دیدار حسین کا قاتل کون؟


گزشتہ ہفتے تحصیل اشکومن کے بالائی گاؤں تشنلوٹ سے تعلق رکھنے والے جماعت ہفتم کے طالب علم کو نامعلوم افراد نے جنسی زیاتی کے بعد بہیمانہ طریقے سے قتل کر کے رات کے اندھیرے کا فائدہ اُٹھاتے ہوئے لاش کو دریا برد کیا۔ اگلے روز لاش ملنے کے بعد دیدار حسین کے عزیز واقارب اور علاقہ مکین نے ایمت تھانہ کے سامنے ٹھٹھرتی سردی میں قاتلوں کو فلفور گرفتار کر کے کڑی سے کڑی سزا دے کر لواحقین کو انصاف فراہم کرنے کا مطالبہ کردیا۔ جس پر غذر پولیس نے شک کی بنیاد پر چھے مشکوک افراد کو حراست میں لے کر تفتیش شروع کی ہے۔

پولیس قانونی تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے قاتل کو عدالت پہنچا دے گی، سزا و جزا کا فیصلہ عدلیہ ہی کرے گی۔ یہ بھی ممکن ہے عدم شواہد کی بنیاد پر ملزم عدالت سے بے قصور ثابت بھی ہوسکتا ہے۔

اگر غور سے اس سارے معاملے کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے دیدار حسین کے قاتل وہ ماں باپ ہیں جنہوں نے اس کے قاتل بچے کی پرورش کی، وہ استاد ہے جس نے ایک قاتل کو قاتلانہ درس دیا، وہ معاشرہ ہے جس نے ایسے قاتلوں کو اپنی آغوش میں سمیت کے رکھا ہے۔ مجھے قوی یقین ہے دیدار حسین کے قاتل کو پھانسی کے پھندے پر چڑھانے سے وہ مائنڈ سیٹ کبھی بھی تبدیل نہیں ہوگا جو معصوم بچوں کو جنت اور حوروں کی لالچ دے کر انسانیات کی قتل پر آمادہ کرتا ہے، وہ درسگاہ کبھی بھی قاتلانہ درس دینے سے انکار نہیں کرے گا جہاں سے ایسے قاتلوں کی پشت پناہی اور پرورش کی جاتی ہے۔

گزشتہ کچھ مہینوں سے خصوصاً گلگت بلتستان میں جرائم کی شرح میں بتدریج اضافہ ہوتا جاتا ہے یاسین سے تعلق رکھنے والی دوشیزہ خوش بخت کراچی سے لاپتہ ہوتی ہے اور پانچ دن بعد ایک ویڈیو پیغام جاری کرکے ایک پنجابی لڑکے کے ساتھ آپنی نکاح کا اعتراف کر لیتی ہے، یاسین کی ایک اور دوشیزہ کو اسلام آباد میں اس کے کمرے سے مردہ حالت میں پایا جاتا ہے اور شکیلہ نامی خاتون گھریلوں حالات اور ناچاقی سے تنگ آکر اپنی پھول جیسی بیٹی کو کراچی میں سمندر برد کر دیتی ہے۔

اوپر ذکر شدہ واقعات کا بلاواسطہ یا بالواسطہ تعلق والدین، اساتذہ اور معاشرے سے ہے اگر خوش بخت کے ضروریات، احساسات اور جذبات کو سمجھ کر افہام وتفہیم کے ساتھ حل کیا جاتا تو آج خوش بخت کبھی بھی کسی انجان آدمی کے ساتھ شادی کر کے اپنے والدین اور رشتہ داوں کے ساتھ زندگی بھر کے لیے ناتہ نہیں توڈ دیتی، اگر شکیلہ کے احساسات، ضروریات اور جذبات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے تو آج شکیلہ کے سسرال اور والدین کو یہ دن نہیں دیکھنا پڑتا۔ یہ ہمارے معاشرے کا سب سے بڑا المیہ ہے حادثہ ہونے کے بعد ہمیں ہوش آتا ہے۔

اب تک اس طرح کے سینکڑوں واقعات رونما ہوئے ہیں جن کے مختلف وجوہات ہیں کسی کو غیرت کے نام پر گلہ گھونٹ کر قتل کرکے خودکشی کا نام دیا جاتا ہے، کسی کی زبردستی شادی کروا کر زندگی بھر کے لیے جینا حرام کردیا جاتا ہے، کچھ نوجوان بے روزگاری، گھریلوں ناچاقی اور پسند کی شادی پر خاندانی پابندی اور دباؤ پر اپنے زندگی کا چراغ گل کر دیتے ہیں۔

اب ضرورت اس امر کی ہے والدین کو اپنی سو سال پرانی روایات کو ترک کر کے جدید تقاضوں کے مطابق اپنے بچوں کی نگہداشت اور پرورش کرنا چاہیں، بچوں کو دینی اور دنیاوی تعلیم کے ساتھ ساتھ اخلاقیات اور معاشرتی اقدار بھی سیکھایا جائے۔ محکمہ تعلیم کو سکولوں میں پڑھایا جانے والا فرسودہ نصاب کو ترک کر کے جدید تقاضوں کے مطابق نیا نصاب متعارف کروائے جس سے بچوں کی شخصیت نکھر سکے اور بدلتے ہوئے حالات کا مقابلہ کر سکے۔ دینی مدارس کو حکومت اپنی ذمہ لے کر دینی تعلیم کی ساتھ ساتھ سائنسی، تکنیکی اور ٹیکنالوجیکل تعلم کا بھی احتمام کرے۔

مرحوم دیدار حسین کا قتل ہم سب کے منہ پر بہت بڑا تمانچہ ہے خصوصاً حکومت گلگت بلتستان پر جو بچوں کی تحفظ کے لیے قانون سازی نہیں کرسکی، آئے روز بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی، چائلڈ لیبر اور بچوں کو اغواء کا رجحان میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ ہمارے نوجوان سوشل میڈیا پر جذباتی ہوکر دیدار حسین کے قاتلوں کو سری عام پھانسی دینے کا مطالبہ کرتے ہیں مگر یہ ممکن نہیں ہے ہم پر جو آئین و قانون جبری طور پر لاگو ہے وہ تقریباً ڈیڑھ سو سال پرانا ہے اور فرسودہ ہو چکا ہے جس کا اعتراف سابق چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار نے وزیراعظم پاکستان کے سامنے ایک تقریب میں کی ہے۔

دیدار حسین کا قاتل وہ فرسودہ نظام تعلم ہے جو محص امتحان پاس کرنے اور نوکر بننے کے پڑھایا جاتا ہے، وہ مذہب کے ٹھیکدار ہیں جنہوں نے مذہب کو اپنی جاگیر سمجھ کر لوگوں کو فرقوں میں بھٹا کر انسانیت کے لیے لوگوں کے دلوں میں نفرت پھیلاتے ہیں اور وہ نام نہاد سیاست دان ہیں جو معصوم لوگوں کو اپنی سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کر کے ٹشو پیپر کی طرح پھینک دیتے ہیں، وہ نام نہاد این جی آوز اور انسانی حقوق کے تنظمیں ہیں جو بچوں کے نام پر سالانہ کروڈوں رپے ہڑپ کرنے کے بعد خاموش تماشا دیکھتے ہیں۔ خداوند مرحوم دیدار حسین کی روح کو دائمی سکون نصیب کرے اور قاتلوں کو جہنم واصل کریں!

Facebook Comments HS