ڈیل اور ڈھیل کی سیاست
پاکستان کی سیاست عملی طور پر دو چہرے رکھتی ہے۔ اول وہ چہرہ جو سیاسی سکرین پر دکھایا جاتا ہے یا دیکھا جاتا ہے۔ دوئم وہ سیاسی چہرہ بھی ہے جو پردہ سکرین کے پیچھے پس پردہ سیاسی قوتوں اور طاقت ور طبقات یا پس پردہ قوتوں کے درمیان خاموشی سے کھیلا جاتا ہے۔ پاکستانی سیاسی تاریخ کا جائزہ لیا جائے تو اس میں پس پردہ سیاست کے مسائل اور کچھ لویا کچھ دو کی بنیاد پر سیاست سمیت سازشی کھیل کے مختلف پہلووں کی ایک بڑی جھلک نمایاں نظر آتی ہے۔ یہ ہی وجہ ہے کہ پاکستان کی مجموعی سیاست تضادات اور قومی مفادات کے مقابلے میں ذاتی مفاد یا اسٹیبلیشمنٹ سمیت طاقت ور طبقات کے درمیان گھری نظر آتی ہے۔ اس طرز کی سیاست کا نقصان جہاں جمہوریت اور قانون کی حکمرانی کو ہوتا ہے وہیں عوامی مفادات پر مبنی سیاست بھی بری طرح متاثر ہوتی ہے۔
آج پاکستان کی سیاست میں ڈیل اور ڈھیل کی سیاست کی بحث نمایاں ہے۔ کیونکہ حکومت اور حزب اختلاف کی دو بڑی سیاسی قیادتوں جن میں نواز شریف اور آصف زرداری کے درمیان ایک بڑی بداعتمادی کی سیاست نمایاں ہے۔ بہت سے سیاسی پنڈتوں، تجزیہ کاروں، اینکرز سمیت کچھ سیاسی قوتیں بھی یہ تاثر دینے کی کوشش کررہی ہیں کہ نواز شریف اور شہباز شریف کی پس پردہ قوتوں کے ساتھ کافی حد تک کچھ لو اور کچھ دو کی بنیاد پر معاملات طے ہوگئے ہیں۔ کچھ اسی طرح کا تاثر آصف علی زرداری کے بارے میں بھی دیا جارہا ہے۔ لیکن شریف فیملی اور آصف زرداری اس طرز کی کسی بھی سیاسی ڈیل کی سختی سے تردید کرتے ہیں۔ ان کے بقول ڈیل یا ڈھیل کی بحث خود حکومت کی پیدا کردہ ہے اور اس کے پیچھے اس کی حکمرانی کی ناکامی کی کہانی ہے۔
پچھلے دنوں وزیر اعظم عمران خان نے شریف فیملی اور آصف زرداری سے کسی بھی طرز کی سیاسی ڈیل کی سختی سے تردید کی ہے اور ان کے بقول ان کی سیاسی مخالفین سے کسی بھی طرز کی ڈیل، ڈھیل یا این آراوعملی طور پر ملک سے غداری کے مترادف ہوگی۔ وزیر اعظم کے بقول ماضی میں کی جانے والی تمام سابقہ ڈیل چاہے وہ فوجی قیادتوں نے کی یا سیاسی فریقین نے اس سے ملک کی سیاست کا کوئی بھلا نہیں ہوسکا اور اب ہم کسی بھی طور پر کرپٹ قیادت کو کسی بھی ڈیل کے تحت نہیں چھوڑیں گے۔
بہت سے سیاسی پندٹوں کا خیال ہے کہ وزیر اعظم عمران خان نے جس شدت سے اس مسئلہ پر سخت موقف اختیار کیا ہے وہ ڈیل یا ڈھیل دینے کی خو د کوئی طاقت نہیں رکھتے۔ کیونکہ اگر کوئی ڈیل یا ڈھیل ہوتی ہے تو اس کے اصل کردار پاکستان اور پاکستان سے باہر بیٹھی طاقت ور اسٹیبلیشمنٹ ہوگی۔ کیونکہ ماضی میں بھی جو کچھ پس پردہ طے ہوا اس میں داخلی اور خارجی اسٹیبلیشمنٹ کا کردار نمایاں تھا۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا واقعی نواز شریف، شہباز شریف اور آصف زرداری کسی بھی طرح کی ڈیل یا ڈھل کے خواہش مند نہیں اور یہ جو کچھ دکھایا جارہا ہے محض ان دوبڑے سیاسی فریقین کی کردار کشی کے سوا کچھ نہیں۔ اول شریف فیملی کا کردار ہے۔ نواز شریف کی مجموعی طور پر سیاست کو دیکھیں تو وہ اسٹیبلیشمنٹ کے ساتھ کچھ لو اور کچھ دو کی بنیاد پر چلی ہے۔ 2001 میں جنرل مشرف سے اور 2007 میں اسی جنرل مشرف سے بیرونی طاقتوں کی مدد سے ڈیل کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔
اس سے قبل اسلامی جمہوری اتحاد کی سیاست اور پیپلز پارٹی کے خلاف اسٹیبلیشمنٹ کی حمایت اور مہر ہ کے طور پر سیاست بھی نمایاں ہے۔ نواز شریف کو ہماری اسٹیبلیشمنٹ اپنے مخالفین کے مقابلے میں ایک بڑے لاڈلے کی حیثیت حاصل تھی۔ نواز شریف اپنی برطرفی کے بعد جس شدت کے ساتھ اپنی بیٹی کے ہمراہ مجھے کیوں نکالا اور جمہوریت کی بالا دستی کی حمایت میں باہر نکل کر ایک بڑی لڑائی کرنے کا ارادہ رکھتے تھے وہ کہیں گم ہوکر رہ گیا ہے۔
نواز شریف اور مریم نواز کی مسلسل سیاسی خاموشی ظاہر کرتی ہے کہ وہ کچھ اور چاہتے ہیں۔ اس کھیل میں ایک کردار شہباز شریف کا بھی ہے۔ نواز شریف اور مریم نواز کی سیاسی خاموشی کے پیچھے شہباز شریف بھی ہیں جو اسٹیبلیشمنٹ کے ساتھ مفاہمت چاہتے ہیں۔ اس لیے یہ سمجھنا کہ نواز شریف اور شہباز شریف کوئی بڑی سیاسی لڑائی لڑنا چاہتے ہیں، محض خوش فہمی ہے۔ شریف فیملی کو اندازہ ہے کہ مزاحمت کی صورت میں ان کی جماعت کہاں کھڑی ہوگیا اور ان کو سیاسی تنہائی کا سامنا ہوگا۔
جہاں تک آصف علی زرداری کا تعلق ہے وہ تو ویسے ہی ایک بڑے بادشاہ کے طو رپر خود کو پیش کرتے ہیں۔ سابقہ بلوچستان حکومت کا خاتمہ، سینٹ کے الیکشن، چیرمین سینٹ کے انتخابات سے لے کر اب تک وہ اسٹیبلیشمنٹ کے ساتھ مفاہمت کی سیاست کے طو رپر خود کو پیش کرتے رہے ہیں۔ کئی ایسے مواقع آئے جہاں نواز شریف اور آصف زرداری مل کر عمران خان کو سیاسی طو رپر دباؤ میں لاسکتے تھے، لیکن آصف علی زرداری نے نواز شریف کا ساتھ دینے کی بجائے خود کو ان کی سیاست سے دور رکھ کر پس پردہ قوتوں کو واضح پیغام دیا کہ وہ ان کے ساتھ مل کر کام کرنا چاہتے ہیں۔
اب بھی آصف علی زرداری کسی بھی صورت میں براہ راست اسٹیبلیشمنٹ سے ٹکرا وکی سیاست کے حامی نہیں اور وہ عمران خان سمیت سب سے مفاہمت چاہتے ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ آصف زرداری اپنے خلاف مقدمات سے سیاسی ریلیف کے خواہش مند ہیں اور ان کے بقول احتساب کو پس پشت ڈال کر آگے بڑھا جائے تو ہم تعاون میں پیش پیش ہوں گے۔
مسئلہ دد بڑی سیاسی جماعتوں یعنی پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ کا نہیں بلکہ ان کی سیاسی قیادت کے مسائل ہیں۔ اس وقت نواز شریف، آصف علی زرداری اور شہباز شریف اپنے خاندانی سیاست کے مسائل میں الجھے ہوئے ہیں۔ سیاسی جماعتوں کو تو ان بڑی قیادتوں نے عملی طور پر سیاسی یرغمال بنایا ہوا ہے۔ ان دو بڑے سیاسی خاندانوں نے جمہوریت، سیاست اور عوام کو سیاسی چھتری بنا کر اپنے مفاد کے کھیل کو بہت زیادہ طاقت دی ہے۔ مسئلہ قانونی جنگ کا ہے اور دونوں بڑی قیادتوں کے پاس یہ آپشن ہے کہ وہ قانونی جنگ کی بنیاد پر خود کو وہ سیاسی طو رپر سرخرو کرسکتے ہیں، مگر قانونی میدان میں ان کا مقدمہ کمزور ہے۔ یہ ہی وجہ ہے کہ وہ قانونی جنگ کو سیاسی جنگ میں تبدیل کرکے خود کو بچانے کی کوشش کررہے ہیں، مگر ان کو سیاسی اور قانونی محاذ پر مشکلات کا سامنا ہے۔
وزیر اعظم عمران خان کا مسئلہ یہ ہے کہ ان کی ساری سیاست احتساب کے گرد گھومتی ہے۔ اقتدار میں آنے سے پہلے وہ نواز شریف، آصف زرداری سمیت دیگر سیاست دانوں کا سخت احتساب کا دعوی کرتے تھے۔ اب بھی بظاہر ان کی سیاست اقتدار میں آنے کے باوجود اسی نکتہ کے گرد گھومتی ہے۔ اس لیے اگر کوئی پس پردہ مفاہمت یا ڈیل ہوتی سیاسی فریقین سے ہوتی ہے تو اس کا سب سے بڑا نقصان خود عمران خان کی سیاست کو ہوگا۔ جو لوگ یہ سمجھ رہے ہیں کہ اگر کوئی ڈیل ہوگی تو اس میں عمران خان کوئی فریق نہیں یہ ممکن نہیں۔
کیونکہ اگر کچھ طے ہونا ہے تو اس میں عمران خان کی حمایت بھی ضروری ہوگی کیونکہ فرنٹ پر عمران خان کی حکومت کا ہی چہرہ ہوگا۔ سوال یہ بھی ہے کہ اگر کچھ ہونا ہے تو اس میں نواز شریف اور آصف زرداری کچھ لو اور کچھ دو کی بنیاد پر حکومت کو کیا دے سکتے ہیں۔ ماضی کے مقابلے میں آج کے حالات کافی مختلف ہیں۔ ماضی میں نواز شریف عالمی اسٹیبلیشمنٹ کی حمایت بھی رکھتے تھے، لیکن اب حالات وہ نہیں اور ان کو سیاسی اور قانونی دونوں محاذ پر لاتعداد مسائل کا سامنا ہے۔
بظاہر تو لگتا ہے کہ کچھ بھی پس پردہ طے نہیں ہوسکے گا۔ اس کی وجہ فریقین میں حد سے زیادہ بداعتمادی کی فضا ہے اور اگر کچھ طے ہونا ہے تو یہ فرنٹ پر ہوگا اور سب کے سامنے نمایاں کیا جائے گا۔ ویسے ماضی میں بھی ڈیل کی سیاست سے کوئی فائدہ نہیں ہوسکا اور مفاہمت کی سیاست عملی طو رپر قومی مفادات کی بنیاد پر ہوتی ہے۔ لیکن یہاں قومی مفادات کو پس پشت ڈال کر ذاتی اور خاندانی مفاد کو سامنے رکھ کر ڈیل کی عملی سیاست کی گئی جو جمہوری عمل کو کمزور کرنے کا سبب بنی ہے۔ اسی طرح اگر ڈیل ہوتی ہے تو اس سے ہماری اسٹیبلیشمنٹ، عدلیہ اور خود حکومت کی ساکھ پر کئی طرح کے سوالیہ نشان لگیں گے اور لگے گا کہ پچھلے چند برسوں سے احتساب کی یہ ساری جنگ عملی طور پر حقیقی جنگ نہیں تھی بلکہ یہ طاقت ور طبقات کے درمیان ٹکراؤ کا کھیل تھا اور یہ سیاست میں مزید تماشا پیدا کرے گی۔


