سالف پر کیا گزری
کھری بات کرنے والا، برجستہ جملے کہنے بلکہ فقرے کسنے والا شاہجہاں سامنے والے کی دھجیاں بکھیردیتا تھا، صرف دو دن کی ملاقات نے مجھے اس کا گرویدہ بنادیا تھا، دوہزار بارہ مِں لاہور کا وہ مشاعرہ جو میرے لیے ایسا پہلا بڑا ایونٹ تھا، سالف کے لیے روز کامعمول تھا، ایسا بھرپور نوجوان دیکھ کر جہاں بہت خوشی ہوئی، وہاں احساس کمتری نے بھی مجھے گھیرلیا تھا۔ خیر موضوع میں نہیں سالف ہے تو اسی کی بات کرتے ہیں، ہوٹل کے کمرے میں، لابی میں، کھانے اور ناشتے پر، اقبال کے مزار پر، بس میں، الحمراء ہال میں، الگ سے چمکتا نظر آتا تھا۔
کبھی شعر سناتا کبھی کسی کی ٹانگ کھینچتا، مجھے حضور حضور کہہ کر بلاتا رہا دو دن کی ملاقات میں، چھ برس ہونے کو آئے، میں اکثر سوچتا ہوں وہ زیادہ اچھا شاعر ہے یا انسان۔ خیر ذکر ہے جبری گمشدگیوں کا جس کا شکار لگتا ہے بلا امتیاز رنگ و نسل، زبان، ذہن، دل، لیفٹ، رائٹ، سبھی ہیں۔ اور ایک سے زائد بار سالف کو بھی یہ اعزاز بخشا جاچکا ہے۔ فراز نے کہا تھا
اس شہر میں ہو جنبش لب کا کسے یارا
یاں جنبش مژگاں بھی گنہگار کرے ہے
سالف نے نہ سوچنا چھوڑا نہ بولنا، وہ سچ کہتا رہا اور ہمارے دور کی درست تاریخ مرتب کرتا گیا، نتیجتاً ہمارے دور کے دیگر مورخین کی طرح اسے بھی زندان خانے کا مہمان بنالیاگیا، سالف نے حال ہی میں اس مہمان نوازی کی مختصر روداد بیان کی ہے کہ کس طرح ان سے شریک مجرموں کے نام اگلوانے کی کوشش ہوتی تھی، جو حال سالف کا تھا اس سے ماں جیسی ریاست کے کئی فرزند گزر چکے ہیں، سالف نے نام لکھوائے اور پھر لکھنے والوں کو یقین نہ آیا تو بدل ڈالے، اس واقعے میں کتنا سچ اور کتنا جھوٹ ہے اسے چھوڑیں، جن حالات سے سالف گزرا تھا پڑھ کر سلمان حیدر، ابو علیحہ سمیت دیگر گمشدگان کی تصویریں نگاہوں کے سامنے دوڑ گئیں، پرسون جوشی کا گیت ماں یاد آگیا
کچھ بول پڑھیے اور دھرتی ماں کے بیٹوں کا اُس سے شکوہ سنئے
میں کبھی بتلاتا نہیں
پر اندھیرے سے ڈرتا ہوں میں ماں
یوں تو میں دکھلاتا نہیں
تیری پرواہ کرتا ہوں میں ماں
تجھے سب ہے پتہ
ہے نا ماں؟
بھیڑ میں یوں نہ چھوڑو مجھے
گھر لوٹ کے بھی آ نہ پاؤں ماں
بھیجنا اتنا دور مجھ کو تو
یاد بھی نہ تجھ کو آ پاؤں ماں
ماں کوتو سب پتہ ہے کہ بیٹے اس سے کتنا پیار کرتے ہیں، اس کی کتنی پروا کرتے ہیں اس کی خاطر جان لٹانے کو تیار رہتے ہیں، پھر اس وقتی جبر کی کیا حیثیت کہ اس محبت کو، اس تعلق کو دل سے مٹاسکے۔ پھر بھی کبھی ماں مصلحتا اولاد کو خود سے الگ کردیتی ہے کبھی اولاد کو اسے چھوڑ کر جانا پڑتا ہے، لاش ملنے سے بہتر ہے بیٹے زندہ ہوں اور ماں کی ان کی خیر خبرملتی رہے۔
سالف اور اس دور کے دیگر گمشدگان کسی طرح آزاد ہوئے، جس کا جدھر سینگ سمایا چلتا بنا، جان بچی سو لاکھوں پائے، سالف کسی دوسرے دیس میں جا بسا ہے، ویسا ہی آتش تپاں ہے بس کچھ ہلکا ہوگیا ہے بقول شاعر شعلہ سا جل بجھا ہوں ہوائیں نہ دو مجھے۔ ویسے سالف مجھے حضور کیوں کہتا تھا یہ بھی سنتے چلیں، مجھ میں سالف جتنی ہمت نہیں کہ کھل کر سچ کہہ سکوں، صاحبان اقتدار کو مخاطب کرکے جب میں نے نوشتہ دیوار سنایا تو میری بزدلی ردیف کی صورت عیاں تھی جو سالف نے بڑے پیار سے میری چڑ ہی بنالی۔
گرنے والی ہے بہت جلد یہ سرکار حضور
ہاں! نظرآتے ہیں ایسے ہی کچھ آثار حضور
کارواں یونہی بھٹکتا رہے ہربار حضور
نیک نیت نہ ہوں گر قافلہ سالار حضور
وہ جو از خود ہی بنے بیٹھے ہیں سردارحضور
وقت اک دن انہیں لائے گا سرِ دار حضور
خود کو دیتے ہیں وہ دھوکا یونہی بیکار حضور
جوخطاؤں کا نہیں کرتے ہیں اقرار حضور
سامنے آ کے رہے سچ سرِ بازار حضور
کوئی کتنا ہی کرے جھوٹ کا پرچار حضور
قلم زنجیروں میں جکڑا جا سکتا ہے، زبانیں بند کرائی جاسکتی ہیں، سوچ کو قید نہیں کیاجاسکتا، انسانوں کی جان لی جاسکتی ہے، امیدوں اور خوابوں کو قتل نہیں کیا جاسکتا۔ ٹویٹس پر مقدموں کا دور بھی گزر جائے گا، سالف جہاں رہے خوش رہے، رضوان رضی، عمار علی جان اوردھرتی ماں کے سارے بیٹوں کو خدا سلامت رکھے۔ آمین


