ایوان صدر کو ایوان وزیراعظم سے بالاتر بنانے کی گونج سنائی دے رہی ہے
برادرم ذوالفقار راحت کی دعوت اور اصرار پر صدر مملکت عارف علوی سے ملاقات کے لئے اسلام آباد جانا ہوا۔ اور ایک دن میں جتنی مصروفیت ممکن ہو سکتی ہے اتنی ہی رہی۔ گیارہ بجے صدر سے ملاقات، دوپہر کا کھانا آئی جی اسلام آباد کے ساتھ، بعد دوپہر کی گپ چوہدری فواد کے ساتھ اور رات کا کھانا اسلام آباد کلب۔ البتہ میں اسلام آباد ہونے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے فواد کے ساتھ گپ شپ کے بعد کچھ اور ملاقاتوں کے لئے نکل گیا اور رات گئے لاہور واپسی کے لئے روانہ ہوا۔
ایوان صدر کی وسیع عمارت، اور پر شکوہ جلوے، اپنے مکینوں کی داستان سناتے ہیں۔ وہ یاد دلاتے ہیں کہ یہاں ممنون حسین بھی قیام پذیر تھے اور آصف زرداری بھی، پرویز مشرف بھی اور رفیق تارڑ بھی، ان سے قبل فاروق لغاری، غلام اسحاق خان، جنرل ضیاء الحق اور چوہدری فضل الٰہی اس ایوان کے مکین رہ چکے ہیں۔ یہ تمام سول اور فوجی صدور 1973 کے آئین کے ظہور پذیر ہونے کے بعد اس عمارت میں آئے تھے۔ چوہدری فضل الٰہی، کے ساتھ تو یہ لطیفہ گویا چپک سا گیا ہے کہ ”چوہدری فضل کو رہا کرو“۔
لطیفہ تھا کہ رات گئے کوئی ایوان صدر کی دیواروں پر لکھ جاتا کہ چوہدری فضل الٰہی کو رہا کرو اور ایوان صدر کے عملے کو دیوار پر نیا روغن پھیرنا پڑتا، سیکورٹی والوں نے نگرانی سخت کی تو دیکھا کہ گہری رات میں ایک شخص کمبل لئے چھپتا چھپاتا دیوار پر لکھ رہا ہے، جب اسے پکڑا گیا تو دیکھا کہ وہ شخص کوئی اور نہیں خود چوہدری فضل الٰہی تھے۔ اس لطیفے سے آپ جان سکتے ہیں کہ وہ کتنے با اختیار تھے۔ اس کے بعد آئے جنرل ضیاء الحق۔ اب اس عمارت کے جاہ و جلال کو فوجی تمکنت حاصل ہوئی اور ایسی ہوئی کہ سارا ملک ایک طرف اور ایوان صدر دوسری جانب ہو تو ایوان صدر کا پلڑا بھاری ٹھہرے اور یہ ہی ہوا بھی۔
اس دور کے ایوان صدر کی شان وشوکت کی قیمت ہم آج تک ادا کرتے ہیں اور میری نسل کی زندگی میں اس قیمت کے ختم ہونے کی کوئی صورت نہیں۔
جنرل ضیاء کے بعد اس ایوان میں غلام اسحاق خان، جنرل ضیاء کے طیارہ حادثے کے بدولت قائم مقام صدر کی حیثیت میں تشریف لائے اور بعد میں اسمبلیوں سے منتخب ہونے کا انتظام ہوا، وہ سویلین تو تھے اور فوجی تمکنت سے محروم بھی مگر نوکری سے زیادہ سیاست کرنے کے باوجود سیاست دان ہونے کی تہمت ان پر نہیں تھی، یعنی وہ سینیٹر بھی رہے اور چیئرمین سینیٹ بھی مگر ان کا بیک گراؤنڈ سیاست نہیں سرکاری نوکری کا تھا اور جنرل ضیاء کے زیر نگرانی آئین میں ہوئی آٹھویں ترمیم ان کو بطور تحفہ ملی تھی لہذا یہاں بھی ساری قوم ایک طرف اور ایوان صدر دوسری جانب والی بات آدھی سچ تھی۔
اسحق خان نے اس ایوان صدر سے دو عوامی اسمبلیوں کو توڑا، نگران حکومتیں بنائیں، 1988 اور 1990 کے انتخابات کروائے، آئی جے آئی بنوانے کے لئے سیاست دانوں میں رقوم تقسیم کرنے کی اعلیٰ مثال قائم کی، اصغر خان کیس جس کا شور مرتا نہیں انہی کے سنہری دور کی یاد ہے۔ صوبوں میں جی بھر کے مداخلت کی گئی، جس کی مثال یہ ہے کہ سندھ کے وزیر اعلیٰ جام صادق مرحوم پریس کانفرنس میں علانیہ فرماتے کہ میں غلام اسحاق خان کا ایس ایچ او ہوں اور پنجاب اسمبلی میں منظور وٹو کی ولولہ انگیز قیادت میں ہوئی تحریک عدم اعتماد جس سے نواز شریف کے بنائے گئے وزیر اعلیٰ، غلام حیدر وائیں فارغ ہوئے تھے اسے بھی ایوان صدر کی آشیرباد حاصل تھی۔
آپ اندازہ لگائیں کہ محترمہ بینظیر بھٹو کی پہلی حکومت کو فارغ کر کے غلام اسحاق خان نے اس وقت کی اسمبلی میں موجود اپوزیشن لیڈر غلام مصطفیٰ جتوئی کو نگران وزیراعظم بنا دیا جو کہ خود محترمہ کے خلاف ایک ناکام تحریک عدم اعتماد پیش چکے تھے۔ پی ٹی آئی کے نوجوانوں کو سمجھانے کے لئے اپنی بات کو واضح کروں تو یہ ایسا ہی ہوا جیسے آج شہباز شریف، صدر کی خواہش پر عمران خان کے خلاف قومی اسمبلی میں عدم اعتماد کی تحریک پیش کریں اور ناکام ہونے پر صدر اسمبلی توڑ دے جو آج اٹھارہویں ترمیم کے بعد ممکن نہیں محض سمجھانے کی غرض سے بیان ہے کہ کسی طرح عمران حکومت کو فارغ کیا جائے اور شہباز شریف کو نگران وزیراعظم بنا کر ان کی زیر نگرانی نئے انتخابات کروا دیے جائیں۔
غلام اسحاق خان، نواز شریف اختلافات کی گہری خلیج میں جھانکیں تو جو چیز نکلے گی وہ صرف ایک ہے یعنی احسان فراموشی کا تکلیف دہ احساس۔ غلام اسحاق خان، نواز شریف سے ایک فرماں بردار ماتحت کا رویہ چاہتے تھے۔ جو ایک طرح فطری بھی تھا کہ وہ نواز شریف کی حکومت کی بنیاد رکھنے والوں میں تھے۔ انہوں نے آئی جے آئی بنوائی، بی بی کو گھر بھیجا، ان کی اولین ترجیح تو غلام مصطفیٰ جتوئی تھے مگر جنرل حمید گل سمیت کچھ مہربانوں کی خواہش پر نواز شریف بھی کیا برے تھے۔ نواز شریف واضح طور بیساکھیوں پر لائے گئے تھے اب لیڈر بننے پر تل گئے جو ہر کسی کے لئے تکلیف دہ بات تھی۔
پھر اسی غلام اسحاق خان نے نواز شریف کی حکومت کی بنیاد بنی قومی اسمبلی کو توڑا اور ان کے سیاسی مخالف بلخ شیر مزاری کو نگران وزیراعظم مقرر کیا مگر اس بار سپریم کورٹ نے اسمبلی بحال کر دی۔ اب اسمبلیوں میں کھل کر وہ منڈی لگی کہ عید قربان سے پہلے آباد ہونے والی مویشی منڈیاں بھی شرما کر بھاگ جائیں۔ قومی اسمبلی میں نواز شریف نے اعتماد کا ووٹ لیا۔ پنجاب میں منظور وٹو کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش ہوئی، چوہدری برادران ایم پی ایز کو اٹھا کر میریٹ ہوٹل لے گئے۔
شاہراہ دستور پر ان کی جلوہ آرائیوں کا انتظام ہوتا اور گنتی پوری کر کے بتایا جاتا کہ اکثریت کس کی ہے۔ آپ کو یاد دلا دوں کہ اس وقت کے پنجاب کے گورنر، میاں اظہر ہوتے تھے جنہوں نے اسحاق خان کے اسمبلی توڑنے کے بعد احتجاجاً گورنر شپ سے استعفا دے دیا تھا لیکن ان کے اس عمل کو نہ جانے کیوں نواز شریف نے پسند نہیں کیا اور یہ جانا کہ میاں اظہر کا یہ قدم بھی کسی سازش کا حصہ ہے۔ یہ وہی میاں اظہر ہیں جو بعد میں جنرل پرویز مشرف کے اقتدار میں آنے کے بعد ان اولین سیاست دانوں میں تھے جنہیں شرف ملاقات بخشا گیا اور وہ ہر ملاقاتی کو جوش خروش سے بتایا کرتے کہ کوئی دن نہیں جاتا جب تک جنرل مشرف ان بات نہ کریں۔
میں نے ایک انٹرویو میں ان سے پوچھا تھا کہ نواز شریف کیوں ان کے استعفا پر خفا ہوئے، ان کا جواب تھا کہ گورنر شپ سب سے کمزور عہدہ ہوتا ہے جس کو فارغ کرنے کی ضرورت ہی نہیں، محض نئے گورنر کے تقرر کا پروانہ جاری کر دیا جائے تو بیٹھا گورنر خود بخود فارغ ہو جاتا ہے اور میں اس توہین سے بچنا چاہتا تھا۔ نواز شریف اس کو سمجھ نہ پائے ان کا خیال تھا کہ میں اگر گورنر رہتا تو شاید ان کے لوگوں کو ریلیف دینے میں مددگار ہوتا۔ ان کے فرزند بیرسٹر حماد اظہر آج کل پی ٹی آئی کی وفاقی کابینہ میں مالیات کے وزیر مملکت ہیں۔
سیاست کے اصول اپنی جگہ، مگر ذاتی تعلقات اور تجربے، رویوں اور فیصلوں پر بہت گہرا اثر رکھتے ہیں۔ حماد اظہر بہت سی باتوں پر ن لیگ سے اصولی اختلاف رکھتے ہوں گے مگر ان کی حافظے میں موجود اپنے والد سے توہین آمیز رویہ کیسے محو کیا جا سکتا ہے۔ پی ٹی آئی کے پنجاب میں موجود لیڈر، شریف خاندان سے ذاتی حساب کتاب بھی تو برابر کریں گے۔
بات کو واپس لاتے ہوئے جاتے ہیں غلام اسحاق خان کی جانب جن کی بے چینی اور بے قراری کو آخر کار جنرل وحید کاکڑ نے سکون بخشا اور بعد میں آنے والی شخصیت کا نام تھا فاروق لغاری۔ مختصر یہ کہ بی بی اسی طرح ان کو لائی تھیں جیسے عمران خان عارف علوی کو۔ مگر فاروق لغاری وہ نہ رہے جو پہلے تھے۔ رہتے بھی کس طرح، ایوان صدر کی شان و شوکت اوپر سے اسمبلی توڑنے کی طاقت انسان کو زمین پر کہاں رہنے دیتی ہے۔ ایسی طاقت انسان کی اپنی جڑیں پہلے کاٹتی ہے جس کے بعد وہ حملہ اور ہونے سے قبل اس احساس سے محروم ہو جاتا ہے کہ کون اپنا ہے کون پرایا۔
مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں


