شکوہ بے جا بھی کرے کوئی تو لازم ہے شعور


پی ٹی ایم والوں کے احتجاج اور کچھ لبرلز کے ایک ہی اعتراض کہ اس ملک میں وردی والے کوئی بھی جرم کریں انہیں جائز ہے، ان کا کوئی بال بیکا نہیں کر سکتا وہ ہر قسم کے احتساب سے مستثنیٰ ہیں وہ کسی کے سامنے جوابدہ نہیں۔

کو باربار سننے کے بعد میں نے ٹھنڈے دماغ سے سوچنا شروع کیا، کیا واقعی یہ الزامات درست ہیں؟

کیا آرمی میں احتساب کا عمل نہیں، وہ اگر قتل کر دیں تو کوئی نہیں پوچھتا؟ میں نے تاریخ کی کتاب اٹھائی، لیکن نہیں، ہر تاریخ دان اپنی پسند و ناپسند کے مطابق تاریخ لکھتا ہے، اس لئے تاریخ کی کتب پر بھروسا نہیں کر سکتے۔

اس لئے سوچا ماضی قریب کے واقعات جو ہمارے سامنے ہوئے ہیں ان کی روشنی میں ان الزامات پر تحقیق کی جائے کہ آیا واقعی وردی والے ہر قسم کی پکڑ سے مستثنیٰ ہیں یا یہ محض پروپیگنڈہ ہے۔

مجھے مائی جندو یاد آئی، جی ہاں ٹنڈو بہاول کیس، جس میں آرمی کا ایک حاضر سروس کیپٹن ملوث تھا۔ کورٹ مارشل ہوا، کیپٹن ارشد جمیل مجرم پایا گیا اور سزائے موت سنائی گئی۔

پھر کیپٹن نے سپریم کورٹ میں اپیل کی (جو کسی بھی مجرم کا قانونی حق ہے، اور یاد رہے یہ اپیل ادارے کی طرف سے نہیں کی گئی تھی) سپریم کورٹ میں درخواست رد ہوئی، صدر اور چیف آف آرمی سٹاف کو رحم کی اپیل کی وہ بھی مسترد ہوئی، بالکل حیدرآباد سینٹرل جیل میں آرمی کے ایک کیپٹن کو پھانسی دی گئی۔

جی ہاں آرمی کا، وہ بھی کمیشنڈ افسر کیپٹن رینک کا افسر۔

شاید میرے نوجوان دوستوں کو یہ واقعہ یاد نہ ہو لیکن کراچی کے سرفراز شاہ کا واقعہ تو یاد ہوگا، جو رینجرز کے ہاتھوں شہید کیے گئے۔ اور گولی چلانے والا ابھی نیا تھا، اس کی بیوقوفی تھی یا وردی کا باور لیکن ایک نوجوان بے دردی سے مارا گیا، نتیجے میں اس وقت موجود تمام سپاہیوں اور حوالدار کو گرفتار کیا گیا۔ کیس چلا سزائیں ہوئیں۔

لیکن اس میں سب سے بڑی بات اس وقت کے ڈی جی رینجرز کو فورا جی ایچھ کیو بلایا گیا۔ جن کی اس واقعے میں زیرو پوائنٹ زیرو زیرو زیرو ون پرسینٹ انوالمینٹ نہیں تھی، لیکن یہ آرمی کی خود احتسابی کا عمل ہے بارڈر پر کسی سپاہی سے غلطی ہونے پر جی ایچھ کیو والے ڈی جی کی ڈوریاں کھینچتے ہیں۔

صومالیہ کے اس برگیڈیر کو کیسے بھول سکتے ہیں جو یو این مشن پر تھا۔ ان کے ماتحت ایک کیپٹن اور سپاہی چہل قدمی کرتے شہید کیے گئے، انہوں نے سیکیورٹی کی طئھ کردہ رولز میں ہلکی سی لاپرواہی کی اور شہید ہو گئے، نتیجتاً اس برگیڈیر صاحب کو واپس کال کیا گیا اور ان کی پروموشن کی فائل بھی بند کر دی گئی۔

ہمارے علاقے میں فورسز کی گاڑی سے ایک سویلین کی موت ہو گئی اتفاقی واقعہ تھا، ورثاء نے معاف کردیا، لیکن محکمے نے اسے معاف نہیں کیا اور باقاعدہ کیس چلایا گیا اور قانون کے مطابق سزا دی گئی۔

آئیے اب باقی محکموں کی خود احتسابی اور قانون کے احترام پر نظر ڈالتے ہیں۔

پولیس۔

20 ستمبر 1996 کی قاتل شام سب کو یاد ہوگی، جب ذوالفقار علی بھٹو کے فرزند میر مرتضیٰ بھٹو کو ان سات رفقاء کے ساتھ اپنے گھر کے پاس شہید کیا گیا۔ آج تک ایک سپاہی سے لے کر ڈی آء جی شعیب سڈل تک کسی ایک کو سزا نہیں ہوئی، سزا تو دور کی بات ان کو تو زرداری دور میں اور بھی نوازا گیا آء بی کا چیف بنایا گیا۔

ماڈل ٹاؤن سانحہ، 14 لوگ شہید ہوئے لیکن قاتل نا معلوم، نہ تو عدالتوں نہ کچھ کیا اور نہ ہی پولیس ڈپارٹمنٹ نے ان کے خلاف کوئی کارروائی کی۔

سانحہ ساہیوال میں بھی یہی ہوگا چند روز یہ لوگ معطل رہیں گے پھر بحال کیے جائیں گے اور پروموشن بھی پائیں گء۔

رسول بخش بروہی وہ ایک غریب مزدور تھا پولیس نے ایک رسول بخش ڈاکو سے پیسے لے کر سو کالڈ انکاؤنٹر میں رسول بخش بروہی کو شہید کردیا، معاملہ میڈیا پر آیا، ملوث اہلکار گرفتار ہوئے چند روز میں صلح صفائی کے بعد وہی قاتل اپنے عہدوں پر بحال ہوگئے اور محکمے کے طرف سے ایسی کالی بھیڑوں کے خلاف کوئی قدم نہیں اٹھایا گیا۔

باقی تعلیم صحت روینیو اریگیشن کسی ایک محکمے کے بارے میں کوئی دوست بتائے کہ کسی ملزم کو ادارے نے خود سزا دی ہو؟

بھائیو میں آء ایس پی آر کا نہ تو ترجمان ہوں اور نہ ان کے میڈیا سیل کا میمبر، میں ایک عام پاکستانی ہونے کے ناطے سمجھتا ہوں کہ ہم تنقید بھلے کریں لیکن پروپیگنڈہ نہ کریں۔

ابھی میں جب پندرہ سال کے بے ریش بچے کو، (اس دہشتگردی کے پیچھے وردی ہے ) جیسے نعرے لگاتے سنتا ہوں تو مجھے اپنی قوم پر رونا آتا ہے۔ یار لورالائی کے پروفیسر کا قاتل پولیس والا ہو اور پتھر آرمی پر برسائے جائیں

شاید میری بات کافی دوستوں کے دل پر گراں گزرے لیکن اتنا ضرور کہوں گا حضور، شکوہ بے جا بھی کرے کوئی تو لازم ہے شعور۔

Facebook Comments HS