آسٹریلوی لڑکی کی چار چھاتیوں کا راز

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

آسٹریلیا سے تعلق رکھنے والی 23 سالہ گرافک ڈیزائنر جیکولین ہاروی نے زندگی بھر کی جمع پونچی خرچ کر کے اپنی چھاتیاں بھرنے کیلئے پلاسٹک سرجری کرائی لیکن سرجری میں گڑبڑ کی وجہ سے اس کی چھاتیوں کی تعداد بڑھ کر چار ہو گئی ہے۔

برطانوی اخبار دی سن کے مطابق آسٹریلیا کے شہر برسبین سے تعلق رکھنے والی 23 سالہ جیکولین ہاروی نے اپنی چھاتیوں کو بڑا کرنے کیلئے سرجری کرائی۔ اس نے پلاسٹک سرجری پر ساڑھے 4 ہزار برطانوی پاﺅنڈ (تقریباً 8لاکھ روپے پاکستانی) خرچ کیے ۔ گرافک ڈیزائنر لڑکی نے اپنی چھاتیوں کی سرجری کرانے کیلئے 5 سال تک کڑی محنت کر کے ساڑھے 4 ہزار پاﺅنڈ کے برابر رقم اکٹھی کی لیکن جب آپریشن کے بعد اس نے اپنے آپ کو شیشے میں دیکھا تو اپنے فیصلے پر شدید پچھتاوا ہوا۔

جیکولین ہاروی کا آپریشن کرنے والے ڈاکٹرز نے اس کا امپلانٹ ٹھیک طریقے سے نہیں کیا ۔ امپلانٹ چھاتیوں کے نیچے کر دیا گیا جس کے باعث یوں لگتا ہے کہ جیکولین کی چار چھاتیاں ہیں۔ 5 مہینے بعد جیکولین ہاروی نے اپنی سرجری کو درست کرانے کیلئے دوبارہ پیسے جمع کرنے شروع کردیے ہیں۔

جیکولین ہاروی نے بتایا کہ جب وہ آپریشن کے بعد گھر آئی تو اسے اپنی حالت دیکھ کر سخت تعجب ہوا۔ ’میں نے کلینک سے رابطہ کیا تو انہوں نے مجھے 6 ہفتے کے انتظار کا کہا اور ہدایت کی کہ اتنے عرصے میں سرجری ٹھیک ہوجائے گی۔ میں نے 6 ہفتے انتظار کیا لیکن کچھ نہیں بدلا۔ مایوس ہو کر میں نے پلاسٹک سرجنز کے ایک فورم میں اپنی حالت کے بارے میں سوال اٹھایا جس پر مجھے بتایا گیا کہ جس ڈاکٹر نے میر ا آپریشن کیا ہے وہ ناتجربہ کار ہے جس کی وجہ سے معاملات بگڑ گئے ہیں۔ مجھے کلینک سے آفر آئی ہے کہ وہ میرے امپلانٹس درست کر سکتے ہیں لیکن اب میں وہاں نہیں جانا چاہتی کیونکہ مجھے خدشہ ہے کہ وہ میری حالت اس سے بھی بری کر دیں گے‘۔

خیال رہے کہ آسٹریلیا میں بریسٹ امپلانٹ کی سرجری کے لئے اوسطً 7 ہزار پاﺅنڈ کے اخراجات آتے ہیں لیکن جیکولین ہاروی نے ڈسکاﺅنٹ ریٹ پر ساڑھے 4 ہزار پاﺅنڈ میں آپریشن کرایا۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •