اپنی خوش نصیبی پر رشک کریں

ہم اپنے اپنے گھروں میں چین سے بیٹھے ہیں ، ہم نہیں جانتے کہ ابتلا کیا ہوتی ہے۔ ہمیں موسم کے شداید کی شکایت ہے، اس بات کا شکوہ ہے کہ بجلی کبھی آتی ہے اورکبھی نہیں آتی، پانی کے لیے لوگ بطور خاص عورتیں اور بچے مارے مارے پھرتے ہیں۔ ان تمام مسائل کے…

Read more

مریخ کے سفر کی آرزو

نوعمری کا زمانہ یاد آتا ہے تو آج بھی یقین نہیں آتا کہ انسان 50ء، 60ء اور 70ء کی دہائیوں میں کیسی چھلانگیں لگا رہا تھا۔ انیسویں صدی میں غالبؔ نے کہا تھا۔ میری رفتار سے بھاگے ہے بیاباں مجھ سے بیسویں صدی میں انسان اپنی زندگی میں اس مصرعے کی توسیع دیکھ رہا تھا اور…

Read more

انور سجاد: آتی جاتی سانس کا عالم نہ پوچھ

انور سجاد، اداکار، صدا کار اورکہانی کار تھے۔ دنیا کے اسٹیج پر انھوں نے اپنی کہانی کاری، صدا کاری اور اداکاری کی داد وصول کی، وقت نے تالی بجائی اور ان کی زندگی پر فنا کا سیاہ پردہ گرگیا۔
وہ ان لوگوں میں سے تھے جو تقسیم سے تیرہ برس پہلے پیدا ہوئے۔ جدی، پشتی لاہورکے رہنے والے۔ والد اپنے زمانے کے ایک کامیاب ڈاکٹر تھے اور اس زمانے کی روایت کے مطابق خواہش یہ تھی کہ فرزند دل بند بھی ڈاکٹر بنے اور جس طرح وہ لوگوں کی مسیحائی کرتے تھے، اسی طرح انور کے ہاتھ میں بھی شفا ہو، لیکن انورکو ادب کا چسکا تھا اور ادیبوں کی زیارت کا لپکا۔ جیسے تیسے انھوں نے ڈاکٹری پڑھی، نام کے آگے ڈاکٹر لکھا، ابا مطمئن، بیٹا غیر مطمئن۔ کہانیاں لکھیں جو مشہور ادبی رسالوں میں شایع ہوئیں۔

Read more

درازا شریف کا سچل

سندھ کی خاک میں سوتے ہوئے انھیں 198 برس ہوگئے۔ وہ درازا کے حافظ شیرازی کہلائے۔ ایک باغی شاعر جسے آٹھ دس برس کی عمر میں شاہ لطیف نے دیکھا تو اپنا جانشین قرار دیا تھا۔ برملا یہ کہاکہ ان کے مقصد کی تکمیل یہ جوان کرے گا۔ میں نے جس دیگ کو ابلنے کے…

Read more

انسان ناقابلِ شکست ہے

ہم شاعر علی سردار جعفری کی تعظیم و تکریم کرتے رہے، انھیں داد دیتے رہے۔ ان کی شخصیت ہشت پہلو تھی۔ وہ نثر کے بھی بادشاہ تھے۔ جس کا ہمارے یہاں کم لوگوں کو علم ہے۔ چند دنوں پہلے اسلام آباد سے دانشور اور پنجابی کے ادیب احمد سلیم کا فون آیا کہنے لگے ’’…

Read more

کراچی پریس کلب کی ایک شام

شام اداس ہے، اونچے پیڑوں اور پستہ قامت پودوں پر بھی دھوپ کی زردی پھیلی ہوئی ہے۔ تنہا کوئل کی آواز دل کو کچھ اور ملول کر رہی ہے۔ کراچی پریس کلب کے صحن میں بیٹھی ہوئی میں اُس پریس کلب کو یاد کر رہی ہوں جو اب سے 40 برس پہلے ہوتا تھا۔ کچا…

Read more

جب گھڑیال نے پانچ بجائے

برصغیر میں اور دنیا کے کئی ملکوں میں 13 اپریل کو جلیانوالہ باغ کے قتل عام کی صد سالہ سالگرہ منائی گئی۔ امرتسر میں اس خونیں سانحے کی یادگار پر راہل گاندھی، دوسرے سیاسی رہنماؤں اور ہندوستانی وزیر اعظم نے بھی حاضری دی۔ ہزاروں لوگ اس یادگار پر پھول چڑھانے، آنسو بہانے اور شمعیں جلانے…

Read more

شاہ لطیف کی سات شہزادیاں

اس لمحے مجھے وہ وقت یاد آ رہا ہے جب میں شاہ کی درگاہ کے محرابی دروازوں تک پہنچی تھی اور پھر ایک دروازے پر ٹھہر کر ریشم کے پھولوں سے ڈھکے ہوئے اس بستر کو دیکھا تھا جس پر پونے تین سو برس سے وہ شخص آرام کر رہا تھا جس نے جوگیوں اور بنجاروں کے ساتھ گھوم کر اپنی دھرتی کے چپے چپے کو دیکھا، جس کے بالوں اور پیروں کو سندھ کی مٹی نے اپنے رنگ میں رنگ دیا اور وہ اس سرزمین کے ان لوگوں کی آواز بن گیا جو زور آوروں کے سامنے قالین کی طرح بچھنے پر مجبور تھے، جنھیں حملہ آوروں کے گھوڑوں نے بار بار روندا تھا۔ یہ وہ شخص ہے جس کے لفظوں کی کونجیں اڑان بھرتی ہیں اور جانی انجانی بستیوں میں رہنے والے کے سینوں میں بسیرا کرتی ہیں۔

ان داستانوں میں سانس لیتی ہوئی سسّی، نوری، ماروی، مومل، سوہنی، لیلا اور ہیرکی خوشبو ہر طرف پھیلی ہوئی ہے۔ وہ سندھ جہاں عورت صدیوں سے جور اور جبرکی رنجیروں میں جکڑی ہوئی ہے، وہاں کی دم گھونٹ دینے والی فضا میں سندھ کی یہ سات شہزادیاں ہیں جنھیں شاہ نے لوک کہانیوں سے اٹھایا اور عالمی ادب میں عشق، پیمانِ وفا، ذہانت اور جرات کا استعارہ بنا دیا۔ یہ شاہ کی شاعری تھی جس نے سندھ کی عورت کے سینے میں بغاوت کا وہ شعلہ رکھ دیا جو ظالموں سے بجھائے نہیں بجھتا۔ دست قاتل کے سامنے سر بلند رہنے کی ادا سندھ کی عورت نے شاہ کی شاعری میں جاری و ساری احتجاج اور انحراف سے سیکھی۔

Read more

باقر نقوی بھی رخصت ہوئے

وقت کی لہروں پر بہتے ہوئے ہم کہاں سے کہاں نکل جاتے ہیں۔ میرے ساتھ بھی کچھ یہی ہوا۔ ان دنوں مجھے اندازہ ہی نہیں ہوا کہ صبح کب ہوئی اور شام کب۔ اخبار کو ہاتھ لگانے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا۔ بہت مشکل اور ہمت سے کالم لکھتی رہی۔ گھر جانے کے…

Read more

شاگردوں سے خوفزدہ استاد

نظیراکبر آبادی اگر آج ہمارے درمیان موجود ہوتے توکیا کمالات دکھاتے، عوامی شاعر تھے، اس لیے کراچی پریس کلب کا پھیرا لگاتے تو ہوسکتا ہے کہ دو چار ڈنڈوں سے ان کی بھی تواضع ہوتی، آنسوگیس سے آنکھیں لال ہوتیں اور لاہورکا رخ کرتے تو پروفیسرز اور لیکچرز ایسوسی ایشن کا دھرنا دیکھتے، جن کی فریاد پر دھرنوں کے شہنشاہ کان دھرنے کو تیار نہیں۔ ایسے میں وہ ہمیں برسات کی بہاروں کا احوال سنانے کی بجائے، یہ گنگناتے کہ کیا کیا لگاہے یارو، تعلیم کا تماشا ، جی کھول کر استاد کی ٹھکائی۔ وہ جس دورکے پروردہ تھے، وہاں استاد کی تعظیم و تکریم، باپ سے زیادہ تھی، اپنے بچے کو استاد کے سپرد کرتے ہوئے، گھرکے بڑے یہ کہتے تھے کہ چمڑی آپ کی ہڈیاں ہماری۔

نظیر تو یہ تماشا دیکھ کر حق دق رہ جاتے اور ان کی سمجھ میں نہ آتا کہ ہمارے بارے میں کیا رائے قائم کریں۔ جہاں پولیس، استادوں کو ڈنڈے مار رہی ہو، ان پر آزادانہ آنسوگیس کا استعمال کررہی ہو انھیں گرفتارکرکے حوالات لے جارہی ہو، وہاں استاد کا احترام کیسے اور کیوں کر ہو۔ وہاں بہاولپور کا شاگرد اپنے استاد سے اختلافِ رائے پر چھرے مارکرکیوں نہ قتل کردے اور کراچی میں کسی ایسے استاد کو گولیوں سے کیوں نہ چھلنی کردیا جائے جو اپنے شاگردوں کو جدید تعلیم دیتا تھا اور نئے خیالات سے روشناس کراتا تھا۔ ایسے ایک نہیں کئی واقعات ہیں جن میں استاد قتل کیے گئے اور ان کے قاتل آج بھی آزاد پھرتے ہیں۔

Read more