برٹرینڈ رسل: ایک بڑا جنگ دشمن

رسل انیسویں صدی میں پیدا ہوا اور بیسویں صدی کے 70 ویں برس جان سے گزرا۔ ایک امیر اور بارسوخ خاندان کا بیٹا رسل ریاضی کو اپنی زندگی کا بنیادی شوق اور مسرت کا سرچشمہ کہتا تھا۔ اس کے بڑے بھائی نے اسے اقلیدس کے Elements پڑھنے کے لیے دیے۔ وہ چار برس کی عمر میں یتیم و یسیر ہوا اور اپنے دادا، دادی کے سایہ عاطفت میں آیا۔ اس کے والدین کی وصیت تھی کہ اسے دو آزاد خیال افراد کی سر پرستی میں دیا جائے لیکن اس کے دادا اور دادی کا خیال کچھ اور تھا۔

Read more

پہلا میئر تھا، پھر کراچی کا بادشاہ کہلایا

ان دنوں ہم بڑے بڑے عہدیداروں سے یہ دعوے سنتے ہیں کہ وہ پروٹوکول نہیں لیں گے، پھر یہ دیکھا ہے کہ وہ بیس بائیس گاڑیوں کے پروٹوکول میں چلتے ہیں اور انھیں اپنے دعوے یاد نہیں آتے۔ ایسے میں وہ شخص نگاہوں میں گھوم جاتا ہے جو کراچی کا پہلا میئر تھا۔ پروٹوکول لینا…

Read more

ملالہ ، گل مکئی سے زندگی تماشا تک

وہ جب اسے اپنے تئیں ہلاک کر رہے تھے اور یہ سمجھ رہے تھے کہ بارود بھری جن گولیوں کو اس کے بدن میں اتار رہے ہیں تو دراصل بدی کو ختم کر رہے ہیں۔ انھیں معلوم نہیں تھا کہ جسے وہ بدی کا نمایندہ سمجھ رہے ہیں، وہ دنیا میں لڑکیوں کی تعلیم کا…

Read more

اپنی خوش نصیبی پر رشک کریں

ہم اپنے اپنے گھروں میں چین سے بیٹھے ہیں ، ہم نہیں جانتے کہ ابتلا کیا ہوتی ہے۔ ہمیں موسم کے شداید کی شکایت ہے، اس بات کا شکوہ ہے کہ بجلی کبھی آتی ہے اورکبھی نہیں آتی، پانی کے لیے لوگ بطور خاص عورتیں اور بچے مارے مارے پھرتے ہیں۔ ان تمام مسائل کے…

Read more

مریخ کے سفر کی آرزو

نوعمری کا زمانہ یاد آتا ہے تو آج بھی یقین نہیں آتا کہ انسان 50ء، 60ء اور 70ء کی دہائیوں میں کیسی چھلانگیں لگا رہا تھا۔ انیسویں صدی میں غالبؔ نے کہا تھا۔ میری رفتار سے بھاگے ہے بیاباں مجھ سے بیسویں صدی میں انسان اپنی زندگی میں اس مصرعے کی توسیع دیکھ رہا تھا اور…

Read more

انور سجاد: آتی جاتی سانس کا عالم نہ پوچھ

انور سجاد، اداکار، صدا کار اورکہانی کار تھے۔ دنیا کے اسٹیج پر انھوں نے اپنی کہانی کاری، صدا کاری اور اداکاری کی داد وصول کی، وقت نے تالی بجائی اور ان کی زندگی پر فنا کا سیاہ پردہ گرگیا۔
وہ ان لوگوں میں سے تھے جو تقسیم سے تیرہ برس پہلے پیدا ہوئے۔ جدی، پشتی لاہورکے رہنے والے۔ والد اپنے زمانے کے ایک کامیاب ڈاکٹر تھے اور اس زمانے کی روایت کے مطابق خواہش یہ تھی کہ فرزند دل بند بھی ڈاکٹر بنے اور جس طرح وہ لوگوں کی مسیحائی کرتے تھے، اسی طرح انور کے ہاتھ میں بھی شفا ہو، لیکن انورکو ادب کا چسکا تھا اور ادیبوں کی زیارت کا لپکا۔ جیسے تیسے انھوں نے ڈاکٹری پڑھی، نام کے آگے ڈاکٹر لکھا، ابا مطمئن، بیٹا غیر مطمئن۔ کہانیاں لکھیں جو مشہور ادبی رسالوں میں شایع ہوئیں۔

Read more

درازا شریف کا سچل

سندھ کی خاک میں سوتے ہوئے انھیں 198 برس ہوگئے۔ وہ درازا کے حافظ شیرازی کہلائے۔ ایک باغی شاعر جسے آٹھ دس برس کی عمر میں شاہ لطیف نے دیکھا تو اپنا جانشین قرار دیا تھا۔ برملا یہ کہاکہ ان کے مقصد کی تکمیل یہ جوان کرے گا۔ میں نے جس دیگ کو ابلنے کے…

Read more

انسان ناقابلِ شکست ہے

ہم شاعر علی سردار جعفری کی تعظیم و تکریم کرتے رہے، انھیں داد دیتے رہے۔ ان کی شخصیت ہشت پہلو تھی۔ وہ نثر کے بھی بادشاہ تھے۔ جس کا ہمارے یہاں کم لوگوں کو علم ہے۔ چند دنوں پہلے اسلام آباد سے دانشور اور پنجابی کے ادیب احمد سلیم کا فون آیا کہنے لگے ’’…

Read more

کراچی پریس کلب کی ایک شام

شام اداس ہے، اونچے پیڑوں اور پستہ قامت پودوں پر بھی دھوپ کی زردی پھیلی ہوئی ہے۔ تنہا کوئل کی آواز دل کو کچھ اور ملول کر رہی ہے۔ کراچی پریس کلب کے صحن میں بیٹھی ہوئی میں اُس پریس کلب کو یاد کر رہی ہوں جو اب سے 40 برس پہلے ہوتا تھا۔ کچا…

Read more

جب گھڑیال نے پانچ بجائے

برصغیر میں اور دنیا کے کئی ملکوں میں 13 اپریل کو جلیانوالہ باغ کے قتل عام کی صد سالہ سالگرہ منائی گئی۔ امرتسر میں اس خونیں سانحے کی یادگار پر راہل گاندھی، دوسرے سیاسی رہنماؤں اور ہندوستانی وزیر اعظم نے بھی حاضری دی۔ ہزاروں لوگ اس یادگار پر پھول چڑھانے، آنسو بہانے اور شمعیں جلانے…

Read more