آپ کیسے حساس ہیں؟
ٹھیک ہے مان لیتے ہیں کہ رضوان رضی نے کچھ تلخ نامناسب ٹویٹز اور پوسٹس کیں جو انہیں اپنی عمر کا لحاظ رکھتے ہوئے نہیں کرنی چاہیے تھیں۔ انہوں نے کچھ حدود سے تجاوز ضرور کیا ہے اپنے لیڈر کی محبت میں مگر آپ یہ کام بہت پہلے کر چکے ہیں سرکار۔
ڈاکٹر عمار جان بھی شاید اپنے نظریے کا حامی ہے شاید وہ بھی اختلاف رائے رکھتا ہو۔ کئی قوم پرست بھی ہوسکتا ہے غلطی پر ہوں۔
وطن سے محبت اور وطن کو عزیز رکھنا بھی فطرتی ہے جسے فوقیت دی جانی چاہیے۔ بات ان کی اخلاق باختہ تحریروں کی کریں، مٹھائیاں بانٹیں یا ان کی ہتھکڑی زدہ تصویروں پر تمسخر اڑائیں لیکن یہ یاد رکھیں کہ اس کام کی ابتداء کہاں سے ہوئی کس نے کی، ہوسکتا ہے ستر سالہ تاریخ میں ابتداء سے ایسی غیر اخلاقی زبان استعمال کی گئی مگر ہم نے جب سے ہوش سنبھالا ہے آپ کے مہاتما اور ان کے حواریوں سے لے کر آپ احباب کی بھی کاوش شامل رہی۔
اداروں پر غلط الزامات کی ویڈیوز بھی بھری پڑی ہیں آج کے وزیراعظم صاحب کتنے کتنے غلط الزامات لگا رہے ہیں، یہ دیکھیے حکومت میں آنے کے لیے جناب نے کیا کیا نہیں کیا، کس کس در پر نہیں جھکے، آج حب الوطنی کی چادر سمیٹ لی لیکن دیکھتے ہیں جناب کب تک اس کی لاج رکھتے ہیں۔
چلتے چلتے سوشل میڈیا کو دیکھ لیں، جناب کا کہنا ہے انہوں نے حکومت اور اداروں پر الزام دھرے جن میں قادیانیت نوازی کا الزام زیادہ شئیر کیا جا رہا ہے تو جناب قادیانی نواز، ختم نبوت کا دشمن، مودی نواز، مودی کا جو یار ہے غدار ہے ابتداء کب ہوئی کس نے کی، قطعی طور پر شہزادے نے، لا حول ولا، کیا کیا اناپ شناپ آپ نے اپنی زبان ناشائستہ سے بکے، تب کہاں اخلاقیات کا مادہ زیر تعمیر تھا؟
ایف آئی اے والے اب رضی صاحب کو سزا دیں جزا دیں یا حوصلہ، لیکن ہمارا مطالبہ بس یہی ہے کہ انصاف سب کے ساتھ ایک جیسا ہونا چاہیے، فیس بک کا مشہور غلاظت بھرا تحریک انصاف کا حامی پیج بھی لوگوں کی عزتوں، پگڑیوں، دستاروں، چادروں اور کرداروں پر بکواسات کرتا ہے ذرا دھریے اسے بھی، عزت نفس سب کا خیال رکھیں، تقسیم نہ کریں، مہلت نہ دیں، اپنی جانبداری ظاہر نہ کریں، پکڑنے کے طریقہ کو بھی خدارا بدلیں، قانونی طریقہ استعمال کیجیے تاکہ قوم میں مزید خوف، ڈر اور تجسس باقی نہ رہے، منفی سوچ کا خاتمہ قانونی طریقہ سے کیجیئے۔
کبھی کسی جانور کا تڑپتا بچہ دیکھوں یا کسی کا زخم، براہ راست دیکھ لوں یا ٹی وی اور موبائل پر کسی تشدد کی ویڈیو یا تصویر، طبیعت بوجھل ہوجاتی ہے۔ ماہر نفسیات اسے حساس پن کہتے ہیں۔ حساسیت کی تعریف بھی یہی ہے کہ وہ انسان جو اہل ترس ہو، رحم کھانے والا ہو اور عرف عام میں کچھ لوگ بزدلی بھی کہتے ہیں۔
ہم سب کو وطن عزیز رکھنا چاہیے، واقعی کچھ حدود گھر کی بھی ہوتی ہیں، اختلاف گھر والوں سے ہو سکتا ہے گھر سے نہیں، گھر کی دیواروں سے نہیں، دیواروں پر تھوکنے، کیل کنکر لگانے سے ہم سب کو گریز کرنا چاہیے لیکن یقین مانیے یہ کام سب سے زیادہ با اختیار بندے کا ہے جو گھر کا سربراہ بھی ہے محافظ بھی، گھر میں سب سے زیادہ کمزور تو روٹی پانی اور کپڑے کا محتاج ہوتا ہے وہ مان ہی جاتا ہے اور آخر تک اس گھر کی حفاظت پر مامور رہتا ہے۔
پتہ نہیں یہ معاملہ فطرتی ہے، خدا نے طبیعت ایسی ہی بنا دی ہے تو انسان بے بس کیا کرسکتا ہے۔ کبھی کبھار معاشرہ انسان کو ظالم بنا دیتا ہے کبھی حساس بھی لیکن خاکسار کی طبیعت پیدائشی ہی ایسی ہے۔ مجھے انسان عزیز ہیں، مجھے رحم کرنے والے اچھے لگتے ہیں، مجھے نفرت کرنے والے پسند نہیں، اختلاف کرنے والے پسند ہیں۔
سوچتا ہوں کہ کب ہمارے ملک یا ہمارے معاشرے میں رحم پیدا ہوگا، پھر تاریخ انسانی پر نظر دوڑی ہے تو علم ہوتا ہے پچھلی کئی قومیں کئی بادشاہ ظالم تھے، دور کی کیا دیکھیں ماضی قریب میں جس دہشتگردی نے ملک میں ظلم کی بمباری کی وہ آنکھوں سے اوجھل نہیں ہوتی۔ صد شکر کہ کنٹرول ہو چکی ہے۔ لیکن یہ کنٹرول مستقل کیوں نہیں ہوتا، بے چینی اور بے آرامی گھیرے رکھتی ہے۔ نئے نئے باب کھل جاتے ہیں، ناجانے کہان سے کوئی غائبانہ طاقتیں ہیں جو سکون کو شاید پسند ہی نہیں کرتیں۔
ہر بار یہی مطالبہ کیا ہے کہ اپنا نظریہ و عقیدہ کیا کسی دوسرے نظریے و عقیدے والے کو مارنے سے حاصل ہوسکتا ہے، نہیں لگتا نا۔ کسی نے آج تک ہی نافذ نہیں کروایا، زبردستی تو ممکن ہی نہیں، مظلوم ہو کر سکوت تو اختیار کیا جا سکتا ہے مگر ظلم کو ظلم نہ کہنا جُرم ہی ہوتا ہے۔
اہل اقتدار اور ان حساس لوگوں سے فقط یہ گزارش کرنی ہے کہ حضور والا آپ اختیارات کے مالک ہیں، آپ کے پاس طاقت ہے، آپ رحم کیجیے، مجرموں کو سب کے سامنے سزا دیجیئے، اندھا دھند کسی کو نہ ماریے، اندھیرے میں کسی کو غائب نہ کیجئیے۔ روشنی میں آئیے مجرموں کو لے جائیے، پکڑیے عدالتیں کو آزاد اختیار دیجیے، قانون کی ضرورت ہے تو وہ بنائیے ملک میں نفرت پھیلانے والے ہوں یا افراتفری پھیلانے والے کارندوں کے لیے قانونی سزا مقرر کیجیے تاکہ سب کے سامنے مجرم کو سزا ملے تاکہ کوئی دوبارہ وطن کے خلاف کسی سازش کا حصہ نہ بنے۔
گھر کے ایک فرد سے نجانے کتنے افراد کا نظام چلتا ہے، مان باپ اولاد بہن بھائی سب حساس ہوتے ہیں، وہ صدمے نہیں سہہ سکتے۔ ساہیوال واقعے میں بچنے والے معصوم عمیر، منیبہ اور ہادیہ کے زخمی فوٹو نہیں دیکھے جاتے، اے اہل اختیار آپ کیسے حساس ہیں۔


