جیل میں موجود پروفیسر کی لاش


ہمارا معاشرہ اب بغیر کسی بھی اجتماعی یادداشت کا معاشرہ ہے۔ ایسا معاشرہ جو کسی بھی معاملے پر بڑا وقتی اور جذباتی سا ردعمل دیتا ہے۔ پھر اس طرح اس واقعے کو بھول جاتا ہے جیسے وہ کبھی پیش ہی نہ آیا ہو۔ ایک سال قبل معصوم زینب کا قتل ہر شخص کی زبان پر تھا۔ تب وہ بیچاری بچی ہر سوشل میڈیا پروفائل پر نظر آتی تھی۔ مگر اب وہ کسی کو یاد بھی نہیں، بس اسی طرح ہر مہینے، ہر دن، ہر گھنٹے، ہر پل ہمارے معاشرے کو کوئی نہ کوئی جذباتی کھلونا مل جاتا ہے۔ لوگ تھوڑی دیر اس پر واویلا کرتے ہیں، پھر بھول جاتے ہیں۔ کہنے کو یہ لوگ کسی چیز کے خلاف ہوتے ہیں، جذباتی ہوتے ہیں۔ مگر اصل میں یہ لوگ اپنے رویے سے اس شخص، اس واقعے کی توہین کر رہے ہوتے ہیں۔ ان کا یہ عارضی سا ردعمل کبھی حالات بدل نہیں سکتا۔

کچھ عرصہ قبل اسی طرح پروفیسر جاوید کی زنجیر بندھی لاش کی تصویر نے سوشل میڈیا پر بڑی دھوم مچائی۔ لوگوں نے جیل انتظامیہ کو بھی گالیاں بکیں اور کچھ لوگوں نے نیب کے لئے بھی دشنام طرازی کی اور پھر حسب سابق بات آئی گئی ہو گئی۔ تب فواد چوہدری نے اس واقعے پر اپنی سیاست چمکانے کی کوشش کرتے ہوئے طاقتور اور کمزور کا بڑا موازنہ کیا تھا کہ کیسے طاقتور کے لئے گھر کو سب جیل قرار دیا جاتا ہے اور کیسے غریب زنجیروں میں لپٹا ہوا مرتا ہے۔

تب شاید وہ بھول گئے تھے کہ وہ اب حزب اختلاف میں نہیں حکومت میں ہیں مگر چھوڑیے فواد چوہدری کو سنجیدہ لینا ہی بڑی غلطی ہے۔ مگر بات یہ ہے کہ کیا کسی لاش پر یوں زنجیر کا بندھا ہونا جائز تھا، ٹھیک تھا، ایسا ہی ہونا چاہیے تھا؟ فرض کریں کہ یہ شخص ایک پروفیسر نہ ہوتا، ایک جامعہ کا سی ای او نہ ہوتا بلکہ ایک خطرناک قاتل ہوتا تو بھی کیا لاش کو یوں زنجیر میں باندھنا جائز ہوتا؟

مگر اس سوال کا کوئی جواب دینے سے قبل راقم قارئین کو کچھ کم مقبول واقعات کے حوالے سے بتانا ضروری سمجھتا ہے۔ 2018 ء کے نومبر میں سینٹرل جیل کراچی میں ایک صبح قیدی عدالت جانے کے لئے دروازے کے پاس جمع تھے، ایسے میں بینکنگ اور اینٹی کرپشن کورٹ کے قیدیوں کے لئے آواز لگی تو ایک سرکاری محکمے کے بڑے افسر سر جھکائے آ کر کھڑے ہو گئے، ان کو وہیں جیل کے دروازے پر دل کا دورہ پڑا۔ جیل عملہ جلدی سے بیچارے کو لے کر ویل چیئر پر ڈال کر اسپتال بھاگا مگر وہ راستے میں ہی راہی ملک عدم ہوئے۔

مرحوم کا نام شاہد صدیقی تھا۔ مرحوم پر نیب اور اینٹی کرپشن کے مقدمات قائم کیے گئے تھے۔ جب ان کا انتقال ہوا اس سے محض چند دن قبل نیب نے ان کی بیماری کی بنیاد پر لگائی گئی ضمانت کی درخواست مسترد کی تھی۔ مرحوم کے وکیل نے نیب کی عدالت میں استدعا کی تھی کہ وہ بہت بیمار ہیں، عدالت رحم کرے ورنہ وہ جیل میں ہی مر جائیں گے۔ مبینہ طور پر عدالت میں جج صاحب یہ بات سن کر ہنسے تھے۔ انہوں نے فرمایا تھا کہ جیل پہنچ کر سب بیمار بن جاتے ہیں۔

اس سے قبل 2017 ء کے اپریل میں ادارہ ترقیات کراچی (KDA) کے عبدالقوی خان صاحب کی ضمانت کی درخواست عدالت نے کچھ ایسی ہی شان سے مسترد کی تھی۔ کہا گیا تھا کہ بیماری کا سوانگ رچایا جاتا ہے۔ قوی خان کا 4 اپریل 2017 ء کو دل کے دورے سے سینٹرل جیل کراچی میں انتقال ہو گیا۔ تھوڑی ہمت کیجئے اور معلوم کریں کہ ادارہ ترقیات کراچی کے فرید یوسفانی صاحب کی صحت کس قدر ابتر حالت میں ہے مگر اس 80 سال کے بوڑھے کو بھی عدالت نہ ضمانت پر رہائی دیتی ہے نہ ہی علاج کے لئے اسپتال بھجواتی ہے، نہ کیس چلایا جاتا ہے، چار سال سے یہ بوڑھا شخص ہر دن جیل میں مر رہا ہے۔

ایسے ایک دو نہیں سیکڑوں افراد محض سینٹرل جیل کراچی میں موجود ہیں۔ لوگ کہتے ہیں کہ یہ افراد مجرم ہیں تو کیا ان کو سر پر بٹھائیں۔ لوگ یہ بھول جاتے ہیں کہ ان میں سے اکثر افراد عدالت میں فیصلہ ہونے پر بے گناہ ثابت ہوتے ہیں۔ یہ افراد جو تھوک کے بھاؤ نیب نے جیلوں میں بھر رکھے ہیں اور جن کی ضمانت پانچ پانچ سال تک نہیں ہوتی اور کیس بھی نہیں چلائے جاتے۔ یہ سارے ہی چھوٹے موٹے کاروباری ہیں یا پھر سرکاری اداروں کے 10، 15 گریڈ کے افسران۔

نیب کارکردگی دکھانے کے لئے ان چھوٹے موٹے لوگوں کو بدعنوانی کے الزام میں بند کر دیتا ہے۔ ابتداء میں نیب کے افسران بھاری رشوت طلب کرتے ہیں، جب کوئی دینے سے انکار کرے تو اسے ریفرنس بنا کر جیل میں بھیج دیا جاتا ہے۔ ڈاکٹر مجاہد کامران اور دیگر سیکڑوں افراد کا بیان ہے کہ نیب نہایت بہیمانہ اور غیر انسانی تشدد کرتا ہے۔

نیب کے قیدی اس ادارے کو نیشنل اکاؤنٹی بلٹی بیورو نہیں نیشنل ایبڈکشن بیورو (قومی ادارہ برائے تاوان) کہتے ہیں، جو جیل پہنچ جاتا ہے اسے مر کر رہائی ملتی ہے یا 5، 8 سال جیل میں سڑ کر بریت ملتی ہے۔ جو مر نہیں سکتے وہ انتظار کر لیتے ہیں۔ نیب عدالت سے بریت نہ ملے تو ہائی کورٹ سے مل جاتی ہے۔

بات یہ ہے کہ نیب چاہتا ہے کہ اپنی ہیبت سب کے دلوں میں بٹھا دے۔ اسی لئے ہم دیکھتے ہیں کہ بوڑھے پروفیسر مجاہد کامران کو غلاموں کی منڈی کی طرح زنجیر میں باندھ کر عدالت میں پیش کیا جاتا ہے۔ اسی لئے ہم دیکھتے ہیں کہ نیب نے ملزم کی موت کے بعد بھی اس کی لاش کو ہتھکڑی لگا کر زنجیر سے باندھ کر اس کی نمائش کی۔

یہ غلطی نہیں بلکہ دہشت قائم کرنے کا طریقہ ہے تا کہ کسی کو نیب کے سامنے چوں کرنے کی جرات نہ ہو۔ کوئی نیب پر سوال نہ اٹھا سکے اور دہشت بٹھانے کے لئے بیچارے پروفیسروں سے آسان شکار کون ہو گا؟ یہ کون سا کبھی حکمران بن سکتے ہیں؟ ان کی ویسے بھی سماج میں کیا عزت ہے؟ اِن کی کون سی اوقات ہے؟ اِن کی لاش پر بھی زنجیر باندھنے سے کون سی قیامت آ گئی؟

Facebook Comments HS