کشمیریوں سے اظہار یکجہتی اور مسئلہ کشمیر!
میں نے مسئلہکشمیر پر جس قدر بھی غور و فکر کیا، حقیقت کی جگہ حکایت، حقائق کی جگہ جذبات، خبر کے بجائے خواہش، تعبیر کے بجائے خواب اور سلجھاؤ کی جگہ الجھاؤ ہی دکھائی دیا۔ عالمی طاقتوں کو تو خیر شاید کشمیر کے نام سے ہی زیادہ آگاہی نہیں، مجھے تو خود پاکستان کے کردار اور مؤقف کی ٹھیک طریقے سے سمجھ نہ آ سکی۔ اس حوالے سے میں اپنی فہم ناقص اور فکری کوتاہی و تاریخی حقائق سے غفلت کے امکان کو سو فیصد تسلیم کرتے ہوئے ارباب بست و کشاد اور مسئلہ کشمیر کے مخلص و بے لوث ہمدردوں سے دست بستہ ملتمس ہوں کہ اس حوالے سے میری راہنمائی فرمائیں۔
تقریباً گذشتہ تین عشروں سے جاری پانچ فروری کو کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کے طور پر منایا جاتا ہے مگر آج تک یہ کاوشیں مسئلہ کشمیر کو عالمی افق پر درست طریقے سے اجاگر نہیں کر سکیں۔ چار ہزار سال پرانی تاریخ و تہذیب کی وارث سرزمین کشمیر کے دلفریب و سحر انگیز حسن بے مثال کا یہ جنت نظیر خطہ رقبے کے لحاظ سے دنیا کے 110 اور آبادی کے لحاظ سے 131 ممالک سے بڑا ہے۔ جموں کشمیر کا رقبہ یورپ کے پانچ بڑے ممالک ڈنمارک، البانیہ، ہالینڈ، بلجئیم اور لکسمبرگ کے مجموعی رقبے سے زیادہ ہے۔
کل 54 مسلمان ممالک میں 28 ویں نمبر پر ہے جب کہ نصف درجن مسلم ملکوں کی آبادی اس سے کم ہے۔ 1947 تک جموں کشمیر کا علاقہ (مقبوضہ کشمیر، آزاد کشمیر، گلگت بلتستان) ایک جغرافیائی وحدت رہا ہے۔ یہاں مسلم دور کا آغاز 1320 میں رنچن شاہ کے عہد حکومت سے ہوا جس نے بلبل شاہ کے ہاتھ پر اسلام قبول کیا تھا اور جن کا اسلامی نام صدر الدین رکھا گیا تھا۔ اس وقت سے لے کر 1585 تک یہاں مقامی مسلم خاندانوں نے حکومت کی جن کی تعداد 22 ہے۔
سلطان زین العابدین (بڈ شاہ) کا دور حکمرانی زرین ترین سمجھا جاتا ہے۔ 1586 سے 1947 تک یہ خطہ بیرونی حملہ آوروں کی زد میں رہا جن میں مغل حکمران شہنشاہ اکبر، افغان فاتح احمد شاہ ابدالی اور مہاراجہ رنجیت سنگھ نمایاں ہیں۔ اس بد قسمت خطے کو اس کے باسیوں اور وسائل سمیت معاہدہلاہور و معاہدہامرتسر کے تحت 9 مارچ اور 16 مارچ 1846 کو ڈوگرہ حکمران راجہ گلاب سنگھ کے ہاتھ پچھتر لاکھ شاہی سکوں کے عوض فروخت کردیا گیا تھا۔ اسی پر شاعر مشرق چیخ اٹھے تھے کہ
دہقان و کشت و جو و خیاباں فروختند
قومے فروختند و چہ ارزاں فروختند
گلاب سنگھ کے بعد اس کے بیٹے رنبیر سنگھ نے اور پھر رنبیر کے بیٹے پرتاب سنگھ نے کشمیر پر حکمرانی کی۔ پرتاب ایک کمزور حکمران تھا لہٰذا انگریزوں نے دفاع کے نام پر گلگت بلتستان پر قبضہ کر لیا۔ 1925 میں پرتاب سنگھ کی وفات پر اس کا بھتیجا مہاراجہ ہری سنگھ 26 اکتوبر 1947 تک کشمیر کا حکمران رہا پھر اس نے بھارت کے ساتھ الحاق کر لیا۔ اس سے قبل 1948 میں مسئلہکشمیر پر پاک بھارت کے درمیان جنگ بھی ہو چکی تھی۔ 15 اگست 1947 کو پاکستان نے کشمیر سے معاہدہقائمہ بھی کر لیا تھا مگر اس سے پہلے بھارت بھی مہاراجہ کو آئین کی شق 370 کے تحت دفاع، مواصلات اور کرنسی کے علاوہ مکمل داخلی خود مختاری دینے کی حامی بھر چکا تھا۔
مسئلہکشمیر پاک بھارت کے درمیان سلگتا ہوا مسئلہ ہے۔ اب تک لاکھوں کشمیری نوجوان تہ تیغ کیے جا چکے ہیں۔ وادی کا شاید ہی کوئی گھر ایسا ہو جس کا کوئی نہ کوئی نوجوان شہید، زخمی، لاپتہ نہ کیا گیا ہو۔ تقریباً 34 فیصد مائیں نفسیاتی عوارض کا شکار ہو چکی ہیں۔ 1989 سے آزادی کی تحریک میں شدت آ چکی ہے۔ نوجوانوں نے مسلح جدوجہد شروع کر رکھی ہے۔ پاکستان نے اس مسئلے کو بری طرح ہینڈل کیا ہے۔ پاکستان کے سیاسی اور عسکری پنڈتوں نے وقت و حالات کے بدلتے ققاضوں کے مطابق لائحہ عمل مرتب نہ کیا جس کی وجہ سے مسئلہ کشمیر بہت کمزور ہوتا گیا۔
نائن الیون کے بعد کشمیری مجاہدین دہشت گرد ہو چکے ہیں۔ پاکستان کشمیریوں کی سفارتی، سیاسی، اخلاقی مدد کی بات کرتا ہے مگر اس پر یہ الزام تواتر سے لگایا جاتا ہے کہ وہ کشمیر میں دراندازی کر رہا ہے۔ ممبئی حملے اس کا واضح ثبوت ہیں۔ لشکر طیبہ جیسی تنظیموں نے کشمیر کے مقدمے کے سیاسی اور اخلاقی پہلو کو بہت نقصان پہنچایا ہے۔ حافظ سعید صاحب کشمیر میں کام آنے والے نوجوانوں کی نماز جنازہ پاکستان میں جگہ جگہ پڑھاتے ہیں اور حکومت و ریاستی ادارے چپ سادھے رہتے ہیں۔
عالمی فورم پر جب ذمہ دار ممالک پاکستانی وقود سے اس حوالے سے شکایت کرتے ہیں جس کے رد عمل میں حکومت ریاستی اداروں سے سوال کرتی ہے تو وہ ایشو ڈان لیکس بن کر حکومت کے گلے پڑجاتا ہے۔ مقبوضہ کشمیر جموں، وادیکشمیر اور لداخ پر مشتمل ہے۔ وادی میں مسلمانوں کی آبادی 95 فیصد کے مقابلے میں جموں 28 فیصد اور لداخ 44 فیصد مسلم آبادی والے خطے ہیں۔ لداخ میں تو آزادی کی تحریک نام کو نہیں البتہ جموں اور وادی میں یہ تحریک نامساعد حالات میں بھی کسی حد تک جاری ہے (اگر اسے تحریک کا نام دیا جا سکے تو) ۔
حقیقت یہ ہے کہ کشمیر بزور شمشیر ہم کبھی حاصل نہیں کرسکتے۔ سفارتی اور سیاسی میدان میں بھی ہمارا مؤقف اتنا کمزور ہے کہ آج تک ہم دیرینہ دوست چین کو اس حوالے سے قائل نہیں کر سکے۔ وقت آ گیا ہے کہ ہمیں کشمیری نوجوانوں سے بندوق لے کر ان کے ہاتھ میں قلم، کتاب دیں تاکہ وہ دلائل و براہین سے آراستہ ہو کر سیاسی جدوجہد کے لیے فیصلہ کن کوشش کر سکیں۔ جب کسی منظم ریاست میں کوئی گروہ یا طبقہ ریاست کے خلاف ہتھیار اٹھا لے گا تو ریاست کو طاقت استعمال کرنے کا جواز مل جائے گا، جو اس طبقے کی معدومیت پر منتج ہو گا۔ سری لنکا میں تامل ناڈو کی تحریک بھی اسی انجام سے دو چار ہو چکی ہے۔
بھارتی مقبوضہ کشمیر میں بھارت کے آئین کے مطابق ادارے چل رہے ہیں۔ وہاں دسیوں بار الیکشن ہو چکے ہیں۔ بھارت نے وہاں بے تحاشا سرمایہ کاری کر رکھی ہے۔ وہ کسی بھی صورت میں اپنی جنت نظیر کو کسی کے لیے تر نوالہ نہیں بننے دے گا۔ پاکستان کو چاہیے کہ حقیقت پسندی سے کام لے اور کشمیریوں کی درست سمت میں راہنمائی کرے اور کشمیر کی سیاسی قیادت کو کشمیر کی آزادی کے لیے سیاسی جدوجہد پر آمادہ کرے۔ کس قدر ستم ظریفی کی بات ہے کہ جس خطے کی 77 فیصد آبادی مسلمانوں پر مشتمل ہو اور سیاسی آزادی بھی ہو وہاں کی لیڈر شپ سیاسی جدوجہد کے ذریعے اس مسئلے کا حل نہ نکال سکے۔
جہاں تک اقوام متحدہ کی قرار دادوں کا تعلق ہے تو اس حوالے سے ہمیں یہ تلخ حقیقت ماننا پڑے گی کہ یہ قراردادیں حقیقی نہیں، نمائشی ہیں اور اقوام متحدہ نمائشی قراردادوں پر عمل درآمد کی پابند نہیں۔ حرف آخر یہ ہے کہ 1990 میں جماعت اسلامی کی طرف سے شروع کیا جانے والا یوم یکجہتی کشمیر، اس دن بنائی جانے والی انسانی ہاتھوں کی زنجیر، منعقد کی جانے والی تقریبات اور جذباتی تقریریں مسئلہ کشمیر کے حل میں کس حد تک ممدو معاون ثابت ہو سکتی ہیں؟


