ہمارا دوغلا سماج اور منافقت کے مکروہ نقاب
ہم اس معاشرہ کا حصہ ہیں جہاں لوگ مسلمانیت کا لبادہ اوڑے ہندوآنہ رسومات میں جکڑے انگریزوں کے طرز عمل پر زندگی گزار رہے ہیں۔ ہمارے ہاں سارے گناہ کرنے کی اجازت ہے مگر ”چھپ کر“ زمانہ کے سامنے شرافت کا لباس پہنے رکھنے میں ہی بھلائی سمجھی جاتی ہے۔ یہ منافق معاشرہ بہت سارے مظالم کو اپنے اندر سموئے ہوئے ہے اور یہاں کے لوگ اندھے ’گُونگے ہونے کے ساتھ ساتھ بے حس ہو گئے ہیں یہ لوگ بہت سکون سے اذیت میں رہتے ہیں۔
اس سماج میں موجود بہت سارے مسائل جن کو حل کرنا شاید اب ہمارے اختیار میں نہیں رہا بس ان کا رونا رو کر دل کو مطمئن کیا جا سکتا ہے ان میں سے چند بنیادی مسائل کو اجاگر کرنے کی کوشش کروں گا۔ ( 1 ) پہلے وقتوں میں لڑکیوں کو پیدا ہوتے ہی زندہ درگور کر دیا جاتا تاکہ بڑی ہو کر یہ فساد کا باعث نہ بنیں۔ پھر زمانے نے کچھ ترقی کی اور عورتوں کو پالنے کا رواج شروع ہوا مگر شادی کے بعد اگر اس کا شوہر مر جاتا تو اس دلہن کو بھی اس کی میت کے ساتھ جلا دیا جاتا بالکل ایسے ہی جیسے آندھیوں میں درخت گرنے سے پرندوں کے گھونسلوں میں موجود بمشکل آنکھ کھولنے والے بچے پھڑ پھڑا کر مر جائیں مزید ترقی کرنے پر شوہر کی وفات کے بعد اس کے بھائی کے ساتھ شادی کرنے کا رواج عائد کیا گیا۔
اب ہمارے معاشرے نے زمانے کی تیز رفتاری سے اتنی ترقی کر لی کہ عورت بہت پیچھے رہ گئی ہے اب اگر کوئی عورت بیوہ ہو جائے تو اسے اپنی ضروریات پوری کرنے کے لیے دوسری شادی کرنے کی اجازت نہیں دی جاتی بلکہ ممتا کے نام پر یا رشتہ داروں کے بچے سنبھالتے سنبھالتے اپنی ساری خواہشات کو دل ہی میں دفنائے مر جانے کا درس دیا جاتا ہے۔ ( 2 ) اس کے بعد آتے ہیں وہ مرد حضرات جنہیں دوسروں کی مائیں ’بہنیں تو اس قدر اچھی لگتی ہیں کہ اپنی ساری دھن دولت ان پر لٹا دینے کو تیار ہوتے ہیں مگر اپنے گھر کی بیٹیوں پہ افسوس کا اظہار وہ اپنی بیوی سے اس طرح کرتے ہیں۔
”یہ کیا پھر سے بیٹی ہو گئی تم ہو ہی منحوس“ لیکن ماں تو آخر ماں ہوتی ہے اس کی ممتا اسے اپنے پیٹ میں نو مہینے پلنے والے بچے کو دھتکارنے کی اجازت کیسے دی سکتی ہے ماں تو گلے سے لگا کر خدا کا شکر ادا کرتی بے کہ بیٹی ہی سہی بے عیب تو ہے۔ کچھ سالوں بعد بیٹا پیدا ہونے پر وہی باپ جو خدا کی رحمت سے منہ پھیرے ہوتا ہے اب مذہبی انتہا پسند ہونے کے باوجود ناچ کود کے ساتھ پورے محلہ میں مٹھائی تقسیم کرتا ہے۔ وقت کی ایک اچھی خوبی ہے کہ یہ ٹھہرتا نہیں اچھا ہو بھلے ہی برا گزرتا چلا جاتا ہے ایسی ہی لڑکیاں اپنے حصہ کے پیار سے محروم اپنے بھائی کی طرف حسرت سے دیکھتی بڑی ہو جاتی ہیں کیونکہ ہمارے معاشرے کا المیہ یہ ہے کہ لڑکیاں تو پرایا مال ہوتی ہیں ان پر توجہ کیوں کر دی جائے۔
اس کے علاوہ ہمارے ہاں خوبصورتی کو بہت اہمیت دی جاتی ہے یہی وجہ ہے کہ جن کی شکل صورت اچھی ہوتی ہے ان کا رشتہ جلدی ہو جاتا ہے اور جو تھوڑی شکل کی اچھی نہ ہوں ان کو رنڈوا ’معذور یا نشئی مردوں کے لیے چھوڑ دیا جاتا ہے اگر ان میں سے بھی کوئی نہ اپنائے تو بچ جانے والی لڑکیاں ساری زندگی کے لیے باپ‘ بھائی ’چچا وغیرہ کی خدمت اور تابعداری پر مامور کر دی جاتی ہیں اور ان سے توقع یہ رکھی جاتی ہے کہ ان کے دل میں کوئی حسرت پیدا نہ ہونے پائے اگر غلطی سے کوئی حسرت کر بھی بیٹھے تو خود ہی اسے دل میں راکھ کا ڈھیر کر دے ساری عمر طعنے سننے‘ دوسروں کے بچوں کو حسرت سے دیکھنے اور خدا کی بہت ساری نعمتوں سے محروم رہ کر بلآخر اپنا حساب مانگنے اس کے پاس چلی جاتی ہیں۔
( 3 ) آخر میں آتے ہیں قابلِ رحم وہ مرد حضرات جن کو پسند کی شادی کی اجازت نہیں دی جاتی حالانکہ قرآن پاک کی ایک آیت میں ہے کہ ترجمہ: ”اور جو عورتیں تمہیں پسند ہوں ان سے نکاح کر لو“ لیکن ہمارے معاشرے میں پسند کی شادی کا اظہار کرنے کو اس قدر گھٹیا فعل سمجھا جاتا ہے جیسے کسی ہندو کو گائے کا گوشت کھانے اور کسی مسلمان کو مسجد میں شراب پینے کا کہہ دیا ہو۔ معاشرہ میں یہ بگاڑ کب اور کیسے رائج ہوا اس کا اندازہ لگانا اتنا ہی مشکل ہے جتنا بنجر زمین میں بغیر پانی کے فصل کاشت کرنا میرے خیال میں اس کی ایک اہم وجہ ذات پات ہے کہ یہاں ہر بشر خود کو فوقیت اور دوسروں کو نیچا دِکھانے کی تگ و دو میں ہے جس کی وجہ سے شادی میں تاخیر ہونے کے باعث ذہنی غلاظت کو فروغ دیا جا رہا ہے جس سے آئے روز ایسے واقعات دیکھنے اور سننے کو ملتے ہیں کہ روح تک دنگ رہ جاتی ہے انسان جِسے اشرف المخلوقات کہا جاتا تھا اُسے ایسا درندہ بنا دیا گیا ہے کہ زنا بالجبر تو ایک معمولی سی چیز بن کر رہ گئی ہے یہاں تو یہ کمسن بچوں ’بچیوں‘ جانوروں حتٰی کہ قبروں میں سے مردوں کو بھی نکال کر ان سے اپنی غلاظت کو دور کر کے تسکین نہیں پاتے۔ ہمارے معاشرے میں نکاح کو مشکل ترین اور زنا بالرضا کو آسان سے آسان تر بنا دیا گیا اچھے گھر کا لڑکا کسی لڑکی کی محبت میں گرفتار ہو کر زنا تو باآسانی کر سکتا ہے جس سے کسی کو کوئی اعتراض نہیں مگر افسوس نکاح نہیں۔


