حضور والا خیال کیجیے، وقت بدل چُکا ہے

حضور وقت بدل چُکا ہے، پہلے قوم کو اعتماد میں تو لیجیے۔ عوام کی حالت کا اندازہ تو سب کو ہو رہا ہے۔ خدانخواستہ اگر آج دوبارہ انگلستان سرزمین پاکستان پر قبضہ کرنے آئے کہیں یہ قوم اس کے ساتھ نہ ہو لے، کیا نہیں لگتا کہ اس وقت مغلوں کے برصغیر سے بھی برے حالات چل رہے ہیں۔ پھر کس کس کو غدار لکھیں گے۔ اب کہیں لگتا ہے کہ 1857 کی جنگ آزادی کی طرح دوبارہ کوئی لڑنے کو تیار ہوگا، ویسے ہی ہوگا کہ دلی سے مراٹھا تک چند لوگ اٹھیں گے پھر مارے جائیں گے۔ اور ناکام تاریخ لکھی جائے گی۔

Read more

کیا سیکس ایجوکیشن سے درندگی رُک سکے گی؟

لاہور میں ایک دوست کا نیٹ کیفے تھا، وہاں پر کیبن بنے ہوئے تھے بلکہ اب بھی ویسے نیٹ کیفے موجود ہیں جبکہ انٹرنیٹ کی تمام ضروریات آپ کے موبائل نے پوری کردی ہیں لیکن ان کیفوں میں اب بھی لوگ جا رہے ہوتے ہیں۔ سات، آٹھ سال قبل اس دوست کے کیفے پر انٹرنیٹ استعمال کرنے کے لیے جا بیٹھتا تھا جہاں پر چائے کافی اور دو چار دوست بیٹھ کر گپ شپ کرتے۔ وہاں پر ایک دن ایک کوڑا اکٹھا کرنے والا لڑکا آیا، کوڑے کی بوری کیفے کے باہر رکھی اور کیبن خالی کا پوچھ کر ٹوکن لے کر بیٹھ گیا۔ میں نے استفسار کیا دوست سے کہ بھائی کوڑے والے کا کیا کام نیٹ کیفے پر، چونکہ کیفے والوں نے جب مواد رکھا ہوتا ہے تو انہیں بہتر آئیڈیا ہوتا ہے۔

Read more

بچوں کو ساتھ جنسی واقعات کیوں بڑھ رہے ہیں؟

معاشرتی زوال کی اور کیا نشانی ہوگی کہ ہر آئے روز معصوم بچوں کے ساتھ زیادتی کے کیسز سامنے آ رہے ہیں اور افسوناک امر یہ بھی ہے کہ اس درندگی میں انسانی حساسیت ختم ہوتی جا رہی ہے۔
یہاں پر میں کوئی تحقیق نہیں پیش کر رہا بلکہ میں نے سوال کرنے کی کوشش کی ہے۔ مسئلہ حساس اور سنجیدہ ہے اہل فکر کو اس پر سوچنے کی درخواست ہے۔

رواں ماہ میں اسلام آباد، تونسہ شریف میں معصوم بچوں کے ساتھ زیادتی و قتل کے واقعات سامنے آئے اور دو روز قبل پھر کراچی میں ایک جواں سال بیٹی کو ہسپتال میں دوران علاج درندگی کا نشانہ بنا کر قتل کردیا گیا، ملزمان جو پکڑے گئے ان کے چہرے پر کوئی شرمندگی اور افسوس کے آثار بھی نظر نہیں آ رہے تھے کتنا المناک ہے۔
دوسرا یہ کہ ہر روز کے ایسے واقعات سے اب ہمارے اندر کی حساسیت بھی ختم ہوتی جا رہی ہے۔

Read more

نظریہ بذریعہ نفرت کیوں؟

نفرت کی پھوار کہیں سے بھی پھوٹ رہی ہو وہ سماج میں دیر پا مضر اثرات چھوڑتی ہے۔گزشتہ ماہ بھارت اور بھارتی میڈیا کی طرف سے کیا گیا جنگی پروپیگنڈہ ہو یا پاکستان میں گزشتہ ہفتہ کیا جانے والا خواتین کا مارچ ہو پھر اس مارچ کے بعد مخالفین کی طرف سے منفی ردعمل ہو یہ سب نفرت پروان چڑھانے کے قاعدے ہیں۔ اشتعال انگیز نعرے، حقارت آمیز جملے تو کبھی سیاسی و مذہبی جلسوں میں لگائے جاتے تھے، جہاں مخالف کو گالم گلوچ کے ساتھ چڑھ دوڑنے کے لیے تیار ہوتے تھے۔ یاد نہیں مذہب اور سیاست کے نام پر ماضی قریب میں کس قدر سیاسی لیڈرون پر سیاہی پھینکی گئی، جوتے مارے گئے۔ کیوں ہوا یہ کیسے ہوا، نفسیاتی طور پر کیسے تیار کیا جاتا ہے ایک انسان کو۔

Read more

پولیس کی وردی نہیں، نظام بدلیں

سننے میں آ رہا ہے عمران خان کے وسیم اکرم وزیراعلیٰ پنجاب نے پنجاب پولیس کی وردی ایک بار پھر تبدیل کرنے کے احکامات جاری کردیے ہیں اور اس بار وردی ’ڈائیوو بس ڈرائیورز‘ کے مقابلے میں سکائی بلیو شرٹ اور ڈارک بلیو جینز۔ بزدار صاحب کا اسکرپٹڈ فرمان ہے کہ یہ پولیس کے سافٹ امیج پیش کرنے کے لیے تبدیلی کی جا رہی ہے

Read more

سلام ان خواتین کو جن سے دم سے ہے اس ملک کی معیشت

جی ڈی پی میں اضافہ کے لحاظ سے پاکستان کا زرعی شعبہ ہماری معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ پاکستان کا زیادہ آمدنی کا ذریعہ ذراعت ہے اور اس زراعت کے شعبہ میں خواتین مردوں کے مقابلے مین زیادہ محنت و مشقت کرتی ہیں۔ ہماری محنتی خواتین کو ہماری زراعت پر منحصر معیشت میں مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ ہمارے چاول اور گندم پیدا کرنے والے علاقوں میں ہماری محنت کش خواتین خوراک کی پیداوار میں مردوں کے ساتھ ساتھ کلیدی کردار ادا کرتی ہیں۔ہماری یہ محنت کش مائیں، بہنیں اور بیٹیاں بدقسمتی سے ایک موروثی غربت میں اس قدر پھنسی ہوئی ہیں کہ اس سے نکلنا ہی مشکل لگتا ہے۔ بیماریوں اور دیگر ضروریات کے لیے یہ اکثر ایڈوانس قرض لے چکی ہوتی ہیں جس کے بعد زمیندار حضرات ان کے خاندانوں کا استحصال کرتے رہتے ہیں اور یہ استحصال اسی طرح ہی چلتا آتا ہے۔

Read more

ہم نے جنگ دیکھنی ہے

سچ تو یہ ہے کہ جنگ کے میدان میں کچھ لوگ قربانی دیتے ہیں اور کچھ نہیں۔ لیکن، پھل انہیں ملتا ہے، جنہوں نے کوئی قربانی نہیں دی ہوتی۔

ہم 1857 ءکی جنگ آزادی کو ہندوستان کی عظیم جنگ کہتے ہیں جبکہ حقیقت یہ ہے، یہ جنگ دہلی سے 75 کلومیٹر کے فاصلے پر میرٹھ میں شروع ہوئی اور دہلی پہنچ کر ختم ہو گئی۔

یہ پوری جنگ دہلی کے مضافات میں لڑی گئی تھی اور پنجاب، سندھ، ممبئی، کولکتہ اور ڈھاکہ کے لوگوں کو جنگ کی خبر اس وقت ہوئی جب ملبہ تک سمیٹا جا چکا تھا اور بہادر شاہ ظفر رنگون میں ”کہ دو ان حسرتوں سے کہیں اور جا بسیں“ لکھ رہا تھا۔

Read more

مثبت تبدیلیاں، جو ملک کی ترقی کا باعث بن رہی ہیں

حکومت سے سیاسی اختلاف اپنی جگہ مگر جو اس وقت تک معاشی بحرانوں کے باوجود بھی جو مثبت کام کیے ہیں ان کی تعریف نہ کرنا نا انصافی ہوگی۔

ملک کو معاشی بحران کے حل کے لیے وزیراعظم عمران خان کا ملکوں ملکوں سرمایہ کاری اور کاروبار کے لیے جانا، لیکن اگر کسی نے کچھ نہیں دیا تو اس میں ان کا قصور نہیں۔

ان کی کوشش یہ بھی ہوئی کہ نو ماہ ہر طرح کے معاشی مسائل اور اپوزیشن کے پریشر کے باوجود دو منی بجٹ بھی پیش کیے، ٹھیک ہے عوام کو وقتی فائدہ نہیں ہوا لیکن مستقبل تو محفوظ کیا گیا ہے۔

Read more

آپ کیسے حساس ہیں؟

ٹھیک ہے مان لیتے ہیں کہ رضوان رضی نے کچھ تلخ نامناسب ٹویٹز اور پوسٹس کیں جو انہیں اپنی عمر کا لحاظ رکھتے ہوئے نہیں کرنی چاہیے تھیں۔ انہوں نے کچھ حدود سے تجاوز ضرور کیا ہے اپنے لیڈر کی محبت میں مگر آپ یہ کام بہت پہلے کر چکے ہیں سرکار۔

ڈاکٹر عمار جان بھی شاید اپنے نظریے کا حامی ہے شاید وہ بھی اختلاف رائے رکھتا ہو۔ کئی قوم پرست بھی ہوسکتا ہے غلطی پر ہوں۔

وطن سے محبت اور وطن کو عزیز رکھنا بھی فطرتی ہے جسے فوقیت دی جانی چاہیے۔ بات ان کی اخلاق باختہ تحریروں کی کریں، مٹھائیاں بانٹیں یا ان کی ہتھکڑی زدہ تصویروں پر تمسخر اڑائیں لیکن یہ یاد رکھیں کہ اس کام کی ابتداء کہاں سے ہوئی کس نے کی، ہوسکتا ہے ستر سالہ تاریخ میں ابتداء سے ایسی غیر اخلاقی زبان استعمال کی گئی مگر ہم نے جب سے ہوش سنبھالا ہے آپ کے مہاتما اور ان کے حواریوں سے لے کر آپ احباب کی بھی کاوش شامل رہی۔

Read more

جشن اقبال کا میلہ اور جنوبی پنجاب کا رولا

یوتھ امپاورمنٹ سوسائٹی 11 دسمبر سے 13 دسمبر تک لاہور کے ایوان اقبال میں ’جشن اقبال‘ کامیلہ سجائے ہوئے ہے۔ اس ایونٹ کے بارے بتاتا چلوں کہ یہ پروگرام نومبر میں منعقد ہونا تھا لیکن تحریک لبیک کے دھرنا ا یونٹ کی وجہ سے نوجوانوں کو پروگرام ایک مہینے بعدکرنا پڑا۔ جس قدر دھرنے سے اس پروگرام کو منعقد کرنے والے نوجوان متاثر ہوئے یہ تو وہی جانتے ہیں کہ مہمانوں کو بلانے سے لے ایڈوارٹائزمنٹ تک کا انتظام از سر نوکرنا پڑا اور اس کے لیے کتنا۔ یاد رہے کہ اس یوتھ سوسائٹی میں زیادہ تر طلباء نوجوان ہیں او ر بہت کم نوجوان برسر روزگار ہیں لیکن باہمت ہیں جنہوں نے یہ میلہ سجا لیا۔

Read more