’’ہم سب گوری ہیں‘‘

انتہا پسندی اور دہشتگردی دنیا کو جس طرح اپنی لپیٹ میں لے چکی ہے اس کا تازہ ترین مظاہرہ ہم نے نیوزی لینڈ میں 2 مساجد پر ہونے والے خونی حملے میں دیکھا جس میں اب تک 50افراد ختم ہوچکے ہیں اور کئی جاں کنی کے عالم میں ہیں ۔ اس نوعیت کے حملے اب…

Read more

موت سے آنکھ مچولی

افغانستان سے خبریں آرہی ہیں کہ سالہا سال بعد وہاں امن قائم ہونے کو ہے۔ امریکی صدر کا کہنا ہے کہ 17 برس کے بعد اب وہ وہاں سے امریکی فوجوں کو نکال لیں گے۔ قطر میں 16 دن تک امن بات چیت کرنے والے ملا عبدالغنی برادر سے صرف افغانی نہیں، پاکستانی بھی بہ خوبی واقف ہیں اس لیے کہ پچھلے برس وہ پاکستان کی جیل سے چھوٹ کر گئے ہیں۔

افغان ان کے اثر و رسوخ سے بہ خوبی واقف ہیں اور اس لیے ان کے دورِ اقتدار میں خواتین گھروں میں قید رکھی گئیں۔ لڑکیوں کی تعلیم پر پابندی لگی، موسیقاروں اور گلوکاروں کے ساتھ بہت برا سلوک ہوا۔ کابل کے فٹ بال اسٹیڈیم میں لوگوں کو برسر عام سخت سزائیں دی جاتی تھیں جن میں ہاتھ کاٹنا، گردن اڑا دینا اور دوسری وہ سزائیں شامل تھیں جنھیں باہر کی دنیا میں غیر انسانی خیال کیا جاتا تھا۔

Read more

آج جنگ ،کل صلح ، پرسوں پھر جنگ…

ہماری دنیا پہلے زرعی دور سے گزری ہے ۔ دریائے نیل ہو یا دریائے سندھ ، ان کے کناروں پر کپاس کاشت کی گئی ، عورتوں نے چرخا چلایا ، دھاگا اورکپڑا بنا ، یوں دنیا مہذب دور میں داخل ہوئی ۔ اس کے بہت بعد لوہے کا دور آیا ، جب انسان نے دہکتی…

Read more

ہماری بہادر عورتیں

آج اگر برصغیر دنیا کے نقشے پر ایک شاندار اور باوقار سماج کے طور پر ابھر کر سامنے آیا ہے تو اس کا سہرا ان نامور اور گم نام عورتوں کے سر ہے جنہوں نے انیسویں صدی کے آخر سے اپنی بیٹیوں اور بہنوں کی تعلیم کے لیے جان لڑادی تھی۔ لگ بھگ ڈیڑھ سو برس کی اس خاموش جدوجہد کا نتیجہ ہے کہ آج ہمارے یہاں سروجنی نائیڈو سے فاطمہ جناح، رعنا لیاقت علی خان اور وجے لکشمی پنڈت سے بیگم نسیم ولی خان، طاہرہ مظہر علی خان، نصرت بھٹو اور بینظیر بھٹو تک باہمت اور جمہوریت کے لیے بے جگری سے لڑنے والی عورتوں کی قطار ہے۔ہم عصمت چغتائی کو کیسے بھول جائیں جنہوں نے کالج کی تعلیم پر پابندی لگانے والے اپنے رعب و دبدبے والے باپ سے کھلم کھلا یہ کہہ دیا تھا کہ اگر مجھے آگے پڑھنے کی اجازت نہ ملی تو میں ”کرشٹان“ ہوجاؤں گی۔ انگریز بہادر کی حکومت تھی، والد انگریز سرکار کے ملازم تھے، یہ دھمکی سن کر انھیں اپنی بیٹی کے سامنے ہتھیار ڈالتے بنی تھی۔ یہ وہی عصمت چغتائی ہیں جنہوں نے نہ صرف ادب میں جھنڈے گاڑے بلکہ بی اے بی ایڈ کرکے پہلی مسلمان انسپکٹرز آف اسکولز ہوئیں۔

Read more

23 بدقسمت جزیرے

عہد نامۂ قدیم کی رُو سے زمین پر پہلا قتل ہابیل نے کیا۔ پتھر سے کیے جانے والے اس کاروبارِ قتل کا سلسلہ پھیلتا ہی چلا گیا ، یہاں تک کہ انسانوں نے ہلاکت کو ایک نفع بخش پیشہ بنا لیا۔ لڑائیاں لڑی جانے لگیں۔ اپنی ریاست اور اپنی حکمرانی کے پھیلاؤ کا انسانوں کو…

Read more

حمزہ واحد کی یاد میں

ہم جنھیں اپنے گھرانوں سے تعلیم یا سماجی اور سیاسی شعور کے اظہار میں کسی نوعیت کی بندش کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔ وہ حمزہ واحد کی زندگی کی ابتدائی سختیوں کا اندازہ نہیں لگاسکتے جو انھیں اپنی والدہ کے ہاتھوں سہنی پڑیں۔ آج کا یادگاری لکچر حمزہ واحد کے نام ہے اور ہمیں جاننا…

Read more

سوچنے کا نہیں، بدلنے کا وقت ہے

پاکستان کو اس وقت معاشی اور سیاسی دونوں حوالوں سے مشکل صورتحال کا سامنا ہے ۔ کسی ملک کی معیشت اگر کساد بازاری یا افراطِ زر اورکم شرح نمو جیسے مسئلوں کے باعث بحران یا دیوالیہ پن کی صورتحال سے دوچار ہوجائے تو اُسے کس عذاب سے گزرنا پڑتا ہے ، اس کی درجنوں مثالیں…

Read more

نئی دُنیا میں پرانی سیاسی جماعتوں کا مستقبل

یہ 21ویں صدی ہے، ہزاروں سال پرانی دنیا سے یکسر مختلف ایک نئی دنیا جنم لے چکی ہے ۔آپ معاشی، سیاسی اور سماجی زندگی کا کوئی بھی شعبہ دیکھ لیں، ہر طرف آپ کو حیرت زدہ کردینے والے نئے مظاہر نظر آئیں گے ۔ معلومات کا سیلاب سب کو اپنی لپیٹ میں لے چکا ہے…

Read more

صحافیوں سے نمٹنے کا غلط طریقہ

دہائیوں پرانی بات ہے جب اگاتھا کرسٹی کے ناول اور اس کی مختصر کہانیاں پڑھنا لازم تھا۔ اس کے چند ناولوں کی تلخیص کی، کہانیوں کا ترجمہ کیا۔ اسی کی تحریریں پڑھ کر یہ جانا کہ قابیل سے اب تک کسی بھی قاتل کا جرم نہیں چھپتا اور ایک نہ ایک دن فاش ہو کر…

Read more

منٹو ، کھوٹا سکہ جو اشرفی ہوگیا

لاہورکے وہ لوگ جنہوں نے 18جنوری 1955 کی اداس دوپہرکو ایک جنازہ دیکھا جس میں شرکت کرنے والے معدودے چند لوگ تھے اور جس بلڈنگ سے وہ جنازہ اٹھا تھا، وہاں سے رونے والی عورتوں کی آنے والی آوازیں بھی مدھم تھیں، دیکھنے والوں میں سے چند نے لپک کر جنازے کوکندھا دیا، چند قدم…

Read more