میں باغی ہوں، جو چاہے مجھ پر ظلم کرو

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  • 48
  •  

سچ لکھنا اور کلمہ ء حق کہنا بہادری ہے، یہاں گنے چنے لوگ ہیں جو سیدھی اور سچی بات کہتے ہیں اور اکثر تو جی حضوری و خوشامدی ٹولہ ہے جو حقائق کو مسخ کرتا ہے اور من مرضی کی تصویر دکھا کر واہ واہ کے ڈونگرے برساتا ہے مگر پھر بھی چند لوگ ہیں جو کلمہ ء حق کہتے ہوئے سچ کا علم بلند کیے ہوئے ہیں جو کہ آسان نہیں ہے کیونکہ جس دور میں حق بات لکھنے اور بولنے والوں کو زنداں میں ڈال دیا جاتا ہو اور اس زمانے میں پھر بھی معاشرے میں صدائے حق گونج رہی ہو تو انہی بہادروں کا کارنامہ ہے جو اس سیدھے مگر کٹھن رستے کے راہی ہیں اور مشکلات سہتے ہوئے منزل کی جانب گامزن ہیں، انہیں توقع اور یقین ہے کہ جلد ہی امید سحر طلوع ہو گی اور یہ اندھیرے چھٹ جائیں گے۔

حق پرستوں کا محدود سا یہ ٹولہ معاشرے میں روا رکھے گئے ظلم و ستم کے خلاف میدان میں اتر کر حق بولے جا رہا ہے، ظلم تو پھر ظلم ہوتا ہے مٹ جاتا ہے اور سچ لکھتے ہوئے یہ داستان رقم کیے جا رہا ہے ؎

ﻣﯿﺮﮮ ﮨﺎﺗﮫ ﻣﯿﮟ ﺣﻖ ﮐﺎ ﺟﮭﻨﮉﺍ ﮨﮯ

ﻣﯿﺮﮮ ﺳﺮ ﭘﺮ ﻇﻠﻢ ﮐﺎ ﭘﮭﻨﺪﺍ ﮨﮯ

ﻣﯿﮟ ﻣﺮﻧﮯ ﺳﮯﮐﺐ ﮈﺭﺗﺎ ﮨﻮﮞ

ﻣﯿﮟ ﻣﻮﺕ ﮐﯽ ﺧﺎﻃﺮ ﺯﻧﺪﮦ ﮨﻮﮞ

ﻣﯿﺮﮮ ﺧﻮﻥ ﮐﺎ ﺳﻮﺭﺝ ﭼﻤﮑﮯ ﮔﺎ

ﺗﻮ ﺑﭽﮧ ﺑﭽﮧ ﺑﻮﻟﮯ ﮔﺎ

ﻣﯿﮟ ﺑﺎﻏﯽ ﮨﻮﮞ، ﻣﯿﮟ ﺑﺎﻏﯽ ﮨﻮﮞ

ﺟﻮ ﭼﺎﮨﮯﻣﺠھ ﭘﺮ ﻇﻠﻢ ﮐﺮﻭ

سچ بولنے والے لبوں کو کھولتے ہیں تو ان کے ہونٹوں کو سی دیا جاتا ہے، وہ زبان سے نعرہ ء حق بلند کرتے ہیں تو زبانوں پہ تالے ڈال دیے جاتے ہیں اور سچ لکھنے والے قلم کو توڑ دیا جاتا ہے مگر لائق تحسین ہیں وہ لوگ، جو حق پر ڈٹے ہوئے ہیں، سبھی مشکلات کو ہنس کر سہے چلے جا رہے ہیں کہ نہ گھبراؤ دوستو! ظلمت کا گھٹا ٹوپ اندھیرا چھٹ جانے والا اور انصاف کا سورج پوری آب و تاب سے چمکنے میں بس چند لمحے باقی ہیں بس تھوڑا سا انتظار مزید۔

معاشرے میں ظالم ہوتے ہیں، کچھ انصاف پسند، کچھ مظلوم اور کوئی سکوت اختیار کرنے والا مگر کچھ بے چین روحوں کی مانند ظالم کے ظلم پہ کڑھتے ہیں، اور عجب ہے کہ انصاف پسند نیند کی گولی کھا کر خواب غفلت میں جا ڈوبتے ہیں، مظلوم ظلم سہہ کر آہ بھی نہیں کرتا کیونکہ ظالم کے ظلم کا وار مزید گہرا ہو جاتا ہے اور کچھ لوگ مثل شتر مرغ آنکھیں بند کیے یہ تماشا تکتے ہوئے بھی خاموش رہتے ہیں اور جب یہ نظارے معمول بن جاتے ہیں تو پھر کوئی آواز اٹھتی ہے جو کہ صدائے احتجاج کی مانند ظالموں کو حیران کر جاتی ہے، پھر احتجاجی آواز کے ساتھ کچھ اور صدائیں مل جاتی ہیں جو کہ ایک ٹولے کی صورت اختیار کر جاتی ہیں اور باغیوں کا وہ بہادر ٹولہ نعرہ ء حق بلند کرتے ہوئے للکارتا ہے کہ تم تیر آزماؤ، ہم جگر آزماتے ہیں اور پھر وہ للکار ظالم کے ایوانوں میں گونجتی ہے ؎

سرفروشی کی تمنا اب ہمارے دل میں ہے

دیکھنا ہے زور کتنا بازوئے قاتل میں ہے

ظالم بوکھلاہٹ کا شکار ہو جاتا ہے کہ یہ کیڑے مکوڑے کی مانند لوگ ہمی کو للکارتے ہوئے کیوں بھول چلے ہیں کہ حاکم وقت کے ساتھ پنگا لینا نری حماقت ہے، یہ انجام سے بے خبر لوگ پاگل ہیں اور پھر ظالم گروہ ان لوگوں پہ ٹوٹ پڑتے ہیں، کسی کو مارتے ہیں، کسی کو زخمی کرتے ہیں اور کسی سر پھرے کو مزید سزا دینے کے لیے اپنے عقوبت خانوں میں لیے چلتے ہیں مگر پھر بھی معاشرے میں ارتعاش رہتا ہے اور مظلوموں کی صدائیں لہریں بن کر ہوا کے دوش پر ان کا پیچھا کرتی ہیں اور ان کے کانوں میں گونج پیدا ہوتی ہے۔

ﺟﮩﺎﮞ ﺳﺎﻧﺴﻮﮞ ﭘﺮ ﺗﻌﺰﯾﺮﯾﮟ ﮨﯿﮟ

ﺟﮩﺎﮞ ﺑﮕﮍﯼ ﮨﻮﺋﯽ ﺗﻘﺪﯾﺮﯾﮟ ﮨﯿﮟ

ﺫﺍﺗﻮﮞ ﮐﮯ ﮔﻮﺭﮐﮫ ﺩﮬﻨﺪﮮ ﮨﯿﮟ

ﺟﮩﺎﮞ ﻧﻔﺮﺕ ﮐﮯﯾﮧ ﭘﮭﻨﺪﮮ ﮨﯿﮟ

ﺳﻮﭼﻮﮞ ﮐﯽ ﺍﯾﺴﯽ ﭘﺴﺘﯽ ﺳﮯ

ﺍﺱ ﻇﻠﻢ ﮐﯽ ﮔﻨﺪﯼ ﺑﺴﺘﯽ ﺳﮯ

ﻣﯿﮟ ﺑﺎﻏﯽ ﮨﻮﮞ، ﻣﯿﮟ ﺑﺎﻏﯽ ﮨﻮﮞ

ﺟﻮ ﭼﺎﮨﮯﻣﺠﮫ ﭘﺮ ﻇﻠﻢ ﮐﺮﻭ

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  • 48
  •  

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں