سود ایک کا لاکھوں کے لیے مرگِ مفاجات
آخر کار آئی ایم ایف سے حصولِ قرض کی حکومتی کوششیں رنگ لے آئیں اور وزیراعظم عمران خان کی آئی ایم ایف کی منیجنگ ڈائریکڑ کے ساتھ ہونے والی ملاقات میں قرض کی شرائط تقریباً طے ہوگئیں۔ چھ ارب ڈالر کے اس معاشی پیکج کے بنیادی نکات طے کر لیے گئے ہیں اور اپریل 2019 ء اس پیکج کی شرائط کو حتمی شکل دے دی جائے گی۔ عمران خان اور ان کی جماعت سی پیک سمیت دیگر منصوبوں کی تفصیلات کو عام کرنے اورپارلیمنٹ میں زیر ِ بحث لانے کے لیے مسلم لیگ نواز کی حکومت پر شدید دباؤ ڈالتی رہی تھی۔
لیکن افسوسناک امر یہ ہے کہ خود تحریک انصاف کی حکومت اور آئی ایم ایف نے متفقہ طور پر قرض کے اس معاہدے کی شرائط کو خفیہ رکھنے پر اتفاق کیا ہے۔ حکومت کی جانب سے ایم ڈی آئی ایم ایف اور وزیراعظم کی ملاقات کی خبروں کو نہایت دل آویز بنانے کی کوشش کی گئی اور بتایا گیا کہ دونوں فریقین پاکستان کی معیشت کی بہتری، غریبوں کے تحفظ اور پاکستانی عوام کا معیار زندگی بلند کرنے کے لئے فکر مند تھے۔ لیکن جو شرائط اس قرض کے لیے آئی ایم ایف نے رکھی ہیں اور جو حکومت نے من و عن تسلیم بھی کر لی ہیں ان کا معیشت اور عوام پر منفی اثر پڑے گا۔
حقیقت یہ ہے کہ تحریکِ انصاف کی حکومت نے آئی ایم یف کو یہ یقین دہانی کروائی ہے کہ وہ ریونیو کا ہدف 4.7 کھرب مقرر کرے گی اور ٹیکس وصولی کا دائرہ بڑھائے گی۔ تیل، بجلی اور گیس کی قیمتوں پر نظر ثانی کرنے کے ساتھ سرکاری اداروں کے خساروں پر کمی پانے کی کوشش کرے گی۔ اسٹیٹ بنک کومزید خود مختار بنایا جائے گا اور ڈالر کے مقابلے میں روپے کی شرح مارکیٹ ریٹس کے مطابق بنا ئے گی۔ آئی ایم ایف کو حکومت کی ان یقین دہانیوں سے یہ بالکل واضح ہوتا ہے کہ آئیندہ بجٹ میں آئی ایم ایف کا ایجنڈا ہی بنیادی اہمیت کا حامل ہوگا۔
تیز رفتاری سے قرض اٹھاتی تحریک ِ انصاف آج کی معاشی بد حالی کا ذمہ دار سابقہ حکومتوں کو قرار دے رہی ہے اور بتا رہی ہے کہ روز کا چھ ارب روپیہ قرضوں کے سود کی مد میں ادا ہورہا ہے۔ لیکن جو قرض تحریک انصاف آج خود لے رہی ہے اس کا سود کل کون ادا کرے گا َ؟ معاشی امداد کے حصول کے لیے سرگرداں تحریک انصاف یہ ثابت کررہی ہے کہ اس جماعت کے پاس ملک کی ترقی کا کوئی واضح منصوبہ نہیں تھا۔ تحریک انصاف کے ساتھ معاملہ یہ ہوا کہ اس نے ملک کی معیشت کے لیے کوئی جدید معاشی اور اقتصادی ماڈل کا تصور پیش کرنے کی بجائے ”چندہ ماڈل“ پیش کیا جس میں انھیں بری طرح ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔ تارکین وطن نے ڈالر بھیجے نہ لوٹا ہوا پیسا واپس آیا۔
قرض در قرض کا یہ سلسلہ کیا کبھی رک بھی پائے گا؟ واقعہ یہ ہے کہ وطن عزیز میں ہمیشہ زمینی حقائق کو نظر انداز کرکے معاشی و سماجی پالیسیاں بنائی جاتی رہی ہیں۔ اقتدار میں پاکستان پیپلز پارٹی ہو، پاکستان مسلم لیگ نواز ہو یا تحریک انصاف موجودہ معاشی اور سماجی ڈھانچے میں بنیادی تبدیلیاں لائے بغیر مثبت تبدیلی کیسے ممکن ہے؟ بڑے بڑے زمیینداروں، گدی نشینوں اور اربوں روپے کی ناجائز دولت کے بل پر سیاست اور وسائل پر قابض سیاست دانوں کے ہوتے ہوئے کیسے ممکن ہے کہ حقیقی عوام دوست معاشی اصلاحات وجود میں آسکیں۔
2007 ء میں یورپ کو سٹے بازی اور مفت بری کے فنانس کیپٹل نے معاشی بحران سے تباہ کرکے وہاں کی وسائل سے مالا مال فلاحی ریاستوں کو بھی جھنجھوڑ ڈالا تھا۔ اسی طرح قرض میں جکڑی معیشت کے حامل پاکستان میں ٹیکس چوری، ناجائز دولت اور بلیک مارکیٹنگ نے معاشرے کی سماجی اور معاشی بنیادوں کو مزید تباہ کیا ہے۔ نتیجے میں ایک جانب بے حساب دولت کی مالک اقلیت اور دوسری جانب مسائل کے انبار میں دبی اکثریت۔ پاکستان اس وقت تک معاشی ترقی نہیں کرسکتا جب تک معاشرتی یا سماجی ترقی کو ممکن بنا کر منصفانہ معاشرے کی بنیاد نہیں رکھی جاتی جس کے لیے زرعی اصلاحات کا نفاذ ناگزیر اور پہلا قدم ہے۔ قیام پاکستان کے بعد پلاننگ کمیشن نے پہلے پنج سالہ منصوبے میں زرعی اصلاحات کو معاشرتی ترقی اور منصفانہ سماج کے لیے لازمی قرار دیا تھا۔ لیکن ملک فیروز خان نون کی حکومت نے یہ کہہ کر اسے مسترد کر دیا کہ اس عمل سے پیداوار پر منفی اثرات مرتب ہوں گے ۔
ذرائع پیداوار پر ارتکاز کے خاتمے کے لیے 1943 ء میں بانی پاکستان محمد علی جناح نے مسلم ماہرین کی ایک کمیٹی تشکیل دی کہ وہ مستقبل کے پاکستان کے لیے معاشی منصوبہ بندی کرے۔ اس کمیٹی کی رپورٹ جناب شمس الحسن نے اپنی کتاب
Quaid E Azam ’s Un realised Dream میں شامل کی ہے۔ یہ کمیٹی ذرائع پیداوار کو زیادہ سے زیادہ ہاتھوں میں پھیلانے کی حامی تھی۔ جس کے لیے چھوٹے کاشتکاروں اور چھوٹے کارخانہ داروں کو بھرپور معاشی سرگرمیوں کے مواقع دینے کے حق میں تھی تاکہ ذرائع پیداوار اور دولت کا ارتکاز نہ ہو اور متوسط طبقہ وسعت اختیار کرے۔ کمیٹی نے جدید تعلیم، فنی تربیت اور نجی اور سرکاری شعبے میں بڑی صنعتوں کے قیام کی بھی تجوز دی تھی۔
ایک جانب مسائل کی سنگینی کا یہ عالم ہے کہ گتھی کسی طور سلجھنے میں نہیں آرہی اور دوسری جانب ناپختہ کاری کا یہ حال ہے کہ پاکستان تحریک انصاف نے ارتکاز دولت کے خاتمے کے لیے زرعی اصلاحات اور چھوٹی صنعتوں کے فروغ کی بجائے مرغی اور انڈوں کا پروگرام پیش کیا ہے۔ وزیر اعظم عمران خان نے دبئی میں منعقد ہونے والی عالمی حکومتی کانفرنس میں اپنے خطاب میں حسبِ روایت پہلے تو کرکٹ کی تراکیب اور اصلاحات کا مفصل تجزیہ کیا اور پھر بیس ایکٹر پرتعمیر ہونے والے شوکت خانم کینسر اسپتال کی تعمیر کی کہانی دہرائی۔ ان کا خیال اور گمان ہے کہ وہ سیاست اور جہاں بانی جیسے حساس اور باریک معاملات بھی تاریخی شعور اور سماجی مسائل کے ادراک کی بجائے کرکٹ کی تراکیب سے اور چندہ جمع کرکے چلا لیں گے جو کہ ممکن نہیں ہے۔ فی الحال تو تحریک انصاف قرض اور امداد ہی کے لیے سرکرداں نظر آتی ہے اور بھاری قرضوں اور ان کے سود کے بوجھ تلے دبی اور ناعاقبت اندیش حکمرانوں کی ستائی ہوئی عوام یہ کہنے پر مجبور ہے کہ :
کون ایسا ہے جسے دست ہو دل سازی میں
شیشہ ٹوٹے تو کریں لاکھ ہنر سے پیوند


