باپ اور نانا کی ٹھکرائی بچی کو سمندر میں گھر ملا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  • 335
  •  

میں ایک ایسے خاندان کو بہت قریب سے جانتی ہوں جس کا سربراہ شیزو فرینیا کا مریض تب سے تھا جب اس کی پہلی شادی ناکام ہوئی۔ لیکن ماں اور بہنوں نے اس کا علاج کروانے کے بجائے پہلی شادی کی ناکامی کے بعد سات سے آٹھ کا سال کا وقفہ لیا اور پھر اس کی دوسری شادی یہ سوچ کردی کہ اب نئی آنے والی بہو چٹکی بجاتے ہی اس شخص کو ٹھیک کردے گی جو روز بروز نفسیاتی بیماری کا شکار ہوکر ایک خول میں بند ہوچکا تھا۔ نیا گھر بس گیا اور پھر چار بچے بھی ہوگئے جو یہ سنتے سنتے بڑے ہوئے کہ یہ تو میری اولاد ہی نہیں۔

ان بچوں کے منہ میں اپنے باپ کے کمائے ہوئے ایک روپے کا نوالہ اس لئے نہ جاسکا کہ ان کا باپ مرض کی شدت کے سبب کمانے کے قابل نہ تھا اور نہ ہی ان کا ددھیال یہ ما ننے کو تیار تھا کہ ان کا باپ ایک ذہنی مریض ہے۔ وہ ہمیشہ جھوٹی تسلیاں اور جھوٹے نوالے نگلتے رہے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ ان کی ماں نے فیصلہ کیا کہ وہ ایک کم پڑھی لکھی عورت ہے تو سلائیاں کر کے اپنا گزارہ کرے لیکن روز کی مار پیٹ اور بدکرداری کے الزام سہنے کی عادت شاید اس عورت کو اس لیے تھی کہ اس کا میکہ اتنا مضبوط نہ تھا جو اس کا چار بچوں سمیت بوجھ اٹھاتا۔ لیکن ایک روز بچوں نے خود سنا کہ ان کے باپ نے ان کی ماں کو رات میں طلاق دی جو نہ جانے کتنے برسوں سے دی جاتی تھی اور پھر کہا جاتا تھا کہ ایسا کچھ نہیں ہوا اس واقعے نے ان بچوں کو وہ فیصلہ لینے پر مجبور کیا جو ان کی ماں کبھی نہ لے سکی۔

اس عورت نے ہمت کی اور پھر وہ اپنے بچوں نے ساتھ اپنی ماں کے گھر شادی کے اٹھارہ برس بعد لوٹ گئی۔ وہاں جانے کے بعد مشکلات مزید آئیں لیکن بچے ڈٹے رہے اور اپنے پیروں پر کھڑے ہوگئے۔ یہ ہے ایک کہانی، اب آتے ہے اس کہانی کی جانب جس کا واویلہ دو روز سے جاری ہے۔ ملزمہ شکیلہ کا پولیس کو بیان ہے کہ اس نے جب اپنی دو سالہ گڑیا انعم کو سمندر برد کیا تو اس کے بعد اس نے بھی مرنا چاہا لیکن ایسا ممکن نہ ہوسکا۔ بچی کی نعش دو دریا کے مقام سے مل گئی۔

جب تصاویر سوشل میڈیا پر آئیں تو تبصروں کی بھرمار ہوگئی۔ کچھ نے کہا کہ انھیں شام کا وہ ننھا ایلان یاد آگیا جو سمندر کنارے اوندھے منہ پڑا تھا اب انعم کو ا س حال میں دیکھ کر دل کٹ رہا ہے۔ کسی نے اس کی ماں کو ظالم اور وحشی قرار دیا۔ کسی نے کہا کہ پڑھی لکھی عورت ہے کما کر کھلا سکتی تھی، کسی کا مشورہ تھا کہ بچی ا تنی بھاری تھی تو ایدھی کے جھولے میں کیوں نہیں ڈالی کہ کسی بے اولاد کو مل جاتی۔

ہم میں سے شاید ہی کوئی ایسا شخص ہو گا جو زندگی میں ایک بار یہ سوچنے پر ضرور مجبور ہوا ہوگا کہ وہ اس دنیا میں کر کیا رہا ہے؟ وہ اگر نہ رہے تو کسی کو کیا فرق پڑنے والا، وہ اس سے برا وقت نہیں دیکھ سکتا، وہ مر کیوں نہیں جاتا۔ لیکن جب ہم سب اس وقت سے نکل کر آگے بڑھتے ہیں تو کبھی بیٹھ کر اس مشکل وقت کو اپنی اس تنہائی، ڈپریشن کو یاد کر کے یا تو مسکراتے ہیں یا افسوس کرتے ہیں کہ وہ وقت کیسا تھا اور آج میں کہاں ہوں کیسا ہوں۔

لیکن اس بات سے بھی کوئی انکار نہیں کہ کسی کا مشکل وقت مختصر ہوتا ہے یا کسی کا طویل۔ کچھ طویل وقت میں بھی صبر سے ہمت سے زندگی کو اس امید کے ساتھ گھسیٹتے ہیں کہ کبھی نہ کبھی ٹوٹی پھوٹی کشتی کو کنارہ مل ہی جائے گا اور کچھ مختصر وقت میں یہ سوچ لیتے ہیں کہ وہ نہ تو کچھ کرسکتے ہیں نہ اس بھنور سے نکل سکتے ہیں سو وہ خود کو مایوسی، نا امیدی کے طوفان کے تھپیڑوں کے حوالے کر دیتے ہیں۔

کیا دو سال کی انعم جو ساحل کی ریت پر اوندھے منہ پڑی ابدی نیند سو رہی تھی اس نے اس دنیا میں آنے سے قبل مادر رحم میں ماں کو لگنے والی چوٹوں کی ٹیسیں محسوس نہیں کی ہوں گی؟ کیا اس کی ننھی ننھی آنکھوں نے ایسے مناظر نہیں دیکھے ہوں گے جس میں اس کے باپ نے اس کی ماں کو مغلظات بک کر اپنی انا اور خود ساختہ مردانگی کی تسکین کی ہوگی۔ کیا اس دو سال کی بچی نے موسم سرما کی ٹھنڈی راتوں میں تو کبھی گرمی کی تپتی دوپہر تو شاموں میں ماں کو کبھی شوہر کے سامنے گھر میں رکھنے کی فریاد کرتے تو کبھی ننھیال کے در پر پناہ کی بھیک مانگتے نہیں دیکھا ہوگا؟ آپ نے میں نے ایک بچی کی لاش دیکھی ہے اس کی ماں کو قاتل دیکھا ہے لیکن اس قتل کے پیچھے کے اسباب، عوامل اور ذمہ دار نہیں دیکھے۔

سوشل میڈیا پر ایسے اسٹیٹس اپ ڈیٹ کرنا بہت آسان ہے کہ میں بیٹیوں کا باپ ہوں اور بیٹیاں میرا فخر ہیں یہ کیسی ظالم ماں ہے؟ میں بیٹوں کا باپ ہوں اور آج بھی ترستا ہوں تڑپتا ہوں کہ اللہ نے مجھے بیٹی سے کیوں نہیں نوازا یہ ماں نہیں انسان کے روپ میں درندہ ہے۔ میں بچیوں کی ماں ہوں میری بیٹی کو کوئی چوٹ آجائے تو میں دہل جاتی ہوں یہ کیسی ماں ہے جس نے ایسا عمل کیا کاش یہ خود مر جاتی۔ جو یہ سمجھتے ہیں کہ انھوں نے اس واقعے کی مذمت کر کے اپنا حق ادا کردیا انھیں سرخرو ہونے پر ڈھیروں مبارکباد۔

لیکن یہ جان لیجیے کہ شکیلہ مر چکی ہے۔ وہ جب انعم کو ایک دائمی گھر میں پناہ دینے کی غرض سے آگے بڑھ رہی تھی وہ تب ہی مر چکی تھی یہ مت دیکھیں کہ اس نے اپنی پیدا کی ہوئی بیٹی کو سمندر برد کیا اس نے اس بیٹی کو ایک ایسے باپ سے نجات دی جو اسے اور اس کی ماں کو ٹھکانہ دینے کو تیار نہ تھا۔ بیٹی شادی ہوکر اپنے شوہر کے گھر چلی جائے تو والدین سکھ کا سانس لیتے ہیں کہ ان کا بوجھ اتر گیا لیکن اپنی بیٹی سے غافل نہیں ہوتے۔

ایسے والدین بیٹی کا استقبال دل و جان سے کر تے ہیں جو سسرال سے خوشی خوشی ملنے آئے لیکن اگر وہ روٹھ کر آئے یا گھر سے نکال دی جائے تو اس کی دلجوئی اس لیے بھی کرتے ہیں کہ ان کی بیٹی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوتی ہے۔ نفسیاتی طور پر ایک ایسی لڑکی جس کی شادی میں تاخیر ہو خود پر معاشرے کے مسلط کردہ دباؤ کا شکار رہتی ہیں۔ لیکن ایک ایسی لڑکی جو شادی کے بعد گھر لوٹے یا جس کا شوہر بات بے بات اسے گھر سے نکال دے اس پر معاشرے کا دباؤ دوگنا ہوجاتا ہے۔

شکیلہ کے بارے میں اب تک جو اطلاعات ہیں وہ یہ کہ اس نے 2011 میں پسند کی شادی کی تھی اور یہ بچی شادی کے چار برس بعد پیدا ہوئی۔ ناچاقیاں بچی کی پیدائش سے قبل تھیں لیکن بیٹی کے پیدا ہونے کے بعد شوہر نے اسے بچی سمیت آئے روز گھر سے مار پیٹ کر نکالنے کا سلسلہ جاری رکھا۔ کیا اس عورت پر سماجی دباؤ نہیں ہوگا؟ لوگوں کے چبھتے سوالات کا سامنا نہیں ہوتا ہوگا؟ سب سے بڑھ کر اس کے اردگرد اور اس کے اپنوں کا یہ طعنہ کہ پسند کی شادی ہے اب خود بھگتو اسے روز سننا پڑتا ہوگا۔ ہم کہانی پڑھنے کے بعد فیصلہ کرتے ہیں کہ اچھی تھی یا دلچسپی کا عنصر کچھ کم تھا۔ کہانی کا مرکزی کردار اگر ایسا کرلیتا تو کہانی میں جان آجاتی یا کایا ہی پلٹ جاتی لیکن ہم نہیں جانتے کہ اصل زندگی کے کردار کن کن اذیتوں سے گزر کر اختتام کی جانب بڑھ رہے ہوتے ہیں۔

انعم کی موت کے ساتھ ہی اس کہانی کا اختتام ہوچکا ہم سب نے آخری صفحہ پڑھا اور کردار سے مختصر گفتگو کے بعد اس کے ٹکر بنا کر چلا دیے۔ ہم نے کتاب بند کی تبصرہ کیا اور اپنی اپنی زندگیوں میں مصروف ہوگئے لیکن اس کہانی کے کر دار کے شب و روز، مشکلات، ا ذیتیں، خمیازے اور خود سے جا ری رہنے والی جنگ اب روز کسی فلم کی ریل کی مانند شکیلہ کی نظروں کے سامنے آیا کرے گی۔ اب اس کو شاید کوئی خوف نہیں، کچھ بھی کھونے کا ڈ ر نہیں وہ سب لٹا چکی وہ ختم ہوچکی۔

لیکن اس کہا نی کے اصل کر دار درحقیقت وہ ہیں جن کے سبب اس بچی کی ماں کو ا پنی گڑیا کے لئے نہ کسی ادارے کا جھولا محفوظ لگا نہ کوئی کچرے کا ڈبہ جہاں رات کی تاریکی میں کتے اسے کھا جاتے تو کسی کو خبر بھی نہ ہوتی۔ اسے اپنی بیٹی کو ایک محفوظ پناہ گاہ دینی تھی جہاں وہ زمانے کی بے رحمی سے بھی بچتی اور کسی کی ہوس سے بھی سو اسے وہ سمندر دکھائی دیا جو یقیناً اس بچی کے لئے سب سے محفوظ جگہ تھی۔

بچی کی نعش کو پھر سے دیکھئے اور سوچئے کہ کیا ایسے ہوتے ہیں باپ؟ کیا ایسے ہوتے ہیں بیوی اور بیٹیوں کے کفیل؟ کیا ایسے ہوتے ہیں چھپر؟ کیا ایسے ہوتے ہیں سینے سے لگانے والے میکے؟ اگر اب بھی جواب نہیں میں ہے تو شکیلہ مجرم ہے اس زندہ لاش کو کسی چوراہے پر لٹکا دیجئے اور پھر ایک ”انعم کو انصاف مل گیا“ کا ہیش ٹیگ استعمال کر کے الحمدللہ لکھ کر اسٹیٹس اپ ڈیٹ کر دیجئے گا۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  • 335
  •  

سدرہ ڈار

سدرہ ڈارنجی نیوز چینل میں بطور رپورٹر کام کر رہی ہیں، بلاگر اور کالم نگار ہیں ۔ ماحولیات، سماجی اور خواتین کے مسائل انکی رپورٹنگ کے اہم موضوعات ہیں۔ سیاسیات کی طالبہ ہیں جبکہ صحافت کے شعبے سے 2010 سے وابستہ ہیں۔ انھیں ٹوئیٹڑ پر فولو کریں @SidrahDar

sidra-dar has 69 posts and counting.See all posts by sidra-dar