گلگت بلتستان عبوری صوبہ یا سیاسی چالوں کا عجوبہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اعمال کا درومدار نیتوں پر ہے۔ گلگت بلتستان کو عبوری آئینی صوبہ بنانے میں اللہ کرے تحریک انصاف کو کامیابی ملے لیکن نیتوں میں فتور ہے، نیتوں کے فتور کے ساتھ کامیابی کی منزل مل نہیں سکتی، معتبر ذرائع اور نظر آتے حقائق سے واضح ہو رہا ہے کہ وفاقی حکومت گلگت بلتستان میں آنے والے انتخابات میں کامیابی حاصل کرنے کے لئے ایک سیاسی چال چلنے لگی ہے، عبوری صوبے کے نام پر، صوبہ بنے گا نہیں، صرف سیاسی ڈرامہ چلے گا۔

سیاست بھی عجب کھیل ہے جہاں نہ انسانی جذبات کی قدر ہے تو نہ انسانی ضروریات اور زمینی حقائق کا ادراک، پوری دنیا میں حکومتیں عوام کے لئے ڈیلیور کرتیں ہیں اورسیاست صرف سیا سی جماعتیں کرتیں ہیں حکومت سیاست نہیں کرتی ہے۔ صرف خدمت، ہمارے ہاں تو حکومت سے لے کر سیاست تک کا باواآدم ہی نرالا ہے، کسی کی موت پر بھی سیاست، قدرتی آفت پر بھی سیاست اور قوموں کے مستقبل پر بھی سیاست، کچھ ایسا ہی گلگت بلتستان کے ساتھ بھی ماضی میں ہوا اور اب حال میں کچھ نیا ہونے جا رہا ہے۔

مسلم لیگ ن کی وفاقی حکومت کے دور میں گلگت بلتستان کے آئینی مستقبل کے حوالے سے سرتاج عزیز کمیٹی کی سفارشات پر عمل کیوں نہ ہوسکا اس کا تفصیلی ذکر میں گزشتہ تحریروں میں کر چکا ہوں، وفاق میں تحریک انصاف کی حکومت آتے ہی ناتجر بہ کار ٹیم نے ہر طرف ایک ہی کام شروع کیا کہ جس طرح کے دعوے اور تقریریں کنٹینر پر کی جاتیں تھیں وہی کرو اور عوام کو مصروف رکھو، یہ تجربہ بری طرح ناکام ہوا، گلگت بلتستان کے حوالے سے بھی یہی بچگانہ اور سیاسی نابالغی والا طریقہ اپناتے ہوئے دعوی کیا گیا کہ وفاقی حکومت نے گلگت بلتستان کو صوبہ بنانے کا فیصلہ کر لیا ہے، جب یہ اعلان میں نے سنا پہلے تو خوشی سے نہال ہوا لیکن جب زمینی حقائق کو دیکھتے ہوئے غور شروع کیا تو حیرت سے بھی برا حال ہوا، کہ پی ٹی آئی کو اقتدار میں آئے ہوئے جمعہ جمعہ آٹھ دن نہیں ہوئے ہیں، سسٹم سے آگاہ نہیں ہے اور اعلان کر دیا کہ گلگت بلتستان کو آئینی صوبہ بنایا جائے گا، جو کام ماضی کی مضبوط حکومتیں کوشش کے باوجود نہ کر سکیں وہ نئی نویلی حکومت کیسے کرنے جا رہی ہے۔

پاکستان کے مسئلہ کشمیر پر ستر سالہ موقف، کشمیریوں کی قربانیوں، اقوام متحدہ کی قراردادیں کیسے پی ٹی آئی کی حکومت پھلانگ کر آئینی صوبہ بنا سکتی ہے، ؟ یہ وہ سوال تھا جو ہر باشعور فرد کے دماغ میں گونج رہا تھا لیکن اگلے لمحے جواب بھی مل جاتا ہے، جیسے صرف ایکسل کے لئے داغ اچھے ہوتے ہیں ایسے ہی پی ٹی آئی کے لئے یوٹرن اچھے ہوتے ہیں، دو دن گزرے نہیں تھے کہ حکومت نے ایک ہزار میل فی گھنٹہ کی رفتار سے یوٹرن لے ہی لیا کہ ایسا ممکن نہیں، کیا انہیں اتنا بڑا دعوی کرنے سے قبل سمجھانے والا کوئی نہیں تھا شاید۔

ورنہ اتنی بڑی بونگی نہیں ماری جاتی، حد تو یہ ہے کہ حکومتی ترجمان فواد چوھدری فرمانے لگے کہ کابینہ کے اگلے اجلاس میں گلگت بلتستان کو آئینی صوبہ بنانے کا فیصلہ ہوگا، حالانکہ ملک کے بچے بچے کو اس آسان فہم قانون کا ادراک ہے کہ صوبے کابینہ کی منظوری سے نہیں قومی اسمبلی میں دو تہائی اکثریت کی منظوری سے بن سکتے ہیں، پی ٹی آئی کی حکومت اتنی گھبرائی ہوئی ہے کہ اسی گھبراہٹ میں اتنی جلدی بدنام ہوئی ہے کہ جتنی جلدی منی بھی بدنام نہیں ہوئی، خیر دو دن نہیں گزرے تھے کہ آئینی صوبے کے بعد عبوری صوبے کا لالی پاپ مارکیٹ میں سیل کے لئے پیش کر دیا گیا۔

بہت اچھی بات ہے گلگت بلتستان عبوری صوبہ بن سکتا ہے عبوری صوبہ بننے سے نہ تو مسئلہ کشمیر متاثر ہوگا اور نہ ہی اقوام متحدہ کی قراردادیں آڑے آئیں گی، لیکن مسئلہ یہ ہے کہ اس کے لئے نیت کا درست ہونا بھی لازم ہے۔

انتہائی معتبر اور ذمہ دار ذرائع نے مجھے بتایا کہ تحریک انصاف گلگت بلتستان کے کئی گروپوں میں سے ایک گروپ نے وفاقی حکومت سے کہا ہے ہمارے پاس انتخابات میں جانے کے لئے کسی قسم کا سیاسی منجن نہیں ہے اس لئے سیاسی چال کے تحت عبوری صوبے کا بل قومی اسمبلی میں پیش کیا جائے بل نے پاس تو ویسے بھی نہیں ہونا ہے لیکن ہم اس سے آنے والے انتخابات میں بازی پلٹ سکتے ہیں ہم یہ بیانیہ لے کر جائیں گے کی تحریک انصاف نے تو گلگت بلتستان کو عبوری صوبہ بنانے کے لئے بل قومی اسمبلی میں پیش کر دیا تھا دوسری جماعتوں نے مخالفت کی، لہذا دوسری جماعتیں گلگت بلتستان کے حقوق کے خلاف ہیں۔

یہ ہے وہ سیاسی پتہ جس کے لئے عبوری صوبے کا چورن نئے لیبل کے ساتھ سیاسی مارکیٹ میں فروخت کے لئے رکھ دیا گیا ہے، اب یہ چورن بکتا ہے یا بکنے سے پہلے ہی گل سڑ کر سیاسی نقصان کا باعث بنتا ہے اس کا فیصلہ وقت کرے گا، میرے زرئع نے مجھے بتایا کہ تحریک انصاف کو معلوم ہے کہ قومی اسمبلی میں بل کی منظوری کے لئے عددی اکثریت نہیں ہے اور بل نے پاس ہونا نہیں ہے اس کے باوجود صرف اس لئے قومی اسمبلی میں پیش کرے گی کہ اس سے صرف گلگت بلتستان میں آنے والے انتخابات میں جیت کو یقینی بنایا جا سکے، یہ ہے وہ مذاق جو گلگت بلتستان کے عوام کے ساتھ کیا جائے گا۔ اللہ کرے یہ سب جھوٹ ہو، مان لیتے ہیں کہ تحریک انصاف گلگت بلتستان کو صوبہ بنانے کے لئے مخلص ہے۔

سوال یہ ہے کہ کیا اس پر ہوم ورک مکمل کیا گیا ہے۔ اس کی شکل کیا ہے، اگر عبوری صوبے کے نام پر قومی اسمبلی میں تین اور سینٹ میں تین نشستیں دے کر گلگت بلتستان پر ٹیکس، این سی پی گاڑیوں کی سہولت واپس، گندم سبسڈی واپس اور آبادی کے حساب سے بجٹ دیا جاتا ہے تو یہ ایک اور پنڈورہ بکس کھلے گا، کیونکہ صوبوں میں وسائل تقسیم کرنے کا فارمولا آبادی پر طے ہے آبادی کے حساب سے بجٹ ملے تو گلگت بلتستان کے حصے میں ڈھائی ارب سے زیادہ رقم بجٹ میں نہیں آئے گی جبکہ اس وقت پچیس ارب کے قریب بجٹ ہے پی ایس ڈی پی منصوبوں کی رقم حساب کی جائے تو رقم بہت زیادہ بنتی ہے، عبوری صوبے کی صورت میں یہ تمام سہولتیں ختم ہوں گی۔

اگر عبوری صوبہ بنانے اور گلگت بلتستان کو قومی دھارے میں لانے کے لئے وفاقی حکومت واقعی مخلص ہے تو اس کا طریقہ کار یہ ہے کہ صرف سیاسی فائدے کو سامنے رکھ کر گلگت بلتستان کے عوام کے مستقبل کو تاریک نہ کرے اور گلگت بلتستان میں سیاسی نفرتوں سے انارکی اور سیاسی انتشار کی طرف نہ پھلائے بلکہ عبوری آئینی صوبے کے بل کو قومی اسمبلی میں پیش کرنے سے پہلے گلگت بلتستان کے تمام سٹیک ہولڈر سے طویل مشاورت کرے، گندم سبسڈی، ٹیکس چھوٹ، این سی پی گاڑیوں کی اجازت اور بجٹ میں آبادی کی بجائے رقبے پر فارمولا طے کرے، سیاسی جماعتوں کو اس بات پر راضی کرے کہ گلگت بلتستان کے عوام کے آئینی مستقبل کا مسئلہ ہے اس لئے آو اس قومی مسلے کو سیاسی مخاصمتوں کی نذر کرنے کے بجائے مل کر طے کرتے ہیں اس لئے ہم وفاقی حکومت کی طرف سے گلگت بلتستان کو پاکستان کو آئینی عبوری صوبہ بنانے کا بل لا رہے ہیں اس پر ہماری حمایت کریں، اگر تمام سیاسی جماعتیں حکومت کو یقین دھانی کراتی ہیں کہ ہم حمایت کرنے کے لئے تیار ہیں تو بل قومی اسمبلی میں پیش کیا جائے۔

ورنہ اگر اس تمام ہوم ورک سے قبل ہی وفاقی حکومت صرف ایک سیاسی پتہ کھیلنے کے لئے گلگت بلتستان کے عوام کے مستقبل کو مذاق بنانا چاہتی ہے توشاید تحریک انصاف کے سیاسی دروغ گووں کی مسلسل دروغ گوئی کو عوام معاف کرنے کے لئے تیار ہوں لیکن اس مذاق کو قوم معاف نہیں کرے گی، لہذا اس لئے سیاسی چالوں کا درست ہونا ضروری نہیں نیتوں کا درست ہونا لازم ہے، اگر اس تمام تر تیاری کے بعد تحریک انصاف بل قومی اسمبلی میں پیش کرتی ہے تو اور عبوری صوبہ بنانے میں کامیاب ہوتی ہے تو گلگت بلتستان کے عوام واقعی تسلیم کریں گے کہ یہ تحریک انصاف کا کارنامہ ہے ورنہ وہ دور گیا جب خلیل خان فاختہ اڑایا کرتا تھا، آج کے دور میں سیاسی چالوں سے عوام کو رام کر کے ووٹ حاصل نہیں کیا جا سکتا ہے اور بالخصوص گلگت بلتستان کے عوام میں شعور اس سطح پر ہے کہ جہاں انہیں محض جھوٹ اور دعووں میں الجھا کر سیاسی فائدے کا سوچنا دیوانے کا خواب ہے، اس سیاسی فتور کے ساتھ تحر یک انصاف گلگت بلتستان کو عبوری صوبہ نہیں بنا سکتی البتہ سیاسی چالوں کا عجوبہ بنائے گی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •