میرے بھائی، آپ بھلے اردو میڈیا کو قومی میڈیا کہو، میں نہیں مانتا
کراچی کے علاقے بھینس کالونی میں ایک نوجوان کے بہیمانہ قتل پر ہر ذی شعور انسان محوِ حیرت ہے، سندھ کے مختلف شہروں میں واقعے کے خلاف احتجاج ہورہا ہے، ہڑتال کی کالز آرہی ہیں، حکومتِ سندھ نے واقعے کی عدالتی تحقیقات کے لئے سندھ ہائی کورٹ کو درخواست کردی ہے مگر اسی وقت اردو میڈیا کے ’پروفیشنل‘ چئنلز اپنے ”ذرائع“ کے حوالے سے ایک ہی خبر دینے میں لگے ہوئے ہیں کہ مارا جانے والے شخص ارشاد رانجھانی کا کرمنل رکارڈ موجود ہے۔
بھئی اپنے ذرائع سے اس رکارڈ کا کوئی ثبوت ہی لا کر دکھا دو، مگر نہیں، سوشل میڈیا پر دھوم مچی ہوئی ہے کہ قاتل رحیم شاہ پر لینڈ گریبنگ، منشیات فروشی اور بھتے کے الزامات ہیں، مختلف اوقات میں اس کے خلاف بیس مقدمات درج ہوچکے ہیں، ڈی ایس پی آفس کے ایک حصے پر قبضے میں ملوث ہے، چلئے، مان لیا کہ آپ کے ذرائع بہت باخبر ہیں، کیا ان سے یہ پوچھنے کی زحمت کی گئی کہ قاتل پر لگنے والے الزامات میں کہاں تک صداقت ہے؟
میڈیا کا کام ہے خبر دینا، نہ کہ ایجنڈا کے تحت کسی مجرم کو معصوم یا بے گناہ کو مجرم بنا کر پیش کرنا، یہی روش میڈیا کو عوامی حمایت سے محروم کر چکی ہے، نتیجہ یہ نکلا ہے کہ اب میڈیا کی گردن دبانا بہت آسان ہوگیا ہے۔
تھوڑی دیر کے لئے میں آپ کے ذرائع کی خبروں کو درست مان لیتا ہوں، تو کیا آپ کا انسانی حقوق نامی چڑیا سے کوئی واسطہ پڑا ہے؟ کیا آپ جانتے ہیں کہ جنگی قیدیوں کے بھی کچھ حقوق ہوتے ہیں؟ کیا آپ قانون نامی کسی عفریت کے نام سے واقف ہیں؟ کیا آپ کو یہ پتہ ہے کہ دفاع میں گولی چلانے کا حق کس وقت ملتا ہے اور اس کے بعد آپکی کیا ذمہ داری ہوتی ہے؟ میں آپ کو ہلکا نہیں لیتا، میں سمجھتا ہوں کہ آپ کو پتہ ہے، اگر پتہ ہے تو آپ کس طرح ایسی مہم کا حصہ بن رہے ہیں، میری سمجھ سے بالاتر ہے۔ آپ خود کو بھلے قومی میڈیا کہو، میں نہیں مانتا۔
اب ذرا کرائم سین کا رخ کریں، ایک ڈبل کیبن پر محافظ اور بیٹے کے ساتھ سفر کرتا ہوا شخص جس کے پاس ہتھیار بھی موجود ہیں، مین قومی شاہراہ پر ایک موٹر سائیکل سوار کو ڈاکو قرار دے کر خود ہی عدالت لگالیتا ہے، خود ہی منصف بن کر سزا سناتا ہے، جلاد بن کر سزا دیتا ہے۔ بات یہاں ختم نہیں ہوتی گولیوں سے چھلنی شخص تڑپ رہا ہے، قاتل بھرے مجمع میں سے کسی کو اس زخمی شخص کی مدد کرنے کی اجازت نہیں دیتا۔ ہاتھ میں پستول تانے ہوئے قاتل نے صرف مجمع کو ہی یرغمال نہیں بنایا ہوا تھا بلکہ قانون اور انصاف کو بھی اپنی جوتیوں کے نیچے روندے ہوئے تھا۔ ہے کوئی قانون؟ ہے کوئی انصاف، ہے کوئی اخلاقیات، ہے کوئی انسانیت؟
آپ لوگ ایسے شخص کی وکالت کر رہے ہیں، اس سفاک اور بے رحم قاتل کا دفاع کر رہے ہیں؟ کیا آپ کو اپنا ضمیر ملامت نہیں کرتا؟ ایسا کرتے ہوئے آپکی انسان دوستی، انسانی حقوق کے دعوے اور نام نہاد روشن خیالی کہاں چلی جاتی ہے؟ آپ کو اندازہ بھی ہے کہ آپ کس ڈگر پر چل نکلے ہیں، آپ تو نقیب، سرفراز شاہ اور ساہیوال واقعے سمیت بربریت کے تمام واقعات پر ہمارے سندھی میڈیا کے ساتھ سراپا احتجاج ہوتے تھے، کیا میں یہ سمجھوں کہ آپ کی اس روش کا واحد سبب یہ ہے کہ مرنے والا شخص سندھی بولنے والا تھا؟
اگر ایسا ہے تو مجھے بہت افسوس ہوا، میں دکھی ہوں پر اس کے عیوض آپ سے نفرت نہیں کروں گا، اس نفرت کی ڈگر پر آپ کی تقلید نہیں کروں گا، یہ جانتے ہوئے بھی آپ سے محبت کا تعلق قائم رکھوں گا کہ دشمن کا دوست کبھی دوست نہیں ہوسکتا۔
میرے بھائی آپ کی یہ سوچ میرا تو کچھ نہیں بگاڑ سکے گی، ہاں اگر آپ اپنے اور میرے بچوں کی ذہنی تربیت اس طرح کریں گے تو اس سے نسل پرستانہ ذہنیت جنم لے گی، ایسی نسل پرستانہ ذہنیت جو ہم سب کے لئے شرمندگی کا باعث بنتی رہے گی، جس طرح قومی کرکٹ ٹیم کے کپتان سرفراز کے ایک جملے نے پورے ملک کو شرمندہ کردیا تھا۔


