مجھے یہ کہنے میں کوئی عار یا شرمندگی بالکل بھی محسوس نہیں ہوگی کہ آج ہمارا معاشرہ بے حس اور بے راہ روی کا شکار ہو چکا ہے۔ آئے روز ایک نہ ایک واقعہ ایسی رپورٹ ہوتی ہے جس کے وجوہات جان کر انسان دنگ رہ جاتا ہے اور اپنے وجود کا خدا سے گلہ کرنے پر مجبور ہوتا ہے۔ جس تیزی کے ساتھ دنیا ترقی کے منازل طے کرتی ہے اس تناسب سے ہماری ذہنی پسماندگی میں اضافہ ہوتا جاتا ہے حتیٰ کہ یہ خیال تک نہیں آتا ہے کہ اپنے اعمال پر شرمندہ ہو کر توبہ کرے اور معاشرے کی تعمیر و ترقی میں اپنا حصہ ڈالے۔
عموماً ہم اپنے لیے وکیل اور دوسرے کے لیے جج کا کردار ادا کرتے ہیں کبھی اپنے گریبان میں جھانک کر دیکھنے کی زحمت نہیں کرتے ہیں کہ میرے اندر کتنے خرابیاں ہیں جس کی وجہ سے معاشرے میں خلل پیدا ہو سکتا ہے، چونکہ معاشرے کو بنانے اور بگاڑنے میں انفرادیت کا بڑا اہم کردار ہوتا ہے۔ ہمارا پسندیدہ مشغلہ یہ ہے کہ معاشرے کی اصلاح کے لیے ہم کوئی عملی کام نہیں کرتے بلکہ دوسرے کو ذمہ دار ٹھہرا کر اپنا بوجھ ہلکا کر دیتے ہیں، حالانکہ انفرادی اصلاح کے بغیر اجتماعی اصلاح ممکن نہیں ہے۔
Read more