نئی دُنیا میں پرانی سیاسی جماعتوں کا مستقبل

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

یہ 21ویں صدی ہے، ہزاروں سال پرانی دنیا سے یکسر مختلف ایک نئی دنیا جنم لے چکی ہے ۔آپ معاشی، سیاسی اور سماجی زندگی کا کوئی بھی شعبہ دیکھ لیں، ہر طرف آپ کو حیرت زدہ کردینے والے نئے مظاہر نظر آئیں گے ۔

معلومات کا سیلاب سب کو اپنی لپیٹ میں لے چکا ہے ، جدید ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت نے پرانی ٹیکنالوجی کو فرسودہ بنادیا ہے ۔ اس دور کو زیادہ تر سماجی سائنسدان اسے چوتھے صنعتی انقلاب سے تعبیر کرتے ہیں۔ پہلے صنعتی انقلاب کے نتیجے میں بڑے بڑے صنعتی خاندان وجود میں آئے۔ یہ گھرانے ڈیڑھ سو سال سے زیادہ عرصے تک عالمی معیشت پر قابض رہے اور نو آبادیاں قائم کرکے پوری دنیا کو غلام بنالیا۔

20ویں صدی کی اختتامی اور 21ویں صدی کی ابتدائی دہائیوں میں کایا پلٹ ہوگئی۔ پرانے دور کے نامی گرامی صنعتی اور کاروباری خاندان آج بھی موجود ہیں لیکن ان کی اجارہ داری ختم ہورہی ہے۔ انھیں ایسے نوجوانوں سے مسابقت کا سامنا ہے جن کا کوئی کاروباری پس منظر نہیں ہے اور زیادہ تر کا تعلق متوسط گھرانوں سے ہے ۔یہ وہ نوجوان ہیں جو سرمائے سے محروم ہیں لیکن ان کے پاس ایسے آئیڈیاز ہیں جن کے ذریعے جدید ٹیکنالوجی سے زبردست فائدہ حاصل کیا جا سکتا ہے ۔

پرانی ٹیکنالوجی کو نئے خیال کی ضرورت نہیں تھی۔ ماضی کے برعکس آج جس کے پاس بھی کوئی نیا اور اچھوتا خیال ہوتا ہے ، کامیابی کے دروازے اس کے لیے کھل جاتے ہیں۔ گزشتہ 30برسوں میں نئے خیالات کے ذریعے کاروبار کرنے والے نوجوانوں کا ایک ایسا بڑا طبقہ پیدا ہوگیا ہے جس نے 20ویں صدی کے دیوہیکل کاروباری خاندانوں کو بہت پیچھے چھوڑ دیا ہے ۔

جس طرح معیشت پر سے خاندانوں کی اجارہ داریوں کا خاتمہ ہورہا ہے اس طرح سیاست کے میدان میں بھی تبدیلی رونما ہورہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے کئی دانشور ہر وقت یہ اعلان کرتے نظر آتے ہیں کہ جب تک پاکستان کی سیاست پر خاندانوں کی اجارہ داری ختم نہیں ہوگی، اس وقت تک ملک ترقی نہیں کرسکے گا۔ یہ دلیل بہ ظاہر کافی وزنی ہے ۔ تاہم، سیاست کے شعبے میں تبدیلی بتدریج آتی ہے ، راتوں رات یہاں کسی انقلاب کی توقع نہیں کی جانی چاہیے۔ کاروبار اور سیاست میں ایک بنیادی فرق ہے ۔

صنعت اور کاروبار کی سمت کا تعین ٹیکنالوجی اور سرمایہ کے ذریعے ہوتا ہے جب کہ سیاست میں عروج اور زوال کا فیصلہ عام شہری کرتے ہیں ۔ عوام دانشور نہیں ہوتے لیکن ان کے اندر آنے والے دور کے تقاضوں کا اندازہ لگانے اور یہ سمجھنے کی غیر معمولی دانش موجود ہوتی ہے کہ کون سا سیاسی رہنما یا جماعت مستقبل میں ان کے مفادات کا بہتر تحفظ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

اس حوالے سے لوگ اپنے ماضی کے تجربات پر انحصار کرتے ہیں ۔ جن سیاستدانوں کی ماضی میں کارکردگی اچھی رہتی ہے ، انھیں عوام کی حمایت حاصل ہوتی ہے ۔ جو اس امتحان پر پورا نہیں اترتے وہ رفتہ رفتہ سیاسی منظر نامے سے اوجھل ہوتے چلے جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ خاندانی اور وراثتی سیاست کے خلاف مہم چلانے والے دانش وروں کو اس وقت سخت کوفت سے دوچار ہونا پڑتا ہے جب عام انتخابات میں ووٹر ان جماعتوں کو کامیابی سے ہم کنار کرادیتے ہیں ، جن پر خاندانی جماعت ہونے کے الزامات لگائے جاتے ہیں ۔

وراثتی سیاست کے خلاف نعرہ چونکہ جمہوریت کا راستہ روکنے کے لیے لگایا جاتا ہے لہٰذا اسے عوام کی پذیرائی حاصل نہیں ہوتی۔ ہمارے دانشور جب تک اس حقیقت کو تسلیم نہیں کریں گے کہ سیاسی عمل کسی انجینئرنگ سے نہیں بلکہ عوام کی اجتماعی دانش کے ذریعے آگے بڑھتا ہے اس وقت تک انھیں بار بار اسی کرب اور مایوسی سے گزرنا پڑتا رہے گا ۔

ہر وہ سیاسی رہنما جو خود کو قومی ، علاقائی اور عالمی تبدیلیوں سے ہم آہنگ کرے گا وہ آگے بڑھے گا اور جو سیاسی جماعت ارتقائی عمل کی مزاحمت کرے گی وہ ماضی میں دفن ہوجائے گی۔ اس اصول کا اطلاق خاندانی ، غیر خاندانی ، مذہبی ، سیکولر ، انقلابی ، نظریاتی اور قوم پرست سمیت ہر جماعت پر ہوتا ہے ۔

دنیا کے اکثر ملکوں کی طرح پاکستان میں پرانی سیاسی جماعتوں کو تبدیلی کے عمل سے گزرنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے کیونکہ پرانی سیاسی جماعتوں کے سیاسی افکار مخصوص طرز کے ہوتے ہیں اور ان میں زیادہ لچک نہیں ہوتی ہے ۔ کارکنوں کی بڑی تعداد کی سیاسی تربیت کا محور چند نعرے اور شخصیات ہوتی ہیں۔

ایسی جماعتوں کے لیے اپنے کارکنوں کی سیاسی سوچ کو تبدیل کرنا بہت مشکل ہوتا ہے۔تبدیل شدہ صورتحال میں یہ جماعتیں اپنے متذبذب کارکنوں کو نئے نعروں پر فوری طور پر متحرک نہیں کرپاتیں جس کا انھیں سیاسی اور انتخابی میدان میں نقصان اٹھانا پڑتا ہے ۔

اس حوالے سے پیپلز پارٹی کی مثال ہمارے سامنے ہے۔ یہ سینٹر لیفٹ پارٹی ہے ، سوشل ازم کی جانب اس کا جھکاؤ زیادہ تھا اور سرد جنگ کے دور میں وہ چین کے قریب اور ہندوستان و امریکا سے دور تھی۔ یہ پارٹی کاروبار دوست نہیں کیونکہ یہ ایسی معاشی اصلاحات کی مخالفت کرتی ہے جس سے عوام متاثر ہوتے ہیں۔ اس کے ایجنڈے میں لوگوں کو روزگار سے محروم کرنا نہیں بلکہ انھیں روزگار دینا شامل ہے ۔

یہی وجہ ہے کہ یہ پارٹی نجکاری کی حامی نہیں ہے۔ پارٹی کے تمام کارکنوں کی سیاسی تربیت انھی اصولوں کی بنیاد پر ہوئی ہے۔ آج کی بدلی ہوئی دنیا میں کارکنوں کا نئی سوچ میں ڈھلنا بہت مشکل کام ہے ۔ حالیہ برسوں میں پیپلز پارٹی کو اپنے پرانے معاشی نظریے اور کارکنوں کی مخصوص سیاسی سوچ کی وجہ سے بے پناہ نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ دوسری مثال مسلم لیگ نواز کی دی جاسکتی ہے ۔ آزادی کے بعد سے یہ جماعت غیر جمہوری طاقتوں کا آلہ کار بنی ہوئی تھی ۔ ملک میں جمہوریت کو سب سے زیادہ نقصان مسلم لیگ نے پہنچایا تھا۔

نواز شریف نے مسلم لیگ کو روایتی ڈگر سے ہٹاکر ایک جمہوری پارٹی بنانے کی کوشش کی جس کے نتائج وہ اس وقت بھی بھگت رہے ہیں۔ مسلم لیگ کے کارکن روایتی طور پر اسٹیبلشمنٹ نواز سیاست کے عادی رہے ہیں۔سیاسی مزاحمت ان کے مزاج میں شامل نہیں ہے۔

وہ ماضی کے گھسے پٹے نعروں میں زیادہ کشش محسوس کرتے ہیں اور خود کو نواز شریف کی مزاحمتی سیاست سے ہم آہنگ کرنے میں مشکل محسوس کرتے ہیں۔ مسلم لیگ کے رہنما اور کارکن اس تذبذب اور دودلی کی کیفیت سے باہر نکلیں گے تو پارٹی فعال ہوگی ورنہ میاں صاحب کو ابھی کچھ اور وقت تک اس امتحان سے گزرنا پڑیگا۔

جہاں تک مذہبی اور بائیں بازو کی جماعتوں کا تعلق ہے تو وہ دونوں بھی مشکل سے گرفتار ہیں۔ اس طرح کی جماعتیں سرد جنگ کے دور تک کچھ اثر و رسوخ کی حامل تھیں کیونکہ مذہبی جماعتوں کو امریکا اور اس کے اتحادی جب کہ بائیں بازو کی انقلابی جماعتوں کو سوویت یونین اور چین کی اخلاقی و سیاسی حمایت حاصل تھی ۔

سرد جنگ کے خاتمے کے بعد یہ نظریاتی جماعتیں عملاً بے اثر ہوکر رہ گئی ہیں۔ حالیہ انتخابات میں ان کی غیر معمولی ناکامی اس صورتحال کا منطقی نتیجہ ہے۔ جہاں تک قوم پرست جماعتوں کا تعلق ہے تو بدلی ہوئی دنیا میں دوسروں سے کٹ کر ترقی کرنا ممکن نہیں رہا لہٰذا یہ جماعتیں بھی اپنے انتہا پسندانہ موقف کے باعث عوام سے کٹ کر رہ گئی ہیں۔

مذکورہ بالا منفی عوامل کے باوجود یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ پرانی سیاسی جماعتوں کو بعض حوالوں سے سبقت بھی حاصل ہے ۔ لوگ ان جماعتوں کے بزرگ رہنماؤں کی عزت اور احترام کرتے ہیں۔ ووٹروں کی نسل در نسل ان جماعتوں کو ووٹ دینے کی عادی ہوتی ہے اور ان کے لیے اپنے روایتی رحجان کو تبدیل کرنا کافی مشکل ہوتا ہے ۔ ان جماعتوں کے انتخابی امیدوار جانے پہچانے ہوتے ہیں۔ وہ اپنے حلقے کے ووٹروں سے ہمیشہ رابطے میں رہتے ہیں اور ان کے دکھ سکھ میں شریک ہوتے ہیں ۔

عام انتخابات میں حصہ لینا ہمیشہ ایک مشکل اور پیچیدہ عمل ہوتا ہے۔ ووٹر لسٹوں کا حصول ، پولنگ ایجنٹوں کا انتخاب اور تربیت ، ووٹروں کو گھروں سے پولنگ بوتھ تک لانا ، حلقے کے بااثر اور بزرگوں کے ذریعے ووٹروں کی حمایت حاصل کرنے جیسے متعدد مسائل کا سامنا صرف تجربہ کار امیدوار اور سیاسی کارکن ہی کرسکتے ہیں۔

ان تمام عوامل کے علاوہ ان جماعتوں کو ایک فائدہ یہ بھی حاصل ہے کہ نئی ابھرتی ہوئی با شعور مڈل کلاس کے پاس اپنا سیاسی کردار ادا کرنے کے لیے ان سیاسی جماعتوں کے علاوہ کوئی دوسرا انتخاب بھی موجود نہیں ہے۔ اس حوالے سے حالیہ انتخابات میں ایک تجربہ کرکے دیکھ لیا گیا ہے جو زیادہ کامیاب ثابت نہیں ہوسکے گا کیونکہ 21ویں صدی کی نئی دنیا میں اسٹیٹس کو کی کوئی جگہ باقی نہیں رہی ۔

ہمارے لیے بہتر راستہ یہی ہوگا کہ سیاسی انجینئرنگ سے گریز کرتے ہوئے جمہوریت کو فطری انداز میں آگے بڑھنے دیا جائے ۔ تاکہ سیاسی جماعتیں خود کو جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرکے ملک کو ترقی اور استحکام کی راہ پر گامزن کرسکیں ۔

بشکریہ روزنامہ ایکسپریس

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں