صحافت کا روشن مستقبل: موبائل جرنلزم

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

گزشتہ روزوزیر اطلاعات فواد چودھری نے میڈیا کانفرنس میں ا پنے موقف کو دہراتے ہوئے بتایا کہ صحافیوں کو نئے دور ٹیکنالوجی کے ساتھ ساتھ چلنا ہوگا بدقسمتی ای پی پی نیوز ایجنسی کے 80 فیصد صحافیوں کو اپنا ایمیل چیک کرنا نہیں آتا اگر کسی صحافی کو اپنا ای میل چیک کرنا نہیں آتا تو وہ ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کی اس دوڑ میں بہت پیچھے ہے۔ وزیر اطلاعات اس سے قبل بھی الیکٹرونک و پرنٹ میڈیا سے وابستہ خطرات کو بیان کرچکے ہیں۔ پاکستان ہی نہیں دنیا بھر میں صحافت کے طالبعلموں کے لئے حالیہ صدی کا یہ وقت بہت کڑا ہے۔

حالیہ صدی میں دنیا میں بیسیوں شعبے ایسے ہیں جن کی ٹیکنالوجی میں بڑھتی ہوئی تبدیلیوں کے پیش نظر حیثیت کم ہوتی نظر آرہی ہے جن میں سے ایک صحافت بھی ہے جہاں یہ پریشانی کی بات ہے وہاں خوش آئند بات یہ بھی ہے کہ خبروں سے آگاہ رہنے کا مستقبل نیٹ اور ٹیکنالوجی سے مزین موبائل ہے اب رپورٹر ایک موبائل، مائیکروفون، برانڈ بینڈ وائرلیس کی مدد سے دنیا میں کہیں سے بھی کسی بھی وقت خبر کو بریک کرے گا۔

رپورٹنگ کا یہ نیا انداز موبائل جرنلزم کہلاتا ہے جسے ”موجو“ کا نام بھی دیا گیا ہے۔ میڈیا اب روایتی میڈیا سے سوشل میڈیا کی جانب آرہا ہے۔ کئی اخبارات ڈیجیٹل اپلیکشنز کے ذریعے قارئین تک اپنی خبریں پہنچانے کی کوشش میں مگن نظر آتے ہیں پرنٹ اور براڈ کاسٹ میڈیا کے درمیان فاصلہ بڑھتا جارہا ہے۔ ملٹی میڈیا ٹولز خبریں پیش کرنے کے نئے انداز کو متعارف کروانے کی دوڑ میں بہت آگے جا چکے ہیں۔

انٹرنیٹ، سمارٹ فون براڈ بینڈ وائریلس، لائیو سٹرمینگ اپلیکیشنز نے دورحاضر کی صحافت کو بدل دیا ہے صحافت اورانٹرنیٹ کی جدید ٹیکنالوجی اب جُڑ چکے ہیں یعنی لوگ نئی ٹیکنالوجی کو صحافت کے لئے استعمال بھی کر رہے ہیں۔ آئندہ دو سال کے بعد الیکٹرونک اور پرنٹ میڈیا کی بجائے میڈیا پلیٹ فارم موبائل جرنلزم ہو گا۔

ویب چینل اور سوشل میڈیا سے نت نئے چینلز سامنے آرہے ہیں۔ ویب چینلز سے وابستہ رپورٹرز دن بھر میں ایک دو سٹوریز کور کرتے ہیں جس میں کچھ ویڈیوز اور لکھا ہوا مواد ہوتا ہے۔ یہ ویڈیوز موبائل سے بنائی جاتی ہیں۔ موبائل جرنلزم درحقیقت ایک بڑی تبدیلی ہے جو دنیا بھر میں رائج ہوچکی ہے موبائل جرنلزم کی بدولت بریکنگ نیوز کی کوریج کے لئے اب ڈی ایس این جی کے ٹرکوں کا رش کم ہوجائے گا اور محض ایک موبائل سے روایتی جرنلزم سے چھٹکارا مل جائے گا۔

دنیا میں میڈیا انڈسٹری میں بڑی تبدیلی آئی ہے لیکن دنیا میں کوئی بھی ایسی چیز نہیں ہے جسے تبدیل نہ کیا جا سکے ہم پرنٹ والیکٹرونک میڈیا کے صحافی ہیں لیکن ضروری نہیں کہ ہم اب کاغذ قلم سے ہی رپورٹنگ کریں اب موبائل جرنلزم کا دور ہے نئی ٹیکنالوجی کا استعمال ناگزیر ہو چکا ہے

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •