دہشت گردی کے خلاف جنگ میں دہشت گرد کون تھا؟


نائن الیون کے صرف 26 دن بعد امریکی صدر جارج بش نے اعلان کیا کہ امریکی فورسز نے افغانستان میں دہشت گردی کے خلاف جنگ کا آغاز کر دیا ہے جس کو سرکاری طور پر ”آپریشن اینڈیورنگ فریڈم“ کا نام دیا گیا۔ در اصل امریکی جنگ تو 22 ستمبر 2001 کو ہی شروع ہوگئی تھی جب امریکا نے اپنے کمانڈوز شمالی اتحاد کے کمانڈروں، عبد الرشید دوستم اور عطا محمد نور کی مدد کے لیے افغان سرزمین پر اتار دیے تھے۔ اس کے دو دن بعد ہی طالبان نے امریکا کے خلاف جہاد کا اعلان کردیا۔

7 اکتوبر کو امریکی اور برطانوی طیاروں نے باقاعدہ طور پر افغانستان کے شہروں اور طالبان کے ٹھکانوں پر بمباری شروع کردی۔ 19 اکتوبر کو قندھار میں ملا محمد عمر کی رہائش گاہ پر امریکی کمانڈوز نے دھاوا بول دیا جو امریکا کی جانب سے پہلی براہ راست زمینی کارروائی تھی۔ ایک ماہ چھ دن کی لڑائی کے بعد طالبان 13 نومبر کو کابل سے نکل گئے اور امریکی پشت پناہی سے شمالی اتحاد کی فورسز نے کابل کا کنٹرول سنبھال لیا۔

2005 میں طالبان ایک بار پھر منظم ہونا شروع ہوگئے اور وہ سال امریکی افواج کے لیے جانی نقصان کے حوالے سے بد ترین سال ثابت ہوا جب 93 امریکی فوجی طالبان کے حملوں میں مارے گئے۔ یہ تعداد 2001 کے مقابلے میں 13 گنا زیادہ تھی جبکہ اس وقت امریکی افواج اور طالبان پورے افغانستان میں براہ راست لڑائی لڑ رہے تھے۔ اگست 2006 میں نیٹو نے جنوبی افغانستان میں اپنی 57 سالہ تاریخ کی سب سے بڑی عسکری کارروائی شروع کردی اس کے باوجود اگلا برس امریکی افواج پر ایک بار پھر بھاری پڑ گیا اور 111 امریکی اہلکار ہلاک ہوئے۔

13 برس بعد 28 دسمبر 2014 کو امریکی صدر باراک اوباما نے ”آپریشن اینڈیورنگ فریڈم“ کے خاتمے کا اعلان کیا۔ تب تک 45 ہزار سے زائد افغان شہری، 72 ہزار سے زائد طالبان جنگجو اور 2438 امریکی فوجی دہشت گردی کے خلاف جنگ کی نذر ہوچکے تھے۔ امریکی افواج اس کے بعد بھی افغانستان میں موجود رہیں اور اب بھی ہیں اور ہلاکتوں کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ امریکا کی پوری لڑائی 22 ستمبر 2001 سے لے کر اب تک براہ راست طالبان کے ساتھ تھی۔

اس جنگ کو دہشت گردی کے خلاف جنگ کا نام دیا گیا لیکن حیران کن طور پر امریکا نے طالبان کو دہشت گرد قرار نہیں دیا۔ اسی عرصے میں 26 دسمبر 2001 کو لشکر طیبہ اور جیش محمد جیسی تنظیموں کو امریکا نے دہشت گرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کر لیا جن کا افغانستان سے کوئی لینا دینا نہیں تھا جبکہ براہ راست لڑائی میں شامل طالبان کو بخش دیا گیا۔

یکم ستمبر 2010 کو پاکستان کی ریاست کے خلاف ہتھیار اٹھانے والی اور پاکستان کے شہروں میں خودکش دھماکے کرنی والی کالعدم تحریک طالبان پاکستان کو بھی امریکا کے دفتر خارجہ نے دہشت گرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کر لیا لیکن افغان طالبان تب بھی دہشت گردی کی فہرست میں جگہ بنانے میں ناکام رہے۔

امریکا کے لیے طالبان آج بھی دہشت گردی نہیں ہیں۔ امریکی دفتر خارجہ کے معیار کے مطابق جو شخص یا گروہ امریکی شہریوں کے لیے اور امریکی ریاست کے لیے خطرہ ہو، وہ دہشت گردہے اور طالبان ان دونوں باتوں پر پورا اترتے ہیں۔ امریکا کے خلاف جہاد کا اعلان طالبان نے کیا، امریکا کے 2438 فوجی طالبان کے ہاتھوں مارے گئے ( نیٹو فوجی اور عام غیر ملکی شہری اس کے علاوہ ہیں ) لیکن امریکا کے لیے آج بھی طالبان دہشت گردی نہیں ہیں۔

پوچھنے والا جب پوچھے گا کہ اگر طالبان دہشت گرد نہیں تھے تو دہشت گردی کے خلاف جنگ کے نام پر افغانستان میں کشتوں کے پشتے کیوں لگائے گئے؟ افغان طالبان کے 68 کارندوں کو گوانتامو بے جیسی بدنام زمانہ جیل میں کیوں رکھا گیا؟ طالبان سے امریکا کو براہ راست کوئی خطرہ نہیں تھا تو لاکھوں افغانیوں کا خون کیوں بہایا گیا؟ ان سارے سوالوں کا امریکا کے پاس کوئی جواب نہیں ہوگا سوائے اس کے کہ یہ سب سیاسی اور عسکری مصلحت کے تحت کیا گیا۔

لیکن ایک سوال پھر بھی رہتا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف 18 سالہ جنگ میں دہشت گرد کون تھا؟ اس کا جواب شایدتاریخ ہی دے سکے گی۔

Facebook Comments HS