سوبھوگیان چندانی؛ مت سہل ہمیں جانو

چند دنوں پہلے انجمن ترقی پسند مصنفین اور آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی کی جانب سے پاکستان کے عظیم سپوت اور انقلابی دانشور سوبھو گیان چندانی کے صد سالہ جشن پیدائش کے موقع پر ایک اہم کانفرنس کا انعقاد کیا گیا۔ میری خوش نصیبی تھی کہ مجھے بھی اس یادگار محفل میں اظہار خیال کے لیے مدعو کیا گیا تھا۔ صحت کے بعض مسائل کے باعث میں اس سیمینار میں شریک نہ ہو سکی جس کا مجھے ہمیشہ افسوس رہے

Read more

عاصمہ جہانگیر: یاد کا جشن

یقین نہیں آتا کہ عاصمہ جہانگیرکو اس جہان سے گزرے تین برس گزرگئے۔ 11 فروری 2018 کی تاریخ تھی، جب مجھے دبئی میں یہ خبر ملی تھی اور یقین نہیں آیا تھا۔ سچ پوچھیے توآج تک اس بات پر شک ہوتا ہے کہ وہ ہمارے درمیان سے اٹھ گئی ہیں۔ شاید اس کی وجہ یہ ہوکہ وہ اپنے پیچھے مزاحمت اور سربلندی کی ایک ایسی شاندار روایت چھوڑگئی ہے جو اس کے بعد سیکڑوں عورتوں اور مردوں کو آمریت، سماجی

Read more

کنول پھول اور تتلیوں کے پنکھ

یہ چند ہفتے پہلے کی بات ہے۔ کراچی آرٹس کونسل کی تیرہویں عالمی اردوکانفرنس ہو رہی تھی جب مہ ناز رحمان کا میرے پاس فون آیا۔ انھوں نے اس ادبی محفل میں شرکت کے لیے آنے والی ڈاکٹر طاہرہ کاظمی کو اپنے گھر مدعوکیا تھا۔ اس دعوت میں شہرکی نام دار اور عورتوں کے حقوق کے لیے سرگرم خواتین مدعو تھیں۔ اپنی طبیعت کی ناسازی کے سبب میں نے معذرت کر لی اور افسوس رہا کہ ڈاکٹر طاہرہ سے ملاقات

Read more

برٹرینڈ رسل: ایک بڑا جنگ دشمن

رسل انیسویں صدی میں پیدا ہوا اور بیسویں صدی کے 70 ویں برس جان سے گزرا۔ ایک امیر اور بارسوخ خاندان کا بیٹا رسل ریاضی کو اپنی زندگی کا بنیادی شوق اور مسرت کا سرچشمہ کہتا تھا۔ اس کے بڑے بھائی نے اسے اقلیدس کے Elements پڑھنے کے لیے دیے۔ وہ چار برس کی عمر میں یتیم و یسیر ہوا اور اپنے دادا، دادی کے سایہ عاطفت میں آیا۔ اس کے والدین کی وصیت تھی کہ اسے دو آزاد خیال افراد کی سر پرستی میں دیا جائے لیکن اس کے دادا اور دادی کا خیال کچھ اور تھا۔

Read more

پہلا میئر تھا، پھر کراچی کا بادشاہ کہلایا

ان دنوں ہم بڑے بڑے عہدیداروں سے یہ دعوے سنتے ہیں کہ وہ پروٹوکول نہیں لیں گے، پھر یہ دیکھا ہے کہ وہ بیس بائیس گاڑیوں کے پروٹوکول میں چلتے ہیں اور انھیں اپنے دعوے یاد نہیں آتے۔ ایسے میں وہ شخص نگاہوں میں گھوم جاتا ہے جو کراچی کا پہلا میئر تھا۔ پروٹوکول لینا تو دورکی بات ہے، یہ بھی اسی کا کمال تھا کہ وہ اپنے دفتر جاتے ہوئے ایک زخمی گدھے کو دیکھتا ہے تو اپنی گاڑی

Read more

ملالہ ، گل مکئی سے زندگی تماشا تک

وہ جب اسے اپنے تئیں ہلاک کر رہے تھے اور یہ سمجھ رہے تھے کہ بارود بھری جن گولیوں کو اس کے بدن میں اتار رہے ہیں تو دراصل بدی کو ختم کر رہے ہیں۔ انھیں معلوم نہیں تھا کہ جسے وہ بدی کا نمایندہ سمجھ رہے ہیں، وہ دنیا میں لڑکیوں کی تعلیم کا استعارہ بن کر ابھرے گی۔ اپنے حسابوں انھوں نے جسے قتل کر دیا ہے  وہ لڑکیوں کی تعلیم اور ان کی خود مختاری کے لیے

Read more

اپنی خوش نصیبی پر رشک کریں

ہم اپنے اپنے گھروں میں چین سے بیٹھے ہیں ، ہم نہیں جانتے کہ ابتلا کیا ہوتی ہے۔ ہمیں موسم کے شداید کی شکایت ہے، اس بات کا شکوہ ہے کہ بجلی کبھی آتی ہے اورکبھی نہیں آتی، پانی کے لیے لوگ بطور خاص عورتیں اور بچے مارے مارے پھرتے ہیں۔ ان تمام مسائل کے باوجود ہم ان لوگوں کے بارے میں سوچ ہی نہیں سکتے جو اپنے گھروں سے نکلنے پر مجبور ہوئے۔ لاکھوں لوگوں نے اپنے اپنے ملکوں

Read more

مریخ کے سفر کی آرزو

نوعمری کا زمانہ یاد آتا ہے تو آج بھی یقین نہیں آتا کہ انسان 50ء، 60ء اور 70ء کی دہائیوں میں کیسی چھلانگیں لگا رہا تھا۔ انیسویں صدی میں غالبؔ نے کہا تھا۔ میری رفتار سے بھاگے ہے بیاباں مجھ سے بیسویں صدی میں انسان اپنی زندگی میں اس مصرعے کی توسیع دیکھ رہا تھا اور وجد کے عالم میں تھا۔ حقیقت یہی ہے کہ بیسویں صدی تحیرات اور طلسمات کی صدی تھی۔ انسان نے اس ایک صدی کے اندر فکری،

Read more

انور سجاد: آتی جاتی سانس کا عالم نہ پوچھ

انور سجاد، اداکار، صدا کار اورکہانی کار تھے۔ دنیا کے اسٹیج پر انھوں نے اپنی کہانی کاری، صدا کاری اور اداکاری کی داد وصول کی، وقت نے تالی بجائی اور ان کی زندگی پر فنا کا سیاہ پردہ گرگیا۔
وہ ان لوگوں میں سے تھے جو تقسیم سے تیرہ برس پہلے پیدا ہوئے۔ جدی، پشتی لاہورکے رہنے والے۔ والد اپنے زمانے کے ایک کامیاب ڈاکٹر تھے اور اس زمانے کی روایت کے مطابق خواہش یہ تھی کہ فرزند دل بند بھی ڈاکٹر بنے اور جس طرح وہ لوگوں کی مسیحائی کرتے تھے، اسی طرح انور کے ہاتھ میں بھی شفا ہو، لیکن انورکو ادب کا چسکا تھا اور ادیبوں کی زیارت کا لپکا۔ جیسے تیسے انھوں نے ڈاکٹری پڑھی، نام کے آگے ڈاکٹر لکھا، ابا مطمئن، بیٹا غیر مطمئن۔ کہانیاں لکھیں جو مشہور ادبی رسالوں میں شایع ہوئیں۔

Read more

درازا شریف کا سچل

سندھ کی خاک میں سوتے ہوئے انھیں 198 برس ہوگئے۔ وہ درازا کے حافظ شیرازی کہلائے۔ ایک باغی شاعر جسے آٹھ دس برس کی عمر میں شاہ لطیف نے دیکھا تو اپنا جانشین قرار دیا تھا۔ برملا یہ کہاکہ ان کے مقصد کی تکمیل یہ جوان کرے گا۔ میں نے جس دیگ کو ابلنے کے لیے آگ پر چڑھایا اور جو کُھد بُد کرتی ہے ،  اس کا ڈھکن یہ نوجوان کھولے گا۔ اکیسویں صدی کے ایک شاندار شاعر آغا

Read more

انسان ناقابلِ شکست ہے

ہم شاعر علی سردار جعفری کی تعظیم و تکریم کرتے رہے، انھیں داد دیتے رہے۔ ان کی شخصیت ہشت پہلو تھی۔ وہ نثر کے بھی بادشاہ تھے۔ جس کا ہمارے یہاں کم لوگوں کو علم ہے۔ چند دنوں پہلے اسلام آباد سے دانشور اور پنجابی کے ادیب احمد سلیم کا فون آیا کہنے لگے ’’ ڈاکٹر کہکشاں عرفان کی کتاب ’’علی سردار جعفری: بحیثیت نثر نگار‘‘ بھجو ا رہا ہوں۔ ذرا دیکھ لیجیے گا۔‘‘ میری زبان سے بے اختیار نکلا

Read more

کراچی پریس کلب کی ایک شام

شام اداس ہے، اونچے پیڑوں اور پستہ قامت پودوں پر بھی دھوپ کی زردی پھیلی ہوئی ہے۔ تنہا کوئل کی آواز دل کو کچھ اور ملول کر رہی ہے۔ کراچی پریس کلب کے صحن میں بیٹھی ہوئی میں اُس پریس کلب کو یاد کر رہی ہوں جو اب سے 40 برس پہلے ہوتا تھا۔ کچا صحن اور خزاں کے دنوں میں بھی بہار کی آمد آمد کا شائبہ۔ صحافیوں کے جوش سے تمتماتے ہوئے چہرے، اونچی آوازیں جو یقین کے

Read more

جب گھڑیال نے پانچ بجائے

برصغیر میں اور دنیا کے کئی ملکوں میں 13 اپریل کو جلیانوالہ باغ کے قتل عام کی صد سالہ سالگرہ منائی گئی۔ امرتسر میں اس خونیں سانحے کی یادگار پر راہل گاندھی، دوسرے سیاسی رہنماؤں اور ہندوستانی وزیر اعظم نے بھی حاضری دی۔ ہزاروں لوگ اس یادگار پر پھول چڑھانے، آنسو بہانے اور شمعیں جلانے آئے۔ اس روز انگلستان میں وہ نظم کتابی شکل میں شایع ہوئی جسے 1920ء میں برطانوی راج نے ممنوع قرار دیا تھا۔ اس کی چھپی

Read more

شاہ لطیف کی سات شہزادیاں

اس لمحے مجھے وہ وقت یاد آ رہا ہے جب میں شاہ کی درگاہ کے محرابی دروازوں تک پہنچی تھی اور پھر ایک دروازے پر ٹھہر کر ریشم کے پھولوں سے ڈھکے ہوئے اس بستر کو دیکھا تھا جس پر پونے تین سو برس سے وہ شخص آرام کر رہا تھا جس نے جوگیوں اور بنجاروں کے ساتھ گھوم کر اپنی دھرتی کے چپے چپے کو دیکھا، جس کے بالوں اور پیروں کو سندھ کی مٹی نے اپنے رنگ میں رنگ دیا اور وہ اس سرزمین کے ان لوگوں کی آواز بن گیا جو زور آوروں کے سامنے قالین کی طرح بچھنے پر مجبور تھے، جنھیں حملہ آوروں کے گھوڑوں نے بار بار روندا تھا۔ یہ وہ شخص ہے جس کے لفظوں کی کونجیں اڑان بھرتی ہیں اور جانی انجانی بستیوں میں رہنے والے کے سینوں میں بسیرا کرتی ہیں۔

ان داستانوں میں سانس لیتی ہوئی سسّی، نوری، ماروی، مومل، سوہنی، لیلا اور ہیرکی خوشبو ہر طرف پھیلی ہوئی ہے۔ وہ سندھ جہاں عورت صدیوں سے جور اور جبرکی رنجیروں میں جکڑی ہوئی ہے، وہاں کی دم گھونٹ دینے والی فضا میں سندھ کی یہ سات شہزادیاں ہیں جنھیں شاہ نے لوک کہانیوں سے اٹھایا اور عالمی ادب میں عشق، پیمانِ وفا، ذہانت اور جرات کا استعارہ بنا دیا۔ یہ شاہ کی شاعری تھی جس نے سندھ کی عورت کے سینے میں بغاوت کا وہ شعلہ رکھ دیا جو ظالموں سے بجھائے نہیں بجھتا۔ دست قاتل کے سامنے سر بلند رہنے کی ادا سندھ کی عورت نے شاہ کی شاعری میں جاری و ساری احتجاج اور انحراف سے سیکھی۔

Read more

باقر نقوی بھی رخصت ہوئے

وقت کی لہروں پر بہتے ہوئے ہم کہاں سے کہاں نکل جاتے ہیں۔ میرے ساتھ بھی کچھ یہی ہوا۔ ان دنوں مجھے اندازہ ہی نہیں ہوا کہ صبح کب ہوئی اور شام کب۔ اخبار کو ہاتھ لگانے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا۔ بہت مشکل اور ہمت سے کالم لکھتی رہی۔ گھر جانے کے دس پندرہ دن بعد اخباروں کا انبار لے کر بیٹھی تو معلوم ہوا کہ عزیز من باقر نقوی مہینہ بھر پہلے رخصت ہو چکے ۔

Read more

شاگردوں سے خوفزدہ استاد

نظیراکبر آبادی اگر آج ہمارے درمیان موجود ہوتے توکیا کمالات دکھاتے، عوامی شاعر تھے، اس لیے کراچی پریس کلب کا پھیرا لگاتے تو ہوسکتا ہے کہ دو چار ڈنڈوں سے ان کی بھی تواضع ہوتی، آنسوگیس سے آنکھیں لال ہوتیں اور لاہورکا رخ کرتے تو پروفیسرز اور لیکچرز ایسوسی ایشن کا دھرنا دیکھتے، جن کی فریاد پر دھرنوں کے شہنشاہ کان دھرنے کو تیار نہیں۔ ایسے میں وہ ہمیں برسات کی بہاروں کا احوال سنانے کی بجائے، یہ گنگناتے کہ کیا کیا لگاہے یارو، تعلیم کا تماشا ، جی کھول کر استاد کی ٹھکائی۔ وہ جس دورکے پروردہ تھے، وہاں استاد کی تعظیم و تکریم، باپ سے زیادہ تھی، اپنے بچے کو استاد کے سپرد کرتے ہوئے، گھرکے بڑے یہ کہتے تھے کہ چمڑی آپ کی ہڈیاں ہماری۔

نظیر تو یہ تماشا دیکھ کر حق دق رہ جاتے اور ان کی سمجھ میں نہ آتا کہ ہمارے بارے میں کیا رائے قائم کریں۔ جہاں پولیس، استادوں کو ڈنڈے مار رہی ہو، ان پر آزادانہ آنسوگیس کا استعمال کررہی ہو انھیں گرفتارکرکے حوالات لے جارہی ہو، وہاں استاد کا احترام کیسے اور کیوں کر ہو۔ وہاں بہاولپور کا شاگرد اپنے استاد سے اختلافِ رائے پر چھرے مارکرکیوں نہ قتل کردے اور کراچی میں کسی ایسے استاد کو گولیوں سے کیوں نہ چھلنی کردیا جائے جو اپنے شاگردوں کو جدید تعلیم دیتا تھا اور نئے خیالات سے روشناس کراتا تھا۔ ایسے ایک نہیں کئی واقعات ہیں جن میں استاد قتل کیے گئے اور ان کے قاتل آج بھی آزاد پھرتے ہیں۔

Read more

اسے کہتے ہیں وزیراعظم

بحرالکاہل کے شفاف نیلگوں پانیوں میں سانس لیتے ہوئے وہ جزائر جو نیوزی لینڈ کے نام سے جانے پہچانے جاتے ہیں، ان دنوں دنیا کی نگاہوں کا مرکز بنے ہوئے ہیں۔ اس کا سبب وہ اندھا دھند قتل ہیں جس کا شکارکرائسٹ چرچ میں نماز ادا کرنے والے مسلمان ہوئے۔

نیوزی لینڈ سے کبھی بھی اس نوعیت کی سفاکانہ قتل و غارت گری کی خبریں نہیں آئی تھیں لیکن جب آئیں تو انھوں نے ساری دنیا کے لوگوں بہ طور خاص مسلمانوں کو دہشت زدہ کردیا۔ پاکستان پر یہ خبر بہ طور خاص اثر انداز ہوئی کیونکہ ملکی حالات سے گھبرا کر نقل مکانی کرنے والے پاکستانیوں نے دور دراز کی بستیوں میں پناہ لینے اور اپنا روزگارکمانے کو ترجیح دی ہے۔ النور مسجد میں جان، جاں آفریں کے سپرد کرنے والوں میں پاکستانی نوجوان اور بزرگ دونوں ہی شامل تھے۔

Read more

’’ہم سب گوری ہیں‘‘

انتہا پسندی اور دہشتگردی دنیا کو جس طرح اپنی لپیٹ میں لے چکی ہے اس کا تازہ ترین مظاہرہ ہم نے نیوزی لینڈ میں 2 مساجد پر ہونے والے خونی حملے میں دیکھا جس میں اب تک 50افراد ختم ہوچکے ہیں اور کئی جاں کنی کے عالم میں ہیں ۔ اس نوعیت کے حملے اب نئے نہیں رہے اور ان کا دائرہ دنیا کے تمام براعظموں تک پھیل چکا ہے۔ ایک طرف مذہبی یا نسلی بنیادوں پر نفرت کا یہ

Read more

موت سے آنکھ مچولی

افغانستان سے خبریں آرہی ہیں کہ سالہا سال بعد وہاں امن قائم ہونے کو ہے۔ امریکی صدر کا کہنا ہے کہ 17 برس کے بعد اب وہ وہاں سے امریکی فوجوں کو نکال لیں گے۔ قطر میں 16 دن تک امن بات چیت کرنے والے ملا عبدالغنی برادر سے صرف افغانی نہیں، پاکستانی بھی بہ خوبی واقف ہیں اس لیے کہ پچھلے برس وہ پاکستان کی جیل سے چھوٹ کر گئے ہیں۔

افغان ان کے اثر و رسوخ سے بہ خوبی واقف ہیں اور اس لیے ان کے دورِ اقتدار میں خواتین گھروں میں قید رکھی گئیں۔ لڑکیوں کی تعلیم پر پابندی لگی، موسیقاروں اور گلوکاروں کے ساتھ بہت برا سلوک ہوا۔ کابل کے فٹ بال اسٹیڈیم میں لوگوں کو برسر عام سخت سزائیں دی جاتی تھیں جن میں ہاتھ کاٹنا، گردن اڑا دینا اور دوسری وہ سزائیں شامل تھیں جنھیں باہر کی دنیا میں غیر انسانی خیال کیا جاتا تھا۔

Read more

آج جنگ ،کل صلح ، پرسوں پھر جنگ…

ہماری دنیا پہلے زرعی دور سے گزری ہے ۔ دریائے نیل ہو یا دریائے سندھ ، ان کے کناروں پر کپاس کاشت کی گئی ، عورتوں نے چرخا چلایا ، دھاگا اورکپڑا بنا ، یوں دنیا مہذب دور میں داخل ہوئی ۔ اس کے بہت بعد لوہے کا دور آیا ، جب انسان نے دہکتی ہوئی بھٹیوں میں لوہا پگھلایا اور اس پگھلے ہوئے لوہے سے تیر ، تلوار ، تبر ، خنجر اور قینچیاں بنائیں ۔ سوئیاں تو انسانوں

Read more

ہماری بہادر عورتیں

آج اگر برصغیر دنیا کے نقشے پر ایک شاندار اور باوقار سماج کے طور پر ابھر کر سامنے آیا ہے تو اس کا سہرا ان نامور اور گم نام عورتوں کے سر ہے جنہوں نے انیسویں صدی کے آخر سے اپنی بیٹیوں اور بہنوں کی تعلیم کے لیے جان لڑادی تھی۔ لگ بھگ ڈیڑھ سو برس کی اس خاموش جدوجہد کا نتیجہ ہے کہ آج ہمارے یہاں سروجنی نائیڈو سے فاطمہ جناح، رعنا لیاقت علی خان اور وجے لکشمی پنڈت سے بیگم نسیم ولی خان، طاہرہ مظہر علی خان، نصرت بھٹو اور بینظیر بھٹو تک باہمت اور جمہوریت کے لیے بے جگری سے لڑنے والی عورتوں کی قطار ہے۔ہم عصمت چغتائی کو کیسے بھول جائیں جنہوں نے کالج کی تعلیم پر پابندی لگانے والے اپنے رعب و دبدبے والے باپ سے کھلم کھلا یہ کہہ دیا تھا کہ اگر مجھے آگے پڑھنے کی اجازت نہ ملی تو میں ”کرشٹان“ ہوجاؤں گی۔ انگریز بہادر کی حکومت تھی، والد انگریز سرکار کے ملازم تھے، یہ دھمکی سن کر انھیں اپنی بیٹی کے سامنے ہتھیار ڈالتے بنی تھی۔ یہ وہی عصمت چغتائی ہیں جنہوں نے نہ صرف ادب میں جھنڈے گاڑے بلکہ بی اے بی ایڈ کرکے پہلی مسلمان انسپکٹرز آف اسکولز ہوئیں۔

Read more

23 بدقسمت جزیرے

عہد نامۂ قدیم کی رُو سے زمین پر پہلا قتل ہابیل نے کیا۔ پتھر سے کیے جانے والے اس کاروبارِ قتل کا سلسلہ پھیلتا ہی چلا گیا ، یہاں تک کہ انسانوں نے ہلاکت کو ایک نفع بخش پیشہ بنا لیا۔ لڑائیاں لڑی جانے لگیں۔ اپنی ریاست اور اپنی حکمرانی کے پھیلاؤ کا انسانوں کو اس سے بہتر طریقہ نظر نہ آیا۔ عیاری اور مکاری میں انسان نے جب ترقی کی تو ہر جنگ کے اختتام پر اس نے یہ

Read more

حمزہ واحد کی یاد میں

ہم جنھیں اپنے گھرانوں سے تعلیم یا سماجی اور سیاسی شعور کے اظہار میں کسی نوعیت کی بندش کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔ وہ حمزہ واحد کی زندگی کی ابتدائی سختیوں کا اندازہ نہیں لگاسکتے جو انھیں اپنی والدہ کے ہاتھوں سہنی پڑیں۔ آج کا یادگاری لکچر حمزہ واحد کے نام ہے اور ہمیں جاننا چاہیے کہ فزکس کی اس پروفیسر کو ابتدائی دنوں میں تعلیم حاصل کرنے پر کوئی بندش نہیں تھی لیکن ان کی والدہ جو ایک سخت

Read more

سوچنے کا نہیں، بدلنے کا وقت ہے

پاکستان کو اس وقت معاشی اور سیاسی دونوں حوالوں سے مشکل صورتحال کا سامنا ہے ۔ کسی ملک کی معیشت اگر کساد بازاری یا افراطِ زر اورکم شرح نمو جیسے مسئلوں کے باعث بحران یا دیوالیہ پن کی صورتحال سے دوچار ہوجائے تو اُسے کس عذاب سے گزرنا پڑتا ہے ، اس کی درجنوں مثالیں ہمارے سامنے ہیں۔ اس کی تازہ ترین مثال وینزویلا ہے جہاں دنیا کے سب سے زیادہ تیل کے ذخائر موجود ہیں۔ اسے اصولی طور پر

Read more

نئی دُنیا میں پرانی سیاسی جماعتوں کا مستقبل

یہ 21ویں صدی ہے، ہزاروں سال پرانی دنیا سے یکسر مختلف ایک نئی دنیا جنم لے چکی ہے ۔آپ معاشی، سیاسی اور سماجی زندگی کا کوئی بھی شعبہ دیکھ لیں، ہر طرف آپ کو حیرت زدہ کردینے والے نئے مظاہر نظر آئیں گے ۔ معلومات کا سیلاب سب کو اپنی لپیٹ میں لے چکا ہے ، جدید ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت نے پرانی ٹیکنالوجی کو فرسودہ بنادیا ہے ۔ اس دور کو زیادہ تر سماجی سائنسدان اسے چوتھے صنعتی انقلاب

Read more

صحافیوں سے نمٹنے کا غلط طریقہ

دہائیوں پرانی بات ہے جب اگاتھا کرسٹی کے ناول اور اس کی مختصر کہانیاں پڑھنا لازم تھا۔ اس کے چند ناولوں کی تلخیص کی، کہانیوں کا ترجمہ کیا۔ اسی کی تحریریں پڑھ کر یہ جانا کہ قابیل سے اب تک کسی بھی قاتل کا جرم نہیں چھپتا اور ایک نہ ایک دن فاش ہو کر رہتا ہے۔ یہ بات بھی جانی کہ قاتل کو عدالت سے سزا دلانے کے لیے مقتول کی لاش اور آلۂ قتل کا برآمد ہونا بنیادی

Read more

منٹو ، کھوٹا سکہ جو اشرفی ہوگیا

لاہورکے وہ لوگ جنہوں نے 18جنوری 1955 کی اداس دوپہرکو ایک جنازہ دیکھا جس میں شرکت کرنے والے معدودے چند لوگ تھے اور جس بلڈنگ سے وہ جنازہ اٹھا تھا، وہاں سے رونے والی عورتوں کی آنے والی آوازیں بھی مدھم تھیں، دیکھنے والوں میں سے چند نے لپک کر جنازے کوکندھا دیا، چند قدم چلے اور پھر اپنی اپنی دکانوں میں واپس چلے گئے، سرگوشیوں میں کہا گیا ’’ یہ اس شرابی کا جنازہ ہے جو روز رات کو

Read more

ایمپریس مارکیٹ ناراض ہے

بچپن کی وہ یادیں بہت دور چلی گئی ہیں جب کراچی کی گڈوانی اور ایڈوانی اسٹریٹ کے مد مقابل بنے ہوئے فٹ پاتھ اور مضبوط دیوار کے ساتھ ساتھ جھونپڑیوں کی ایک قطار چلی گئی تھی۔ ہوا سے ٹاٹ کے پھڑپھڑاتے ہوئے پردے جو ان جھونپڑیوں میں رہنے والوں کی زندگیوں کو کچھ چھپانے، کچھ دکھانے کی کوشش کرتے ۔ یہ جھونپڑیاں وائی ڈبلیو سی اے اور ماما پارسی گرلز اسکول کی پشت پر تھیں ۔ وہ چند برس وہاں رہیں

Read more

خالدہ حسین: جینے کی پابندی

رات کا جانے کون سا پہر تھا کہ اچانک آنکھ کھل گئی۔ سرہانے دھرا لیمپ روشن کرکے میں نے سرہانے رکھا ہوا افسانوی مجموعہ ’’جینے کی پابندی‘‘ اٹھا لیا۔ میں اسے دو تین دن پہلے پڑھ چکی تھی لیکن اس کے دو افسانے جیسے سینے میں گڑی ہوئی کیل بن گئے تھے۔ وہ جادوئی کیل جو ہم سے چپکے چپکے کچھ کہتی رہتی ہے۔ اس کی باتیں ہماری سمجھ میں آتی ہیں لیکن ہم لکھنے والے کا بھرم رکھتے ہیں۔

Read more

یہ عمارتِ کہنہ ٹوٹ بھی تو سکتی ہے

ہم میں سے کسی کے لیے بھی یہ کوئی نئی خبر نہیں کہ ملک سے باہر چلے جانے والے بعض خاندان اپنی روایات کو بچانے کے لیے اپنی بیٹیوں کی شادیاں پاکستان میں ہی کرنا چاہتے ہیں اور اس کے لیے ہر حد وانتہا سے گزر جاتے ہیں ۔ ان میں سے بیشتر واقعات انگلستان میں جا کر آباد ہونے والے ان خاندانوں سے متعلق ہیں جن میں سے زیادہ تر دیہی پس منظر رکھتے ہیں ۔تمام افرادِ خانہ مل

Read more

ایاز خانہ بدوشوں کے ساتھ

آج مریخ کے سفر کی باتیں ہو رہی ہیں اورکچھ زمانہ پہلے ہم کارواں بنا کر سفر کرتے تھے۔ ہمارے مشہور سیاح وہ ابن بطوطہ ہوں یا مارکو پولو سب ہی اپنے اونٹوں اورگھوڑوں پر اپنا سامان لادے سیکڑوں میل کا سفر کرتے تھے ۔ خانہ بدوش کہلاتے تھے، دوسرے لفظوں میں یہ کہہ لیجیے کہ گھرکا سامان شانوں پر اٹھائے نگری نگری پھرتے تھے ۔ حیدرآباد کی دو دوستوں امر سندھو اورعرفانہ ملاح کو خیال آیا کہ وہ کیوں

Read more

وہ لڑکی لال قلندر تھی

27 دسمبر آئی اور گزر گئی۔ یہ ہماری ایک شعلہ بیاں اور شعلہ بہ جاں سیاسی رہنما کی شہادت کا دن تھا۔ ہم نے ان کے قتل پر آہ و بکا کی اور ان لوگوں کو جی بھر کر برا بھلا کہا جو ان کے قتل کے ذمے دار تھے۔ سندھ میں صوبائی سطح پر چھٹی ہوئی اور ان کی یاد میں بھرپور جلسے جلوس بھی ہوئے لیکن ہم میں سے اکثر نے یہ نہیں سوچا کہ وہ جو ایک

Read more

ستر برس پرانے انسانی حقوق کا عالمی منشور

2 دن پہلے انسانی حقوق کے میثاق کی 70 ویں سالگرہ گزری ہے، یہ ایک ایسا دن تھا جو دنیا کے بہت سے ملکوں میں بہت دھوم دھام سے منایا گیا۔ یہ ایک ایسا دن بھی تھا جب مختلف ملکوں میں بے گناہ انسان قتل کیے جارہے تھے، بستیاں بمباری سے مسمار کی جارہی تھیں، بچے اپنے بستروں سے گھسیٹ کر نامہربان زمینوں کی طرف دھکیلے جا رہے تھے، عورتیں اور بچیاں بے حرمت کی جارہی تھیں ۔ ان ملکوں اور

Read more

فیصل آباد؛ شاندار شہر، شاندار لوگ

یاد کی ندی میں ایک سفید و سیاہ تصویر تیرتی چلی جاتی ہے۔ یہ 1959ء کی بات ہے جب میں نے اس تصویر کو پہلی مرتبہ دیکھا۔ اس پر لائل پور کالج فار ویمن لکھا ہوا تھا اور اس کے نیچے 1955ء کا سنہ درج تھا۔ تصویر میں فردوس حمرا نظر آ رہی ہیں اور تقریری مقابلے میں جیتی ہوئی ٹرافی۔ کالج کی امریکی پرنسپل مس جین ہل اپنی طالبات کی فتح پر مسکرا رہی ہیں۔ ان کے ساتھ ہی

Read more

فیصل آباد میں ادب کا جشن

کئی مہینوں پہلے کی بات ہے، لاہور سے شیبا عالم سیدکا فون آیا، وہ کنیرڈکالج میں پڑھاتی ہیں۔ ہمارے معروف ادیب اصغر ندیم سید ان کے نصف بہتر ہیں۔ وہ اور ان کی دوست، توشیبا سرور اور سارہ حیات فیصل آباد لٹریچر فیسٹیول کی کرتا دھرتا ہیں۔ شیبا اورتوشیبا کا کہنا تھا کہ 5ویں فیصل آباد فیسٹیول میں آپکو ضرور آنا ہے۔ فیصل آباد اب پاکستان کا تیسرا بڑا شہر ہے۔ وہاں ادب کا جو جشن منایا جاتا ہے، اس

Read more

آگ کرسچن ہے یا مسلمان؟

بوسنیا کا ذکر ان لوگوں پر آسیب کی طرح سوار ہو جاتا ہے جنھوں نے اس کے بارے میں کچھ جان لیا ہو، میں ان میں سے ایک ہوں۔ شاید اسی لیے وہاں سے متعلق کتابوں کی تلاش میں رہتی ہوں۔ ایک ایسی ہی کتاب ’’خونی ہمسائے‘‘ ہے جو ایک امریکی نژاد یہودی پیٹرماس نے لکھی اور میرے لیے راجا عاطف حیات گوتم لے کر آیا۔ ان دنوں اس کی بہن صائمہ حیات اٹلی میں ہے اور بوسنیا کا ایک

Read more

غیروں کی جنگ اور ہم

یہ وہ دن ہیں جب پہلی جنگ عظیم کے خاتمے کے 100برس مکمل ہونے پر یورپ، جشن منا رہا ہے ۔ ہم اس خبر سے یوں سرسری گزرتے ہیں جیسے اس سے ہمارا کوئی تعلق نہیں۔ یہ بات ہمیں یاد نہیں رہی کہ یہ وہ زمانہ تھا جب ہندوستان اپنی آزادی ہار چکا تھا۔ اس کے کارخانوں پر تالے پڑگئے تھے، اس کے کسان،اس کے کھیت برباد ہوچکے تھے، برٹش حکومت نے جس ہندوستانی اشرافیہ کو جنم دیا تھا، ان

Read more

وہ چاند سے آگے جائیں گے ، ہم شادیانے بجائیں گے

یہ جولائی 1969 کے دن تھے جب ساری دنیا سانس روکے بیٹھی تھی۔ ہر طرف غلغلہ تھا کہ انسان چاند پر قدم رکھنے والا ہے۔ ہمارے یہاں اور متعدد دوسرے ملکوں میں ان لوگوں کی کمی نہیں تھی جو توبہ تلا کررہے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ قربِ قیامت کے دن ہیں۔ بوڑھی عورتیں مذہبی حوالے دے رہی تھیں اور اچھے خاصے پڑھے لکھے مرد اسے محض یہود و نصاریٰ کا پروپیگنڈہ قرار دے رہے تھے۔ کہاں خاک

Read more

12اکتوبر 1999ء اور کلثوم نواز

جمہوریت ایک روپہلا سنہرا ست رنگا پرندہ ہے جس کے خواب انسان نے شعور سنبھالنے کے بعد سے دیکھے۔ یونانی ریاستوں میں جمہوریت کا خواب اپنے انداز میں دیکھا گیا۔ جب وہ معروضی حقائق تبدیل ہوگئے تو یونان کی شہری ریاستوں سے اس سیاسی نظام کا خاتمہ بالخیر ہوا۔ گزشتہ ڈھائی ہزار برس سے جمہوری سیاسی نظام دنیا کی مختلف ریاستوں میں سانس لیتا رہا۔ ہمارے یہاں بھی لوگوں نے جمہوریت کے خواب دیکھے ہیں اور اس کی تعبیر چاہی

Read more

جب تک لکھنے والے زندہ ہیں

یہ بات دس بارہ برس پرانی ہوئی کہ برصغیرکے تینوں ملکوں میں ادب کا جشن منایا جاتا ہے۔ دور درازکے ملکوں سے مختلف زبانیں بولنے والے اور مختلف زبانوں میں لکھنے والے جے پور، دلی،کراچی، ڈھاکا اور لاہور میں جمع ہوتے ہیں اور اپنی اپنی بولیاں بول کر اپنے شہروں کو سدھارتے ہیں۔ کچھ لوگ ان کتاب میلوں کا مذاق اڑاتے ہیں ۔ ان کا کہنا ہے کہ ایسے زمانوں میں جب دہشت اور بربریت شہروں اور بستیوں میں پھیرے

Read more

انسان کی جیت

چند دنوں پہلے کراچی میں احمد ندیم قاسمی کے یکتا افسانے ’’ پرمشیر سنگھ ‘‘ پر پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن نے ایک محفل رکھی ۔ ’’پرمشیر سنگھ ‘‘کا شمار احمد ندیم قاسمی کی شاہکار کہانیوں میں ہوتا ہے ۔ یہ اس زمانے میں لکھی گئی جب برصغیر پر نفرت کے سیاہ سونامی کی یلغار ہوئی ۔ اس سونامی نے روا داری ، دوست داری ، بین المذاہب ہم آہنگی اور صدیوں پرانے رشتوں کو بنیادوں سے ہلاکر رکھ دیا ۔

Read more

ہار نہ ماننے والا

احفاظ الرحمن سے میری دوستی کو لگ بھگ چالیس برس ہوگئے۔ اس مدت میں کیسے کیسے نشیب و فراز آئے۔ صحافت ان کی محبوبہ تھی اور اس کی زلفیں سنوارنے کے لیے وہ جان پر کھیل جانے کو زندگی کی معراج سمجھتے تھے، شعلہ نفس اور شعلہ بہ جاں تھے۔ ایسے باضمیر لکھاریوں کے لیے پاکستان اپنے قیام کے بعد سے ہی ایک زندان  رہا اور آج بھی اس کی غیر مرئی سلاخیں آسمان کی بلندیوں کو چھوتی ہیں۔ احفاظ

Read more

خرگئی ، درگئی ، مالاکنڈ ایجنسی سے ایک خط

ہم کالم نگاروں کے نام خط آتے رہتے ہیں ۔کچھ تعریف و توصیف سے بھرے ہوئے اورکچھ ناراض پڑھنے والوں کے خط۔ کچھ ایسے بھی ہوتے ہیں جنھیں پڑھتے ہوئے دل خون روتا ہے ۔ چند دنوں پہلے ایک ایسا ہی خط مالاکنڈ ایجنسی کے ایک دور دراز گاؤں سے موصول ہوا۔ ریحانہ بی بی نے وہ خط روشنائی سے نہیں ، خونِ دل سے لکھا تھا جس میں آنسوؤں کی آمیزش تھی ۔ پہلے تو مجھے اس کے مندرجات

Read more

بیگم کلثوم نواز کا ادبی اور سماجی شعور

شہید حسن ناصر اور ان کی والدہ بیگم علمبردار حسین کے خطوط کا میں نے گزشتہ کالم میں ذکرکیا تھا اور اس سیاہ تابوت کا بھی جو وہ حیدرآباد دکن سے ساتھ لائی تھیں کہ اس میں اپنے چہیتے بیٹے کا خستہ لاشہ لے کر واپس جائیں لیکن یہ ممکن نہ ہوسکا ، قبرکشائی کے بعد جو لاش انھیں دکھائی گئی، اسے انھوں نے اپنے بیٹے کا جسد خاکی ماننے سے انکارکر دیا ۔ اس مرتبہ مجھے حسن ناصر کے

Read more

کلثوم نواز یادآئیں

ان کی سرخ و سفید رنگت زرد پڑگئی ہے اور ہنستا مسکراتا چہرہ کملا گیا ہے۔ ان سے پہلی غائبانہ ملاقات 1996 یا شاید 1997 میں ہوئی، لیکن اس غائبانہ ملاقات کے تذکرے کے لیے مجھے انیسویں صدی میں جھانک کر دیکھنا ہوگا۔ 1824 کا زمانہ تھا جب لکھنو میں ایک کتاب ’’فسانہ عجائب‘‘ لکھی گئی۔ 1843 میں وہ پہلی مرتبہ شایع ہوئی تو ایک تہلکہ مچ گیا۔ میرامن کی ’’باغ و بہار‘‘ غالب کی شاعری اور خطوط اور رتن

Read more

سوکی اور اقتدار کی غلام گردش

چند دنوں پہلے کی بات ہے جب رنگون میں (برما) میانمار کے 2 نوجوان صحافیوں کو 7برس قید کی سزا سنائی گئی ۔ اس فیصلے نے بین الاقوامی برادری کے صحافیوں اور انسانی حقوق کے کارکنوں کو ششدرکردیا۔ یہ دونوں صحافی دسمبر 2017ء میں گرفتار ہوئے تھے اور ان پر’’غداری‘‘ کا الزام ہے۔ ان پر یہ الزام اس لیے لگایا گیا ہے کہ انھوں نے رائٹرکے ذریعے دنیا کو یہ خبردی کہ میانمارکے فوجیوں نے 10روہنگیاؤں کو بے پناہ تشدد

Read more

جمہوریت کی خاطر

یہ سطریں جب آپ کی نظر سے گزریں گی، اس وقت ہندوستانی سپریم کورٹ کا فیصلہ آنے میں 24 گھنٹے رہ گئے ہوں گے ۔ ہمیں نہیں معلوم کہ سپریم کورٹ کیا فیصلہ کرے گی، لیکن اب تک ہندوستانی سپریم کورٹ جمہوریت اور جمہوری اداروں کی پشت پرکھڑی رہی ہے اور اس نے متعدد ایسے فیصلے کیے ہیں جو حکمران طبقے کے لیے ناگوار خاطر تھے۔ اسی لیے لوگوں کا خیال ہے کہ اس بار بھی سپریم کورٹ ہندوستانی پارلیمان کے تقدس

Read more

نقصان پوری قوم کا ہوتا ہے

اگست کا مہینہ تھا،انتخابی مہم زور و شور سے چل رہی تھی، ایسے میں دیا میر سے خبر آئی کہ انتہا پسندوں نے لڑکیوں کے 2درجن سے زیادہ اسکول جلا کر خاکستر کر دیے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی خبر میں یہ بتایا گیا تھا کہ مختلف کلاسوں میں موجود کتابوں اورکاپیوں کو بھی نکالا گیا اور انھیں اکٹھا کرکے ان کی ہولی جلائی گئی ۔ یہ ایک اندوہ ناک خبر تھی۔ خیال تھا کہ اس سانحے پر ملک کی

Read more

جمال نقوی کی جرأتِ رندانہ (آخری حصہ)۔

1980ء میں جمال صاحب اور نذیر عباسی ایک جگہ سے اور ایک ساتھ گرفتار ہوئے۔ جمال صاحب یہ سمجھ رہے تھے کہ وہ اور نذیر کچھ وقت کے لیے گرفتار ہوئے ہیں لیکن کچھ ہی دنوں بعد انھیں یہ حتمی خبر مل گئی کہ اب وہ نذیر سے کبھی نہ مل سکیں گے اور اس کا انجام بھی حسن ناصر جیسا ہوا ہے۔ کچھ دنوں بعد ڈاکٹر آکاش انصاری نے اس کی یاد میں ایک نظم لکھی۔ اس سندھی نظم

Read more

جمال نقوی کی جرأت رندانہ (حصہ اول)

گنگا جمنا اور تصوراتی دریا سرسوتی کا سنگم۔ سرسوتی جو زمین کے اندر گم ہوگئی ہے لیکن گنگا اور جمنا جب گلے ملتے ہیں تو ان کی یک جائی میلوں تک ایک لکیر کی صورت نظر آتی ہے۔ لوگ اشاروں سے بتاتے ہیں کہ یہ رہی گنگا اور وہ رہی جمنا۔ اس سنگم کو میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے اور اب تک اس کا حسن نگاہوں میں کھنچا ہوا ہے۔ الٰہ آباد کا مشہور تاریخی شہر جہاں اس

Read more

ایشیا کی قیدی عورتیں

شیفلر کی جس کتاب کا گزشتہ کالم میں ذکر کیا تھا، اس میں یہ بات کھٹکتی ہے کہ برصغیر اور ایشیا کے دوسرے ملکوں سے تعلق رکھنے والی ان عورتوں کا ذکر اس میں سرے سے موجود نہیں جنھوں نے بیسویں صدی میں سیاسی میدان اور جد وجہد آزادی کے دوران برسوں قید و بند کی صعوبتیں سہیں۔ ہمارے سامنے ہندوستان کی عورتوں کے چہرے اور نام ابھرتے ہیں۔ ان میں غریب اور متوسط طبقے کی عورتیں ہیں جنھوں نے

Read more

ووٹ کا خط : ووٹروں کے نام

میں کاغذ کا ایک پرزہ ہوں ۔ میرا نام ووٹ ہے اور میرا حسب نسب جمہوریت سے جڑا ہوا ہے ۔ انیسویں اور بیسویں صدی سے میں ساری دنیا میں سفرکرتا ہوں ۔کبھی ایشیا، کبھی افریقا اورکبھی مغربی دنیا میں، غریب اور متوسط طبقے کے لوگ ہر جگہ میرا استقبال کرتے ہیں، وہ جانتے ہیں کہ مجھ سے ان کا مستقبل وابستہ ہے ۔ وہ یہ بھی جانتے ہیں کہ میں جوکاغذ کا ایک چھوٹا سا ٹکڑا ہوں، بڑے بڑے

Read more

بائیں بازو کی بروقت پہل کاری

کچھ دنوں سے معصوم لوگوں کی لاشیں سڑکوں پر نہیں بچھی تھیں، بوڑھے باپ اپنے جھکے ہوئے شانوں پر جوان بیٹوں کے تابوت اٹھائے ہوئے نہیں نکلے تھے اور ہم خوش تھے کہ دہشتگردوں کی کمر توڑ دی گئی ہے، جب ہی ملک میں امن چین ہے۔ ہمیں معلوم نہ تھا کہ مشورے ہو رہے ہیں آپس… مشورہ کرنے والوں کو اندازہ ہوا کہ ان کی منصوبہ بندیاں ناکام ہو رہی ہیں۔ وہ جو یہ سمجھ رہے تھے کہ میاں

Read more

محترمہ فاطمہ جناح کی کتنی فیکٹریاں تھیں؟

نئی ایجاد اور نئی دریافت ہمیشہ سماج کو آگے بڑھانے میں اپنا کردار ادا کرتی ہے۔ موجودہ صدی کے دوران ایسی حیرت انگیز ایجادات جس برق رفتاری سے جنم لے رہی ہیں ان کو دیکھ کر با آسانی یہ دعویٰ کیا جا سکتا ہے کہ محض اس صدی کی ایجادات لاکھوں سال کی انسانی تاریخ کی کل ایجادات سے کئی ہزار گنا زیادہ ہوں گی۔ اطلاعات کی دنیا میں ٹیکنالوجی نے ایک حیرت انگیزانقلاب برپا کر رکھا ہے۔ یہ ایک

Read more

کوئی کسی کو یہ کیسے بتائے؟

پاکستان وجود میں آیا اور اس کے ساتھ ہی ہمارے حاکموں نے احکامات جاری کرنے شروع کردیے۔ یہ حکم نامے جمہوریت کے تحفظ اور عوام کے حقوق کی سربلندی کے لیے نہیں تھے۔ یہ حکم نامے نوآبادیاتی حکومت کے احکامات کا تسلسل تھے۔ ملک کا نام نیا تھا، یونین جیک کے بجائے پاکستانی پرچم لہراتا تھا، 1935ء کے ایکٹ کے تحت پاکستانیوں کی زندگیوں کا حساب کتاب ہوتا تھا۔ یہ ملک جسے جمہور کے ووٹوں سے جمہوری خطوط پر ترقی اور

Read more

اظہار کی آزادی اور جبر کا گرداب

5 جولائی آئی اور گزر گئی۔ یہ تاریخ ہمیں ایک ایسے المناک سانحے کی یاد دلاتی ہے، جس نے ہماری زندگیاں بدل دیں۔ یہ ہمیں یاد دلاتی ہے۔ 27 اکتوبر 1958ء میں ہماری بدبختیوں کا آغاز ہوا تھا اور پھر یہ داستان دراز ہوتی گئی، یہاں تک کہ 12 اکتوبر 1999ء کی تاریخ آگئی۔ 2008ء میں ہم اس بات پر شاداں و فرحاں تھے کہ آمریت کے عذاب سے ہماری نجات ہوگئی ہے، لیکن 2008ء سے 2018ء تک آتے آتے

Read more

بابا فرید گنج شکر کی چوکھٹ

گزشتہ دنوں یروشلم اور مسجد اقصیٰ کا بہت ذکر اذکار رہا۔ اس حوالے سے بابا فرید گنج شکر یاد آئے ۔ وہ جو اب سے 800 برس پہلے صلیبی لشکرکی شکست کے دس برس بعد یروشلم پہنچے ۔ انھوں نے وہاںقیام کیا ، مسجد اقصیٰ میں صبح دم جھاڑو لگاتے اور پھر اپنا دن ایک قریبی حجرے میں بسر کرتے ۔ یہاں وہ روزہ رکھتے اورخاموشی اختیارکرتے ۔ ان کا سارا وقت ذکرو فکر میں گزرتا ۔ اپنی عبادت وریاضت

Read more

بابا فرید گنج شکر کی چوکھٹ

گزشتہ دنوں یروشلم اور مسجد اقصیٰ کا بہت ذکر اذکار رہا۔ اس حوالے سے بابا فرید گنج شکر یاد آئے ۔ وہ جو اب سے 800 برس پہلے صلیبی لشکرکی شکست کے دس برس بعد یروشلم پہنچے ۔ انھوں نے وہاںقیام کیا ، مسجد اقصیٰ میں صبح دم جھاڑو لگاتے اور پھر اپنا دن ایک قریبی حجرے میں بسر کرتے ۔ یہاں وہ روزہ رکھتے اورخاموشی اختیارکرتے ۔ ان کا سارا وقت ذکرو فکر میں گزرتا ۔ اپنی عبادت وریاضت

Read more

بری گھڑی کسی وقت بھی آسکتی ہے

ہم نے اپنی 70 سالہ تاریخ کے 32 سال آمریت اور بقیہ زیادہ حصہ ایمرجنسی میں گزارے ہیں۔ پچھلے 10 سال سے جمہوری عمل لڑکھڑاتا ہوا آگے بڑھ رہا ہے لیکن اب ملک میں ایک غیر علانیہ ایمرجنسی کی صورتحال محسوس کی جاسکتی ہے۔ اس صورت حال میں مسز اندرا گاندھی کی لگائی ہوئی ایمرجنسی یاد آجاتی ہے، جس کی 43 ویں سالگرہ ابھی 26 جون کو گزری ہے۔ آج بہت سے لوگ اس بات پر حیران ہوتے ہیں کہ

Read more

مطلق العنانیت، انصاف کی ترازو اور یوسفی صاحب

کچھ زمانے ایسے ہوتے ہیں جن میں ادب اور ادیبوں پر پیغمبری وقت پڑتا ہے۔ اکیسویں صدی کے یہ ابتدائی برس بھی ایسے ہی ہیں۔ موت کی آندھی ہے جو ہمارے بڑے بڑے تناور پیڑوں کو پتوں کی طرح اڑائے لیے جارہی ہے۔ اس صدی کا آغاز ہوا تو احمدندیم قاسمی، قرۃ العین حیدر، انتظارحسین اور ہمارے کئی بڑے رخصت ہوئے۔ یقین نہیں آتا کہ آن کی آن میں یہ سب لوگ چلے گئے۔ اور اب طنز و مزاح کے جس

Read more

واپس لوٹ چلیں

ہزاروں برس سے دنیا میں ہنگامہ بپا ہے جس کا سبب کتابیں، اخبار اور جرائد و رسائل ہیں۔ مصری پروہتوں اور تاجروں نے علامتوں پر مشتمل ایک طرز تحریر ایجاد کیا تھا لیکن وہ بہت مشکل تھا۔ ایسے میں ساری خطا فنیقیوں کی تھی جنھوں نے چھبیس حروف تہجی ایجاد کیے اور پھر فنیقی، مصری، آشوری اور آرامی تاجروں اور سیاحوں نے فن تحریر کو سات سمندرورں کے ساحلی شہروں تک پھیلا دیا۔ وہاں سے فن تحریر کا سلسلہ چل

Read more

رائیگانی کا سفر

کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ تاریخ مردہ تہذیبوں اور ماضی کے سمندر میں غرق ہوجانے والی قوموں کی کتھا کہانی ہے، اسی لیے ہمیں ضرورت نہیں کہ اسے اپنے تعلیمی نصاب میں شامل کریں۔ یہ ایک ایسا نکتہ نظر ہے جس نے ہمارے نوجوانوں سے سوچ کی وہ گہرائی چھین لی ہے جو ان پر خیال کے دروازے کھولتی ہے۔ قدیم تہذیبوں کی بات جانے دیجیے، ہم نے پاکستان کے اس حصے کی تاریخ کو بھی قطعاً نظرانداز کردیا ہے کہ

Read more

گلزار بہت یاد آتے ہیں

برسوں بیتے، کوئی دن ایسا نہیں ہوتا جب اخبار کے صفحوں پر یہ خبر نظر سے نہ گزرتی ہو کہ سرحد کے دونوں طرف گولیاں چلیں اور ان گولیوں سے ہلاک ہونے والے لوگوں کی تعداد ہوتی ہے۔ کبھی کبھی کسی بکری، کسی میمنے کا بھی ذکر ہوتا ہے جو سرحد پار سے آنے والی کسی گولی کا شکار ہوگیا۔ یہ خبریں پڑھتے ہوئے جی چاہتا ہے دونوں طرف کے ان بے گناہوں کی لاشوں پر نظر ڈالیں۔ کوئی رخسانہ،

Read more

نواز شریف کو یہ رتبہ بلند مبارک ہو

یہ مئی کا مہینہ تھا جب ایسٹ انڈیا کمپنی نے آزادی کے طلب گار ہندوستانیوں کی مسلح جدوجہد کو ’غدر‘ کا نام دیا اور اس تحریک آزادی کو کچلنے کے لیے خون کے دریا بہا دیئے۔ منگل پانڈے جو اس جدوجہد آزادی کا پہلا شہید تھا، اس نے اور اس کے ہندو اور مسلمان ساتھیوں نے انقلاب کا جھنڈا بلند کیا اور شہید وطن ہوئے، ان 85 ناموں کی فہرست ہمیں مولانا غلام رسول مہر کی کتابوں میں ملتی ہے۔

Read more

ایک ہزار سنگینیں اور چار اخبار

کلکتہ کے جیل خانے میں اپنے قرض داروں کے غیظ و غضب کا شکار ایک انگریز جیمز ہکی اپنی قید کی آخری گھڑیاں گزار رہا ہے۔ وہ دوسرے انگریزوں کی طرح ایسٹ انڈیا کمپنی کے ملازموں پر برستے ہوئے ہُن کی کہانیاں سن کر کلکتہ آیا تھا۔ یہاں اس نے تجارت کی، لیکن گھاٹا ہوا۔ اس گھاٹے کو پورا کرنے کے لیے اس نے قرض لیا اور قرض ادا نہ کرسکا، چنانچہ گرفتار ہوا اور جیل میں ڈال دیا گیا۔

Read more

شاندار لوگوں کا خوبصورت شہر

لمز کے گرمانی سینٹر کے بلاوے پر میں اس سے پہلے بھی لاہور جاچکی ہوں ۔ پچھلی مرتبہ میزبانی ہماری معروف شاعرہ یاسمین حمید نے کی تھی ۔ اس مرتبہ حلقہ دانش کی طرف سے پروفیسر معین الدین نظامی کا دعوت نامہ موصول ہوا ۔ اس سے کئی ہفتوں پہلے ڈین آف سوشل سائنسز ڈاکٹر کامران اژدر علی یہ کہہ چکے تھے کہ آپ کو ہمارے حلقہ دانش میں آنا ہے اور ہمارے طلبہ سے باتیں کرنی ہیں ۔ اس

Read more

مدیحہ گوہر: مزاحمت کی علامت

مدیحہ گوہر رخصت ہوئیں اور اپنے پیچھے بڑا کام‘ بڑا نام اور مداحوں کا ایک بڑا سوگوار حلقہ چھوڑ گئی ہیں۔ وہ کراچی میں پیداہوئیں‘ انگریزی ادب میںایم اے کیا۔انگلستان چلی گئیں جہاں انھوںنے لندن یونیورسٹی سے تھیٹر میں ایم اے کی ایک اورڈگری لی‘ پھر پاکستان واپس آگئیں۔ پاکستان میں حبس و جبر کا موسم تھا‘ انحراف اور مزاحمت مدیحہ کے مزاج کاحصہ تھی، انھوں نے مزاحمت کے لیے تھیٹر کا انتخاب کیا اور یہیںسے‘ اجوکا ‘ تھیٹرکی بنیاد

Read more

علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی میں تین دن (آخری حصہ)

وہ تین دن جو اسلام آباد میں گزرے، ہنگامہ خیز اور ولولہ انگیز تھے۔ ہم علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کے تین روزہ ادبی اور ثقافتی جشن میں یونیورسٹی طلبہ و طالبات اور اساتذہ کا انہماک دیکھ رہے تھے۔ یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر شاہد صدیقی نے اب سے ساڑھے تین برس پہلے اس کا انتظام و انصرام سنبھالا اور ان برسوں کے دوران انھوں نے یونیورسٹی کو ایک دانش گاہ بنادیا ہے۔ اس کی راہداریوں سے گزرتے ہوئے مجھے

Read more

علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی میں تین دن

آنکھ کھلی تو پوپھٹ رہی تھی جب پہلی چڑیاچہکی اور پھردوسری چہچہائی تو یادآیاکہ میںعلامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کے گیسٹ ہاؤس میں ہوں۔ اقبال کے کلام نے ذہن پر یورش کی۔ سِلسلئہ روز و شب، نقش گرِ حادثات سِلسلئہ روز و شب، اصلِ حیات وممات  سِلسلئہ روز و شب، تارِ حریرِ دو رنگ جِس سے بناتی ہے ذات اپنی قبائے صفات سلسلئہ روز و شب، سازِ ازل کی فغاں جس سے دکھاتی ہے ذات زیروبمِ ممکنات اے حَرمِ قُرطُبہ! عشق

Read more

میاں، بیوی اور واہگہ

حسینہ معین سے دوستی اتنی پرانی ہے کہ ان کی کوئی بات ٹالنی ممکن نہیں ہوتی۔ یہی وجہ ہے کہ وہ جب مجھے کسی کھیل کے پریمیئر پر لے گئیں تو میں کچھ زیادہ خوش نہیں تھی۔ آرٹس کونسل پہنچ کر معلوم ہوا کہ دبئی سے آنے والے تھیٹر گروپ ’’گونج‘‘ کا کھیل ’’میاں، بیوی اور واہگہ‘‘ کا پریمیئر ہے تو اندازہ ہوا کہ اس میں بٹوارے کی کہانی کسی دوسرے زوایے سے بیان کی گئی ہوگی۔ یہ میرا محبوب

Read more