علاج نواز شریف کا نہیں، ان کا ہونا چاہیے!
بیمار نواز شریف نہیں، بیمار وہ دریدہ دہن، عیب جُو اور طعنہ باز ہیں جو اس مضبوط اعصاب، بلند نگہ، اصول پسند اور باحوصلہ انسان پر ہمہ وقت طعن و تشنیع اور سب و شتم کے تیر برساتے رہتے ہیں۔ بیمار کلثوم نواز مرحومہ بھی نہیں تھی بلکہ ذہنی و فکری اپاہچ اور نفسیاتی عوارض میں وہ سیاسی مخالفین مبتلا رہے جو اس مشرقی روایات کی امین، وضع دار اور شریف النفس خاتون کا تمسخر اڑاتے رہے۔ میں نے اپنی پوری سیاسی تاریخ کے سخت اور کٹڑ سیاسی و نظریاتی حریفوں کی باہمی چپقلش، بیانات اور اسلوب پر نظر ڈالی ہے، جنر ل ایوب خان اور محترمہ فاطمہ جناح کا سیاسی اکھاڑا ہو، مفتی محمود اور ذوالفقار علی بھٹو کی نظریاتی معرکہ آرائی ہو، مولانا مودودی اور بھٹو کا باہمی اختلاف ہو یا شیخ مجیب الرحمان اور مغربی پاکستان کے سیاست دانوں کی سیاسی لڑائیاں ہوں۔
متذکرہ بالا اور اس دور سے تعلق رکھنے والے دیگر نامی گرامی سیاست دان کبھی کبھار مخالفین کے خلاف تند و ترش لہجہ اور تلخ و تیز انداز بیان ضرور اختیار کر لیتے تھے مگر اپنی زبانوں کو پست و رکیک ذاتی حملوں اور گالم گلوچ سے آلودہ کرنے سے ہر ممکن گریز کرتے تھے۔ نوے کی دہائی میں مسلم لیگ اور پی پی کے جاں بازوں نے انتخابی مہم کے دوران میں اخلاق باختگی اور ڈھٹائی کے چند مظاہر ضرور دکھائے مگر کسی سیاسی قائد یا کارکن نے ذہنی مریض ہونے کا ثبوت دے کر مخالف سیاست دان کی بیماری کا مذاق نہیں اڑایا۔
ہمیں بصد حسرت و یاس یہ کہنا پڑ رہا ہے کہ جناب عمران خان نے بائیس سال کے دوران معاشرتی آداب، تہذیبی و تمدنی روایات اور اخلاقی و سماجی اقدار و رسوم سے یکسر عاری ایک ایسی نسل پروان چڑھائی ہے جو سیاسی مخالفین کی کردار کشی کے لیے اس حد تک بھی جا سکتی ہے کہ ونٹیلیٹر پر پڑی چند گھڑیوں کی مہمان خاتون اور انجائینا، بلڈ پریشر، امراض گردہ سمیت کئی جان لیوا عوارض میں گرفتار اس کے شوہر کی بیماری کو سیاسی ڈھونگ، بہانے بازی اور ڈیل یا ڈھیل کی خاطر کیا جانے والا مکر و فریب قرار دیتی ہے۔
اسی طعنہ بازی اور دشنام طرازی کے دوران جب محترمہ کلثوم نواز اللہ کو پیاری ہو جاتی ہیں تو حساس دل و مصفا روح کا حامل کوئی دردمند چیخ اٹھتا ہے کہ ہم اس سفاک معاشرے میں رہتے ہیں جہاں آدمی کو اپنی بیماری کا یقین دلانے کے لیے مرنا پڑتا ہے۔ پھر گالم گلوچ بریگیڈ کا کوئی پیادہ خجل و شرمسار معافی کا طلب گار ہوتا ہے مگر چند ہی ماہ بعد یہ سلسلہ پھر زور پکڑ لیتا ہے۔ چند برس پیچھے چلے جائیں تو ہمارے سخت ترین حریف بھی بیماری کے دوران ایک دوسرے کے لیے گلدستے لے کر پہنچ جاتے تھے
ابھی حال ہی میں امریکی سینیٹر جان مکین کی بیماری پر ایک جملہ کسنے والی ٹرمپ کی معاون کیلی سیڈلر کو مستعفی ہونا پڑا تھا۔ مگر ہمارے ہاں تو ہر صبح کچھ سیاسی بونے اور کوتاہ قامت اپنی زبانوں کو مغلظات و لغویات کی نت نئی لفاظی و اسلوب کی سان پر چڑھا کر نواز شریف کی کشیدہ قامتی کے قلعے پر گولہ باری شروع کر دیتے ہیں مگر مجال ہے جو نواز شریف کی خاندانی و سیاسی تربیت جواب میں ایک لفظ بھی کہے! تسلیم کہ ہم امریکی و مغربی سیاسی رواداری، وضع داری اور مروت تک نہیں پہنچ سکتے مگر کیا ہم نواز شریف کی اس اخلاقی و سیاسی جگہ تک بھی جانے کی کوشش نہیں کر سکتے کہ جس کے مطابق وہ 2013 کے الیکشن کے دوران اپنے منہ پھٹ سیاسی حریف کے سٹیج سے گر کر زخمی ہونے پر تمام سیاسی و انتخابی سرگرمیاں معطل کر کے پھول لے کر اس کی عیادت کرنے پہنچ گئے تھے؟
کچھ مخالفین تو نواز شریف اور ان کے خاندان کے خلاف سراپا گالی بن چکے ہیں۔ پنڈی کا غیر سنجیدہ سیاست دان ہو، صوبائی و وفاقی ترجمانوں کے بھیس میں زبان درازی کرنے والے ذہنی و نفسیاتی مداری ہوں یا نئے پاکستان کے بانی کی سپہ کا گالم گلوچ بریگیڈ; ہر ایک اس انداز سے زبان طعن دراز کرتا ہے کہ شرافت و نجابت منہ چھاتی پھرتی ہے۔ بیمار نواز شریف نہیں بلکہ علاج کی ضرورت تو ان لوگوں کو ہے جن کو بد زبانی ما مرض لاحق ہے کیونکہ نواز شریف کی بیماری کا تو علاج ہے مگر ان کا مرض لادوا ہے۔
میری جھکی ہوئی نظریں تلاش کرتی رہیں
کوئی ضمیر کا لہجہ، کوئی اصول کی بات


