مساجد! رحمت کی فیکٹریاں یا تفرقہ بازی کے گڑھ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  • 112
  •  

روایتی ملا کے ستائے اک شاعر نے کہا تھا!
اک پاسے میرے رہن وہابی، اک پاسے دیو بندی
اگے پچھے شیعہ سْنی، ڈّاہڈی فرقہ بندی
وِچ وچالے ساڈا کوٹھا، قسمت ساڈی مندی
اِک محلہ، اَٹھ مسیتاں، کیدی کراں پابندی؟

لاہور کی بادشاہی مسجد کے سائے میں محو استراحت اقبال نامی شاعر نے نصیحت کی تھی کہ
فرقہ بندی ہے کہیں اور کہیں ذاتیں ہیں
کیا زمانے میں پنپنے کی یہی باتیں ہیں؟

لیکن ہم ایسے دانشوروں کو سادہ دل اقبال کے افکار سے کیا لینا دینا؟ کبھی کبھی سوچتا ہو ں کہ ہم مسلمانوں سے ایسا کیا گناہ سرزد ہوا ہے کہ ایک خالق، اس کے آخری پیغمبر ﷺاور ایک کتاب پر ایمان کا دعوی تو کرتے ہیں لیکن عمل ندارد۔ نبی آخرالزماں ﷺ کے توسط سے خالق کائنات کی طرف سے بھیجے گئے آفاقی دستورقرآن پر عمل درآمد کرنے یا جدید علوم کی طرز پر اس آفاقی دستور کے شارح بننے کی بجائے ہمارے اعمال اسلام اور پیغمبر اسلامﷺ کے لئے باعث فخر نہیں کہلائے جاسکتے۔

یہ تین فروری دو ہزار انیس کی دوپہر تھی جب لندن پولیس کو شہر کے علاقے ویمبلے کے اسلامی مرکز کی مسجد میں طلب کیا گیا۔ مسجد کی انتظامی کمیٹی نے پیش امام کو صرف اس لئے برطرف کردیا تھا کہ وہ بریلوی مسلک سے تعلق رکھتے تھے اورپھر اس بات پر فساد اتنا بڑھا کہ پولیس طلب کرنا پڑی۔ بات اتنی سادہ نہیں، معاملے کا پس منظر سمجھنے کے لئے آپ کو برطانیہ میں مساجد کی تعمیراور ان کے انتظام کا نظام سمجھنا ہوگا۔

برطانیہ میں مسجد کی تعمیر کے لئے مقامی قانون کے تحت ایک فلاحی تنظیم رجسٹرڈ کروانی پڑتی ہے جو تعمیر کیے گئے اسلامی مرکز یا مسجد کا انتظام سنبھالتی ہے۔ تنظیم کے عہدیداران ٹرسٹی کہلاتے ہیں اور یہی مسجد یا مرکز کے انتظام کے ذمہ دار ہوتے ہیں جبکہ باقاعدہ مسجد میں آنے والوں کو مصلے کی نسبت سے ”مصلی“ یعنی نمازی یا اسلامی مرکز کا رکن کہا جاتا ہے۔ برطانیہ چونکہ ایک خوشحال ملک ہے تو یہاں رہنے والے مسلمان مساجد پربھی اپنی حیثیت کے مطابق دل کھول کر خرچ کرتے ہیں۔

برطانیہ میں قائم مساجد کے پیش امام اور خطیب کس قدر مجبور ہیں اس کا اندازہ آپ اس بات سے لگا لیں کہ وہ مسجد انتظامیہ کی اجازت کے بغیر عوام کو عام زندگی کے مسائل سے متعلق اسلامی احکامات بتانے سے بھی ہچکچاتے ہیں بصورت دیگر ان کو پیش امام یا خطیب کی نوکری سے ہاتھ دھونا پڑتے ہیں اور اس صورت میں انہیں برطانیہ سے واپس اپنے ملک جانا پڑتا ہے جہاں روزگار کے مواقع نہایت محدود ہیں۔

مسجد یا اسلامی مرکز کے لئے جو چندہ جمع کیا جاتا ہے اکثر اوقات وہ اخراجات سے کہیں زیادہ ہوتا ہے۔ اخراجات سے بچ جانے والا سرمائے کو مسجد انتظامیہ مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری میں لگا دیتی۔ سرمایہ کاری سے حاصل ہونے والا منافع بھی مختلف طریقوں سے مسجد انتظامیہ کے ارکان ”تبرک“ سمجھ کر استعمال کرتے ہیں۔ مروج طریقہ کار یہ ہے کہ مسجد کے آس پاس تین مربع کلومیٹر کے علاقے میں رہائش پذیر مسلمان مسجد انتظامیہ کا حصہ بن سکتے ہیں۔

ویمبلے مسجد کے علاقے میں یوں تو ہندو اور سکھ افراد کی اکثریت ہے لیکن پاکستان، بنگلہ دیش، بھارت اور صومالیہ کے مسلمان بھی بڑی تعداد میں رہائش پذیر ہیں۔ ویمبلے مسجد کی انتظامیہ میں کافی عرصے سے بریلوی مکتب فکر کے افراد اکثریت میں تھے اور انتظامیہ نے عبدالستار نامی ایک صاحب کو پیش امام مقرر کر رکھا تھا۔

ہوا یوں کہ کچھ عرصے سے دیوبندی مکتب فکر سے تعلق رکھنے والی تبلیغی جماعت کے ارکان نے غیر محسوس طریقے سے مسجد انتظامیہ میں اثرورسوخ بڑھانا شروع کیا اور پھر مسجد انتظامیہ کے ارکان کے لئے تین کلومیٹر کی بجائے چھ کلومیٹر حد مقرر کر دی۔ اس تبدیلی کے بعد انہوں نے انتظامیہ پر کنٹرول حاصل کیا اور پھر بریلوی مکتب فکر کے پیش امام عبدالستار صاحب کو مختلف الزامات لگا کر معزول کردیا اور دیوبندی مکتب فکر کا پیش امام بھی مقرر کردیا۔

تین فروری کو جب دیوبندی پیش امام ظہر کی نماز پڑھانے پہنچے تو عبدالستار صاحب نے جھگڑا کھڑا کردیا۔ یوٹیوب اور فیس بک پر شئیر کی گئی ویڈیوز کے مطابق مسجد مچھلی منڈی کا منظر پیش کر رہی تھی اور عبدالستار صاحب HE CAN ’T PRAY، HE CAN‘ T PRAY پکار رہے تھے۔ نتیجتاً غیر مسلم پولیس طلب کرنی پڑی جس نے مسجد کو وقتی طورپر سیل کردیا۔ یہ تماشا پاکستانی ٹیلی ویژن چینلز کے ذریعے برطانیہ سمیت دنیا بھر کے غیر مسلموں نے بھی دیکھا جو اسلام کی جگ ہنسائی کا باعث بنا۔

اب صورتحال یہ ہے کہ مسجد میں نماز کے وقت پولیس سخت چھان بین کے بعد نمازیوں کو داخل ہونے کی اجازت دیتی ہے جبکہ باقی اوقات میں مسجد کو بند کردیا جاتا ہے۔

خاکسار کو بچپن سے جو تعلیم دی گئی تھی وہ یہ تھی کہ مسجد خدا کا گھر ہے۔ لیکن اب حالات یہ ہیں کہ کبھی کبھی میں شدت کے ساتھ یہ بات سوچتا ہوں کہ پاکستان میں جتنی بھی مساجد قائم ہیں کوئی بریلویوں کی ہے کوئی دیوبندیوں کی، کوئی اہلحدیثوں کی تو کوئی اہل تشیع کی، وہ جو رب کا گھر تھا وہ کہیں کھو گیا ہے اور جب سے رب کا گھر کھوگیا ہے مسلمانوں کی عزت و وقار بھی کھو گیا ہے۔

ایک مسجد نبوی تھی جس کے منتظم اعلیٰ صلعم نے کشادہ دلی، اعلیٰ ظرفی اور رواداری کا عظیم مظاہرہ کرتے ہوئے عیسائی وفد کو مسجد کے اندر ہی بخوشی عبادت کی اجازت دی تھی اور ایک اس منتظم اعلیٰ صلعم کے پیروکار ہیں جو بے معنی اور فروعی اختلافات کے باعث اس قدر انتشار کا شکار ہیں کہ خود دین اسلام کے لئے طعن و تشنیع کا باعث بن چکے ہیں۔ سوچتا ہوں کاش کچھ ایسا ہوجائے کہ دیوبندی، بریلوی، اہلحدیث اور شیعہ مساجد کاکلچر ختم ہو جائے اورمساجد ایک بار پھر اللہ کے گھر میں بدل جائیں اورپھر اللہ کے بندے بلاتخصیص اللہ کے گھر میں امن و سلامتی پائیں۔

خاکسار نے کراچی کے علاقے سرجانی ٹاؤن میں گرین بس کے ٹرمینل کے عقب میں قائم ایک ایسی مسجد دیکھ رکھی ہے جس میں کسی بھی مسلک کے پیروکاروں کے آنے جانے پر کوئی روک ٹوک نہیں۔ جو کوئی خدا کے حضور جھکنے آتا ہے اس کا خوشدلی سے استقبال کیا جاتا ہے، حتی کہ غیر مسلموں کا بھی۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  • 112
  •