برف باری کی رات میں اکیلی لڑکی
”مجھ سے کتنے پیسے لو گی؟ “ میں نے سپاٹ لہجے میں کہا۔ ”سوری میں آج رات پہلے سے بکڈ ہوں۔ “ اس نے بھی اسی انداز میں جواب دیا۔ یہ کیا بات ہوئی۔ میں تمہاری مدد کر رہا ہوں تمہیں نہیں لگتا کہ اس کے بدلے میں تمہارا بھی کوئی فرض بنتا ہے۔ میں نے شکایتی انداز میں کہا۔
” بالکل صحیح کہا، میں اس کے بدلے میں آپ کو کرایہ دوں گی۔ “ اس نے آنکھیں مٹکائیں۔ ”ذرا وضاحت کر دو یہ کرایہ کس شکل میں ہو گا۔ “ میں نے ذومعنی انداز میں کہا۔ ”جس شکل میں آپ چاہیں گے۔ “ اس نے جیسے جان بوجھ کر ذومعنی انداز اختیار کرتے ہوئے کہا۔
میں نے ہیڈ لائٹس کی روشنی میں بورڈ پڑھا ہم بانسرہ گلی تک پہنچنے میں کامیاب ہو چکے تھے۔ لیکن سڑک پر برف کی تہہ دوبارہ جم چکی تھی۔ رات کے بارہ بج چکے تھے۔ سڑک پر ٹریفک نہ ہونے کے برابر تھی۔ کئی گاڑیاں برف میں پھنس کر رک چکی تھیں۔ ہماری گاڑی کچھوے کی رفتار سے رینگ رہی تھی۔
ابھی چٹا موڑ سے کچھ پیچھے ہی تھے کہ گاڑی نے آگے بڑھنے سے انکار کر دیا۔ اس جگہہ برف کہ تہہ گہری تھی۔ کار کے ٹائر برف میں گھومتے تھے اور کار سلپ ہوتی تھی۔ تنگ آ کر میں نے کوشش ترک کر دی۔ ٹیمی نے میری طرف سوالیہ نظروں سے دیکھا۔
”ابھی رکنا پڑے گا۔ “ میں بولا۔
”کب تک؟ “ غیر معینہ مدت تک۔ میں نے اس کے سوال کا جواب دیا۔
ٹیمی کچھ دیر ہونٹ چباتی رہی پھر جیسے خود کلامی کی۔ ”اب کیا کریں۔ “
ایکسکیوزمی! کیا تم مجھ سے مخاطب ہو؟ ویسے کچھ کرنا ضروری ہے کیا؟ میں نے اس بار شوخی سے کہا۔ اس نے بڑی دلکش ادا سے مجھے دیکھا اور مسکرا اٹھی۔ ”آپ نے اب تک کتنی لڑکیوں کو بک کیا ہے؟ “
میں تو بہت نا تجربہ کار ہوں۔ آج تک یہ سہولت حاصل نہیں کی۔ اگر تم چاہو تو شاید یہ تجربہ بھی ہو جائے۔ میں نے جواب دیا۔ ”اور اگر میں نہ چاہوں تو؟ “ اس نے بالوں کو جھٹک کر پیچھے کرتے ہوئے کہا۔
”تو پھر میں اپنی حسرتوں پر آنسو بہا کے سو جاؤں گا۔ “ میں نے بر جستگی سے جواب دیا۔ وہ کھلکھلا کر ہنس پڑی۔ ”آپ کافی دلچسپ آدمی ہیں۔ کوئی اچھا سا گانا سنائیے ناں۔ “ میں نے اس کی فرمائیش پر کار میں میوزک پھر سے آن کر دیا۔ برف گرتی رہی اور فضا میں سر بکھرتے رہے۔
”ٹیمی۔ “ میں نے اسے آواز دی لیکن اس نے کوئی جواب نہ دیا۔ میں نے بائیں طرف گردن موڑ کر اسے دیکھا۔ وہ سو رہی تھی۔ سینے کے زیروبم سے لگتا تھا کہ نیند گہری ہے۔ میں چند لمحوں تک قدرت کے اس حسین شاہکار کا جائزہ لیتا رہا پھر سر جھٹک کر خود بھی آنکھیں بند کر لیں۔ ابھی چند منٹ ہی ریلیکس کر پایا تھا کہ ٹیمی نے آواز دی۔ میں نے آنکھیں کھول کر دیکھا۔ برف باری رک گئی تھی لیکن اس کا بھی کوئی فائدہ نہیں تھا۔ سڑک پر پھسلن بہت زیادہ تھی۔
”ٹیمی تمہارے پاس کوئی ہئیر پن وغیرہ ہے؟ “ میں نے اس سے پوچھا۔ ”ہاں لیکن۔ “ وہ حیرت سے بولی۔ مجھے دو۔ میں نے اس کی حیرت کو نظر انداز کرتے ہوئے کہا۔ اس وقت تو اس کے بال کھلے تھے۔ اس نے پرس سے ایک پن نکال کر مجھے دی۔ میں گاڑی سے باہر نکلا اور اسی پن کی مدد سے چاروں ٹائروں سے ہوا کم کر دی۔ مجھے ابھی ابھی یہ خیال آیا تھا کہ اگرگاڑی کے ٹائروں میں ہوا کم رکھی جائے تو کم سلپ ہوتی ہے۔ اس کے بعد کار کو سٹارٹ کیا۔ ٹیمی اس ساری کارروائی کو خاموشی سے دیکھتی رہی۔
کار آگے تو بڑھ گئی لیکن یہ ترکیب کچھ زیادہ کامیاب نہیں تھی۔ چناں چہ کلڈنہ میں ایک بار پھر کار برف میں پھنس کر رہ گئی۔ برفباری پھر سے شروع ہو چکی تھی۔ ”اف ناٹ اگین۔ “ ٹیمی نے سر جھٹکا۔ ”یہاں سے توہم پیدل بھی جا سکتے ہیں۔ “ میں نے تسلی دی۔ ”واقعی؟ “ اس کی آنکھیں چمک اٹھیں۔
بالکل، بس تھوڑا سا مسئلہ ہو سکتا ہے، اس وقت میرے اندازے کے مطابق منفی پانچ تک درجہ حرارت ہوگا لہٰذا برف باری اور تیز ہوا کی موجودگی میں ہماری قلفی جم جانے کا خدشہ ہے۔ دوسرا یہ کہ اس علاقے میں چیتے پائے جاتے ہیں۔ برف کے موسم میں ان کو خوراک نہیں ملتی تو وہ ہم پر حملہ بھی کر سکتے ہیں۔ گزشتہ برس بھی دو نوجوانوں پر چیتے نے اسی جگہ حملہ کر دیا تھا۔
” تو کیا وہ بچ گئے تھے؟ “ ٹیمی باقاعدہ خوف زدہ تھی۔ ”شاید۔ میرے پاس ان کے ہسپتال پہنچنے تک کی خبر پہنچی تھی۔ “ کار کا انجن خاموش ہو گیا۔
”آپ نے گاڑی کیوں بند کر دی؟ “ ٹیمی نے چونک کر کہا۔ میں بھی چونک اٹھا گاڑی خود بہ خود بند ہوئی تھی۔ میں نے کئی بار کار سٹارٹ کرنے کی کوشش کی لیکن کارسٹارٹ نہیں ہو پا رہی تھی۔ شاید کوئی خرابی پیدا ہو گئی تھی۔ رات کے اڑھائی بجے کوئی مدد ملنے کا امکان نہیں تھا۔ اب موزوں حل یہی تھا کہ دھکا لگا کر کار کو سائیڈ پر پارک کیا جائے۔ چناں چہ ایسا ہی کیا۔ اس کے بعد ہم پیدل کلڈنہ روڈ سے مال روڈ کی طرف روانہ ہوئے۔
ٹیمی کے لئے برف پر چلنا آسان نہیں تھا۔ دو تین باروہ سلپ ہوئی تو میں نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا۔ اب سہارے کی بدولت وہ قدرے آسانی سے چل رہی تھی۔ ایک تو سڑک پر اندھیرا کافی زیادہ تھا اور پھر برف کی پھسلن آسانی سے چلنے کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ تھی۔ ٹیمی سلپ ہوئی تو جیسے غیر اردای طور پر میں نے اسے بازوؤں میں بھر لیا۔ وہ بھی جیسے ڈر کر مجھ سے چمٹ گئی۔ چند لمحوں تک میں اس کے دل کی دھڑکن محسوس کرتا رہا پھر جب میری دھڑکنیں بے ترتیب ہونے لگیں تو جیسے وہ یک دم ہوش میں آ گئی اور فوراً مجھ سے الگ ہو گئی۔
”چلو اب تھوڑا فاصلہ رہ گیا ہے۔ “ میں نے کہا۔ ٹیمی نے سر ہلایا اور میرا بازو پکڑ کر چلنے لگی۔ آخر کار ہم ناران گیسٹ ہاؤس تک پہنچنے میں کامیاب ہو گئے۔ سڑک پر روشنیاں جگمگا رہی تھیں۔
منزل پر پہنچتے ہی ٹیمی کی آنکھیں چمکنے لگیں۔ میں بھی خوش تھا کہ میرا فلیٹ یہاں سے قریب تھا۔ ”اب کیا ارادہ ہے؟ “ میں نے اس کی آنکھوں میں جھانکتے ہوئے کہا۔
”آپ بتائیے۔ کیا کروں میں۔ آپ نے مجھے یہاں تک پہنچایا ہے۔ “ وہ بولی۔
میں مسکرا اٹھا۔ ”ٹیمی تم وہ نہیں لگتی ہو جو تم نے بتایا ہے۔ تم مجھے سچ نہیں بتا سکتیں؟
ٹیمی ہنس پڑی۔ میرا اندازہ بھی آپ کے بارے میں تھوڑا غلط ہو گیا۔ میں سمجھ رہی تھی کہ آپ موقع سے فائدہ اٹھانے والوں میں سے ہیں۔ جہاں تک میرا تعلق ہے مجھے یہاں آنا ہی تھا۔ میں شاید آپ کو کبھی نہ بتاتی لیکن نہ جانے کیوں میرا دل چاہتا ہے کہ آپ کے سامنے دل کھول کر رکھ دوں۔ آپ تو افسانے لکھتے ہیں شاید میری کیفیت سجھ پائیں۔ میں یہاں اپنے محبوب سے ملنے آئی ہوں۔ میں اس سے اپنی جان سے زیادہ محبت کرتی ہوں لیکن شاید یہ زمانہ ہمیں کبھی ملنے نہیں دے گا۔ ایسے میں ایک موقع ملا تو میں نے اس سے فائدہ اٹھانے کا فیصلہ کیا لیکن مجھے نہیں معلوم تھا کہ میں برف میں گھر جاؤں گی۔ میں ایک کوسٹر میں تھی وہ بھی برف میں پھنس گئی تھی۔
پھر آپ مل گئے۔ مجھے ایسا لگا کہ آپ نے مجھے ایک عام لڑکی نہیں کچھ اور سمجھا ہے تو میں نے خود کو ویسا ہی پیش کیا تا کہ آپ کو جان سکوں۔ کسی ایسی ویسی صورتِ حال سے نمٹنے کا سامان بھی میرے پرس میں موجود تھا لیکن شکر ہے اس کی نوبت نہیں آئی۔ سنئیے میں ایک نوجوان سے محبت کرتی ہوں، میں اکیلی اس سے ملنے آتی ہوں، میں سگریٹ پیتی ہوں لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ میں سب کے لئے دستیاب ہوں۔ یاد رکھئیے ہر اکیلی لڑکی جسم فروش نہیں ہوتی۔ ٹیمی خاموش ہو گئی اورمیں اسے دیکھتا رہ گیا اس کا آخری جملہ میری سماعت میں گونج رہا تھا۔ میرے پاس کچھ اور کہنے کے لئے لفظ نہیں تھے۔ شاید اس نے کچھ اور بھی کہا لیکن میں سن نہیں پایا۔ وہ گیسٹ ہاؤس کی طرف بڑھ رہی تھی۔ میں نے اپنے فلیٹ کی طرف قدم بڑھا دیے۔

