیادوں پر ایک منڈی بھی تھر میں قائم ہو نہ سکی ہے۔ تھر کے لائیواسٹاک اور زراعت کو انشورنس کرنے کی ضرورت ہے۔ تھر بنیادی طور پر رینج لینڈ ہے، جس کی بڑی زمین مقامی اصطلاح میں یکسالے کے نام زرعی لینڈ میں تبدیل کی جا رہی ہے، سرکاری طور 1987ء سے یکسالے پر پابندی ہے۔ لیکن فیلڈ میں پر سال نئے یکسالے نکلتے ہیں۔

تھر کے اچھے سال میں ڈوجھ کا میلا ہوتا ہے۔ جس میں ایک دن قریبی تیں چار گاوْں کے لوگ اپنے مال مویشی کا سارا دودھ بارش کے پانی کو جمع کرنے والے تالاب جسے ترائی کہتے ہیں پر لے کے آتے ہیں وہاں گھر گھر کے چندے سے خریدے ہوئے چاول دودھ میں پکا کے سب کھاتے ہیں۔ گذشتہ چار سالوں سے نہ اچھا سال آیا ہے نہ ڈوجھ کا میلا ہوا ہے۔

تھر میں 2011ء میں سیلاب آیا تھا، بعد میں ہر سال قحط کی صورتحال رہی ہے، تھر میں ایک اچھے سال کے لئے جون، جولائی سے لے کر اکتوبر تک 20، 25 دنوں کے وقفے سے چار بارشوں کی ضرورت ہوتی ہے، وقت پر بوئے بیج کو گرمی بھی چاہیے۔ اس سال پہلی معمولی بارش تھر کے کچھ علاقے میں جون میں ہوئی۔ دوسری جولائی میں بڑی بارش ہوئی۔ تیسری بارش سیپٹمبر کے تیسرے ہفتے میں معمولی ہوئی ہے۔ ایک پرانی روایت کے تحت 14 آگست تک بارش نہیں ہوتی تو قحط ڈکلیئر کیا جاتا ہے۔ ۔ دنیا میں قحط کے چار اقسام تسلیم کرتے ہیں۔ 1۔ ماحولیاتی قحط، 2۔ ہاڈرولاجیکل قحط، 3۔ زرعی قحط، 4۔ سماجی معاشی قحط۔ ، ہمارے پاس کوئی سائنسی اصول نہیں ہے۔ جس سے یہ معلوم ہو یہ کس طرح کا قحط ہے۔

موسمی تبدیلی کے اثرات سے تھر کے معصوم پرندے مور بھی بڑے متاثر ہوئے ہیں۔ 2010 میں شروع ہونے والی رانی کھیت کی بیماری سے موروں کو ابھی تک نجات نہ ملی ہے، اور ایک المیہ یہ بھی سامنے آ رہا ہے کہ موروں کے بچے شکاری مزاج کے لوک سستے دام پر بیچ رہے ہیں۔ لوک شاعر چندیرام بھاٹ نے موروں کی فطری حسناکی دیکھ کر شعر لکھا تھا کہ

کارونجھر نی کور، مریں تو بھی مھلیں نہیں

متھان ٹہونکے مور تہ ڈونگر لاگے ڈیپتو

یعنی: اپنی زندگی کی آخری سانس لیتے ہوئے بھی کارونجھر پہاڑ چھوڑنا نہیں آئے گا، جس پر کھڑا ہوکر جب مور کوکتا ہے تب پورا پہاڑ چراغ کی مانند روشن ہوجاتا ہے ’ہم کتنے بدنصیب لوگ ہیں جو موروں کو اپنی آنکھوں سے مرتے اور بکتے دیکھ رہے پیں، ناشاد سموں نے موروں کے موت پرایک درد ناک نظم لکھی ہے۔ آپٹو موریو مری گیو یعنی اپنا مور مر گیا، ناشاد کو لگتا ہے اگر اس نے یہ نظم نہیں سنائی توسینا پھٹ جائے گا۔ موروں کے موت پر دکھ بھرے گیتوں کا سفر یہاں نہیں رکتا گوٹھ جنجھی کے قریب امین جی ڈانی میں اوطاق کے ایک کونے سے ٹھہر ٹھہر آتی آنسو کے سنگ درد بھری گونج اٹھتی ہے محمد ایوب جھانگیر موروں کے موت پر مصطفی ارباب کا نظم سناتا ہے۔

میرے پیدا ہونے پر

میری ماں نے ایک گیت گایا تھا

”مور تھو ٹِلّے رانا۔ مور تھو ٹلے“

یہ گیت، ایک گیت نہیں

ایک دعا ہے،

اس گیت میں بیٹے کو مور سے تشبیہ دی گئی ہے

دعا اور مور

ایک گیت کی شکل میں

زندگی بھر

ہمارے آس پاس گھومتے رہتے ہیں،

اس گیت کے بِنا ہمارے خطے میں

کسی نے جنم نہیں لیا،

اس سال،

ہماری ماؤں نے، ہمیشہ کی طرح

اپنے موروں کا جنم دن منایا

ہماری مائیں بیٹوں کو مور کہتے ہوئے،

رو رہی تھیں۔

بھادوں کا چاند دیکھ کر گوگے چوہان کے ماننے والے جوگی جوگی کی ذات گورکھ ناتھ، بابھنیا، آدیسی، لاہوتیا، مرکھٹ اور سینہنڑیوں سب صحرا تھر کے طرف نکل پڑتے ہیں تھر پہنچ کرریت کے ٹیلوں اور کھلے میدان میں اپنا ڈیرا ڈالتے ہیں۔ صحرا جوگیوں کو بلاتا ہے یا جوگی صحرا کو اپنے روح میں اتارنے کے لئے اپنے پاوْں کو ریت کا سفر دیتے ہیں یہ اب تک کوئی طے کر نہیں پایا ہے۔ ساون کی رت میں ہرے بھرے صحرا میں جوگی سکون کا سانس لیتے ہیں۔ جوگی تھر کے گوٹھوں میں گھر گھر سے بھیک مانگنے آتے ہیں۔ مرلی کی موسیقی اور سانپ کے جھوم سے دیہاتوں میں تفریح کے رنگ فراہم کرتے ہیں۔ گوٹھوں میں جوگیوں کے جادو جنتر کی کہانیاں چلتی ہیں

برصغیر کی بھگتی تحریک کے شعرا سے لے کر صوفیائے کرام تک کے کلام میں اور لوک گیتوں سے کر فلمی گانوں تک شاعری میں جوگیوں کا ذکر ہے۔ جوگی مچھندرناتھ، گوپی چند، بھرتری ہری اور گورکھ ناتھ کی ریت ہیں۔ جوگیوں کے پاس مرلی کا سازاور سانپ ہونے کے ساتھ صدیوں کے راز ہوتے ہیں۔ سندھ میں شازیہ خشک کا ایک گیت بڑا مشھور ہوا تھا کہ جوگی آئے میں نے نہیں پہچانا۔ کیا صحرا میں جوگیوں کو لوگ پہچاننے سے انکار کر دیں گے۔ جوگیوں نے کبھی سوچا نہیں تھا ایسا دن بھی آئے گا جس میں کوئی اس طرح بھی کہے گا کہ سکون کے صحرا میں بسنے والو کبھی رتوں کے مزاج کو سمجھو۔

موسمی تبدیلی کے اثرات نے صحرا میں جوگیوں کو بھی متاثر کر دیا ہے۔ راملال جوگی کہتا ہے کہ اچھے سال میں لوگ خوشی سے بڑی بھیک دیتے ہیں۔ اب اپنے پیاروں کے لیے گندم کے چند دانے بھی بھیک میں حاصل نہیں کرسکتا۔ اچھی سال میں تھرکے جنگل میں ہمیں جڑی بوٹیاں مل جاتی ہیں۔ اس سال نہ جڑی بوٹیاں ہیں نہ کالے سانپ ملتے ہیں۔ بھوک میں سانپ بھی بھٹک گئے ہیں۔ میں راملال جوگی سے بات ختم کرکے واپسی کے سفر کے لئے قدم اٹھاتا ہوں تو کوئی مجھے پیچھے جوگیوں کے ڈیرے سے بلاتا ہے مڑ کر دیکھتا ہوں ایک حسین جوگن بات کرنا چاہتی ہے۔

جوگن نے کہا کہ سال بسال قحط کا آنا ہمیں اپنے صحرا کی دھرتی پے اجنبی بنا رہا ہے ہمیں بیراج کی سخت زمیں پر اجڑی ہوئی جھونپڑی اور سانپوں بھری ٹوکریوں سے نجات مل نہ پائی۔ تمھیں اپنے قلم کی قسم سچے افسانے لکھ کر صحرا کی غریب سپیرن کو کبھی رسوا نہ کرنا۔ اجڑنے اور پھر بسنے کا عمل صدیوں سے جاری ہے، ہم تھری جوگیوں سے بہتر اس راز سے کون آشنا ہوگا۔ بھول کر بھی ہم جدید تہذیب کے طلبگار نہیں بنتے۔ تم جوگی لوگ کتنے دیوانے ہو؟ مجھ سے یہ الفاظ بے ساختہ نکل جاتے ہیں۔ جوگن مسکرا کر بولتی ہے اگر دیوانے جنم نہ لیتے تو؟

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •