تیل کی قیمت
جراہ جلوس میں پیچھے کی طرف رہنا چاہتا تھا۔ اس کو پتا تھا کہ اس کی ماں دوسری سمت سے آنے والے جلوس میں پیش پیش ہو گی۔ یہ مخالف سمت سے آیا ہو ا جلوس قدرے چھوٹا تھا مگر زیادہ پر جوش تھا۔ جراہ کی آنکھیں بیتابی سے ماں کو ڈھونڈ رہی تھیں لیکن وہ کہیں نظر نہیں آ رہی تھی۔ ”وہ تو ان سب لوگوں کی لیڈر ہے کہاں غائب ہو گئی ہے! “ وہ اور انتظار نہ کر سکا۔ اس نے اپنے ٹرک کو اسٹارٹ کیا اور ماں کے گھر کی طرف دوڑ پڑا۔ گھر کیا تھا ایک ویرانہ تھا۔ دروازے کو زور سے کھولتے ہوئے وہ ماں کے کمرے میں داخل ہوا۔ آج ماں کے چہرے پر کتنا سکون تھا۔ وہ کتنی گہری نیند سو رہی تھی۔
تقریباً دو سال سے جراہ کی ماں جس کا نام میکاک تھا اور جراہ کے درمیان ایک بحث چل رہی تھی۔ لیکن یہ دو باشعور لوگوں کی بحث تھی جس سے ماں اور بیٹے کی محبت میں ذرا سا بھی خم نہیں آیا تھا۔
”ماں مجھے ان تیل کی کمپنیوں کی وجہ سے ٹرک چلانے کا کام ملا ہے۔ میری آمدنی بہت اچھی ہے۔ میرے بچے فورٹ مکمری کے اعلیٰ اسکولوں میں جاتے ہیں اور اس کے بعد وہ کالج یا یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کر سکیں گے۔ اگر میں یہاں رہتا تو سرکاری وظیفہ لیتا اور سارا دن بئیر ہی پیتا رہتا اور میرے بچے بھی بڑے ہو کر یہی کرتے۔ “ جراہ جب اس طرح کی باتیں کرتا تو اس کے چہرے پر ایک عجیب سی چمک آجاتی۔
”بیٹایہ سب تو صحیح ہے لیکن ہم لوگ یہاں لاکھوں سالوں سے رہ رہے ہیں۔ ہماری کتنی نسلوں نے یہاں شکار کر کے اپنی خوراک کا بند وبست کیا۔ ہسکی کتوں کو پال کرآنے جانے کے لئے سلیڈ بنائیں۔ ہمارا رہن سہن الگ، زبان الگ۔ تمہارے بچوں کا اس زمین سے کوئی تعلق نہیں رہا۔ نہ انہیں ہماری زبان آتی ہے نہ انہیں ہمارے رہن سہن اور رسم و رواج کا پتا ہے۔ وہ تو بالکل یورپی بن گئے ہیں۔ “
”انسان ایک سا تو ہمیشہ نہیں رہتا۔ لاکھوں سال پہلے لوگ غاروں یا جنگلوں میں رہتے تھے۔ اب وہ فصلیں اگاتے ہیں یا شہروں میں بستے ہیں۔ “
”ان تیل کی کمپنیوں نے ہمارے پانی کو گندا کر دیا ہے۔ ہم لوگوں کو سانس اور سرطان کی بیماریاں لگ رہی ہیں۔ مچھلیاں اور بیر کے درخت زہریلے ہو گئے ہیں۔ لیکن ہم میں اتفاق ہی نہیں کہ کس طرح ان کمپنیوں اور سرکار سے نمٹا جائے۔ “
”ماں، ہمیں کیا معلوم کہ یہ بیماریاں اس پانی کی وجہ سے ہیں یا ہمارے لوگوں کی شراب نوشی کی کثرت اور ڈرگ لینے کا نتیجہ ہیں۔ ان الزامات کا کوئی سائنسی ثبوت نہیں۔ ان تیل کی کمپنیوں نے اس بارے میں کچھ سائنس دانوں سے تحقیق بھی کروائی ہے اور وہ اس بارے میں کسی نتیجے پر نہیں پہنچ سکے۔ “
یہ سن کر میکاک کا کلیجہ پھٹ جاتا کیونکہ اس کی ریڑھ کی ہڈی سرطان کی زد میں تھی۔ لیکن وہ اپنے بیٹے کو اس بارے میں بتا کر پریشان نہیں کرنا چاہتی تھی بلکہ وہ اس بارے میں کسی کو نہیں بتاتی تھی تا کہ اس کے بیٹے تک یہ خبر نہ پہنچے۔
جب جراہ ملنے آتا تو ماں کی گرتی ہوئی صحت دیکھ کر پریشان ہو جاتا۔
”تیری صحت کیوں گرتی جا رہی ہے؟ ڈاکٹر کے پاس کیوں نہیں جاتی؟ اگر تو نہیں گئی تو میں زبردستی لے جاؤں گا۔ “
”گئی تھی۔ وہ کہتا ہے کہ سب ٹھیک ہے۔ بڑھاپے کی وجہ سے کمزوری ہو گئی ہے۔ “
”تو پھر تو میرے پاس شہر میں رہ تاکہ میں اور کینوجاک تیرا خیال کر سکیں۔ اس خراب صحت کے ساتھ اکیلی کس طرح سخت زندگی گزار سکتی ہو! “
” بیٹا اگرمیں اپنے گاؤں کوچھوڑ کرشہرچلی گئی تو میں مرنے سے پہلے ہی مر جاؤں گی۔ “
پچھلے مہینے جراہ ماں سے ملنے آیا تو ناراضگی سے بولا۔
”مجھے پتا چلا ہے کہ توایک جلوس لے کر پارلیمنٹ کے رکن کے دفترجائے گی تا کہ اس علاقے میں تیل نکالنے کے کاروبار کو بند کیا جائے۔ تجھے معلوم ہے اس کے بند ہو جانے سے میرا کام ختم ہو جائے گا۔ “
”اور تم چند لوگوں کے کام کے عوض اس زمین اور پانی کو تباہ کر رہے ہو، گندے کیمیائی مواد پھینک کر لوگوں کو طرح طرح کی بیماریوں میں مبتلا کر رہے ہو۔ “ پھر میکاک ایک لمحے کے لئے رک گئی اور اپنی بیماری کے بارے میں سوچنے لگی۔ ”کب تلک تم لوگ قدرت کے خلاف چلو گے؟ “
”ماں، تو شہرمیں آ کر رہ، وہاں کی خوراک اور آب و ہوا بالکل صاف ہے۔ “
”تا کہ ہم لوگ یہاں سے چلے جائیں پھر یہ تیل کی کمپنیاں اس جگہ کو انسانوں اور حیوانوں کے لئے ہمیشہ کے لئے نا قابل استعمال بنادیں۔ “
اور جب جراہ تین روز پہلے ماں سے ملنے کے لئے آیا تو ماں سے کہا۔
”ماں تو بہت کمزور ہو گئی ہے۔ اپنی تکلیف بتاتی کیوں نہیں مجھ کو؟ “
”بیٹا اس کو بڑھاپا کہتے ہیں۔ “
”تو مجھے بے وقوف سمجھتی ہے میں تمہیں خود ڈاکٹر کے پاس لے کر جاؤں گا، تیرا علاج کرواؤں گا۔ مجھ سے تیرا یہ حال دیکھا نہیں جاتا، تیری تو آواز بھی بہت ہلکی نکل رہی ہے۔ اور ہاں! مانا کہ تو یہاں کے لوگوں کی لیڈر ہے لیکن کسی جلوس میں نہیں جانا۔ مجھے خطرہ ہے کہ یہ لوگ تجھے زبردستی نہ لے جائیں۔ “
”اچھا میں وعدہ کرتی ہوں کہ جب تو اگلی مرتبہ آئے گا تومیں بہترہوں گی۔ اپنی صحت کا خوب خیال کروں گی۔ “
جلوس کا دن آیا تو جراہ کا ٹرک سب سے آگے تھا اور وہ چیخ چیخ کر نعرے لگا رہا تھا۔ لیکن جب اس نے مخالف جلوس کو آتے دیکھا تو ماں کا آمنا سامنا کرنے کے ڈر سے پیچھے چلا گیا۔ اس کی نظریں مسلسل ماں کو ڈھونڈ رہی تھیں۔
جراہ نے جب ماں کو جلوس میں نہیں دیکھا تو اس کا دل کھٹکا۔ وہ فوراً ماں کے گھر پہنچا اور دوڑتا ہوا ماں کے کمرے میں پہنچا۔
”ماں! ماں! “
پھر اس نے ماں کو جھنجھوڑا اور ساتھ لپٹ کر رونے لگ گیا، سامنے میز پر اسے بے ترتیبی کے ساتھ کچھ کاغذات پڑے ہوئے نظر آئے۔ جراہ ان کاغذات کو ٹٹولنے لگ گیا تو ایک میڈیکل رپورٹ نظرآئی۔ وہ جلدی جلدی اسے پڑھ رہا تھا۔ اس نے کرسی کو گھسیٹا اور سنبھل کر بیٹھ گیا۔ جب اس کے آنسوؤں کی ٹپَ ٹپَ رکی تو ٹرک لے کر واپس جلوس میں چلا گیا، اس جلوس میں نہیں جسے چھوڑ کر وہ ماں کو دیکھنے آیا تھا بلکہ اس کے مخالف سمت سے آنے والے جلوس میں۔


