مائی نیم از ریڈ پر ایک تبصرہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

آیئے آج آپ کو اُرحان پامک کے ناول مائی نیم از ریڈ کے ساتھ ایک مختصر سی ملاقات کر وایئں۔ یہ ناول سلطنتِ عثمانیہ کے عہد کی کہانی ہے اور اس کہانی میں فنِ تصویر کشی (چھوٹی تصاویر، مینیئچر پینٹنگ) بنیادی جھگڑا ہے جس کے ذریعے اورحان پامک ایک دلچسپ داستان بُنتا چلا جاتا ہے یا یوں کہہ لیں کہ پینٹ کرتا چلا جاتا ہے۔ پینٹ کا لفظ اس لئے کہا کیوں کہ اُرحان خود بھی مصور بننا چاہتا تھا لیکن تقریباً بائیس سال کی عمر میں ناول نگاری میں ہی نام پیدا کرنے کا فیصلہ کیا۔ یہ کہانی چونکہ عثمانی دور کے مصوروں کے ایک گروہ کے گرد گھومتی ہے اس لئے کہانی پڑھتے وقت اس کے کینوس پر پینٹ ہوتے جانے کا احساس زیادہ ہوتا ہے اور منظر آنکھوں کے سامنے آتا جاتا ہے۔

بالکل جیسے مصور کینوس پر تصویر اتارتا جاتا ہے۔ اس کہانی میں رومانس بھی ہے اور کہیں کہیں کسی اچھے جاسوسی افسانے کا مزا بھی، جس میں قتل کا معمہ سامنے آتا ہے۔ جیسے جیسے کہانی آگے بڑھتی ہے اور کردار واضح ہوتے ہیں تو یہ ناول انسان کی نفسیاتی پرتوں کے اندر بھی جھانکتا جاتا ہے۔ ناول میں موجود کرداروں سے واقفیت پیدا کرنے کے لئے اس کے باب نمبر دس، بارہ، تیرہ، چودہ، اور سولہ، اٹھارہ، انیس، اور بیس کو پڑھنا ضروری ہے۔ اور اگر آپ کو مینیئچر پینٹنگ سے بھی دلچسپی ہے تو باب نمبر انتیس اور سینتالیس بھی پڑھ ڈالئے۔

یہ ناول تصویر کشی سے متعلق مختلف تصورات اور تکنیک جیسا کہ عثمانی اور یورپی طرزِ مصوری پر روشنی ڈالتا ہے اور مصوروں کی ورکشاپوں میں ہونے والی گفتتگو کے پس منظر میں مشرق اور مغرب کے تضاد کو بھی ابھارتا ہے۔ اس کے کردار اپنے رویوں کے اظہار سے تشکیل پاتے جاتے ہیں اور اسی طرح ارحان زمانے کے بدلنے اور ان کے انسانی رویوں پر پڑتے اثرات کا نقشہ کھینچتا جاتاہے۔

گو کہ یہ ناول تاریخی ہے لیکن ہر تاریخی ناول کی طرح اس میں بھی موجودہ حالات، موجودہ استنبول، ترکی، اور لکھاری کے اپنے ذاتی واقعات کے ساتھ اس کا تعلق مسلسل نظر آتا رہتا ہے جس میں بلاسفمی کا تذکرہ بھی ملتا ہے اور مُلا کی سوچ کی نمایندگی بھی در آتی ہے۔ ناول میں قتل کا معاملہ بھی اسی سوچ سے منسلک ہے۔ اسی طرح ترکی جیسے ملک میں جہاں ادارے تاریخی اشیاٴ اور نوادرات کو چھپا کر بند کر کے رکھتے ہیں کا اس کا حوالہ بھی ملتا ہے۔

ارحان کی اس تحریر میں ایک معاشرے یا کسی وقت کو تصویر کی شکل میں دیکھنے کی ترغیب ملتی ہے اور یوں لگتا ہے کہ معاشرتی خدوخال اور مروج سوچ کو اس کی گوں نا گوں تفصیلات کے ساتھ اس طرح دیکھا جا سکتا ہے جیسا کہ ایک بھرپور چھوٹی تصویر۔ شاید اس وقت جدیدیت اور مابعدالجدیدیت کو اسی انداز سے پرکھنے کی ضرورت بھی ہے۔ خسرو کا شیریں کو ملنا، جنگوں کے حالات، اور کسی قتل کے واقع کی تصویر اسی طرح کے اشارے ترتیب دیتے ہیں۔ یہ ناول اپنے کرداروں کے ذریعے تہذیبی اور ثقافتی ڈرامہ دیکھنے اور سمجھنے کی ایک عمدہ اور کامیاب کاوش لگتی ہے۔

ایک اور چیز جو اہم ہے وہ اس ناول میں معاشرتی تبدیلی کے اثرات ہیں۔ یہ ناول اس تبدیلی کی طرف اشارہ کرتا ہے جو معاشرے میں اچانک ظہور پذیر ہوتی ہے اور اس کے دور رس اثرات ہوتے ہیں۔ ایک خاص طرح کا فن بالکل ختم ہو جاتا ہے اور لوگ معاشی اور جغرافیائی ہجرت کر جاتے ہیں۔ اس تبدیلی کی مثال ناول میں مصوری کی تکنیک ہے اورحقیقت میں سکرپٹ کی تبدیلی جو جدید ترکی میں ہوئی یا ہمارے یہاں برِصغیر میں نو آبادیاتی عملداری کے دوران فارسی سے انگریزی زبان کے ذریعے لائی گئی۔ ارحان مصوروں کی آنکھوں میں سلائی مار کر اندھا کرنے کے چند واقعات کا ذکر شاید اسی لئے کرتا ہے۔

لیکن اگر آپ یہ بھی جاننا چاہتے ہیں کہ اس ناول کا اختتام کیسے ہوتا ہے تو اس کتاب کو آخر تک پڑھ جایئں۔ ایک بہت دلچسپ ناول ہے، ضرور پڑھیے اور سر دھنیئے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •