ابھی اس کھیل کے کچھ منظر باقی ہیں
کسی اور کی نہیں، قائد انقلاب کی تشخیص ہے۔ غذائی قلت کے باعث چالیس فیصد ملکی آبادی کی دماغی نشونما مکمل نہیں ہوئی۔ بڑا المیہ ہے۔ اس سے بڑا المیہ مگر یہ ہے کہ بقیہ ساٹھ فیصد میں سے بیشتر کی آنکھوں پر بھی عصبیت کا جالا گہرا ہے۔ ایسوں کے متعلق ہی تکرار کے ساتھ ان سطور میں کئی بار عرض کر چکا یہ قوم نہیں بلکہ سیاسی عقیدتوں کی بنیاد پر منقسم ہجوم ہے۔ اسی وجہ سے انہیں آنکھوں دیکھی، سچائی نظر نہیں آتی۔ نہ یہ لوگ کان میں بجنے والا مخالف ڈھول سننے کو تیار ہوتے ہیں۔
لاکھ سمجھاتے رہیں، کوا سیاہ، یہ سفید ثابت کرنے پر مصر رہیں گے۔ اپنے سیاسی بتوں کی گندگی دھونے، اور مخالفین کی اچھائی بھی ہر دم دفن کرنے کو تیار۔ بصارتیں اتنی دھندلا چکی، اظہر من الشمس حقیقت بھی دماغ میں نہیں اترتی۔ سفاکیت اتنی بڑھ چکی، پرائی بیماری اور موت کو بھی ڈرامہ کہا جاتا ہے، لگتا ہے معاشرے پر انسانیت کی تہمت ہی باقی ہے۔ شاید ایسوں کے متعلق ہی کہا ہو، ان کے دلوں پر مہر لگ چکی۔ کچھ اثر نہ ہو گا چاہے تم انہیں سمجھاؤ یا نا سمجھاؤ۔ یہی معاملہ ہے کہ بہت سے ذہنوں میں نواز شریف کی طبی بنیاد پر ہسپتال منتقلی بھی کوئی سازش یا پس پردہ کوئی افسانہ ہے۔
کلثوم نواز کی بیماری کے متعلق بھی کیسے کیسے سفاک تبصرے ہوئے۔ کسی نے کہا یہ ڈرامہ ہے۔ کوئی بولا، مقدمے سے بچنے کی کوشش تو کسی کا خیال تھا عوامی ہمدردی سمیٹنے کا ایک پینترا۔ حد تو یہ خلق خدا کو شعور و آگہی دینے کے دعویدار، اینکرز نے جس بے حسی کا مظاہرہ کیا وہ اخلاق کے کسی پیمانے پر نہیں اترتا۔ عمران خان اور اس کی کمپنی سے تو گلہ ہی فضول۔ ان کی بائیس سالہ سیاسی عمر ہی گالم گلوچ اور دشنام سے لبریز ہے اور اس کے سوا ان کے پاس موجود بھی کیا ہے دکھانے کو؟
ایک بزرگ وکیل، جس کی تمام عمر الفاظ کے ہیر پھیر میں گزری، جسے ادا ہوئے الفاظ کی سنگینی اور اثرات کا بخوبی اندازہ تھا۔ جسے دانشوری کا دعوی بھی ہے اور جس نے خود وہ موسم دیکھ رکھے ہیں جس کے سبب شریف خاندان آج کل مصائب کا شکار ہے۔ سرد گرم چشیدہ اس بندے نے بھی مسلسل اصرار کیا کہ بیگم کلثوم نواز کو کوئی بیماری نہیں۔ جس ہارلے اسٹریٹ کلینک میں وہ فراش ہیں وہ خود شریف فیملی کی ملکیت ہے۔ لہذا یہ سب مقدمے بازی سے فرار کے بہانے کے سوا کچھ نہیں۔ آخر اس دنیا سے کوچ ہوا تو مردہ دلوں کو یقین آیا۔
عدل و انصاف سماج اور معاشرت کا جزو لا ینفک ہے۔ اسی طرح نظام عدل کی شفافیت، فعالیت اور غیر جانبداری تمام طبقات کے لئے شکوک سے بالاتر رکھنا نہایت ضروری۔ اٹھائیس جولائی کا فیصلہ آیا۔ بہت سے تحفظات تھے، بیک جنبش قلم عوامی مینڈیٹ کے ذریعے اقتدار میں آنے والے کو فارغ کرنا ہر لحاظ سے نا مناسب تھا۔ سنائی گئی سزا کی بنیاد، مقدمے کی وجہ سے یکسر مختلف تھی۔ بہرحال نظام عدل کی حرمت کا سوال تھا۔ ایک لمحے کی تاخیر کے بغیر، بسر و چشم قبول کیا گیا۔
شاید یہ اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ تھا، جب سزا سنانے کے بعد جرم کے ثبوت ڈھونڈنے کا آغاز ہوا۔ سپریم کورٹ نے نا اہلی کا فیصلہ کرتے وقت ایک ٹرائل کورٹ تشکیل دینے کا حکم دیا تھا جس نے جے آئی ٹی کی طرف سے لگائے گئے الزامات کی حقیقت کا پتہ لگانا تھا۔ نااہلی کے فیصلے کے وقت تک جو سوالات تشنہ تھے وہ آج بھی جوں کے توں ہیں۔ مثال کے طور پر یہ واضح ہونے کے بعد بھی کہ لندن میں موجود گمنامی فلیٹس نواز شریف کے بچوں کی ملکیت ہیں، نیب یہ ثابت کرنے میں ناکام رہا، اس جائیداد سے براہ راست نواز شریف کا کیا تعلق ہے؟
یہ تسلیم بھی کر لیا جائے ان فلیٹس کی خریداری کے وقت میاں صاحب کے بچے کم عمر تھے، تو محض اس دلیل کے سوا کہ عموما بچے اس عمر میں والد کے زیر کفالت ہوتے ہیں، کیا ثبوت تھا ان کی خریداری کے لیے پیسے میاں صاحب نے ہی غیر قانونی آمدن سے بھیجے تھے؟ جبکہ شریف فیملی کا موقف ہے کہ بچے اپنے دادا کے زیر کفالت تھے، یہ نہیں کہا جا سکتا کہ انہیں اس خریداری کے لیے سرمایہ اپنے دادا سے براہ راست ملا ہو؟
مفروضوں کے تال میل اور استغاثہ کی طرف سے پیش ناکافی شواہد کے باوجود نیب عدالت نے ملزم باپ، بیٹی اور داماد کو زنداں بھیجنے کا حکم دیا۔ اس وقت میاں صاحب اور ان کی بیٹی، لندن کے ہسپتال میں بستر مرگ پر پڑی کلثوم نواز کے پاس تھے۔ چاہتے تو اہلیہ کی بیماری کا عذر پیش کر کے سزا سے فرار اختیار کر لیتے۔ ایک سے زاید مرتبہ انہیں پیغام بھی پہنچا کہ کم از کم انتخابات تک وہ لندن میں مقیم رہیں۔ سزا کی اطلاع سنتے ہی انہوں نے وطن واپسی کا فیصلہ کیا اور وطن پہنچتے ہی انہیں ایئرپورٹ سے گرفتار کر کے جیل پہنچایا گیا۔
اس دوران ملک میں عام انتخابات ہوئے، مسلم لیگ میاں صاحب کی عدم موجودگی کے باعث بری طرح پٹ گئی۔ قید کے دوران ہی، ان کی 47 برس سے رفیق ہستی ہمیشہ کے لیے ان سے بچھڑ گئیں۔ اپنی اہلیہ کے جنازے میں شرکت کے لیے بھی انہوں نے پیرول پر رہائی کے لیے خود سے درخواست نہ دی۔ کچھ دن وہ ضمانت پر رہا ہوئے لیکن ایک اور ریفرنس میں دوبارہ سزا ہوئی اور تا حال وہ ہسپتال میں زیر حراست ہیں۔
اِیَّاکَ نَعْبُدُ وَاِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ کے سامعین تک شاید یہ پیغام نہیں پہنچا کہ اللہ نے یہ بھی فرمایا۔ یَا أَیُّھَا الَّذِینَ آَمَنُوا إِنْ جَاءَکُمْ فَاسِقٌ بِنَبَأٍ فَتَبَیَّنُوا أَنْ تُصِیبُوا قَوْمًا بِجَھَالَةٍ فَتُصْبِحُوا عَلَى مَا فَعَلْتُمْ نَادِمِینَ ( 6 )
جس کو اصرار ہے کہ دو ارب ڈالرز کی آفر ہوئی ہے یا حمزہ شہباز گاڑی کی نمبر پلیٹ بدل کر رات کی تاریکی میں این آر او تلاش کرتے ہیں تو کوئی ثبوت، ویڈیو یا وائس کلپ دکھایا جائے، جس طرح دھرنے کے دنوں میں ایک مشکوک کال کا بتایا گیا تھا۔ یہ اگر دستیاب یا کسی مجبوری کے باعث ممکن نہیں تو پھر بھی سچ لندن پلان کی طرح ایک روز ضرور بے نقاب ہو کر رہے گا۔ آخر وعدہ ہے۔ وقل جاء لحق وزھق الباطل ان الباطل کان زھوقا!
کون سمجھائے اگر نواز شریف نے کوئی ریلیف لینا ہوتا، تو اقتدار سے رسوا ہو کر نکلتے؟ الیکشن سے قبل یا اہلیہ کی علالت کے باعث کسی شرط پر راضی نامہ کر لیتے۔ مزید گنوانے کو بچا کیا ہے جس کی خاطر وہ این آر او کریں گے۔ سیاست سے وہ تا حیات فارغ ہو چکے، پارٹی صدارت چھن چکی، اہلیہ داغ مفارقت دے گئیں۔ اب وہ کیوں لمحہ موجود کے بجائے تاریخ میں جینے کو ترجیح نہ دیں گے۔ قید کے باوجود وہ ہمہ وقت میڈیا پر، جماعت بھی کمزور نہ ہوئی، لہذا فیصلہ سازوں کی خواہش تو ہو سکتی ہے وہ کوئی ڈیل کرلیں مگر خود ان کی نہیں۔ انہوں نے کوئی ڈیل کرلی تو سویلین بالادستی گئی بھاڑ میں خود ان کی جماعت کی سیاست کا جنازہ نکل جائے گا۔ جس طرح وہ ہسپتال سے جیل منتقلی پر اصرار کر رہے ہیں، سمجھنا چاہیے وہ یہ نہیں چاہتے، شاید ان کے ذہن میں بھٹو ماڈل اور بیٹی کا سیاسی مستقبل ہے۔
دو ماہ قبل بھی درویش نے انتہائی ذمہ دار ذرائع کے حوالے سے ان سطور میں خبر دی تھی کہ پرنالہ عنقریب سندھ کی جانب مڑنے والا ہے۔ انقلابی لشکر کی قبل از وقت شعلہ بیانی سے مگر کارروائی ملتوی ہو گئی لیکن ایک بار پھر اصرار سے کہوں گا وہ دن زیادہ دوری پر نہیں جب سندھ سے تعلق رکھنے والے بڑے ناموں پر عتاب نازل ہونے والا ہے۔ یہ بھی انتہائی ذمہ داری سے بتلا رہا ہوں کہ عبدالعلیم خان کی گرفتاری بیلنسنگ ایکٹ نہیں، ایک بار نواز اور زرداری کا کانٹا مکمل نکل جائے پھر خلیل میاں (قائد انقلاب) کے فاختہ اڑانے کے دن بھی نہیں رہیں گے۔ اس کے بعد گلیاں ویران ہوں گی اور راج کس کا ہوگا، ہر شخص سمجھدار ہے۔


