سندھ دھرتی اور لسانیت کے عفریت کا برہنہ رقص



مجھے وہ دن یاد ہیں، جب بیدار ہوتے ہی ہمیں خوف آن لیتا، موت کا خوف۔ ہم گھروں سے نکلتے، تو لاعلم ہوتے کہ دفتر پہنچ پائیں گے یا نہیں، ہر موڑ پر اندیشہ ہوتا، ہر سڑک پر خطرہ پھن پھیلائے کھڑا ہوتا۔ اور جب رات اترتی، اور ہم گھروں کو لوٹتے، تو اپنی ماؤں کی امیدوں کے سہارے ہوتے۔ ڈرے ہوئے، سہمے ہوئے ہم سڑکیں عبور کرتے کہ کہیں بھی، کچھ بھی ہوسکتا تھا۔ یہ 2008 سے 2012 تک کا زمانہ ہے، جب سندھ پر خونیں تکون کی حکومت تھی۔

ہر سیاسی جماعت کو اپنے ووٹرز سے زیادہ اس کی لاش میں دل چسپی تھی، لسانیت کا عفریت بل سے باہر نکل آیا تھا۔ وہ روز پندرہ بیس افراد کو نگل لیتا۔ ایک لاش سے دوسری لاش گرنے تک کا وقفہ امن کا وقفہ کہلاتا تھا۔ پی پی پی، ایم کیو ایم اور اے این پی کا انحصار اپنے عسکری ونگز پر تھا۔ سب کے مفادات لسانی فسادات سے وابستہ تھے۔ شہر کی مخلوط آبادیوں میں وحشت رقص کرتی۔ کٹی پہاڑی خوف کی علامت بن گئی تھی۔ گو ہماری یادداشت کمزور ہے، گو ہم موت کو جلد بھول جاتے ہیں، مگر مجھے ان سیاہ دنوں سے جڑی سرخ، کریہہ تصویریں یاد ہیں۔

میں انھیں نہیں بھولوں گا۔ اپنی قبر تک انھیں یاد رکھوں گا۔ تب ماں بولی کی شناخت موت کا سبب بن سکتی تھی۔ تب۔ ۔ ۔ عضو کاٹے گئے، جسم داغے گئے، اور ان کی ویڈیوز بنائی گئیں۔ اس بار سندھ کے لیے امن کا زمانہ کچھ طویل رہا۔ 2012 میں طالبان کی دھمکیوں کے بعد ایم کیو ایم، پی پی پی اور اے این پی والے، جو ایک دوسرے کو قاتل قرار دیتے نہیں تھکتے تھے، اپنے ”شہدا“ کو بھول کر ایک پیچ پر آگئے، اور ایک سُر میں گریہ کرنے لگے۔

آپریشن، جو سیکیورٹی اداروں کی قیادت میں زیر زمین جاری تھا، نواز شریف کے حکومت میں آنے کے بعد تیز ہوا۔ اس کا کریڈٹ ن لیگ کو بھی جاتا ہے، جو سیاسی اس معاملے میں سیاسی دباؤ کا شکار نہیں ہوئی۔ تو آپریشن تیز ہوتا گیا، پہلے سیاسی جماعتوں کے عسکری ونگ خاموش ہوئے، پھر شدت پسند تنظیمیں غیر فعال ہونے لگیں اور آخر دو تین برس بعد کراچی بدل گیا۔ امن کا سنہری دور ہم پر اترا آیا، گیت گائے جانے لگے۔ ہاں، وہ امن حقیقی تھا، مگر حتمی نہیں تھا کہ لسانیت کا عفریت مرا نہیں تھا، وہ بس اپنے بل میں گیا تھا۔

مگر ارشاد رانجھائی کے قتل کے بعد میں پھر سندھ میں اس کی پھنکار سن رہا ہوں۔ لاڑکانہ میں تین پشتونوں کے قتل کے بعد شاید جلد علاقے پھر تقسیم ہوجائیں، شاید پھر خوف ایستادہ ہو، شاید ماں بولی پھر مرض بن جائے۔ موت کے دیوتا نے انگڑائی لی ہے، سندھ کے جسم میں موجود لسانی فسادات کا ناسور پھر بڑھ رہا ہے۔ اگر ٹھوس اقدامات نہیں کیے گئے، تو بھولے بھالے پشتون، سندھی اور مہاجر پھر اپنے کفن کے انتظامات کر لیں۔

Facebook Comments HS