عمار علی جان اور رضی دادا کی گرفتاری اور سِول سوسائٹی کا رویہ
راقم سنہ 1997 سے پاکستان کے سیاسی اور معاشرتی موضوعات کے ساتھ ذاتی اور پیشہ وارانہ حیثیتوں سے جڑا ہوا ہے۔ زندگی کے گرداب گھماتے پھراتے ہوئے اس دائرہ میں لے گئے جسے ہمارے پاکباز اور محبِ وطن لوگ ”این جی او مافیا“ کہتے ہیں، یہ جانے بغیر کہ یہ کتنا شدت سے مشکل والا کام ہے۔
مختلف حیثیتوں میں پاکستان کی سیاسی اور سماجی حرکیات سے جڑے ہوئے موضوعات پر تقریبا پورے پاکستان میں کام کرنے کا اک مناسب سا تجربہ بھی موجود ہے۔ اس عرصے میں میرا بھی ارتقاء ہوا اور بہت سارے خیالات و معاملات پر اپنے خیالات کے زاویے بدلے اور نئے زاویے بھی تلاش کیے۔ انہی زاویوں کے بدلنے کے فرق کو میں اپنے سیکھنے کا عمل گردانتا ہوں۔
گو کہ پاکستان کے سِول سماج سے تعلق رکھنے والے طویل القامت لوگوں کی جدوجہد کے سامنے میری کوئی حیثیت نہیں، مگر پاکستان کے شہری ہونے کی حیثیت سے اپنی رائے رکھنا اور اس رائے کو اسلوب و پیرائے میں بیان کرنا، بہرحال میرا بنیادی حق ہے۔
تو صاحبو، میرا خیال ہے کہ سول سماج میں متحرک نامور اداروں اور ان کے رہنماؤں نے پاکستانی معاشرت میں آواز بلند کرنے کے نام پر اکثر شور ہی بلند کیے رکھا۔ انہوں نے ریاست سے جڑے سماجی و معاشرتی معاملات پر حکمت سے پیش قدمی نہ کی۔ انہوں نے اس بات کو بہت آسانی سے فراموش کر ڈالا کہ پاکستان کے ترقیاتی بجٹ میں سول سماج کی جانب سے ترقی کی شرح تناسب ہمیشہ دو سے تین فیصد کے درمیان ہی ہچکولے لیتی رہی، جبکہ قومی منظرنامے پر شور و غوغا کا تناسب شاید ستانوے فیصد تھا۔
سول سماج میں متحرک اداروں نے ریاست کے ساتھ حکمت کے تحت رویہ روا نہ رکھا، بلکہ ریاست کو زچ، بلکہ مسلسل زچ کرنے کی حکمتِ عملی پر ہی عمل پیرا نظر آئے۔
وہ انسانی حقوق کے مباحث ہوں یا پاکستان میں آئین کی حکمرانی کا بلند تر عزم، آپ کو ریاست اور ریاستی اداروں پر عمومی ژالہ باری نظر آئی۔ وہ پاکستان میں مذہبی آزادی کی گفتگو ہو یا خواتین کے حقوق پر اک معاشرتی جبر کی کیفیت، آپ کو معاشرت و ریاست پر اک عمومی گولہ باری کی کیفیت ملی۔ وہ پاکستان میں ”چھوٹی اقوام“ (ویسے اس کا آئینی و سیاسی مطلب کیا ہے؟ ) سے جڑے ہوئے چیلنجز ہوں یا پاکستانی ریاست کا معاملات کو سیکیورٹی کے عدسہ سے حالات کو دیکھنے کی عادت، آپ کو حقارت میں ڈوبے ہوئے طنز کے ساتھ نشترزنی کی ہی اپروچ نظر آئی۔
وہ پاکستانی معاشرت میں موجود مذہب کے اک بہت مضبوط بہاؤ کی بنیاد پر شناختی فخر (یا بحران) کی کیفیت ہو یا خارجہ پالیسی میں مفاد پر کمپرومائز کرنے کی کمزوریاں، آپ کو ابلتی آنکھیں، جھاگ اڑاتے دہن، بھینچے ہوئے مُکے اور تنے ہوئے چہرے ہی نظر آئے۔ وہ پاکستانی سیاست میں افواجِ پاکستان کا کھلے عام یا ڈھکا چھپا ہوا کردار ہو، یا اس کردار کے نتیجے میں پیدا ہونے والے بحرانات، آپ کو طنزیہ قہقہوں کی بازگشت ہی سنائی دی۔
میرا ماننا ہے کہ پاکستانی ریاست اور پاکستانی ریاستی اہلکاروں سے اپنے اپنے زمان و مکاں کے جبر کے تحت بہت فاش غلطیاں ہوئی ہیں۔ میرا مگر یہ بھی ماننا ہے کہ ان فاش غلطیوں کا سامنا یا ان پر گفتگو کرنے میں پاکستان کے سول سماج سے جڑے ہوئے اداروں اور رہنماؤں سے بھی ویسی ہی غلطیاں ہوئی ہیں۔ جس کا نتیجہ آج ہم عمار خان جان اور رضی دادا کی گرفتاریوں کی صورت میں برآمد ہوتا ہوا دیکھتے ہیں۔
میرا خیال ہے کہ ایسی کیفیت میں اگر سول سماج مسلسل محاذ آرائی کی جانب ہی پیش قدمی کرتا رہتا ہے تو وہ اپنی طاقت اور وسائل کی بنیاد پر پاکستانی ریاست کو پچھاڑنے کی کوئی صلاحیت نہیں رکھتا۔ سوشل میڈیا سے جڑے ہوئے ”بہادر قومی اور بارلے دانشوروں“ کا بہت ہوا تو اک شور ہے، جو ریاست کے ہاتھی پر اک چیونٹی جتنا وزن بھی ڈالنے کی سکت نہیں رکھتا۔ سول سماج، ریاست کے ستون پر اک خراش بھی ڈالنے کی صلاحیت نہیں رکھتی۔ جبکہ ریاست، بہت آرام سے سول سماج کو گرانے کی صلاحیت رکھتی ہے اور اس کام کے لیے ایف آئی اے کی صرف اک تحقیقاتی رپورٹ ہی کافی ہے۔
میں، سول سماج میں کام کرنے کے حوالے سے اس کا حصہ ہوں اور مناسب سی سوچ و بچار کے بعد اس خیال پر پہنچا ہوں کہ سول سماج کو ریاست کی مدد کرنا چاہیے اور اس کے لیے سب سے پہلے اپنے رویے میں جوش اور شور کی جگہ ہوش اور اسلوب کو لانا ہے۔ معاملات پر شور نہیں، پیرائے میں آواز بلند کرنا ہے اور اک ارتقائی اور مہذب طریقے سے ریاست کے ساتھ جڑتے ہوئے اپنے مشاہدات اس کے سامنے رکھنے ہیں اور ریاست کو دلیل اور منطق سے قائل کرنے کی کوشش کرنا ہے کہ جدید دنیا میں جدید ریاست کا شہری آزادیوں کے حوالے سے کیا رویہ ہونا چاہیے۔
اور اس کو شروع کرنے کی ذمہ داری میں سول سماج پر ہے۔ ریاست پر اس لیے نہیں کہ سول سماج نے اپنی تقریروں، نعروں، طنز، گالیوں، مسلسل تنقید، توہین پر آمادہ رویہ اور پھر ”الحمدللہ، “ اشرف غنی کی ٹویٹوں پر الٹی چھلانگیں مارنے کی روش سے اس باہمی تعاون کے معاملہ میں اک گہرا بگاڑ داخل کر ڈالا ہے جو طرفین کے حق میں نہیں، اور سول سماج کے حق میں بالکل بھی نہیں۔
ریاست اگر اک ذمہ دار معاشرت تشکیل نہیں دے پا رہی تو معاشرت کے متحرک طبقات کو ریاست کی اس کام میں مدد کرنا چاہیے۔ نہ کہ لگے ہوئے گھاؤ، مزید گہرے کرنے چاہئیں۔ اس سارے قضیہ میں، بتاتا چلوں، کہ ریاست آپ سے ہزاروں گنا زیادہ مضبوط اور توانا ہے۔ اور آپ صرف اک آیف آئی آر کی مار ہیں۔
میں ریاست کے ساتھ جڑ کر اس کے ساتھ معاملات بہتر بنانے کے ارتقائی عمل کے حق میں ہوں۔ یہ میرا خیال ہے۔ آپ اپنے خیال میں بھرپور طریقے سے آزاد ہیں۔ مجھے اختلاف بھلے ہو، مگر آپ کے خیال کا احترام ضرور رہے گا۔


