رضوان رضی: آزادی صحافت اور قومی مفاد

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سولہ جنوری کو انہیں صفحات پر شائع ہونے والے اپنے کالم میں گزارش کی تھی کہ ”صحافی یا تجزیہ نگار اگر اپنی ثقہ معلومات کی بنا پر یہ یقین رکھتا ہو کہ کوئی حکومتی عہدیدار یا اہلکار کسی غلطی یا بدعنوانی کا مرتکب ہو رہا ہے تو وہ اس کی نشاندہی کرنے کا پورا حق رکھتا ہے بلکہ یہ اس کی ذمہ داری ہے۔ تاہم کسی بھی صحافی کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ کسی بھی فرد، خواہ وہ معاشرے کا عام فرد ہو یا حکومت کا کوئی اعلیٰ عہدے دار، کے بارے میں ایسے الفاظ استعمال کرے جو اخلاقیات کے کسی بھی قاعدے کے مطابق نہ ہوں“۔

لاہور سے تعلق رکھنے والے صحافی رضوان رضی صاحب کو جب گرفتار کیا گیا تو چند گھنٹوں تک یہ بات واضح نہیں تھی کہ انہیں ایف آئی اے نے کس الزام میں گرفتار کیا ہے۔ اُس صورتحال میں تشویش ایک فطری امر تھا لیکن جب صورتحال واضح ہوئی تو صحافی حلقوں کی طرف سے احتجاجی آوازیں کم ہونا شروع ہو گئیں۔ اب جبکہ رضوان رضی صاحب کی ضمانت بھی ہوچکی ہے لیکن صحافی برادری میں بڑی تعداد یہ سمجھتی ہے کہ ان کی گرفتاری بلاجواز نہیں تھی۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ رضوان رضی المعروف ”دادا“ یا ”ڈپٹی “ ایک ورکنگ صحافی ہیں اور انہیں اپنی رائے کے اظہار کا پورا پورا حق حاصل ہے۔ لیکن کسی بھی فرد کی آزادی اظہار کی حد وہیں ختم ہوجاتی ہے جہاں کسی دوسرے کی ناک شروع ہوتی ہے۔ عثمان بزدار ہوں یا عمران خان یا پھر قومی سلامتی کے ادارے، کسی کی رائے یا پالیسی کے خلاف رائے اختیار کرنا کچھ عجیب نہیں لیکن ایک صحافی کو خاص طور پر یہ خیال رکھنا چاہیے کہ اس کے قلم یا زبان سے نکلنے والا کوئی لفظ اخلاق سے گرا ہوا نہ ہو۔

رضوان رضی کی گرفتاری کے بعد میں نے ان کا ٹوئٹر اکاؤنٹ دیکھا تو غالبا وہ بند کر دیا گیا تھا لیکن ان کے فیس بک اکاؤنٹ پر جو مواد موجود تھا اس کا کچھ حصہ صحافتی اور اخلاقی قدروں کے عین برعکس تھا۔ آپ کو عثمان بزدار کی قابلیت پر اعتماد نہیں تو مدلل بات کریں، آپ کو عمران خان کی حکومت یا تحریک انصاف سے کوئی سیاسی اختلاف ہے تو دلیل کی زبان میں شائستہ طریقے سے بات کی جاسکتی ہے۔ آپ کو قومی سلامتی کے دوسرے اداروں سے کوئی شکوہ ہے یا آپ یہ سمجھتے ہیں کہ کوئی اقدام قومی مفاد کے منافی کیا جا رہا ہے تو یاد رکھیں کہ قومی مفاد کوئی ایسا موضوع نہیں، جس کا فیصلہ کوئی فرد واحد کر سکے۔ قومی مفادات کا بہترین تحفظ آئینی اور قانونی سطح پر ادارہ جاتی نظام کے تحت ہی کیا جاسکتا ہے۔ اس کے باوجود اگر آپ سمجھتے ہیں کہ کوئی فیصلہ ملکی مفاد کے خلاف ہو سکتا ہے یا اس سے بہتر کوئی فیصلہ کیا جا سکتا ہے تو یہ احساس تہذیب کے دائرے میں رہ کر دلیل کے ساتھ ہی دلایا جا سکتا ہے اور پاکستانی صحافی یہ کر بھی رہے ہیں۔ اختلاف رائے یا تنقید کا مطلب ہر گز یہ نہیں کہ آپ حکومتی عہدیداروں یا اداروں کو ننگی گالیاں دیں۔

میر ی تربیت یا پیشہ ورانہ اخلاقیات اس بات کی اجازت نہیں دیتیں کہ میں وہ الفاظ یہاں نقل کروں جو رضوان رضی نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ سے بعض حکومتی عہدیداروں کے بارے میں استعمال کئے۔ ایسے الفاظ چند لحظوں کی لسانی لذت یا مداری کی طرف سے تماشائیوں کی طرف سے سمیٹی جانے والی وقتی داد کا حربہ تو ہو سکتے ہیں لیکن ایک صحافی کا لب و لہجہ ایسا نہیں ہو سکتا۔ رضوان رضی کے فیس بک اکاؤنٹ پر نظر دوڑائیں تو صاف پتہ چلتا ہے کہ ان کا اختلاف سیاسی یا نظریاتی حدیں پھلانگ کر ذاتی تعصب کے جوہڑ میں گر چکا ہے۔ میدان صحافت میں ہمیں استادوں نے سبق دیا تھا کہ خبر کو جوں کا توں بیان کرو اور اپنے احساسات و جذبات کو قابو میں رکھو۔ اسی طرح خبر کے تجزیے یا تبصرے میں دلیل و شواہد ہی آپ کا ہتھیار ہو سکتے ہیں گالم گلوچ نہیں۔ سیدھی سی بات ہے جب آپ با اختیار حلقوں کی مسلسل تضحیک سے باز نہیں آئیں گے تو ریاست آپ کو کب تک برداشت کرے گی ؟۔

صحافت کا پہلا سبق قانون اور اخلاق کے دائرے میں رہنا ہے۔ جب آپ دوسروں کو قانون کی پاسداری کی ترغیب دیتے ہیں یا قانون کی خلاف ورزی پر تنقید کا نشانہ بناتے ہیں تو یہ کیوں نہیں سوچتے کہ آپ خود بھی وہی عمل کر رہے ہیں جس پر دوسروں کو تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔ معاف کیجئے گا! تنقید اور تضحیک میں بھی فرق ہوتا ہے اور جو فرد یا ادارہ یہ فرق بھول جائے، اسے قوم کی فکری رہنمائی کا حق کسی طور نہیں دیا جا سکتا۔

میری ذاتی معلومات کے مطابق رضوان رضی کو بعض صحافی دوستوں نے متعدد بار سمجھایا کہ آپ کا لب و لہجہ صحافتی اقدار کے منافی ہے۔ صرف یہی نہیں ان کو ادارہ جاتی سطح پر بھی کم از کم دو مرتبہ یہ پیغام دیا گیا کہ جو کچھ آپ کر رہے ہیں وہ ہر گز مناسب نہیں لیکن ظاہر ہے انہوں نے اس پیغام کو درخور اعتنا نہیں سمجھا۔ اسی لئے نوبت یہاں تک پہنچی کہ ا ن کے خلاف مقدمہ درج کر کے انہیں گرفتار کیا جائے۔ بہرحال رضوان رضی کے خلاف مقدمہ اب عدالت میں جائے گا اور عدالت ہی قانون کے مطابق ان کا فیصلہ سنانے کی پابند ہے۔

اس سلسلے میں خاکسار صرف اتنا عرض کرنا چاہتا ہے کہ کسی کو برا بھلا کہہ کر یا گالی دے کر آپ اسے اپنا ہمنوا یا ہم خیال بنانے کے بارے میں سوچ رہے ہیں توکوئی ذی شعور آپ کو عقل مند کہنے کو تیار نہیں ہو گا۔ دلیل !دلیل اور دلیل ہی آپ کا واحد ہتھیار ہے۔ یہ ہتھیارہاتھ سے گیا تو سمجھیں شکست یقینی ہے۔

ایک پہلو اس واقعے کا اطمینان بخش بھی ہے کہ اب الزامات کا فیصلہ قانون کی عدالت میں ہوا کرے گا نہ کہ طاقت کے بل بوتے پر۔

حکومت کے کرنے کا کام یہ ہے کہ شتر بے مہار کی طرح استعمال ہونے والے میڈیا یا سوشل میڈیا کے بارے میں پیشہ ورانہ ماہرین کی رائے سے ایسی واضح اور ٹھوس قانون سازی کرے جس سے آزادی اظہار پر پابندی کا شائبہ تک نہ ہو۔ قانون اور اخلاق کے دائرے سے نکل کر ذاتی تعصب کی بنا پر دوسروں کی پگڑیاں اچھالنے والوں کوآسانی سے بتدریج قانون کے دائرے میں لایا جا سکتا ہے۔ یہ کام کوئی اتنا مشکل بھی نہیں، دنیا بھر میں قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کو تنبیہ، جرمانہ اور پھر سخت سزا کے مراحل سے گزار کر ہی معاشرتی ناہمواریوں سے بچایا جاتا ہے۔

یہی فارمولہ پاکستان میں بھی لاگو کیا جا سکتا ہے۔ سوشل میڈیا پر کسی بھی فرد کی عزت سے کھلواڑ کرنے والوں، سیاستدانوں کو بدنام کرنے والوں اور قومی سلامتی کے اداروں کے خلاف بے بنیاد پراپیگنڈہ کرنے والوں کو پہلے مرحلے میں آن دی ریکارڈ تنبیہہ کی جائے۔ اس تنبیہ کو وہ خاطر میں نہ لائیں تو ایسے افراد کو معاملے کی نزاکت کے مطابق جرمانہ بھی کیا جا سکتا ہے اور ان پر پابندی بھی عائد کی جا سکتی ہے۔ اس مرحلے پر بھی اگر کوئی نہ سمجھے تو اس کے خلاف سخت تادیبی کارروائی کرنا عین مناسب ہو گا۔ لیکن یہ سب کچھ تبھی ممکن ہے جب آزادی اظہار کو مکمل طور پر یقینی بنایا جائے اور اس کے ساتھ ساتھ ماورائے قانون اقدامات بھی ہر صورت بند کئے جائیں۔

 

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •