ساون ٹیج (تیج) کا تہوار

جنوبی ایشیا کے بڑے ریگستان میں ساون تیج کے تین تہوار منائے جاتے ہیں پہلا ہریالی (سبز) تیج، دوسرا کجاری/کجلی تیج اور تیسرا ہرتلیکا تیج کے نام سے جانا جاتا ہے۔ صحرا تھر میں ساون تیج کے دو تہوار مقبول ہیں ایک ساون ماہ کا چاند دیکھنے کے بعد تیسرے دن جس کو چھوٹی تیج یا گجوا تیج کہتے ہیں، دوسرا تہوار پورے چاند کے بعد تیسرے دن ہوتا ہے جو بڑی تیج یا ساون تیج کے نام سے مشہور

Read more

صحرائے تھر کے لوک دانش کے دوہے

تحقیقی تجزیوں کے مطابق لوک ادب اور لوک دانش سے کسی بھی علاقے کے تہذیبی، علمی اور لسانی ورثے کی عکاسی ہوتی ہے۔ صحرا نوردوں کے پاس لوک ادب اور لوک دانش کا بڑا خزانہ ہوتا ہے، جو صدیوں سے نسل در نسل سینہ بہ سینہ سفر کرتا رہا ہے۔ عمومی رائے میں لوک ادب اور لوک دانش کو ایک ہی سمجھا جاتا ہے، مگر ایسا نہیں ہے، لوک ادب ”سیانوں سگھڑوں“ کی تخلیق اور حساس لوگوں کے جذبات اور

Read more

صحرائے تھر کی مشہور و مقبول لوک داستان ڈھولا مارو

صحرائے تھر کی لوک داستانوں میں سب سے زیادہ مشہور و مقبول ڈھولا مارو کی داستان ہے۔ ریت کے ٹیلوں پر جب بھی بڑے بوڑھوں کی مجلس ہوتی ہے، تب بات سے بات نکلتے ہوئے ڈھولا مارو کے ایک دو دوہوں تک ضرور پہنچتی ہے۔ ڈھولا اور مارُو کی محبت کی کہانی مختلف روایتوں میں بیان کی جاتی ہے۔ ایک روایت کے مطابق نرور کے علاقے میں قحط پڑنے پر، راجا نل اور اس کی رانی پنگل کے علاقے میں

Read more

ہمروٹ چھتیسی: عمرکوٹ کا حسن

عمرکوٹ کو تھر کے لوگ محبت سے امرانو کہتے ہیں، برصغیر کے تاریخ نویسوں نے عمرکوٹ کو کبھی الف سے کبھی عین سے لکھا ہے، لوک شاعری میں امرانو اور امرکوٹ کے نام ملتے ہیں۔ سنسکرت اور ہندی میں عمرکوٹ کو ہمیرکوٹ بھی لکھا گیا ہے۔ ہمیرکوٹ سے ہمروٹ بنا ہے۔ ”ہمروٹ چھتیسی“ میں ریگستان کے نامور کوی بانکی داس کے عمرکوٹ کے پس منظر میں چھتیس دوہے ہیں۔ سوڈھوں سے پہلے عمرکوٹ پر سومروں کی حاکمیت تھی، لوک شاعری

Read more

شاعری کا عالمی دن اور صحرائے تھر کے رومانوی دوہے

صحرائے تھر میں ریت کے ٹیلوں پر کبھی زندگی تلخ تر ہو جاتی ہے، تو کبھی رومان پرور محسوس ہونے لگتی ہے۔ کبھی ایسا سکون محسوس ہوتا ہے کہ دل کی دھڑکن اور زمین کی گردش تک سنی جا سکتی ہے۔ کبھی ہواؤں کا ایسا شور اٹھتا ہے کہ اپنا کہا بھی سنا نہیں جا سکتا۔ کبھی آسمان اتنا قریب محسوس ہوتا ہے کہ دل بے چین ہو کر ستاروں کو چھونے کے لیے مچلتا ہے۔ کبھی وہ اتنا دور

Read more

پارانے ری ریل مانھ جاجھر واجے: صحرا کا لوک گیت

پاری نگر کے قدیم شہر کو تھر کے باشندے پیار سے ’پارانو‘ بھی کہتے ہیں۔ تھر کے حصے ’کھاہور‘ کے تعلقے ’ڈاہلی‘ کے ایک قدیم گاؤں کا نام پارانو بھی ہے مگر لوک گیتوں میں گایا ہوا پارانو پاری نگر کا قدیم شہر ہے رس نرتیہ کے اس لوک گیت کے بول پارکری ہیں۔ اس لوک گیت کو گاتے ہوئے ڈھول پر گربی ناچ کیا جاتا ہے۔ رس نرتیہ کا یہ لوک گیت ’پارانے ری ریل مانھ جانجھر واجے ٍ‘

Read more

صحرا کے دوہے

گیتوں سے بھرا تھر کا ریگستان دوہے کی بھی دھرتی ہے۔ تھری لوک شاعری میں لوک گیتوں کی طرح لوک دوہے بھی زمانۂ قدیم سے ممتاز اور مقبول صنف سخن کے طور پہ ملتے ہیں۔ ریتیلے ٹیلوں پر تھر کے کسی بھی سگھڑ سیانے، لوک دانش کے ماہر، چارن، بھاٹ، بھان اور منگنہار کے ساتھ لوک دانش کی مجلس یا راگ کی کسی محفل میں شریک ہوں تو لوک دوہے کا رنگ اپنے تمام تر حسن کے ساتھ ضرور دکھائی

Read more

کارونجھر کے سرکش سوڈھوں اور کولہیوں کی انگریزوں کے خلاف مزاحمت

بارہویں صدی عیسوی کے جینی سادھو ہیم چندر کی کتاب ’شبد انوشاسن‘ میں شامل ریگستانی دوہوں میں سب سے زیادہ جس دوہے کا تذکرہ ہوتا ہے، وہ صحرا کی ایک رزمیہ داستان کا دوہا ہے۔ بھلا ہوا جو ماریا بھینی امہارا کنت، لجی تو وین سے رہو، جئے بھگا گھر اینت، ترجمہ : اے بہن! اچھا ہوا جو میرا شوہر جنگ میں مارا گیا، اگر جنگ کے میدان سے ڈر کر گھر بھاگ آتا تو میں ہم جولیوں میں بہت

Read more

پاری ننگر کی پریم کہانی

صحرائے تھر کے دل کش پہاڑی سلسلے کارونجھر کے دامن میں جہاں پاری ننگر کی تہذیب پروان چڑھی تھی وہاں صدیوں کے سفر میں بہت سارے قصے اور کہانیوں نے جنم لیا تھا، پارکر کے جین مندروں کی طرح سڈونت سارنگا کی عشقیہ داستان بھی بہت دل چسپ ہے۔ پارکری زبان کے قصہ گو کہتے ہیں کہ سڈونت اجین کے راجا سالیواہن کا بیٹا تھا اور سارنگا اوسواڑے قبیلے کے بڑے سیٹھ پرم سا کی بیٹی تھی۔ سارنگا کے حسن

Read more

کارونجھر میں ساردھرو آستھان پر شو راتڑی کا میلہ

تھر اور پارکر کے حصے میں کوئی بھی بڑا پہاڑ نہیں ہے۔ صرف پارکر میں چاروں اطراف میں چھوٹی چھوٹی ٹکڑیاں ہیں۔ بیچ میں ننگرپارکر شہر کے قریب ٹکڑیوں کی ایک بڑی قطار مرغی کے انڈے کی طرح گھوم کر آتی ہے۔ جس کے بیچ میں ریتیلا حصا ہے، یہ پہاڑی سلسلہ کارونجھر کہلاتا ہے، پہاڑی سلسلے کی قطار کو کوئی 32 میل کوئی 20 میل سناتا ہے، سندھ گزیٹئر میں 12 میل لکھی گئی ہے۔ اس کی بلند تریں

Read more

کارونجھر کے فطری منظر اور انچلشور کا آستان

ننگرپارکر کے شمال اور مغرب کی طرف دو میل کے فاصلے پر کارونجھر پہاڑ کی ٹکری کے بیچ میں انچلشور کا آستان ہے۔ اس آستان کو انچلاس بھی کہتے ہیں، یہاں مھادیو کا لنگ بنا ہوا ہے اور ساتھ میں تین چشمے قریبی علیحدہ علیحدہ ٹکری سے نکل کر بڑے پتھروں کے نیچے بہتے ہوئے آتے ہیں۔ جن کی وجہ سے آستان پر پورا سال پانی رہتا ہے۔ اس پانی کے ساتھ صدیوں سے وابستہ عقیدت کے مطابق ہندو لوگ

Read more

راٹا سر کی ریل سے لکھا ہوا ایک ادبی خط

اردو ادب میں شاہکار حیثیت کے حامل عبداللہ حسین کے ناول اداس نسلیں کے عاشق پیارے شرجیل بلوچ تمہیں یاد ہو گا وہ پچیس نومبر 2014 کی ہی رات تھی. ہم سب دوستوں نے مل کر شمال کی ہواؤں کی سرسراہٹ میں تھر کی ٹھنڈی پرسکون ریت پر تمہارا جنم دن منایا تھا. قلم کی چاہ اور دھرتی کے درد کی دوستی نے یہ محسوس ہی نہ ہونے دیا کہ آپ جو ملک کے نامور صحافی، ہدایت کار، لکھاری، اور عالمی

Read more

تھر کا لوک گیت موراں بائی

ارے تلریا تو مگریا، مورو بائی لارے رہیا، اگ میں تو دھوریاں رو دیس، ویرو ونجارو رے اے موراں بائی! چھوٹے چھوٹے پہاڑی اور میدانی علاقے تو پیچھے رہ گئے ہیں، آگے ریت کے ٹیلوں کا دیس ہے۔ بھائی بنجارا ہے۔ ماڑیں تو بنگلا رے موراں بائی لاریں رہیا، اگ میں تو جھوپڑاں رو دیس، ویرو ونجارو رے۔ اے موراں بائی محل حویلیاں تو پیچھے رہ گئے، آگے جھونپڑیوں کا دیس ہے، بھائی بنجارا ہے۔ آنبا تو آنبلی موراں بائی

Read more

صحرائے تھر میں کسانوں کا تہوار

سرسوتی اور ہاکڑو ایک دریا کے دو نام ہیں یا دو علیحدہ علیحدہ دریا ہیں۔ اب تک کوئی حتمی رائے مل نہیں سکی ہے۔ لیکن اس بات پہ اکثر اتفاق رائے ملتی ہے کہ برصغیر کے ریگستان والے علاقے میں جب دریا بہتا تھا، ہرطرف ہرے بھرے کھیت لہلاتے تھے، تب یہاں خوشحالی، شادمانی، رقص و کیف کے میل ملاپ سے تہذیب پروان چڑہتی گئی۔ فنوں لطیفہ اور موسمی تہواروں کے بڑے میلے منقعد ہوتے گئے۔ ہاکڑو وادی کے زرعی

Read more

صحرا تھر میں چنکارا ہرن کو بچانے کی ضرورت

بھارومل امرانی تھرپارکر دنیا کی سبز ریگستانی زون میں سے ایک ہے، جس میں منفرد اور خوبصورت جغرافیائی، زمین کی تزئین، ثقافت، روایات، پودے اور حیوانات پائی جاتی ہے، اسی وجہ سے تھرپارکرکو اوپن ایئرمیوزم سے منسوب کرنے کے ساتھ پاکستان کے پانچ اہم ماحولیاتی ایکوسسٹم میں شامل کیا جاتا ہے۔ ماحولیات کے مایرین نے ملک میں آٹھ اہم جیو ویودتا کے امیر علاقے منتخب کیے ہیں ان میں تھرپارکر بھی ایک ہے۔ بد قسمتی سے یہ خوبصورت صحرا گذشتہ

Read more

موسمی تبدیلی کے اثرات میں صحرا تھر کی بھٹکتی زندگی

تھرپارکر کا تصورآنے سے ہی ریت کی زندگی ذہن میں آ جاتی ہے، جس کے زندہ رہنے کے سارے ذریعے ریت کے ٹیلوں پے بارش کی رم جھم سے اپنا دم لیتے ہیں، اگر بارش نہیں ہوتی تو صحرا تھر کے سماجی، معاشی، ثقافتی اور ماحولیاتی رنگ روپ بے رنگ ہوکر بکھر جاتے ہیں۔ صحرا تھر کے روکھے پھیکے چہروں کو پڑھنے اور اُن پر لکھی آڈھی ترچھی لکیروں کے کرب کو سمجھنے کی کوشش کرنے کے لئے کوئی نہیں

Read more

صحرائے تھر کی زبان اور لوک ادب

انسان اپنے وجود سے لے کرلاکھوں سال ارتقائی سفر طے کرکے اپنی موجودہ منزل پے پہنچا ہے ارتقائی سفر کے دوران اندرونی بیرونی کیفیت کا طریقہ اظہار، فکر، رہن سہن اور جسمانی بناوٹ میں بیشمار تبدیلیاں آئی ہیں۔ انسان کی سفری کہانی میں کبھی تاریخ، کبھی روایات، کبھی سائنسی نقطہ نظرسے کچھ اصول بناکراس کی روشنی میں تحقیق ہوتی رہی ہے، نہ کبھی انسانی سفر رکا ہے، نہ کبھی تحقیق کا عمل بند ہواہے۔ انسانی کہانی پہ تحقیق کا سائنسی عمل علم بشریات جسم، آثارقدیمہ، زبان اور ثقافت جیسے چارمرکبات پہ مشتمل ہے۔

ضلع تھر پارکر میں یہ چاروں مرکبات اپنی انفرادیت اور کثرت سے ملتے ہیں۔ صحرائے تھر کا خطہ تہذیبی، ثقافتی اور تاریخی حوالے سے منفرد رہا ہے، تھر کی زبان اور رہن سہن سے لے کر رسم رواج تک زندگی منفرد اور سادی ہے۔ تپتی ہوئی ریت اورجلتی ہوئی دھوپ میں ویرانی کا روپ دکھائی دینے والا ریگستان برسات کی حسین رت میں قدرت کا عظیم شاھکار بن جاتا ہے۔ ریگستان جہاں قدرتی وسائل سے مالا مال ہے، وہاں شاعری وموسیقی میں بھی درجا کمال کے روحانی سکون کا سبب ہے۔

Read more