جنرل بپن راوت اور کابل پر دستک دیتے ہوئے طالبان
”اگر افغانستان میں بھارت کی دلچسپی ہے، اور یقیناً ہے تو وہ بات چیت (امن مذاکرات) سے الگ نہیں رہ سکتا۔ ہمں کسی طرح سے اس بات چیت میں شامل ہونا چاہیے۔ بھارت یہ جاننا چاہتا ہے کہ بات چیت میں کیا ہورہا ہے۔ اور جب تک آپ بات چیت کی میز پر نہیں ہوں گے، آپ نہیں جان سکتے کہ کیا ہورہا ہے۔ “ بھارتی آرمی چیف جنرل بپن راوت 11 جنوری کو سالانہ نیوز کانفرنس میں یہ بات کہہ رہے تھے۔
بھارت کے موجودہ کابل حکومت سے مثالی تعلقات قائم ہیں۔ کابل میں قائم اس کا سفارتخانہ کافی فعال کردار ادا کر رہا ہے۔ دوسرے چند بڑے شہروں میں اس کے قونصل خانے قائم ہیں۔ بھارت افغانستان میں اربوں روپے خرچ کررہا ہے۔ اقتصادی منصوبوں پے کام کیا جارہا ہے۔ افغانستان کے فوجی افسروں کو تربیت دی جا رہی ہے۔ طالبان سے نپٹنے کے لیے مدد کی جارہی ہے۔ بھارت اور افغان حکومت کے درمیان وقتاً فوقتاً خیر سگالی کے جذبوں کا اظہار کیا جاتا رہا ہے۔
بھارت کا طالبان کے ساتھ تجربہ کبھی بھی اچھا نہیں رہا۔ بھارت 70 اور 80 کی دہائی میں افغان جنگ میں سوویت بلاک کے ساتھ وابستہ رہا۔ بھارت نے سوویت پشت پناہی سے بننے والی ’جمہوری جمہوریہ افغانستان‘ نامی حکومت کو تسلیم کیا۔ سوویت انخلا کے بعد مجاہدین کی باہمی خانہ جنگی اور رسہ کشی شروع ہوئی۔ طالبان نے ملاعمر کی قیادت میں حکومت قائم کی۔ طالبان حکومت قائم ہوتے ہی بھارت کے افغانستان کے ساتھ تعلقات عملاً معدوم ہو گئے تھے۔
بھارت کا ہمیشہ سے ’شمالی اتحاد‘ کی طرف جھکاوُ رہا ہے۔ شمالی اتحاد افغانستان میں ہر طرح سے طالبان کا مخالف رہا ہے۔ شمالی اتحاد کے سرکردہ رہنماوُں میں احمد شاہ مسعود اور رشید دوستم شامل تھے۔ اس اتحاد کو روس، ایران اور امریکہ کی حمایت حاصل تھی۔ اس اتحاد نے طالبان کے دور حکومت میں عسکری کارروائیاں جاری رکھی۔
نائن الیون کے بعد طالبان حکومت ختم ہوئی۔ حامد کرزئی پہلے عبوری سربراہ اور پھر سن 2004 میں صدر منتخب ہوئے۔ وہ تقریباً دس سال تک اقتدار میں رہے۔ ان کے دور میں بھارت اور افغانستان کے درمیان مثالی تعلقات قائم ہوئے۔ جبکہ دوسری طرف افغانستان کے پاکستان کے ساتھ تعلقات دن بدن بگڑتے گئے۔ اشرف غنی اقتدار میں آئے۔ بھارت کے ساتھ مزید تعلقات استوار ہوئے۔ اقتصادی و عسکری تعاون میں اضافہ ہوا۔
افغانستان کے حالات جوں کے توں ہیں۔ طالبان کی طاقت بڑھ رہی ہے۔ ٹرمپ افغانستان سے فوجی انخلا چاہتے ہیں۔ علاقائی طاقتیں سر جوڑ کر بیٹھ رہی ہیں۔ طالبان اپنی شرائط پر مذاکرات میں شامل ہو رہے ہیں۔ طالبان فی الحال کابل حکومت سے براہ راست بات کرنے کے موڈ میں نہیں ہیں۔ امریکہ نے پہلی بار گزشتہ برس نومبر میں افغان طالبان کے ساتھ براہ راست مذاکرات کا اعتراف کیا۔ امریکی خصوصی ایلچی زلمے خلیل زاد اسلام آباد، دوحہ، کابل کے معنی خیز دورے کر چکے ہیں۔ ابتدائی پیش رفت کی بازگشت سنائی دے رہی ہے۔
ماسکو میں افغان حکومت کے بغیر مذاکرات ہو رہے ہیں۔ جہاں پر طالبان کے نمائندے افغانستان کے حزبِ مخالف کے رہنماوُں، جن میں حامد کرزئی بھی شامل ہیں، سے مل رہے ہیں۔ پاکستان کے کردار کو دھیمے الفاظ میں سراہا جا رہا ہے۔
بدلتی علاقائی صورتحال کے پیشِ نظر روس اور ایران طالبان کی طرف جھکتے دکھائی دے رہے ہیں۔ افغان صدر اشرف غنی اپنے کمزور صدارتی محل سے اس ساری صورتحال اور امن مذاکرات کو بطور تماشائی دیکھ رہے ہیں۔
موجودہ صورتحال پاکستان اور افغان طالبان دونوں کے لیے نسبتاً سازگار بن رہی ہے۔ عالمی قوتیں بشمول امریکہ طالبان کو ایک مضبوط حقیقت کے طور ہر دیکھ رہے ہیں۔ ہر طرف سے یہی لگ رہا ہے کہ کہ طالبان ایک بار پھر پہاڑوں سے نکل کر اقتدار کے ایوانوں کی طرف بڑھ رہے ہیں۔
بھارت کا ہمیشہ سے یہ موقف رہا ہے کہ طالبان کو کابل حکومت سے بات کرنی چاہیے۔ اس نے کبھی بھی طالبان کے بیانیے کی حمایت نہیں کی۔ مگر اب صورتحال بدل رہی ہے۔ طالبان کو عسکری انداز میں شکست دینا ممکن نہیں رہا۔ طالبان کے طاقت پکڑنے سے یا مستقبل میں اقتدار میں شریک ہونے سے افغانستان میں بھارت کے لیے جگہ کم پڑتی دکھائی دے گی۔
ان حالات میں بھارت کا افغانستان میں کیا کردار ادا ہو گا؟
جنرل بپن راوت کا بیان بھارت کے اسی مخمصے کی طرف اشارہ کر رہا ہے۔ بھارت کے لیے اہم سوال یہ ہے کہ طالبان کے ساتھ مذاکرات اور مستقبل کے نقشے میں اپنے مفادات کا تحفظ کس طرح کیا جائے۔ بھارت امریکہ کا اتحادی ہے اور امریکہ کا افغان جنگ کے حل میں مرکزی کردار ہوگا۔
امریکہ اپنے دوست ملک بھارت کے مفادات کا تحفظ کس طرح ممکن بنائے گا؟ امن مذاکرات کا کیا نتیجہ نکلے گا؟
ان سوالوں کا حتمی جواب شاید ابھی کسی کے پاس نہ ہو۔ مگر دو باتیں صاف دکھائی دے رہیں۔ ایک تو صدر ٹرمپ بہت جلدی میں ہیں۔ اور دوسری طرف طالبان کابل کے دروازوں پر دستک دے رہے ہیں!


