غالب، غالب، غالب کا راگ


ہم نے بھی اپنے بچپن میں عامر لیاقت حسین صاحب کی طرح نصیر الدین شاہ صاحب والا گلزار کا لکھا غالب ڈرامہ دیکھا ہوا ہے۔ عامر بھائی اسے غالب فلم کہہ گئے تھے مگر ظاہر ہے کہ مرزا غالب پر بننے والی بھارتی فلم تو نہ اتنی مقبول ہے نہ اتنی اچھی۔ گلزار صاحب کا تخلیق کردہ ڈرامہ غالب پر بننے والے تمام ڈراموں اور فلموں سے بہت بہتر ہے مگر گلزار صاحب کے بھی کچھ مسائل ہیں۔ ایک مسئلہ تو گلزار صاحب سے بڑھ کر سیکولر بھارت کا ہے کہ جو بھی شخص ماضی میں بہتر تھا، اعلیٰ تھا، معروف تھا، اسے کسی طرح سے بس سیکولرازم اور لبرل ازم کا ہی کوئی قدیم نمونہ بنا دیا جائے۔ بے چارہ غالب تو شاعر تھا ورنہ اکبر اور اشوک اعظم بھی اس تحریک سے نہیں بچ سکے۔

مگر ہمارا آج کا موضوع یہ نہیں۔ سچ یہ ہے کہ غالب کی شاعری پر کوئی بات کرنے کی بھی ہماری جرأت نہیں۔ اگر ہم غالب کی شاعری پر ایک لفظ بھی لکھیں گے تو محض بحیثیت طالب علم مگر ہم آج غالب پر نہیں بلکہ برصغیر میں غالب غالب کی تکرار پر اور اس کے پیچھے موجود نفسیاتی وجوہات کو زیر بحث لانا چاہتے ہیں۔

کچھ عرصہ گزرا کہ بدقسمتی سے ہم کو PTV دیکھنے کا اتفاق ہوا۔ معلوم ہوا کہ غالب کی 150 ویں برسی یا یوم پیدائش منانے کی کوئی کوشش جاری ہے۔ ایوان صدر میں پروگرام ہو رہا ہے، غالب کی غزلیں پڑھی جا رہی ہیں، گائی جا رہی ہیں، سامنے نصیر الدین شاہ صاحب بھی براجمان ہیں۔

کتنی عجیب بات ہے کہ برصغیر پاک و ہند میں آج غالب کا ایک عجیب سا سرکاری قسم کا شہرہ ہے اور پڑھے لکھے طبقے میں لوگ غالب کو پڑھتے بھی ہیں اور غالب بڑی حد تک ایک فیشن بھی ہے مگر اپنے عہد میں نہ تو غالب کو مقبولیت عام ملی نہ ہی سراہا ہی گیا۔ خود غالب زمانے کے اس انداز پر نالاں رہا، کڑھتا رہا، کراہتا رہا۔

دیکھ کر طرز تپاک اہل دنیا جل گیا

تب اور ہی شعراء لوگوں کو بھاتے تھے، زوق معروف تھے، میرؔ، مصحفیؔ وغیرہ کا سکہ چلتا تھا۔ وہ دور آج سے ہزار گنا بہتر ادبی ذوق کا دور تھا اور شعر گوئی تو دلّی، لکھنؤ کا بچہ بچہ اس سے بہت اچھی کر لیتا تھا جیسی آج کے اچھے شعراء کرتے ہیں مگر اس دور میں غالب نامقبول رہا۔ سلیم احمد جیسے حکماء ادب کے نزدیک غالبؔ کی تب نامقبولیت اور اب ستائش کی وجہ یہ ہے کہ غالبؔ میں وہ عناصر موجود ہیں جو بڑی حد تک جدید انسان یا غیر روایتی انسان کے خواص ہیں۔ جوں جوں معاشرہ جدیدیت میں ڈوبتا جاتا ہے غالب مقبول ہوتا جاتا ہے، مگر ہمیں غالب کی مقبولیت پر اعتراض نہیں، ہم تو یہ سمجھتے ہیں کہ غالب کو بھی سمجھنے کی پڑھنے کی اگر حقیقی طلب اس معاشرے میں بیدار ہو جائے تو بھی بہت سے لوگوں کے لئے خود آگاہی کا راستہ کھل جائے۔ غالب صرف انا کی آواز تو نہیں بلکہ

نہ گل نغمہ ہوں نہ پردہ ساز
میں ہوں اپنی شکست کی آواز
اور
غالبِ خستہ کے بغیر کون سے کام بند ہیں
اور
اور سن کے ستم ظریف نے مجھ کو اٹھا دیا کہ ”یوں“

مگر غالب کی یہ تفہیم یا کسی بھی حد تک تفہیم بھی ہمارے سماج میں نہیں۔ یہ وہ سماج ہے جو پھر بھی اردو سے جڑا ہے، بھارت کا تو آسانی سے اندازہ ہو سکتا ہے غالب غالب کے شور کے باوجود بھی وہاں غالب سے آگاہی محض غالب ڈرامے سے زیادہ نہیں۔ غالب کی مجاوری کرنے والے تمام ہی افراد نے غالب کو ایک جیتے جاگتے انسان، ایک سانس لینے والے وجود کی جگہ کسی نوع کا مجسمہ، بت بنا دیا ہے۔ یہ افراد غالب کا نام لے کر ادب کے ساتھ خصوصاً شاعری کے ساتھ فلرٹ کر رہے ہیں۔

ہمارا معاشرہ بھول گیا کہ شاعروں کے یوم ولادت منانے، برسیاں منانے، ان کی مجاوری کرنے سے کچھ حاصل نہیں ہوتا۔ یاد کیجئے آج سے محض 200 سال قبل جب شاعری ہمارے سماج کی رگ رگ میں سمائی ہوئی تھی تب کسی شاعر و داستان نویس کی ہمارے یہاں نہ مجاوری تھی نہ میلے اور یادگاریں تھیں۔ ہاں یہ ضرور تھا کہ تب قابل ذکر شعراء پورے پورے لوگوں کے حافظے میں ہوتے، اس کی سب سے بڑی مثال آج سے محض 80 سال قبل تک حافظ شیرازی تھے۔

مگر ظاہر ہے کہ دور قدیم میں ادبی ہونا کسی قسم کے عظمت کے، دکھاوے کے persona سے جڑا ہوا نہیں تھا۔ شاعروں، ادیبوں کی کفالت بادشاہ کرتے تھے، اس لئے کہ وہ ہر قسم کے ہنر اور ذہانت کے نمونے کی پذیرائی کرنا چاہتے تھے اور چاہتے کہ ایسی ہر عظیم شے ان کے دربار سے منسوب ہو جائے۔ یہ تاریخ میں زندہ رہنے کی ان کی سعی تھی۔

مگر دور جدید کے اجراء کے بعد سے مڈل کلاس نے جنم لیا اور اس کی بے رنگ اور سست زندگی نے نت نئے شو پیس اپنی ذات سے جوڑ کر خود کو کچھ اہم بنانے کا شوق سماج کے ایک بہت بڑے طبقے کو دے دیا۔ اس شوق نے یہ ادبی ڈھونگ، یہ شاعروں، ادیبوں کی مجاوری، یہ شاعروں کی زندگی سے مثالی عظمت تلاش کرنے اور نہ ملنے پر ان میں خیالی عظمت تراشنے کو پروان چڑھایا ہے۔

یہ معاشرہ جو ادب ادب کا اتنا شور کرتا ہے، یہ ادباء کی حقیقی زندگی کے ہر رنگ کو نہ سن سکتا ہے نہ ہی برداشت کر سکتا ہے۔ راقم کو یاد ہے کہ جامعہ کے زمانے میں جب اس نے اپنے ایک ادبی امیج کے شکار دوست کو جب غالب کے خطوط اور ان میں گالیوں کے استعمال کا بتایا تو اس نے ماننے سے بالکل انکار کر دیا۔ یہ اتنا عجیب معاشرہ ہے کہ میرؔ کی شاعری میں الہیات اور تصوف کے اعلیٰ ترین بیان کے ساتھ ساتھ ہی ہجویات کا ہونا یا شاعری میں گالیوں کے استعمال کو تسلیم کرنے پر تیا رنہیں۔

یہ معاشرہ شاید یہ ماننے پر تیار نہ ہو کہ غالب نے جو قصیدے بہادر شاہ کے لئے لکھے تھے ان میں نام بدل کر بعد میں میکلوڈ بہادر اور دیگر انگریزوں کے درباروں میں پیش کرتا رہا۔ یہ وہی غالب تھا جو کہتا تھا کہ بندگی میں بھی وہ اتنا خودسر ہے کہ درکعبہ وا نہ ہونے پر سیدھا پھر آیا، اتنی بڑی انا والا غالب عرصے تک گورنر میکلوڈ بہادر کے دربار سے وظیفہ پانے، وہاں سے مراسم پیدا کرنے کے لئے سرتوڑ کوششیں کرتا رہا۔ یہی غالب ہر حاکم، رئیس کے در کے چکر کاٹتا رہا۔

پھر غالب کے عظیم شاعر ہونے (یا کسی کا بھی عظیم فنکار ہونے ) کایہ مطلب ہر گز نہیں کہ وہ ایک عظیم انسان بھی تھا۔ فنکاروں میں مصلحین تراشنے کی ہماری قومی بیماری ہماری اجتماعی رومانویت پسندی کا نتیجہ ہے اور یہی وجہ ہے کہ ہم حقیقت کو کبھی تسلیم ہی نہیں کر پاتے۔ یہی وجہ ہے کہ ہم تاریخ کا انکار کر دیتے ہیں اور اس پر نہ فخر کر پاتے ہیں نہ اس سے عبرت حاصل کر پاتے ہیں، نہ کچھ سیکھ پاتے ہیں۔

غالب بڑا شاعر تھا مگر اس کے مجاور اسے شاعر یا انسان نہیں صرف و محض ایک تصویر سمجھتے ہیں۔ ایک ایسی تصویر جس کو اپنے ڈرائنگ روم میں سجا کر وہ خود کو کچھ بڑا کچھ اہم سمجھتے ہیں، کاش کہ اس تصویر میں چھپے انسان کو اس کی تمام تر کمزوریوں کے ساتھ دیکھا جاتا۔ پرکھا جاتا، مانا جاتا، اس پر غور کیا جاتا۔ جب غالب کو اپنے دور میں قبولیت عام نہ ملی تھی تب بھی وہ نالاں تھے مگر یہ پرتصنع جھوٹی مجاوری بھی غالب کو ہر گز نہ بھاتی ہو گی۔ اگر وہ دوبارہ جی اٹھیں تو سب سے پہلے اپنے ان مجاوروں کو وہی پرانی دلّی کی گالیاں دیں گے جن سے ان کے خطوط بھرے ہوئے ہیں۔ مگر ظاہر ہے کہ ایسا ہو گا نہیں، اس لئے ان سب کی دکانیں چلتی رہتی ہیں، غالب غالب غالب کا راگ الاپا جاتا ہے، سر دھنا جاتا ہے، آپ بھی دھنئے۔

Facebook Comments HS