کالج سے گھر کا راستہ


یہ دو ہزار تین یا چار کی بات ہے۔ میں اور ثمرین کالج سے پیدل نکل کر گھر کے لئے چل پڑے تھے۔ حالانکہ گھر دور تھا، وہ کافی زیادہ راستہ بھی تھا۔ یہ راستہ طے کرنے میں ثمرین کا فارمولا کام آتا تھا۔ فارمولا یہ تھا کہ کینٹین سے سموسے پکوڑے اور ایک آدھ سیون اپ ہمراہ ہو تو راستہ مختصر ہو جاتا ہے۔

اپنی کینٹین کو ہم کیفے بیکٹیریا کہا کرتے تھے۔ اس سے جب بھی پکوڑے سموسے لے کر پیدل گھر کو چلے تو ہر بار ثمرین کا فارمولا ٹھیک ہی ثابت ہوا۔ راستہ مختصر ہو جاتا تھا باتیں ختم نہیں ہوتی تھیں۔

کالج سے گھر کو کئی راستے جاتے تھے۔ ہمیں نسبتاً کم گنجان راستہ پسند تھا۔ یہ ایک ٹھنڈی سڑک تھی جس کے دونوں اطراف سفیدے کے بلند درخت کھڑے تھے جو سڑک کے ساتھ ساتھ چلتے، موڑ مڑتے، اترائیوں اور چڑھائیوں میں ایک دوسرے کا پیچھا کرتے محسوس ہوتے۔

نسیم حجازی کے پردیسی درختوں کی طرح ایک کھلے چوک میں پہنچ کے یک دم ٹھٹک سے جاتے۔ وہاں سڑک سے بچ کے الٹے ہاتھ پھیلے میدان میں اتر کر یوں پھیلے بکھرے ہوئے کھڑے ہوتے۔ جیسے بچے تفریح کے گھنٹے میں ہر طرف پھیل کر کھڑے ہو جاتے ہیں۔

اس راستے پہ شروع کی چند دکانوں اور اللہ والی مسجد کے بعد بس چند ایک گھر تھے ایک میں پختون فیملی رہتی تھی اس کی بیرونی دیوار پہ پولیو ورکرز نے بغیر وکٹری کا نشان بنائے بیس بائیس بچوں کو کامیابی سے قطرے پلانے کا ریکارڈ ہندسوں میں لکھا ہوا تھا۔ جو طوالت اور تعداد کی وجہ سے کھچڑی سا بن گیا تھا۔

پھر لڑکیوں کا ایک مدرسہ تھا جہاں سے، آپی جان، کے نام سے مشہور ایک خاتون کی عقیدت میں ادھ موئی لڑکیوں کا ریلا نکلا کرتا تھا۔ ایک دو اور بھی گھر تھے مگر ان میں کوئی خاص بات نہیں تھی چپ چاپ کھڑے اونگھتے رہتے تھے۔ ذرا سا آگے الٹے ہاتھ ایک موڑ تھا جہاں اب فاران انسٹیٹیوٹ کی عمارت کھڑی ہے، یہ گھوم کر ایک اور موڑ میں بدل جاتا تھا۔

یہ خاصا مشہور موڑ تھا اسے ابھی بھی چنار گیسٹ ہاؤس والا موڑ ہی کہا جاتا ہے۔ شاید اس کا کوئی سرکاری نام بھی ہے لیکن مجھے یاد نہیں۔ اس موڑ سے گلیات کی طرف جانے والی سڑک پر ایک بہت بڑا بِل بورڈ لگا تھا جس پر بہت بڑی عبارت میں ”اور بارہا کم آبادی زیادہ آبادی پہ غالب آتی ہے“ القرآن۔ منجانب وزارتِ بہبودِ آبادی حکومتِ پاکستان تحریر تھا۔

خدا جانے وہ کب وہاں سے ہٹایا گیا ہو گا۔ میری یاد داشت میں وہیں کھڑا ہے۔ آج قرآن کی کلاس میں آیات کے معنیٰ و مفاہیم بدلنے پہ بات ہوئی تو وہ بورڈ یاد آیا اور ساتھ ہی بے شمار یادوں کا سیلاب آ گیا۔ کالج بھی اور وہ سہیلیاں بھی جنہیں زلزلہ کھا گیا۔ جو بچ گئیں وہ بعد میں شوہروں اور نوکریوں کو پیاری ہو گئیں اللہ اول الذکر کے درجات اور ثانی الذکر کے بی پی ایس بلند فرمائے۔
آمین

Facebook Comments HS