ریڈیو سے جڑی میرے بچپن کی یادیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ابھی کل ریڈیو کا عالمی دن گزرا۔ مجھے اپنے گھر موجود چاکلیٹ براون رنگ کے کور والا نیشنل پیناسونک کمپنی کا تھری بینڈ ماڈل (R-312) ریڈیو نہیں بھولے گا جس پر ابو بی بی سی اردو سروس اور وائس آف امریکا (VOA Urdu) کے پروگرام سنتے تھے۔ ویسا ایک ریڈیو میرے تایا کے پاس بھی تھا۔ گاؤں میں دو مکینک تھے جن کی لیبارٹری میں وہ ریڈیوکئی بار زیرعلاج رہ چکا تھا۔ اس کی ہمت تھی پھر بھی چلے جاتا تھا۔ بی بی سی اردو اور وی او اے اردو کی بڑی کامیابی یہ تھی کہ لوگ میڈیم شارٹ ویوز پر فریکونسی تلاش کرتے ہوئے ان چینلز کو فوراً پہچان لیتے۔ میرے گاؤں کے کئی ناخواندہ مستری مزدور بھی ان نشریات کے رسیا تھے۔ وہ کام کے دوران سیاسی تبصرے کرتے ہوئے یوں بولتے تھے کہ ’’رات بی بی سی نے یہ کہا اور وہ کہا‘‘ وغیرہ وغیرہ۔ میکنکوں کے آپریشن دیکھ دیکھ کر میں بھی ریڈیو کی چند تاریں جوڑنا سیکھ گیا تھا۔ عام طور پر بیٹری سے پاور فراہم کرنے والی تار میں آسانی سے جوڑ لیتا تھا۔

گھر میں کام کرنے والا عباس (جسے ہم عباسا کہتے تھے) ریڈیو اور ٹیپ ریکارڈرز کا کافی شوق رکھتا تھا۔ وہ فارغ وقت میں گاؤں کے بیوپاریوں کے پاس چکر لگاتا رہتا تھا۔ اسے ہندکو اور پہاڑی زبان کے ماہیوں اورگانوں کی کیسٹیں جمع کرنے کا بڑا شوق تھا۔ اس کا بس چلتا تو ساری تنخواہ انہی چیزوں پر خرچ کر دیتا۔ ایک بار مجھ سے فرمائش کی کہ شہر سے میرے لئے ایک کیسٹ لازمی لانا، مجھے یاد ہے کہ اس کیسٹ کا نام اس نے ’کچے دھاگے‘ بتایا تھا۔

امی آزاد کشمیر ریڈیو پر ’’پھولون گاش‘‘ نامی کشمیری پروگرام باقاعدگی سے سنتی تھیں۔ انہیں کشمیری گانے بہت پسند ہیں۔ ساتھ ساتھ وہ گنگناتی بھی رہتی تھیں۔ ایک اور ریڈیو اسٹیشن بھارت کے زیرانتظام کشمیر سے بھی چلتا تھا۔ اس کا نام شاید ’’ صدائے جموں کشمیر‘‘ تھا۔ وہ بھی امی کو پسند تھا۔ ابھی چند سال قبل کی بات ہے امی ہم سب بھائیوں اوربہن کو لیپ ٹاپ اور موبائل فونز میں مصروف دیکھ کر تپ گئیں۔ کہنے لگیں :’’خدا مارکُونی کو جنت میں جگہ دے کہ اس نے ریڈیو بنایا۔ گھر کے کسی کونے میں پڑا بجتا رہتا تھا اور کسی کام میں خلل بھی نہیں آتا تھا۔ ان لیپ ٹاپوں اور موبائلوں کی اسکرین پر تو کوئی شے ٹکتی ہی نہیں، اور نظر ہے کہ کہیں ٹھہرتی نہیں، انہوں نے لوگوں کو قیدی بنا چھوڑا ہے۔ ‘‘

آزادکشمیر ریڈیو پر شام کو پہاڑی زبان کا ایک پروگرام نشر ہوتا تھا، لوگ اس پروگرام میں خط بھی لکھتے تھے۔ رات کو ایک پروگرام ’’آپ کی فرمائش‘‘ میں لوگ کال کر کے اپنی پسند کے گانے سنتے تھے۔ سہ پہر کو فوجی بھائیوں کے لیے پروگرام ’’پاسبان ‘‘ نشر ہوتا۔ صبح کے وقت اسکول جاتے ہوئے بعض گھروں کے سامنے سے گزرتے ہوئے ریڈیو پاکستان اسلام آباد سے چلنے والے اسلامی پروگرام ”حی علی الفلاح” کی آوازیں کان میں پڑتی رہتی تھیں۔ اس بیچ کہیں سے ایف ایم آ گیا تو نوجوانوں کے ہاتھوں میں چھوٹے چھوٹے ریڈیو سیٹ نظر آنے لگے۔

ہمارے ابو بھی ایک دفعہ لاہور سے واپسی پر بڑے بھائی کے لیے چھوٹا سا ایک ریڈیو سیٹ خرید لائے۔ وہ کھلونا ریڈیو ہمیں بہت اچھا لگا۔ اس پر پی ٹی وی کی نشریات بھی سنی جا سکتی تھیں۔ ان دنوں رؤف خالد کا کشمیر پر بنایا گیا ایک ڈراما ’’لاگ‘‘ بڑا مقبول تھا۔ زیبا بختیار اور نادیہ خان نے بھی اس میں اداکاری کی تھی . اس سے پہلے’’ انگار وادی‘‘ چلا تھا، جس میں رؤف خالد کے ساتھ عتیقہ اوڈھو تھیں۔ مجھے یاد ہے کہ جب گاؤں میں لوڈ شیڈنگ کی وجہ سے ٹی وی بند ہوتے تو ہم اپنے گھر کے بڑے سے صحن میں کزنوں کے ساتھ بیٹھ کر باجماعت ’’لاگ‘‘ ڈراما اس چھوٹے سے ریڈیو پر سنتے تھے۔ باہر اس لیے بیٹھتے تھے کہ اندر آواز صاف نہیں آتی تھی. ان دنوں پاکستان اور بھارت کے سرکاری نشریاتی ادارے پروپیگنڈہ ڈرامے اور پروگرام تواتر سے چلایا کرتے تھے۔ ایسی فلمیں بھی بنتی رہتی تھیں. میں وہ ڈراما دیکھتے ہوئے کئی بار رویا تھا۔

اس وقت مجھے تاریخ کا تو پتا نہیں تھا، بہت چھوٹا تھا لیکن اتنا یاد ہے کہ ایک دن ذوالفقار تایا نے اپنے گھر کے صحن سے بلند آواز میں ابو کو پکارا، ان کا گھر ہمارے گھر کے پیچھے ذرا اونچائی پر ہے. ان کے ہاتھ میں ویسا ہی چاکلیٹ براون رنگ کا ایک ریڈیو تھا۔ اس وقت سنے گئے جو الفاظ میرے حافظے میں محفوظ رہ گئے، وہ یہ تھے ’’ابرار! فاروق لغاری بے نظیر زی حکومت تروڑ چھوڑی‘‘۔ یعنی یہ 1996 کا واقعہ ہے جب اس وقت کے پاکستانی صدر فاروق احمد خان لغاری نے اسٹیبلشمنٹ کے ساز باز کر کے بے نظیر کی حکومت کو 58 ٹو بی کا استعمال کرتے ہوئے ختم کر دیا تھا، جی یہ وہی فاروق لغاری تھا جسے بے نظیر ’فاروق بھائی‘ کہا کرتی تھیں۔

کرکٹ اس خطے کے بچوں، نوجوانوں اور بڑوں کی پہلی محبت ہے۔ اس زمانے میں کرک انفو(cricinfo) نام کی چیز سے کوئی واقف نہ تھا۔ انٹرنیٹ گاؤں تک نہیں پہنچا تھا۔ موبائل فون بھی نہیں تھے۔ جب بھی کوئی میچ ہوتا تو گھروں، بازاروں اور پہاڑی ٹیلوں غرض ہر جگہ نوجوان ریڈیو سنتے دکھائی دیتے۔ کمنٹری انگریزی میں ہونے کے باوجود سب اسے سمجھتے تھے۔ کچھ نوجوان تو کمنٹیٹرز کی نقل بھی کمال مہارت سے اُتار لیتے تھے۔ کچھ لوگ سہولت کے لیے ہندی ریڈیو ٹیون اِن کر لیتے تھے۔ ہندی کمنٹری میں ’’بلے باز‘‘، ’’گیند باز‘‘، سیما ریکھا ‘‘، ’’ساجھے داری‘‘، ’’اچھی بیٹنگ کا پردشن‘‘، ’’بَڑھیا شاٹ‘‘، ’’بہت ہی سندر شاٹ‘‘ کے لفظ مجھے نئے اور بہت بھلے لگتے تھے۔

1999 کے ورلڈ کپ کا فائنل تھا۔ میں اپنی پھوپھو کے گھر دوسرے گاؤں میں گیا ہوا تھا۔ وہ دن مجھے آسٹریلوی بلے باز رِکی پونٹنگ(Ricky Ponting) کے دھواں دھار چھکوں کی وجہ سے یاد ہے۔ اس زمانے میں کرکٹ کو لے کر لوگ بہت جذباتی ہوجاتے تھے۔ میرے ایک کزن نے اپنا دستی ریڈیو پاکستان ٹیم کی شکست کے صدمے میں زمین پر پٹخ دیا تھا۔

میں جب لاہور میں پنجاب یونیورسٹی کے شعبہ ابلاغیات میں پڑھنے لگا تو ایک دن کیمپس ریڈیو میں آڈیشن کا اعلان ہوا . میں نے بھی نام جمع کرا دیا . آڈیشن مقررہ تاریخ پر ہوا اور کچ دن بعد اہل قرار پانے والوں میں میرا نام بھی شامل تھا. یہ تھا ایف ایم 104.6 کیمپس ریڈیو، میں نے کبھی سوچا بھی نہ تھا کہ ریڈیو کا یہ سامع ایک دن مائیک کے اس طرف بیٹھا ہوگا. میں وہاں پروگرام کرتا رہا، پھر ریڈیو پاکستان لاہور کے ایف ایم 101میں موقع مل گیا.یہ خوشی کی بات اس لیے تھی کہ مجھے تاریخی اہمیت کے حامل اس چینل کی چھت تلے کام کرنے کا موقع مل گیا تھا. کچھ عرصہ وہاں رات دس بجے کا پروگرام کیا اور پھر کچھ ایسی مصروفیات آڑے آئیں کہ ریڈیو چھوٹ گیا لیکن ریڈیو پر بولنے اور اس کے لئے لکھنے کی مشق نے مجھے بہت فائدہ پہنچایا. اس مختصر سی پیشہ وارانہ زندگی میں ریڈیو والا مرحلہ میری خوشگوار یادوں کا ایک اہم باب ہے.

ذکر بچپن کا ہے، اس زمانے میں مجھے بی بی سی اردو اور وی او اے اردو کے کچھ اناونسر کے جملے اور ابتدائیے زبانی یاد ہو گئے تھے۔ عارف وقار، رضا علی عابدی، شفیع نقی جامعی، نعیمہ احمد مہجور وائس آف امریکا کے خالد حمید، یاسمین جمیل، بہجت جیلانی، مدثرہ منظر، اسد حسن، تابندہ کوکب، نیلوفر مغل کے نام فوری طور پر ذہن میں آتے ہیں۔ اسی طرح ان دونوں ریڈیو سروسز کے دور دراز علاقوں سے رپورٹ کرنے والے نمائندوں کی آوازیں اوران کے لہجوں میں محسوس ہوتا خوش گوار علاقائی آہنگ ابھی تک پردۂ سماعت پر نقش ہے۔ سوچتا ہوں کیسے اچھے دن تھے وہ۔ کتنا خالص تھا سب کچھ۔ محض آواز تھی اور ساری رنگینیاں ہم اسی سے کشید کر لیتے تھے۔ اب ہر طرف رنگ اور آواز کے جلوے ہیں لیکن پہلے والا وہ سرور کہاں۔ بس شور ہی شور ہے۔

بات میرے گھر کے اس پرانے جاپانی ریڈیو سے شروع ہوئی تو ذہن میں پرانی یادیں اُبھر اُبھر آئیں۔ تحریر پھیلتی جاتی ہے۔ مختصر یہ کہ جب وہ اکلوتا ریڈیو عمر رسیدہ ہوا تو چلتے چلتے گاہے اس کی آواز گُم ہو جایا کرتی تھی۔ ایسے میں اسے ہلکی سی تھپکی دیتے تو بولنے لگتا تھا۔ رفتہ رفتہ ہاتھ کی تھپکی چپت میں اور پھر چپت تھپڑ میں بدل گئی۔ بوڑھا ریڈیو آخر کب تک تھپڑ برادشت کر سکتا تھا۔ پھرایک دن وہ ہمیشہ کے لیے چُپ ہو گیا۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •