فیمنزم تحریک مغربی ممالک میں کیوں شروع ہوئی؟

فیمنزم تحریک کی فکر کا بنیادی عنصر سماج میں مردوں کے غلبہ کے خلاف جدوجہد ہے۔ یہ تحریک خواتین کے قانونی، معاشی اور سیاسی حقوق کے حصول کی خاطر برپا ہوئی۔ پھر اور بہت سے موضوعات اس کا حصہ بنے۔ مثلاً عورت کے لیے ملکیت کا حق، نوکریوں میں یکساں مواقع، جنسی تشدد سے تحفظ، سیاسی انتخاب میں ووٹ کا حق، بچے پیدا کرنے یا نہ کرنے کا اختیار، جنسی آزادی، اسقاط حمل کا حق، طلاق کا اختیار، اور شادی

Read more

بے سمتی کے دن

سماجی اور سیاسی جبر کے سامنے ادب ہمیشہ ایک مزاحمتی قوت بن کر کھڑا رہا ہے۔ عرفان شہود ایک ہمہ گیر تخلیق کار دھرتی زادہ ہے۔ پنجاب کے سرسبز کھیت ہوں یا بلوچستان کے سنگلاخ پہاڑ، سندھ کا تھر ہو یا جنوبی پنجاب کے تھل کے ریگستان یا گلگت کے پربت عرفان شہود جہاں اپنے کیمروں سے محفوظ کرتے پائے جاتے ہیں وہیں ان مناظر کو لفظوں کے ذریعے کتابوں کے اوراق پر موتیوں کی صورت عکس کر رہے ہوتے

Read more

بلوچ طلبا ہتھیار نہیں، قلم مانگ رہے ہیں

بلوچستان میں پوسٹ گریجویٹ کرانے والی کوئی چار یونیورسٹیاں ہیں۔ ایک میڈیکل کالج ہے۔ ایک زرعی یونیورسٹی ہے اور ایک خواتین کے لیے مختص ہے۔ باقی یونیورسٹیاں جیسا کہ یونیورسٹی آف لورالائی اور یونیورسٹی آف تربت میں گریجو ایشن تک پروگرام کروائے جاتے ہیں۔ بلوچستان کے طلبا کے لیے دوسرے صوبوں کے یونیورسٹی میں کوٹا مختص رہا ہے۔ اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لیے اپنے ملک میں بھی غیروں کی طرح داخلہ لیتے ہیں۔ 73 سال میں بلوچستان میں چند جامعات کا ہونا جو کہ مکمل فعال بھی نہیں بنائی جا سکیں، اس سے کیا تاثر پیدا ہوتا ہو گا۔

کچھ عرصے سے بلوچستان کے طلبا کے لیے پنجاب کے مختلف تعلیمی اداروں میں مختص سیٹوں کا ایک تسلسل کے ساتھ خاتمہ جاری ہے۔ 2017ء میں پنجاب یونیورسٹی لاہور میں مختص سیٹوں کو نصف کر دیا گیا اور اب اس سال 2020ء میں بہاء الدین زکریا یونیورسٹی ملتان نے بلوچستان کے طلبا کے لیے مختص سیٹوں پر اسکالر شپس ختم کر دیے گئے ہیں۔

Read more

بے روزگار نوجوانوں سے پیسے بٹورنے کا سرکاری دھندا

ابتدائی سکول میں اساتذہ یہ سوال کرتے تھے کہ ہاں بھئی بڑے ہو کر کیا بنو گے؟ ہم فوجی افسر، پولیس والا، ہیرو، پائلٹ ڈاکٹر بننے کی خواہش کا اظہار کرتے انجینئر بننے کا کیڑا بہرحال کسی کو نہیں تھا، چاہے لفظ مشکل تھا چاہے کام۔ ٹی وی نیا نیا تھا ہمارے دیہاتوں میں، انڈین موویز کی یلغار تبھی ساتھ ہو تھی۔ یہ 90 کا عشرہ تھا۔ گاؤں کے اسکول تختی سلیٹ لے کر جاتے اور زمین کے فرش پر

Read more

کاشانہ ہوم کی یتیم بچیاں غیر محفوظ ہیں: افشاں لطیف

افشاں لطیف سمجھتی ہیں کہ ہم سوشل میڈیا پر لکھنے والے مرد اس کی مدد کرسکیں گے۔ عورتیں کیوں نہیں کھڑی ہوتیں مفت میں، کہاں وومن رائٹس و فیمینزم کے علمبردار ہیں؟ بی بی ہم تو کچھ نہیں کرسکتے، سوائے دو بول لکھنے اس پر آنسو والی یا دل والی ایموجی ڈالنے کے اور ہر بار آپ سے وہی سانحہ سننے کے۔ لیکن اس بار وہ نیا سانحہ لے کر آئی وہ یتیم بچیوں کی عزتوں کی حفاظت کا کہہ

Read more

سرائیکی پنجابی زبان اور ہمارے دُکھ

ماں بولی سے محبت فطری ہے، کہاں سے بات شروع کروں؟ چلیں بتاتا چلوں میری ماں بولی سرائیکی ہے میں جس گاؤں سے ہوں وہاں سرائیکی بولی اکثریت کی زبان ہے، خان چندر کمار ہندو کے ڈیرے سے منسوب گاؤں خانپور سے ہندووں نے ہجرت کی تو وہاں رانگڑی بولنے والے مہاجر اور جاٹ قبیلے کے پنجابی بھی آباد ہوئے پنجابی بولی والے بھی آباد ہیں، گاؤں میں کبھی زبان کی بنیاد پر نفرتیں نہیں بانٹی گئیں رانگڑ اور جاٹوں

Read more

کاشانہ کی یتیم بچیوں کو بلیو فلمیں دکھائی جاتی رہیں، افشاں لطیف کا دعویٰ

چند ہفتے قبل کاشانہ سکینڈل ایشو ہائی لائٹ ہوا تھا۔ جب کاشانہ ہوم کی معطل سپرنٹنڈنٹ افشاں لطیف صاحبہ نے ویڈیو بنا کر سوشل میڈیا پر شائع کی غالباً ہر شہری نے ویڈیو دیکھی ہوگی، جس میں سابقہ سپرنٹنڈنٹ افشاں لطیف نے کاشانہ ہوم میں رہنے والی یتیم بچیوں کی عزتوں کو بچانے کی بات کی۔ سابقہ سپرنٹنڈنٹ افشاں لطیف نے بتایا کہ زبردستی شادیاں کرائی جاتی رہی ہیں اور صوبائی وزیر اجمل چیمہ بھی بچیوں سے ملتے تھے جس

Read more

اب لال لال لہرایا ہے

تیونس کے قصبے سدی بوزید میں سترہ دسمبر دو ہزار دس کو کسی پولیس والے نے پھل فروش محمد بوعزیزی سے رشوت مانگی، بوعزیزی نے انکار کر دیا، پولیس والے نے اسے تھپڑ مارے، مرے ہوئے باپ کی گالی دی اور ٹھیلہ ضبط کر کے چالان کاٹ دیا۔ بوعزیزی نے بلدیہ کے دفتر میں شکائیت کے واسطے کسی افسر سے ملنے کی کوشش کی۔ نہیں ملنے دیا گیا۔ بوعزیزی نے اسی دفتر کے سامنے خود کو آگ لگا لی۔ اس

Read more

کوئی ’محکمہ زراعت‘ ہوتا تھا۔

گاؤں کے ایک چھوٹے کاشتکار سے پوچھا کہ گزشتہ کئی سالوں سے کپاس کی فصلیں کسانوں کے لیے نقصان کا باعث بن رہی ہیں تو آپ لوگ سبزیاں کاشت کیوں نہیں کرتے؟ انہوں نے بتلایا کہ اس نے پِچھلے سال یہ تجربہ بھی کر کے دیکھا تھا گوبھی وغیرہ کاشت کر کے جب فصل تیار ہوئی تو بیوپاری ’توڑے‘ کے پیسے دینے کو بھی تیار نہیں ہوئے۔ اور یوں ہوا کہ سبزی منڈی پر دھکے کھانے کے باوجود بھی فصل

Read more

فیض صاحب اب فیسٹیول تک محدود ہو کر رہ گئے

اس سال پانچواں فیض میلہ منعقد ہوا، خواہش تھی مگر گزشتہ ہفتے گھر جانے کی وجہ سے شرکت نہیں ہوسکی۔ گزشتہ دو سالوں میں شرکت کی اور کچھ پروگراموں میں گفتگو سُنی اچھی لگی کچھ پروگرام انتہائی بورنگ بھی سہنے پڑے کہ شاید کچھ اچھا ہو، ہم جیسے ٹائم ٹپاؤ اور کم ٹپاؤ بندوں کے لیے بڑا مشکل ہوجاتا ایسی جگہ انٹر ہوجانا۔ فیض میلے میں میرے جیسے لوگ اس لیے بھی جاتے ہیں کہ بتلایا جاسکے کہ ہمیں فیض

Read more

اب دھرنا ختم ہونا چاہیے

اسلام آباد میں اس وقت جہاں بارش اور سردی نے موسمی درجہ حرارت کم کیا ہے لیکن وہاں لاکھوں نہیں تو ہزاروں مظاہرین نے ملک بھر کا سیاسی درجہ حرارت گرم رکھا ہوا ہے۔ دلچسپ بات یہ کہ دھرنے میں اکثریتی تعداد مذہبی لوگوں کی ہے لیکن جو شیخ الاسلام ڈاکٹر طاہر القادری اور علامہ خادم رضوی نے گزشتہ دھرنوں میں مذہبی لوگوں کی ایک شناخت بنائی تھی کہ مذہبی لوگ جنونی اور سرپھرے ہوتے ہیں، اس شناخت کو مولانا

Read more

مولانا کے دھرنے میں نیا کیا ہوگا؟

یاد ہے جب ماضی میں دارالحکومت پر دو انقلابی چڑھ دوڑے تھے، کیا ہوا تھا۔ المیہ تو یہ ہے کہ دونوں رہنماوں کو پڑھے لکھے نوجوان طبقے نے انقلابی لیڈر سمجھ کر حسب روٹین روزانہ ایک ہی تقریر سننے کو کنٹینر کے ارد گرد پہنچ جاتے تھے۔ اس تقریر کا مرکز کرپشن تھی، زرداری و نواز شریف کی سیاست کے علاوہ اور ایسا کیا موضوع تھا۔ جس انقلابی ٹیم کا وہ لاوڈ سپیکر پر نام لیتے تھے اس معاشی بقراط

Read more

مولانا فضل الرحمٰن کی گیارہویں تیاری

مولانا فضل الرحمان ایک جہاں دیدہ اور تجربہ کار سیاست دان ہیں وہ ماضی کی کئی سیاسی تحریکوں میں حصہ لے چکے ہیں۔ مولانا اس سے قبل جنرل ضیاء الحق کی حکومت کے خلاف اپوزیشن کی تحریک ایم آر ڈی ( تحریک بحالی جمہوریت) میں فعال کردار کر چکے ہیں۔ یہ اسی کی دہائی کی بات ہے اس وقت مولانا جمعیت علماء اسلام کے جواں سال لیڈر تھے۔ اب تو ان کی داڑھی اور سر کے بال سفید ہو چکے

Read more

اچھا ہوا کہ بھارت چاند پر نہیں پہنچ سکا

حقیقت یہی ہے ہمسایے کی گاڑی دیکھ کر اس کی قیمت پوچھ کر سڑیل ہو کر اور تو کچھ نہیں کرسکتے مگر مشورے ضرور دیتے ہیں کہ اس سے اچھا ماڈل ٹویوٹا کا ہے سوزوکی کا ہے، اس کی مارکیٹ نہیں ہے، ری سیل نہیں ہے، لانگ ڈرائیو کے لیے اچھی نہیں ہے مائلیج ٹھیک نہیں گاڑی چھوڑیں ایک شوز بھی لی آئیں تو بھی بتائیں گے اس سے اچھا سروس کا ہے، بورجن کا ہے وغیرہ وغیرہ۔

Read more

بُزدار ہٹاؤ مُہم اور پنجاب پولیس کی بدمستی

بُزدار ہٹاؤ پنجاب بچاؤ کا ٹرینڈ چل رہا ہے، عجیب مطالبہ لگ رہا ہے یہ تحریک انصاف کے اندر سے کسی نے ٹرینڈ چلوایا ہے یا کسی اور نے، بہرحال لگتا تحریک انصاف کے اندر پروان ہوتی سازشیں ہیں جن کا مقصد فقط اپنے کسی خاص کی انٹری ہے۔ بے وقوفو! کیا بُزدار کے ہٹانے سے پنجاب بچ جائے گا یا ادارے ٹھیک ہوجائیں گے؟ کیا بُزدار خودمختار وزیراعلیٰ ہیں یا انسٹرکشن لینے والے سروینٹ ہیں۔ سیاسی مطالبات تو یہ

Read more

زرداری اور نواز شریف کے ٹی وی اور اے سی کی خیر نہیں

اچھا جو انصافی احباب خوشی سے پھولے نہیں سما رہے اور بتلا رہے ہیں کہ اب زرداری یا نواز کے لیے وزیراعظم صاحب آ کر ٹی وی اے سی اور پکھے بند کردیں گے تو ان کو اطلاعاً عرض ہے کہ جناب والا آئین کے مطابق یہ سہولیات ان قیدیوں کو میسر ہیں اس لیے پہلے آئین بدلیں پھر خوش ہوں۔ ویسے یہ بھی ہے کہ ان کے اے سی ٹی وی ختم کرنے سے عوام کو کوئی فائدہ ملنے

Read more

شاپر میں انسانی لاش کا قیمہ

رواں ماہ 8 جولائی کی رات جنوبی پنجاب کے شہر جامپور ضلع راجن پور کے قریب سے صبح سحر کے وقت ریسکیو کی ٹیم نے انڈس ہائی وے سے ایک انسان کے سڑک سے چمٹے جسم کو سڑک سے الگ کیا اور ایک شاپر میں بند کیا۔ اس کے جسم کا جو کچھ بچ گیا تھا وہ صرف جوتے تھے جو شاید پلاسٹک کے ہونے کے وجہ سے ہی زندہ بچ گئے تھے، جن سے شناخت کا مرحلہ نا جانے

Read more

جڑے سر والی بچیوں کو نئی زندگی دینے والے دو ڈاکٹر

پاکستان سے تعلق رکھنے والی دو جڑواں بچیوں کا لندن کے GOSH گریٹ اورمونڈ سٹریٹ ہسپتال میں کئی مہینوں کی تیاری بعد آخری خطرناک آپریشن کامیاب ہوا اور ان کے جُڑے سروں کو الگ کر دیے گئے۔ ڈاکٹروں کے مطابق یہ انتہائی خطرناک اور بڑے وقت کا آپریشن تھا اور ایسا کیس پہلی مرتبہ آیا جس میں سر تو جُڑے ہوئے تھے لیکن جڑواں بچیوں کے مشترکہ نلی نما ڈھانچے سے دو گول سر تیار کرنا مخصوص چیلنج تھا۔ ان

Read more

حضور والا خیال کیجیے، وقت بدل چُکا ہے

حضور وقت بدل چُکا ہے، پہلے قوم کو اعتماد میں تو لیجیے۔ عوام کی حالت کا اندازہ تو سب کو ہو رہا ہے۔ خدانخواستہ اگر آج دوبارہ انگلستان سرزمین پاکستان پر قبضہ کرنے آئے کہیں یہ قوم اس کے ساتھ نہ ہو لے، کیا نہیں لگتا کہ اس وقت مغلوں کے برصغیر سے بھی برے حالات چل رہے ہیں۔ پھر کس کس کو غدار لکھیں گے۔ اب کہیں لگتا ہے کہ 1857 کی جنگ آزادی کی طرح دوبارہ کوئی لڑنے کو تیار ہوگا، ویسے ہی ہوگا کہ دلی سے مراٹھا تک چند لوگ اٹھیں گے پھر مارے جائیں گے۔ اور ناکام تاریخ لکھی جائے گی۔

Read more

کیا سیکس ایجوکیشن سے درندگی رُک سکے گی؟

لاہور میں ایک دوست کا نیٹ کیفے تھا، وہاں پر کیبن بنے ہوئے تھے بلکہ اب بھی ویسے نیٹ کیفے موجود ہیں جبکہ انٹرنیٹ کی تمام ضروریات آپ کے موبائل نے پوری کردی ہیں لیکن ان کیفوں میں اب بھی لوگ جا رہے ہوتے ہیں۔ سات، آٹھ سال قبل اس دوست کے کیفے پر انٹرنیٹ استعمال کرنے کے لیے جا بیٹھتا تھا جہاں پر چائے کافی اور دو چار دوست بیٹھ کر گپ شپ کرتے۔ وہاں پر ایک دن ایک کوڑا اکٹھا کرنے والا لڑکا آیا، کوڑے کی بوری کیفے کے باہر رکھی اور کیبن خالی کا پوچھ کر ٹوکن لے کر بیٹھ گیا۔ میں نے استفسار کیا دوست سے کہ بھائی کوڑے والے کا کیا کام نیٹ کیفے پر، چونکہ کیفے والوں نے جب مواد رکھا ہوتا ہے تو انہیں بہتر آئیڈیا ہوتا ہے۔

Read more

بچوں کو ساتھ جنسی واقعات کیوں بڑھ رہے ہیں؟

معاشرتی زوال کی اور کیا نشانی ہوگی کہ ہر آئے روز معصوم بچوں کے ساتھ زیادتی کے کیسز سامنے آ رہے ہیں اور افسوناک امر یہ بھی ہے کہ اس درندگی میں انسانی حساسیت ختم ہوتی جا رہی ہے۔
یہاں پر میں کوئی تحقیق نہیں پیش کر رہا بلکہ میں نے سوال کرنے کی کوشش کی ہے۔ مسئلہ حساس اور سنجیدہ ہے اہل فکر کو اس پر سوچنے کی درخواست ہے۔

رواں ماہ میں اسلام آباد، تونسہ شریف میں معصوم بچوں کے ساتھ زیادتی و قتل کے واقعات سامنے آئے اور دو روز قبل پھر کراچی میں ایک جواں سال بیٹی کو ہسپتال میں دوران علاج درندگی کا نشانہ بنا کر قتل کردیا گیا، ملزمان جو پکڑے گئے ان کے چہرے پر کوئی شرمندگی اور افسوس کے آثار بھی نظر نہیں آ رہے تھے کتنا المناک ہے۔
دوسرا یہ کہ ہر روز کے ایسے واقعات سے اب ہمارے اندر کی حساسیت بھی ختم ہوتی جا رہی ہے۔

Read more

نظریہ بذریعہ نفرت کیوں؟

نفرت کی پھوار کہیں سے بھی پھوٹ رہی ہو وہ سماج میں دیر پا مضر اثرات چھوڑتی ہے۔گزشتہ ماہ بھارت اور بھارتی میڈیا کی طرف سے کیا گیا جنگی پروپیگنڈہ ہو یا پاکستان میں گزشتہ ہفتہ کیا جانے والا خواتین کا مارچ ہو پھر اس مارچ کے بعد مخالفین کی طرف سے منفی ردعمل ہو یہ سب نفرت پروان چڑھانے کے قاعدے ہیں۔ اشتعال انگیز نعرے، حقارت آمیز جملے تو کبھی سیاسی و مذہبی جلسوں میں لگائے جاتے تھے، جہاں مخالف کو گالم گلوچ کے ساتھ چڑھ دوڑنے کے لیے تیار ہوتے تھے۔ یاد نہیں مذہب اور سیاست کے نام پر ماضی قریب میں کس قدر سیاسی لیڈرون پر سیاہی پھینکی گئی، جوتے مارے گئے۔ کیوں ہوا یہ کیسے ہوا، نفسیاتی طور پر کیسے تیار کیا جاتا ہے ایک انسان کو۔

Read more

پولیس کی وردی نہیں، نظام بدلیں

سننے میں آ رہا ہے عمران خان کے وسیم اکرم وزیراعلیٰ پنجاب نے پنجاب پولیس کی وردی ایک بار پھر تبدیل کرنے کے احکامات جاری کردیے ہیں اور اس بار وردی ’ڈائیوو بس ڈرائیورز‘ کے مقابلے میں سکائی بلیو شرٹ اور ڈارک بلیو جینز۔ بزدار صاحب کا اسکرپٹڈ فرمان ہے کہ یہ پولیس کے سافٹ امیج پیش کرنے کے لیے تبدیلی کی جا رہی ہے

Read more

سلام ان خواتین کو جن سے دم سے ہے اس ملک کی معیشت

جی ڈی پی میں اضافہ کے لحاظ سے پاکستان کا زرعی شعبہ ہماری معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ پاکستان کا زیادہ آمدنی کا ذریعہ ذراعت ہے اور اس زراعت کے شعبہ میں خواتین مردوں کے مقابلے مین زیادہ محنت و مشقت کرتی ہیں۔ ہماری محنتی خواتین کو ہماری زراعت پر منحصر معیشت میں مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ ہمارے چاول اور گندم پیدا کرنے والے علاقوں میں ہماری محنت کش خواتین خوراک کی پیداوار میں مردوں کے ساتھ ساتھ کلیدی کردار ادا کرتی ہیں۔ہماری یہ محنت کش مائیں، بہنیں اور بیٹیاں بدقسمتی سے ایک موروثی غربت میں اس قدر پھنسی ہوئی ہیں کہ اس سے نکلنا ہی مشکل لگتا ہے۔ بیماریوں اور دیگر ضروریات کے لیے یہ اکثر ایڈوانس قرض لے چکی ہوتی ہیں جس کے بعد زمیندار حضرات ان کے خاندانوں کا استحصال کرتے رہتے ہیں اور یہ استحصال اسی طرح ہی چلتا آتا ہے۔

Read more

ہم نے جنگ دیکھنی ہے

سچ تو یہ ہے کہ جنگ کے میدان میں کچھ لوگ قربانی دیتے ہیں اور کچھ نہیں۔ لیکن، پھل انہیں ملتا ہے، جنہوں نے کوئی قربانی نہیں دی ہوتی۔

ہم 1857 ءکی جنگ آزادی کو ہندوستان کی عظیم جنگ کہتے ہیں جبکہ حقیقت یہ ہے، یہ جنگ دہلی سے 75 کلومیٹر کے فاصلے پر میرٹھ میں شروع ہوئی اور دہلی پہنچ کر ختم ہو گئی۔

یہ پوری جنگ دہلی کے مضافات میں لڑی گئی تھی اور پنجاب، سندھ، ممبئی، کولکتہ اور ڈھاکہ کے لوگوں کو جنگ کی خبر اس وقت ہوئی جب ملبہ تک سمیٹا جا چکا تھا اور بہادر شاہ ظفر رنگون میں ”کہ دو ان حسرتوں سے کہیں اور جا بسیں“ لکھ رہا تھا۔

Read more

مثبت تبدیلیاں، جو ملک کی ترقی کا باعث بن رہی ہیں

حکومت سے سیاسی اختلاف اپنی جگہ مگر جو اس وقت تک معاشی بحرانوں کے باوجود بھی جو مثبت کام کیے ہیں ان کی تعریف نہ کرنا نا انصافی ہوگی۔

ملک کو معاشی بحران کے حل کے لیے وزیراعظم عمران خان کا ملکوں ملکوں سرمایہ کاری اور کاروبار کے لیے جانا، لیکن اگر کسی نے کچھ نہیں دیا تو اس میں ان کا قصور نہیں۔

ان کی کوشش یہ بھی ہوئی کہ نو ماہ ہر طرح کے معاشی مسائل اور اپوزیشن کے پریشر کے باوجود دو منی بجٹ بھی پیش کیے، ٹھیک ہے عوام کو وقتی فائدہ نہیں ہوا لیکن مستقبل تو محفوظ کیا گیا ہے۔

Read more

آپ کیسے حساس ہیں؟

ٹھیک ہے مان لیتے ہیں کہ رضوان رضی نے کچھ تلخ نامناسب ٹویٹز اور پوسٹس کیں جو انہیں اپنی عمر کا لحاظ رکھتے ہوئے نہیں کرنی چاہیے تھیں۔ انہوں نے کچھ حدود سے تجاوز ضرور کیا ہے اپنے لیڈر کی محبت میں مگر آپ یہ کام بہت پہلے کر چکے ہیں سرکار۔

ڈاکٹر عمار جان بھی شاید اپنے نظریے کا حامی ہے شاید وہ بھی اختلاف رائے رکھتا ہو۔ کئی قوم پرست بھی ہوسکتا ہے غلطی پر ہوں۔

وطن سے محبت اور وطن کو عزیز رکھنا بھی فطرتی ہے جسے فوقیت دی جانی چاہیے۔ بات ان کی اخلاق باختہ تحریروں کی کریں، مٹھائیاں بانٹیں یا ان کی ہتھکڑی زدہ تصویروں پر تمسخر اڑائیں لیکن یہ یاد رکھیں کہ اس کام کی ابتداء کہاں سے ہوئی کس نے کی، ہوسکتا ہے ستر سالہ تاریخ میں ابتداء سے ایسی غیر اخلاقی زبان استعمال کی گئی مگر ہم نے جب سے ہوش سنبھالا ہے آپ کے مہاتما اور ان کے حواریوں سے لے کر آپ احباب کی بھی کاوش شامل رہی۔

Read more

جشن اقبال کا میلہ اور جنوبی پنجاب کا رولا

یوتھ امپاورمنٹ سوسائٹی 11 دسمبر سے 13 دسمبر تک لاہور کے ایوان اقبال میں ’جشن اقبال‘ کامیلہ سجائے ہوئے ہے۔ اس ایونٹ کے بارے بتاتا چلوں کہ یہ پروگرام نومبر میں منعقد ہونا تھا لیکن تحریک لبیک کے دھرنا ا یونٹ کی وجہ سے نوجوانوں کو پروگرام ایک مہینے بعدکرنا پڑا۔ جس قدر دھرنے سے اس پروگرام کو منعقد کرنے والے نوجوان متاثر ہوئے یہ تو وہی جانتے ہیں کہ مہمانوں کو بلانے سے لے ایڈوارٹائزمنٹ تک کا انتظام از سر نوکرنا پڑا اور اس کے لیے کتنا۔ یاد رہے کہ اس یوتھ سوسائٹی میں زیادہ تر طلباء نوجوان ہیں او ر بہت کم نوجوان برسر روزگار ہیں لیکن باہمت ہیں جنہوں نے یہ میلہ سجا لیا۔

Read more

تعلیمی اداروں کے دھندے

مایوسی کفر ہے اور خاموش رہنا بھی گُناہ ہے۔ اس وقت پرائیویٹ اسکولوں نے تعلیم کے پیشے کو دھندہ بنا دیا ہے۔ اس دھندے کو حکومت کی مکمل سپورٹ حاصل ہے۔ چند ماہ میں اسکولوں نے سو فیصد سے زائد فیسیں بڑھا دی ہیں۔ بچوں کے والدین عدالتوں، میڈیا تک جا رہے ہیں، احتجاج کر رہے ہیں مگر کوئی سننے والا نہیں۔ چند دوستوں نے کچھ واوچرز دکھائے ہیں جو چند بڑے اسکولوں کے ہیں ڈبل سے زائد فیس کا

Read more

پرائیویٹ سکولوں کی بڑھتی فیسوں پر پریشان نہ ہوں۔۔۔۔

چند روز قبل پرائیویٹ اسکولز پیرنٹس ایسوسی ایشن کے تحت بچوں کے والدین پرائیویٹ اسکولوں کی بڑھتی فیسوں کے خلاف احتجاج کر رہے تھے اور پلے کارڈ پر لکھ رکھا تھا ہم اے ٹی ایم نہیں، ہمیں اس فیسوں کے ظلم سے بچایا جائے۔ آج ایک دوست کے توسط سے ان کا پیج نظر آیا، ایک پوسٹ پر کمنٹ لکھا کہ اگر فیسیں زیادہ ہیں تو بچوں کو سرکاری اسکولوں میں کیوں نہیں بھیجتے۔ پیج ایڈمن کا جواب آیا، سرکاری

Read more

اکہتر سالہ تبدیلی اور موروثی سیاسی خانوادے

قوموں کو سیاسی بلوغت اور پختگی آزادانہ انتخابات کے بعد حاصل ہوتی ہے جبکہ ہمارے ملک میں ابھی تک آزادانہ اور منصفانہ انتخابات شکوک اور کنفیوژن میں لپٹے ہوئے ہیں۔ ہارنے والی جماعتیں کبھی شکست قبول کرنے کو تیار اس لیے نہین ہوتیں کہ وہ سب جانتی ہیں ورنہ ترقی یافتہ ممالک میں سو میں سے ایک فیصد لوگ ہی دھاندلی وغیرہ کا الزام لگاتے نظر آتے ہیں لیکن یہاں معاملہ کچھ اور ہے۔ چلیں آپ کو الیکشن کے بعد

Read more

ووٹ کسے دے رہے ہو صاحب جی

ایسا لگ رہا ہے کہ کچھ فیصلے تو ہوچکے ہیں اب بس میدان میں گھوڑے دوڑانے کا عمل کیا جائے گا۔ لیکن پھر بھی پسِ پُشت جتنے معاہدے کر لیے جائیں وہ ہمیشہ ہی ایک گمشدہ جُرم کی طرح گُم ہی رہتے ہیں اصل فیصلہ میدانوں میں مقابلے کی صورت میں آ نکلتا ہے۔ بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب سب کو پتہ چل جائے گا کہ اقتدار کی دیوی نے کس سے منہ موڑا اور کس کے گلے میں

Read more

 مولوی صاحب! میں جاہل ہی رہنا پسند کروں گا۔۔

میں غریب کا بچہ ہوں، اُس غریب کا جس کے پاس تن ڈھانپنے کو کپڑے نہیں ہیں۔ وہ دو وقت کی روٹی کے لیے بھٹے کی تپش کو برداشت کر جاتا ہے۔ مولوی صاحب! اس ماں کا بچہ ہوں، جو لوگوں کے برتن مانجھتی ہے تاکہ میرے کپڑے صاف رکھ سکے۔ لوگوں کا کھانا پکاتی ہے تاکہ مجھے لقمہ دے سکے۔ ایک گندے، میلے، کچیلے گھر میں رہتا ہوں، بچہ ہوں، ماں اور باپ کا لاڈلا ہوں لیکن ان کی

Read more

صرف سیاست نہیں اب بہت کچھ بچانا ہے

سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کا قومی سطح پر بیانیہ سب کے سب پریشرز، چارج شیٹس، الزامات اور مسائل کے ہوتے ہوئے بھی مضبوط نظر آ رہا ہے۔ وطن واپس آنے سے ایک دن قبل جب میاں نوازشریف صاحب پریس کانفرنس کر رہے تھے ایسا لگا کہ اب وہ مقابلہ کرنے کو تیار ہوچکے ہیں۔ ان کا مقابلہ صرف ایک قو ت سے نہیں بلکہ مختلف قوتوں سے ہے۔ میاں صاحب کو اب ایک ہی موقع میسر ہے کہ

Read more

دِلی کے لکھاری مالک اُشتر کے نام !

ہم سب کے پڑھنے والوں کے لیے ہمارے ہندوستانی بھائی مالک اُشتر کسی تعارف کے محتاج نہیں۔ وہ اکثر و بیشتر مسلمانوں کی علمی و فکری پستی پر کڑھتے رہتے ہیں جس سے اتفاق کیے بنا چارہ نہیں۔ ان کا طنزیہ اسلوب ہم جیسے مزاج رکھنے والے بندے کے چہرے پر مسکراہٹ اور ذہن میں سوچ ضرور پیدا کرتا رہتا ہے۔ اب آتے ہیں برادرم مالک اُشتر کے مضامین کی طرف تو مالک بھائی اُمید ہے آپ خیریت سے ہوں

Read more

کسان کہاں جائے؟

آسٹریلیا ہمارا ماما لگتا ہے یا اُسے کوئی مفاد حاصل ہوگا کہ وہ پاکستان کے کسانوں کی اکثر و بیشتر مدد کرتا رہتا ہے۔ گزشتہ سال نومبر میں آسٹریلیا نے پنجاب کے کسانوں کو زرعی اصلاحات کے لیے پانچ لاکھ ڈالر دیے تھے۔ حالانکہ یہ بات پُرانی ہوگئی لیکن اسے میں کیوں اس وقت کر رہاہوں۔ وہ اس لیے کہ آسٹریلیا کی معیشت کا سب سےبڑا زرِمبادلہ زراعت سے وابستہ ہے وہاں بھی کئی منفی معاملات چلتے ہوں گے، سیاسی

Read more

Hi I‘m Mark Zuckerberg

  یہ وہ میسج تھا جس نے انجمن فیس بک کے منجھے سے منجھے لکھاریوں، دانشوروں کی نیندیں اڑا دیں۔ اسی میسج کے طفیل ہماری نیند کیا ہمارے دو تین دن خلل ضرور ڈالا گیا۔ پہلے پہل ڈیتا آن کرتے ہی چونک اٹھا کہ اتنے میسج خیر ہو شالا! پھر جیسے ہی فیسبکی میسنجر کا دروازہ کھولا تو دوستوں کی تصویوریں دیکھتا لیکن ایک ہی جملہ نظر آیا کہ I‘m Mark Zuckerburg یہی سوچا آج مارک بیچارہ بھری جوانی میں

Read more