آغا ناصر: میرا پرانا یار

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

 

آغا ناصر کو زندگی مہلت دیتی تو آج نو فروری کو 82 برس کے ہو جاتے۔

آغا ناصر سے میری یاری 67 سال پہلے اس زمانہ میں شروع ہوئی جب ہم دونوں سندہ مسلم کالج کراچی میں طالب علم تھے۔ آغا کی تخلیقی اور انتظامی صلاحیتوں کو ان کے ساتھیوں نے اسی زمانہ میں پہچان لیا تھا۔ اس زمانہ میں سندھ مسلم کالج کے ایک تکونی سرے پر بنے سیمنٹ کے تالاب کو ہم خیال طلباء کی سنگت کے لئے منتخب کیا تھا۔ یہ تالاب خشک تھا لیکن اس کی منڈیروں پر بیٹھنے والے طلباء کے ذہن خیالات اور نظریات کے سمندر سے موجزن تھے۔

 آغا نے اس تالاب کے گرد ان سب کو جمع کیا جن کے نام  Aسے شروع ہوتے تھے۔ یوں یہ گروہ  Aکلب کے نام سے مشہور ہو گیا۔ اس میں، احمد مقصود حمیدی، عاصمی، ابوالفضل، اختر حسین، پیارا شاعر اطہر صدیقی جو اسی زمانہ میں انتقال کر گیا اور آصف کی مناسبت سے میں بھی شامل تھا۔ میر جمیل الرحمان اور سلمان فاروقی سمیت کئی اور طلباء نے اپنے نام کے سامنے احمد لگا کر اس گروپ میں شامل ہونے کی بہت کوشش کی لیکن ناکام رہے۔ اس تالاب کے گرد بیٹھ کر ہم اس زمانہ کے طالب علموں کے سنگین مسائل کے ساتھ دنیا جہاں کے پر آشوب حالات اور شعر و ادب کے نئے رجحانات پرغور کرتے تھے۔

پھر آغا کی تحریک پر سندھ مسلم کالج میں بزم ادب کی بنا ڈالی گئی جس کے ہر ہفتہ اجتماع کے لئے کالج کے عملی پرنسپل کوہاٹی صاحب سے لڑ جھگڑ کر اساتذہ کا کامن روم حاصل کیا گیا۔ اس بزم کی بدولت اس زمانہ میں بہت سے طلبا نے وجدان حاصل کر کے اپنا تخلیقی سفر شروع کیا تھا۔ اس کا ثواب آغا کو جاتا ہے۔

پھر ہم سب 1956 میں گریجویشن کرنے کے بعد سول ہسپتال کے عقب میں دو پرانی عمارتوں میں قایم کراچی یونیورسٹی میں منتقل ہو گئے۔ یہ عجیب زمانہ تھا۔ قیام پاکستان کے اس ابتدائی دور میں تقسیم کے نتیجہ میں اکھڑے ہوئے لوگ، نئے وطن میں قدم جمانے کے لئے کوشاں تھے۔ یونیورسٹی کے طلباء بھی اس جدوجہد میں اپنے والدین کا ساتھ دے رہے تھے اور تعلیم کے ساتھ ساتھ روزگار میں مصروف تھے۔

عالم یہ تھا کہ کراچی یونیورسٹی میں لکچرز صبح سویرے آٹھ بجے شروع ہوتے تھے اور دس بجے تک یونیورسٹی طلباء سے خالی ہوجاتی تھی سوائے ساینس کے گنے چنے طلباء کے۔ بیشتر طلباء حکومت کے AGPRکے دفتر میں ملازم تھے۔ آغا کو ریڈیو پاکستان میں جگہ مل گئی تھی اور میں روزنامہ امروز سے منسلک تھا۔ آغا کو ریڈیو پاکستان میں اپنی تخلیقی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے کا خوب موقع ملا۔ انہوں نے اس زمانے میں بچوں کے پروگرام کو نیا روپ دیا اور اس میں بچوں کے اخبار کا سلسلہ شروع کیا۔ اخبار سے منسلک ہونے کی بناء پر یہ کام آغا نے میرے سپرد کیا اور اصل میں یہیں سے میں براڈکاسٹنگ کی دنیا سے متعارف ہوا۔

آغا نے اس زمانہ میں ریڈیو پاکستان سے۔ اسٹڈیو نمبر 9 کے عنوان سے ڈراموں کا سلسلہ شروع کیا تھا جوبہت مقبول ہوا۔ ہر اتوار کو ان کے زیر ہدایت سلسلہ وار پروگرام حامد میاں کے ہاں نشر ہوتا تھا۔

1964 میں جب پاکستان میں ٹیلی وژن کا آغاز ہوا تو اس کے پہلے سربراہ اسلم اظہر کی نگاہ انتخاب آغا ناصر پر پڑی اور یوں آغا کو اپنی تخلیقی صلاحیتوں کو وسعت دینے اور اپنا لوہا منوانے کا موقع ملا۔ ان کے زیر ہدایت الف نون کا سلسلہ بے حد مقبول رہا۔ اسی دوران آغا نے سات ڈراموں کا مجموعہ شایع کیا۔ میں نے آغا سے پوچھا کہ سات ہی کیوں؟ دس کیوں نہیں۔ بڑے فلسفیانہ انداز سے جواب دیا۔ قوس قزح میں سات رنگ ہوتے ہیں، آسمان بھی سات ہیں جنتیں بھی سات، اور۔ میں نے کہا بس کافی ہے۔ سمجھ گیا۔ ہفتہ میں دن بھی سات ہیں اور اللہ تعالی نے دنیا بھی سات دن میں بنائی ہے۔

فیض صاحب سے آغا کو بے پناہ عقیدت تھی جو ان کی تصنیف۔ ”ہم جیتے جی مصروف رہے۔ “ سے عیاں ہے۔ کراچی یونیورسٹی میں آغا نے ہم چند دوستوں کے ساتھ مل کر ”یونیورسٹی کلب“ قایم کیا تھا جس میں مختلف شعبوں کی اہم شخصیات کو مدعو کر کے ان کے ساتھ شام منائی جاتی تھی۔ 1955 میں جب فیض صاحب جیل سے رہائی کے بعد پہلی بار کراچی آئے تو آغا نے مجھ سے کہا کہ تم امروز میں ہو فیض صاحب کو اچھی طرح جانتے ہو، انہیں کلب میں شام منانے کے لئے مدعو کرو۔

 میری حیرت کی انتہا نہ رہی کہ فیض صاحب فورا تیار ہوگئے۔ کہنے لگے کیوں نہیں تم نوجوانوں نے طلباء کی تاریخی جنگ لڑی ہے۔ یہ اشارہ 7 جنوری کی طلبا تحریک کی طرف تھا۔ یہ شام بھی فیض صاحب کے ساتھ بڑی تاریخی رہی۔ خوب جی بھر کر فیض صاحب نے اپنے شعر سنائے اور اپنے جیل کے شب و روز کا خوب مزے مزے سے ذکر کیا۔ غالبا اسی روز ”ہم جیتے جی مصروف رہے“ لکھنے کے خیال نے آغا کے ذہن میں جنم لیا ہوگا۔ فیض صاحب کی شخصیت اور ان کی شاعری پر یوں تو بے شمار کتابیں لکھی گئی ہیں لیکن آغا کی یہ کتاب اس لحاظ سے منفرد ہے کہ اس میں فیض صاحب کی نظموں اور غزلوں کی وجہ تصنیف اور ان حالات کا تفصیل سے ذکر ہے جو ان کی تخلیق کے محرکات تھے۔

بلاشبہ آغا نے اس کتاب پر بہت محنت کی اور اس پر بروقت کام کیا کیونکہ فیض صاحب کے قریبی دوست او ر احباب یکے بعد دیگرے اس دنیا سے رخصت ہو رہے تھے۔

براڈکاسٹنگ کے میدان میں یہ آغا کی اعلی صلاحیتیں تھیں کہ وہ اسلم اظہر کے بعد ٹیلیوژن کے سربراہ کے عہدہ پر فائز ہوئے اور اپنے جوہر دکھائے۔

آغا جب بھی لندن آتے، ساٹھ سال پہلے کے کالج اور یونیورسٹی کے زمانے کی یادیں تازہ کرنے کا موقع ملتا۔ ان یادوں کے ذکر پر اس افسوس کی پرچھائیاں چھائی رہتی تھیں کہ ہماری نسل کو یونیورسٹی کی وہ زندگی میسر نہ ہو سکی جو ہم سے پہلے کی نسلوں اور بعد کی نسلوں کو حاصل ہوئی لیکن اس کے باوجود یہ احساس طمانیت ہمیں روشن رکھتا تھا کہ اس زمانے میں کراچی کے طلباء نے اپنے حقوق کے حصول اور مسائل کے حل کے لئے 7 جنوری کی انقلابی تحریک شروع کی جو پورے پاکستان میں طلباء کی تنظیموں کے لئے ہراول تحریک ثابت ہوئی۔

آج بہت کم لوگوں کو اس بات کا احساس ہے کہ پاکستان کی پہلی نوجوان نسل نے کتنے نا مساعد حالات میں کس قدر محنت و مشقت سے نئے ملک میں اپنے قدم جمائے اور اپنے اپنے شعبہ میں کامیابی کی معراج پر پہہنچے اور اہم کام انجام دیے۔ آغا اس کی اعلی اور زرین مثال ہیں۔

آغا ناصر۔ تاریخ پیدایش: 9 فروری 1937۔ انتقال: 12 جولائی 2016

 

 

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

آصف جیلانی

آصف جیلانی لندن میں مقیم پاکستانی صحافی ہیں۔ انہوں نے اپنے صحافتی کرئیر کا آغاز امروز کراچی سے کیا۔ 1959ء سے 1965ء تک دہلی میں روزنامہ جنگ کے نمائندہ رہے۔ 1965ء کی پاک بھارت جنگ کے دوران انہیں دہلی کی تہاڑ جیل میں قید بھی کیا گیا۔ 1973ء سے 1983ء تک یہ روزنامہ جنگ لندن کے ایڈیٹر رہے۔ اس کے بعد بی بی سی اردو سے منسلک ہو گئے اور 2010ء تک وہاں بطور پروڈیوسر اپنے فرائض انجام دیتے رہے۔ اب یہ ریٹائرمنٹ کے بعد کالم نگاری کر رہے ہیں۔ آصف جیلانی کو International Who’s Who میں یوکے میں اردو صحافت کا رہبر اول قرار دیا گیا ہے۔

asif-jilani has 33 posts and counting.See all posts by asif-jilani