وہ مفلوک الحال دھوبی جس نے ناول لکھ کر اربوں کما لیے


stephen-king-tabitha
سٹیفن کنگ اور ٹیبی

ٹیبی نے خوشی سے بے حال ہوتے ہوئے بتایا کہ بل تھامسن کا ٹیلی گرام آیا ہے۔ اس نے پہلے فون کرنے کی کوشش کی تھِی مگر یہ علم ہونے پر کہ سٹیفن کے گھر فون نہیں ہے، ٹیلی گرام بھیج دیا۔ ٹیلی گرام میں لکھا تھا کہ ناول قبول کر لیا گیا ہے اور اس کے لئے ڈھائی ہزار ڈالر کی ایڈوانس رقم دی جائے گی۔ آج کل کی ویلیو کے مطابق یہ رقم ساڑھے بارہ ہزار ڈالر بنتی ہے۔ اس زمانے کے لحاظ سے بھی یہ رقم کم تھی لیکن سٹیفن کنگ کو اس کا علم نہیں تھا اور اسے بتانے کے لئے اس کا کوئی لٹریری ایجنٹ نہیں تھا۔ جب تک اسے لٹریری ایجنٹ کی اہمیت کا پتہ چلا اس وقت تک وہ تین ملین ڈالر کما چکا تھا جس میں سے بیشتر حصہ اس کے پبلشر کی جیب میں گیا۔

ٹیبی نے پوچھا کہ کیا سٹیفن اب سکول کی جاب چھوڑ کر صرف کتابیں لکھ سکتا ہے؟ سٹیفن نے انکار کیا کیونکہ ڈھائی ہزار ڈالر سے ان کا گھر نہیں چل سکتا تھا۔ ٹیبی نے سوال کیا کہ اگر پبلشر نے ناول کے پیپر بیک (زیادہ تعداد میں شائع ہونے والی سستی کتابیں ) کے رائٹ بیچ دیے تو کتنے پیسے ملیں گے۔ سٹیفن کو اس کا نہیں پتہ تھا۔ ان دونوں سننے میں آ رہا تھا کہ ماریو پوزو کو ناول گاڈ فادر کے پیپر بیک ایڈیشن کے لئے چار لاکھ ڈالر (آج کی ویلیو کے مطابق بیس لاکھ ڈالر) ملے تھے لیکن اسے یقین نہیں تھا کہ اتنی رقم ملنا تو کجا اس کا ناول پیپر بیک ایڈیشن میں چھپے گا بھی یا نہیں۔ ٹیبی نے ہچکچاتے ہوئے پوچھا کہ اگر پیپر بیک بکا تو کتنے کا بکے گا۔ سٹیفن نے خیال ظاہر کیا کہ دس سے ساٹھ ہزار ڈالر کے درمیان، اور اس میں سے بھی آدھی رقم پبلشر لے جائے گا۔ تیس ہزار ڈالر بھی بہت بڑی رقم تھی جو سٹیفن کی چار سال کی ٹیچر کی تنخواہ کے برابر تھی۔

کچھ وقت گزر گیا۔ سٹیفن نے اپنے نئے ناول پر کام شروع کر دیا اور اگلے برس کے لئے ٹیچنگ کا معاہدہ سائن کر دیا۔ ایک اتوار ٹیبی بچوں کو لے کر اپنے ماں باپ کے گھر گئی ہوئی تھی اور سٹیفن گھر پر اکیلا تھا۔ فون کی گھنٹی بجی۔ بل تھامسن نے فون کیا تھا۔

کیا تم بیٹھے ہوئے ہو؟ بل نے پوچھا۔
نہیں۔ ہمارا فون کچن کی دیوار پر نصب ہے اور میں دروازے میں کھڑا ہوں، کیا مجھے بیٹھنے کی ضرورت ہے؟ سٹیفن نے جواب دیا۔

ہاں ضرورت پڑ سکتی ہے۔ ناول کے پیپر بیک رائٹ چار لاکھ ڈالر (آج کل کے حساب سے بیس لاکھ) میں فروخت ہوئے ہیں۔ بل نے بتایا۔
سٹیفن پر سکتہ سا طاری ہو گیا۔ وہ بات کرنے کے قابل نہیں رہا تھا۔ بل نے ہنستے ہوئے پوچھا کہ کیا وہ فون پر موجود ہے۔ اسے پتہ تھا کہ سٹیفن موجود تھا۔

سٹیفن کو یقین نہیں آیا کہ اس نے ٹھیک سے سنا ہے۔ یہ سوچ کر اس کی آواز واپس آئی۔
کیا تم نے چالیس ہزار ڈالر کہا ہے؟ سٹیفن نے پوچھا۔
چار لاکھ ڈالر۔ اور معاہدے کے مطابق دو لاکھ ڈالر تمہارے ہیں۔ مبارک ہو سٹیو۔

سٹیفن دروازے میں کھڑا لونگ روم کے پرلی طرف بیڈ روم میں دیکھ رہا تھا جہاں وہ پنگھوڑا پڑا تھا جس میں اس کا بیٹا سوتا تھا۔ اس کے خستہ حال فلیٹ کا ماہانہ کرایہ نوے ڈالر تھا اور یہ شخص اسے بتا رہا تھا کہ اس کی لاٹری نکل آئی ہے۔ سٹیفن کی ٹانگوں سے جان نکل گئی۔ وہ زمین پر گرا تو نہیں لیکن بیٹھ گیا۔

کیا تمہیں یقین ہے بل؟
بل تھامسن نے اثبات میں جواب دیا۔ سٹیفن نے اسے آہستہ آہستہ نمبر دہرانے کو کہا تاکہ وہ ٹھیک سے سن سکے اور کوئی غلط فہمی نہ ہو۔ سٹیفن نے کہا کہ نمبر میں سب سے پہلے چار آتا ہے اور اس کے بعد پانچ صفر۔

stephen king
سٹیفن کنگ

اس کے بعد دونوں آدھے گھنٹے باتیں کرتے رہے مگر سٹیفن کو کچھ خبر نہیں کہ وہ کیا باتیں کر رہے تھے۔ جب کال بند ہوئی تو سٹیفن نے ٹیبی کی ماں کے گھر فون کیا۔ اس کی بہن نے بتایا کہ وہ پہلے ہی گھر سے نکل چکی ہے۔ سٹیفن بے قرار ہو کر فلیٹ میں چہل قدمی کرتا رہا۔ اس کے پاس ایک بہترین خبر تھی مگر کوئی ایسا نہ تھا جسے وہ خبر سنا سکتا۔ اس نے بے چین ہو کر جوتے پہنے اور باہر موجودہ واحد دکان پر چلا گیا جو فارمیسی تھی۔ اسے اچانک یاد آیا تھا کہ اسے ٹیبی کو مدرز ڈے کا تحفہ دینا چاہیے تھا۔ سٹیفن ایک بہترین قسم کا تحفہ دینا چاہتا تھا مگر فارمیسی پر بھلا کیا مل سکتا تھا۔ اس نے وہاں موجود بہترین آئٹم خرید لیا۔ ایک ہئیر ڈرائیر۔

جب سٹیفن واپس گھر پہنچا تو ٹیبی کچن میں تھی اور ریڈیو کے ساتھ ہم آہنگ ہو کر گانا گاتے ہوئے بچوں کا سامان ان پیک کر رہی تھی۔ سٹیفن نے اسے ہیئر ڈرائیر تھما دیا۔ ٹیبی نے ہئیر ڈرائیر کو ایسے دیکھا جیسے زندگی میں پہلے کبھی نہ دیکھا ہو۔ ”یہ کس لئے ہے؟ “ اس نے پوچھا۔

سٹیفن نے اسے شانوں سے تھاما اور پیپر بیک کے بارے میں بتایا۔ ٹیبی کو کچھ سمجھ نہیں آیا۔ سٹیفن نے اسے دوبارہ بتایا۔ ٹیبی نے سٹیفن کے پیچھے موجود گندے سے فلیٹ کو ویسے ہی دیکھا جیسے سٹیفن نے دیکھا تھا اور رونا شروع کر دیا۔ سٹیفن کنگ کی ماں اس کے اچھے دن دیکھنے سے پہلے ہی کینسر کے ہاتھوں موت کی بازی ہار چکی تھی۔

اسی بارے میں

اردو میں کتاب چھپوا کر صرف عزت ملتی ہے

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔ Telegram: https://t.me/adnanwk2 Twitter: @adnanwk

adnan-khan-kakar has 1544 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar